أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ لَدَيۡنَاۤ اَنۡـكَالًا وَّجَحِيۡمًا ۞

ترجمہ:

بیشک ہمارے پاس ( ان کے لیے) بھاری بیڑیاں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے.

المزمل ١٣۔ ١٢ میں فرمایا : بیشک ہمارے پاس ( ان کے لیے) بھاری بیڑیاں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور درد ناک عذاب ہے۔

کافر کے جسمانی اور روحانی عذاب کی تفصیل

یعنی ہمارے پاس آخرت میں کفار کے لیے آخرت میں سخت ترین عذاب ہے جو ان کے دنیاوی عیش و آرام اور جسمانی لذتوں کے بالکل خلاف ہے اور ان آیتوں میں اس عذاب کی چار قسمیں بیان فرمائی ہیں :

(١) ” انکالا “ کا ذکر فرمایا، اس کا معنی ہے : بیڑیاں، اور یہ بیڑیاں ان کے پائوں میں اس لیے نہیں ڈالی جائیں گی کہ ان کے دوزخ سے نکل بھاگنے کا خطرہ ہے، بلکہ یہ بیڑیاں ان کو ذلت اور رسوائی اور اذیت میں مبتلا کرنے کے لیے ڈالی جائیں گی۔

(٢) ” جحیم “ کا معنی بھڑکتی ہوئی آگ ہے، اور آگ میں جلنے کا عذاب واضح ہے۔

(٣) ” طعاما ذا عصۃ “ ’ غصۃ “ کا معنی ہے : جو چیز حلق میں پھنس جائے اور یہ تھوہر کے درخت کا پھل ہے، جس کو اندرائین کہتے ہیں، اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کانٹوں والا کھانا ہے۔

(٤) ” عذابا الیما “ اس کا معنی ہے : دردناک عذاب ہے اور اس میں عذاب کی باقی اقسام شامل ہیں۔

امام ابن ابی الدنیا نے اپنی سند کے ساتھ حضرت حذیفہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوزخ والوں پر آگ کے سانپ اور آگ کے بچھو گرائے جائیں گے اور اگر ان میں سے کوئی سانپ مشرق والوں پر پھونک مارے تو مغرب والوں کو جلا دے گا، اور اگر ان میں سے کوئی بچھو دنیا والوں پر مارا جائے تو دنیا کے لوگ جل جائیں گے اور یہ سانپ اور بچھو اہل دوزخ کی کھالوں اور ان کے جسموں کے درمیان داخل کردیئے جائیں گے۔ ( مظہری ج ١٠ ص ٧٥)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اہل دوزخ میں سب سے کم عذاب ابو طالب کو ہوگا، اس کو آگ کی دو جوتیاں پہنائی جائیں گی جن سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٢)

امام رازی فرماتے ہیں : یہ بھی ممکن ہے کہ عذاب کی پہلی چار اقسام کو جسمانی عذاب پر محمول کیا جائے اور ان سے چار قسم کے روحانی عذاب کو بھی مراد لیا جائے :

(١) یہ بھی ممکن ہے کہ ” انکال “ سے مراد یہ ہو کہ نفس کو تعلقات جسمانیہ اور لذات بدنیہ کی بیڑیاں ڈال دی جائیں، کیونکہ دنیا میں اس کو اس کی محبت اور رغبت کا ملکہ حاصل ہوجاتا ہے، پھر بعد میں جب اس کے بدن کو وہ لذت حاصل نہیں ہوتی تو وہ شدید غم میں مبتلا ہوتا ہے اور جب کہ اس کے کسب کے آلات باطل ہوچکے ہوتے ہیں تو گویا یہ بیڑیاں ہوتی ہیں جو اس کو عالم دوزخ میں نجات کے لیے مانع ہوتی ہیں۔

(٢) پھر ان روحانی بیڑیوں سے روحانی آگ بھڑکتی ہے، کیونکہ احوال بدنیہ کی طرف اس کو بہت زیادہ رغبت ہوتی ہے اور یہ ان کو حاصل نہیں کرسکتا، اس سے اس کو شدید روحانی جلن پیدا ہوتی ہے، جیسا کسی شخص کو کسی چیز کے حصول کی شدید خواہش ہو، پھر وہ اس کو نہ پا سکے تو اس کا دل جلتا رہتا ہے اور یہی اس کی روحانی ” حجیم “ ہے۔

(٣) پھر وہ اس محرومی کے غصہ کو گھونٹ بھر بھر کر پیتا ہے اور فراق کے درد کو سہتا رہتا ہے، اسی کو ” طعاماً ذا غصۃ “ سے تعبیر فرمایا ہے۔

(٤) پھر وہ ان احوال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے نور کی تجلیات سے دائما محروم رہتا ہے اور ” عذاباً الیما “ سے یہی مراد ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ ان آیات سے فقط یہی روحانی عذب کے مراتب مراد نہیں ہیں، بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ جسمانی عذاب کے چار مراتب کے ساتھ ساتھ روحانی عذاب کے بھی یہ چار مراتب ہوسکتے ہیں۔

( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٩٠۔ ٦٨٩، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 12