اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا – سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 4
sulemansubhani نے Saturday، 17 February 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا ۞
ترجمہ:
یا اس پر کچھ اضافہ کردیں اور قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں.
” ترتیل “ کا لغوی اور اصطلاحی معنی
المزمل : ٤ میں یہ بھی فرمایا : اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔
اس آیت میں ” ترتیل “ کا لفظ ہے ” ترتیل “ کا معنی ہے : کلام کو ٹھہر ٹھہر کر اور خوش اسلوبی سے پڑھنا۔
علامہ حسن بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :
” رتل “ کا معنی ہے : کسی چیز کو مرتب اور منظم طور پر وارد کرنا، اور ” ترتیل “ کا معنی ہے : لفظ کو سہولت اور استقامت کے ساتھ منہ نکالنا۔ ( المفردات ج ١ ص ٢٤٩، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)
علامہ محمد بن احمد قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے کہا ہے :
قرآن مجید کو سرعت کے ساتھ نہ پڑھنا بلکہ ٹھہر ٹھہر کر سہولت کے ساتھ معانی میں غور و فکر کے ساتھ پڑھنا ” ترتیل “ ہے۔
الضحاک نے کہا : ایک ایک حرف الگ الگ کر کے پڑھنا ” ترتیل “ ہے، مجاہد نے کہا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے پسندیدہ اس کی قرأت ہے جو سب سے زیادہ تدبر سے قرآن مجید پڑھے۔
حسن بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص کے پاس سے گزرے جو قرآن مجید کی ایک آیت پڑھ رہا تھا اور وہ رہا تھا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ ارشاد نہیں سنا کہ قرآن مجید کو ” ترتیل “ سے پڑھویہ ” ترتیل “ ہے۔ (مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢٣٥٤۔ ج ٨، دارالفکر، بیروت)
ابو بکر بن طاہر نے کہا : ” ترتیل “ یہ ہے کہ قرآن مجید کے لطائف میں غور کرو اور اپنے نفس سے قرآن مجید کے احکام پر عمل کرنے کا مطالبہ کرو اور اپنے قلب سے اس کے معانی سمجھنے کا مطالبہ کرو اور اپنی روح کو قرآن مجید کی طرف متوجہ کردو۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٣٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
زجاج نے کہا ہے کہ ” ترتیل “ کا معنی تبیین ہے، یعنی بیان کرنا، اور قرآن مجید کو جلدی جلدی پڑھنے سے تبیین نہیں ہوتی، یہ اس وقت ہوتی ہے جب تمام حروف کو ان کے مخارج سے واضح طور پر ادا کیا جائے، اور جہاں مدات ہوں ان کو پورے طور پر پڑھا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے رات کی نماز میں قرآن مجید کو ” ترتیل “ کے ساتھ پڑھنے کا حکم اس لیے دیا ہے، تاکہ رات کے سکوت، پر سکون ماحول اور تنہائی میں انسان ان آیات کے حقائق اور دقائق میں غور کرنے پر قادر ہو اور جب وہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے ذکر پر پہنچے تو اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلالت ہو، اور جب وعد اور وعید کے ذکر پر پہنچنے تو اس کے دل میں عذاب کا خوف اور ثواب کی امیدہو اور اس وقت اس کا دل اللہ تعالیٰ کی معرفت کے نور سے روشن ہوجائے، اور جلدی جلدی قرآن پڑھنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ قرآن مجید کے معافی میں غور نہیں کر رہا، پس معلوم ہوا کہ ” ترتیل “ سے مقصود یہ ہے کہ حضور قلب اور کمال معرفت کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کی جائے۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٨٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاوت قرآن مجید کا طریقہ
عبیدہ ملی کی (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اے اہل قرآن ! قرآن مجید کو تکیہ نہ بنائو اور رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کیا کرو اور اس میں جو کچھ مذکور ہے اس سے نصیحت حاصل کرو تاکہ تم فلاح پائو اور تم اس کے ثواب کو جلد طلب نہ کرو، اس کا ثواب بہر حال ہے۔ ( کنز العمال رقم الحدیث : ٢٨٠٣، حافظ الہیثمی نے کہا : اس کی سند میں ابوبکر ابن ابی مریم ہے اور وہ ضعیف راوی ہے، مجمع الزوائد ج ٢ ص ٢٥٢، دارالکتاب العربی، بیروت)
حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ تلاوت کا حق یہ ہے کہ جب بندہ دوزخ کا ذکر پڑھے تو اللہ تعالیٰ سے دوزخ کی پناہ طلب کرے اور جب جنت کا ذکر پڑھے تو اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرے۔
(تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٦٠، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ، الدر المنثور ج ١ ص ٢٤٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)
حضرت انس (رض) سے سوال کیا گیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس طرح قرأت کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدات کے ساتھ قرأت کرتے ( یعنی لمبا کھینچ کر پڑھتے تھے) آپ بسم اللہ کو کھینچ کر پڑھتے اور رحمن کو کھینچ کر پڑھتے اور رحیم کو کھینچ کر پڑھتے، لفظ اللہ میں لام کے بعدالف کا خوب اظہار کرتے، اور رحمان میں میم کے بعد الف کا اظہار کرتے اور رحیم میں دو سے چھ مدت تک کھینچ کر وقف کرتے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٠٤٦ )
حضرت ام سلمہ (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرأت کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے ایک ایک حرف کو الگ الگ پڑھ کر بتایا۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٩٢٣، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٤٦٥، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٠١٦)
قرآن مجید کی تلاوت کو طرز کے ساتھ اور خوش الحانی سے پڑھنے کے متعلق احادیث
حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت ہم ایک دوسرے کے سامنے قرآن پڑھ رہے تھے، آپ نے فرمایا : اللہ کا شکر ہے کہ تم میں اللہ کی کتاب موجود ہے، اور تم میں بہت نیک لوگ موجود ہیں اور تم میں گورے اور کالے موجود ہیں، تم قرآن مجید پڑھو اور پڑھائو، اس سے پہلے کہ تم میں ایسے لوگ آجائیں جو قرآن مجید پڑھیں گے اور اس کو درست رکھیں گے، وہ اس کے حروف کو اس طرح سیدھا کریں گے، جس طرح تیروں کو سیدھا کیا جاتا ہے اور قرآن مجید ان کے گلوں سے تجاوز نہیں کرے گا، وہ اس کے اجر کو جلد طلب کریں گے اور آخرت کی نیت نہیں کریں گے۔ ( شعب الایمان رقم الحدیث : ٢٦٤٥۔ ج ١ ص ٥٣٩، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
(صحیح البخاری رقم الحدیث، ٥٠٢٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٩٢، مسند احمد ج ٢ ص ٢٧١)
حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن مجید کو عربوں کے لہجے میں اور ان کی آوازوں میں پڑھو، اور فاسقوں کے لہجوں ( اور ان کے طرزوں) میں نہ پڑھو، اور نہ یہود و نصاریٰ کے لہجوں میں پڑھو، کیونکہ میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن مجید کو گانوں کی دھنوں پر پڑھیں گے اور راہبوں اور نوحوں کی طرز پر پڑھیں گے، اور قرآن مجید ان کے گلوں کے نیچے سے نہیں اترے گا، ان کے دل فتنہ زدہ ہوں گے۔
(شعب الایمان رقم الحدیث : ٢٦٤٩۔ ج ١ ص ٥٤٠، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٠ ھ)
جس طرح فاسقوں کے لہجے اور ان کی طرز میں قرآن مجید کی تلاوت ممنوع ہے، اسی طرح فاسقوں کے لہجے اور ان کی طرز میں نعت پڑھنا بھی ممنوع ہے، کیونکہ نعت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر ہوتا ہے، لہٰذا اور ان کی طرز کہ اس کو بھی ممنوع ہونا چاہیے، آج کل فلمی گانوں کی دھنوں اور ان کی طرزوں پر نعتیں پڑھی جاتی ہیں اور فلمی گانوں کی دھنوں اور طرزوں کے بنانے والوں کے اہل فسق ہونے میں کسی کو کیا شک ہوسکتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کے لیے اتنی اجازت نہیں دی، جتنی اجازت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غنا ( خوش آوازی) کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے لیے دی ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس نے غنا (خوش اٰوازی) کے ساتھ قرآن نہیں پڑھا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٥٢٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٤٢٩ )
حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اے ابو موسیٰ ، تم کو حضرت دائود (علیہ السلام) کے مزامیر سے مزمار ( بانسری) دی گئی ہے۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٠٤٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٩٣، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٨٥٥ )
