اِنَّا سَنُلۡقِىۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا – سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Saturday، 17 February 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّا سَنُلۡقِىۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا ۞
ترجمہ:
بیشک ہم آپ پر بھاری کلام نازل فرمائیں گے۔
” قول ثقیل “ ( بھاری کلام) کے معنی اور اس کا مصداق
المزمل : ٥ میں فرمایا : بیشک ہم آپ پر بھاری کلام نازل فرمائیں گے۔
یہ آیت قیام لیل کی فرضیت کے ساتھ مربوط ہے، یعنی ہم رات کے قیام کی فرضیت کے ساتھ آپ پر بھاری کلام نازل فرمائیں گے، کیونکہ رات کو نیند کا وقت ہوتا ہے، سو جو شخص پہلے سے تیار نہ ہو اور اس کو رات کے اکثر حصہ میں قیام کا حکم دیا جائے تو وہ اس کے نفس پر سخت دشوار ہوتا ہے اور اس میں نفس کے ساتھ مجاہدہ کرنا پڑتا ہے اور اس حکم پر عمل کرنا بندہ کے لیے بہت ثقیل اور بھاری ہوتا ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ ہم عنقریب آپ پر ایسی وحی نازل کریں گے جو اس وجہ سے ثقیل ہوگی کہ اس پر عمل کرنا سخت مشکل اور دشوار ہوگا۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کے فرائض اور اس کی حدود ثقیل ہیں، مجاہدنے کہا : قرآن مجید کے حلال اور حرام ثقیل ہیں، حسن بصری نے کہا : اس پر عمل کرنا ثقیل ہے، ابو العالیہ نے کہا : اس کے وعد اور وعید اور حلال اور حرام ثقیل ہیں، محمد بن کعب نے کہا : قرآن مجید منافقین پر ثقیل ہے، ایک قول یہ ہے کہ قرآن مجید پر ثقیل ہے، کیونکہ قرآن مجید میں کفار کے عقائد کے خلاف دلائل ہیں، ان کی گمراہیوں اور ان کے فساد کا بیان ہے، ان کے خدائوں کو برا کہا ہے، اور اہل کتاب نے جو سابقہ آسمانی کتابوں میں تحریف کی تھی اس کو منکشف کردیا ہے۔
الحسین بن الفضل نے کہا : اس کو صرف وہی دل برداشت کرسکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہو، ابن زید نے کہا : قرآن مجید ثقیل اور مبارک ہے، جس طرح یہ دنیا میں ثقیل ہے اسی طرح آخرت میں میزان پر ثقیل ہوگا، ایک قول یہ ہے کہ خود قرآن مجید ثقیل ہے جیسا کہ حدیث میں ہے، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹنی پر سوار ہوتے اور آپ پر اس حال میں وحی نازل ہوتی تو اونٹنی سینہ کے بل زمین پر گر جاتی اور جب تک وحی کی کیفیت آپ سے منقطع نہیں ہوجاتی، وہ اسی طرح بےحس و حرکت زمین پر پڑی رہتی، وحی کے ثقل کا اندازہ اس حدیث سے کیا جاسکتا ہے۔
حضرت ام المؤ منین عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ الحارث بن ہشام (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا، پس کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ پر وحی کس طرح آتی تھی ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کبھی کبھی گھنٹی کی آواز کی صورت میں مجھ پر وحی آتی تھی اور وہ مجھ پر بہت زیادہ دشوار ہوتی تھی، جب وہ وحی منقطع ہوتی تھی تو میں اس کو حفظ کرچکا ہوتا تھا اور کبھی کبھی فرشتہ انسان کی شکل میں میرے پاس آتا تھا، وہ مجھ سے بات کرتا تھا اور میں اس کو یاد کرتا رہتا تھا۔ حضرت عائشہ (رض) نے کہا : میں نے سخت سردی کے دنوں میں دیکھا کہ آپ پر وحی نازل ہوتی اور جب آپ سے وحی منقطع ہوتی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ ٹپک رہا ہوتا تھا۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٣٢، مسند احمد ج ٢ ص ١٥٨، السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ٧٩٧٩)
ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں ” قول ثقیل “ سے مراد ہے : ” لا الہ الا اللہ “ کیونکہ حدیث میں ہے : یہ کلمہ زبان پر ہلکا ہے اور میزان میں بھاری ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٣٧، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
” قول ثقیل “ کی تعریف میں متعدد اقوال
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے قول ثقل کی تعریف میں حسب ذیل اقوال لکھتے ہیں :
(١) میرے نزدیک ” قول ثقیل “ کی تعریف میں مختار اور پسندیدہ بات یہ ہے کہ جس چیز کی قدر و منزلت اور اس کا درجہ اور مرتبہ بہت زیادہ ہو، وہ چیز وزنی اور ثقیل ہوتی ہے اور انسان کو عظیم اور جلیل القدر عبادت کا مرتبہ تہجد کی نماز سے حاصل ہوتا ہے، کیونکہ جب انسان اندھیری رات میں اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی حمد وثناء اور اس کے سامنے گڑ گڑانے میں مشغول ہوتا ہے اور اس وقت تنہائی اور اندھیرے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے اس کی اللہ کی طرف توجہ اور یاد میں خلل آسکے تو اس وقت اس کے قلب اور اس کی روح پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات منعکس ہوتی ہیں اور اس کی صلاحیت اور استعداد کے مطابق حقائق منکشف ہوتے ہیں۔
(٢) ” قول ثقیل “ سے مراد جو قرآن کریم ہے، کیونکہ اس میں اللہ سبحانہٗ کے اوامر اور نواہی یعنی احکام ہیں اور عام مسلمانوں کے عمل کرنے کے لیے ایسے احکام ہیں جن پر عمل کرنا نفس پر شاق اور دشوار ہوتا ہے۔
(٣) یہ قول اس لیے ثقل ہے کہ انسان کی عقل اس کے تمام فوائد اور معانی اور اس کے اسرار و رموز کا بالکلیہ اور ادراک نہیں کرسکتی پس متکلمین اس میں مذکور عقائد میں غور و فکر کرتے ہیں اور اس کے دلائل کے سمندروں میں غوطہ زن ہوتے ہیں اور فقہاء ان آیات میں تفکر کرتے ہیں، جن سے احکام شرعیہ حاصل ہوتے ہیں اور اصولیین اس میں احکام شرعیہ کے دلائل کی تلاش میں مصروف ہوتے ہیں، اسی طرح اہل لغت، ارباب نحو، اصحاب صرف اور فصاحت و بلاغت کے ماہرین اپنے اپنے موضوع کی آیات میں غور وفکر کرتے ہیں اور ہر شعبہ میں متأخرین پر بعض ایسے نئے نکات منکشف ہوتے ہیں جو پہلوئوں کو معلوم نہیں تھے، غرض قرآن مجید میں مسلسل غور و فکر کرتے رہنے سے انسان نئے نئے حقائق و معارف سے آشنا ہوتا ہے۔
(٤) اور یہ اس وجہ سے بھی ثقیل ہے کہ یہ معلومات کا خزانہ ہے، یہ محکم اور متشابہ اور ناسخ اور منسوخ پر مشتمل ہے اور ان تک ان ہی علماء کی رسائی ہوسکتی ہے، جو تمام علوم عقلیہ اور نقلیہ میں بہت ماہر ہوں۔
ان اقوال کے علاوہ امام رازی نے اور اقوال بھی نقل کیے ہیں، جن کو ہم اس سے پہلے علامہ قرطبی کی عبارت میں نقل کرچکے ہیں۔ (تفسیرکبیر ج ١٠ ص ٦٨٤۔ ٦٨٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 5