أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ لَـكَ فِى النَّهَارِ سَبۡحًا طَوِيۡلًا ۞

ترجمہ:

بیشک دن میں آپ کی بہت مصروفیات ہیں۔

دن کے وقت میں مصروفیات کی وجہ

المزمل : ٧ میں فرمایا : بیشک دن میں آپ کی بہت مصروفیات ہیں۔

اس آیت میں ” سبحا “ کا لفظ ہے ” سبحا “ کا معنی ہے : تیرنا، اور تیرنے میں انسان اپنے ہاتھوں اور پیروں دونوں میں کام لیتا ہے اور ان کو الٹتا پلٹتا رہتا ہے، اس لیے اس کا معنی : دن میں آپ کو بہت کام ہوتے ہیں اور آپ کو بہت مصروفیات ہوتی ہیں، اس لیے سوئی سے اللہ کو یاد کرنے اور اطمینان سے اس کی عبادت کرنے کا وقت صرف رات میں ہوتا ہے، اس لیے آپ رات کے اوقات کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے لیے نماز میں قائم کرنے کے ساتھ مخصوص رکھیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 7