ابن ابی ملیکہ نے کہا : جب کسی شخص کی آواز اچھی نہ ہو تو وہ کوشش کر کے اپنی آواز اچھی بنائے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٢٧١)
قرآن مجید کو غنا کے ساتھ پڑھنے کے محامل
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :
صحیح البخاری ٧٥٢٧ میں ہے : جس نے غنا کے ساتھ قرآن نہیں پڑھا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
اس حدیث میں غنا کے کئی محمل ہیں :
(١) جو قرآن کے سبب سے، دوسری آسمانی کتابوں سے مستغنی نہیں ہوا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
(٢) جس کو قرآن کے وعد اور وعید نے نفع نہیں پہنچایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
(٣) جس کو قرآن سے راحت نہیں پہنچی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
(٤) جس نے دائما قرآن مجید کی تلاوت کر کے خوش حالی کو حاصل نہیں کیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
(٥) امام عبد الرزاق نے معمر سے روایت کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے نبی کو جتنی اجازت خوش آوازی کے لیے دی ہے کسی چیز کے لیے نہیں دی ہے۔
(٦) امام ابن ابی دائود اور امام طحاوی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا، اللہ تعالیٰ نے نبی کو حسن ترنم کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کی جتنی اجازت دی ہے، اتنی اجازت اور کسی چیز کے لیے نہیں ہے۔
(٧) امام ابن ماجہ، امام ابن حبان اور امام حاکم نے حضرت فضالہ بن عبید سے مرفوعاً روایت کیا ہے، جو شخص خوش الحانی سے قرآن مجید پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ بہت توجہ سے اس کا قرآن سنتا ہے۔
(٨) امام ابن شیبہ نے حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے مرفوعاً روایت کیا ہے، قرآن مجید پڑھنا سیکھو اور اس کو خوش الحانی سے پڑھو۔ ( فتح الباری ج ١٠ ص ٨٧، دارالفکر، بیروت، ١٤٢٠ ھ)
حوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے متعلق مذہب فقہاء
نیز حافظ ابن حجر عسقلانی (رح) لکھتے ہیں :
متقدمین کے نزدیک الحان کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے جواز میں اختلاف ہے، بہر حال خوش آوازی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، عبد الوہاب مالکی نے الحان ( طرز) کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے میں امام مالک سے نقل کیا ہے کہ یہ حرام ہے، اور ابو الطیب الطبری، الماوردی، ابن بطلال، قاضی عیاض مالکی، علامہ قرطبی اور متعدد اہل علم نے کراہت کا قول نقل کیا ہے اور ابن بطلال نے جماعت صحابہ اور تابعین سے جواز کا قول نقل کیا ہے اور امام طحاوی حنفی نے بھی اس قول کا نقل کیا ہے اور علامہ نووی نے ” تبیان “ میں کہا ہے کہ علماء کا اس پر اجماع ہے کہ خوش آوازی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنا مستحب ہے۔ بہ شرطی کہ الفاظ کو زیادہ کھینچنے سے وہ الفاظ قرأت اور تجوید کی حد سے نہ نکل جائیں اور اگر وہ قرأت کی حد سے نکل جائیں، حتیٰ کہ کسی ایک لفظ کی زیادتی ہوجائے یا کسی ایک حرف کا اخفاء ہوجائے تو پھر یہ حرام ہے اور رہا قرآن مجید کو الحان ( طرز اور ترنم) سے پڑھنا تو امام شافعی نے ایک جگہ تصریح کی ہے کہ یہ مکروہ ہے اور دوسری جگہ تصریح کی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور امام شافعی کے اصحاب کے اس میں دو قول ہیں، اگر الحان اور ترنم کے ساتھ پڑھنے سے قرأت اپنے صحیح طریقہ سے خارج نہ ہو تو پھر جائز ہے ورنہ حرام ہے، اور علامہ الماوردی نے امام شافعی سے روایت کیا ہے کہ ترنم کے ساتھ پڑھنے سے اگر بعض الفاظ اپنے مخارج سے نکل جائیں تو حرام ہے ورنہ جائز ہے، علامہ ابن حمدان حنبلی نے الرعایہ میں اور حنفیہ میں سے صاحب الذخیرہ نے کہا ہے کہ اگر ترنم کی وجہ سے نظم قرآن مشوش نہ ہو تو پھر ترنم کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے، خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید کو خوش آوازی کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے اور اگر کوئی شخص خوش آواز نہ ہو تو اس کو اچھی آواز کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے جیسا کہ ابن ابی ملیکہ کا قول ہے، جس کو امام ابو دائود نے روایت کیا ہے۔ ( فتح الباری ج ١٠ ص ٨٩، دارالفکر، بیروت، ١٤٢٠ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 4