اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ هِىَ اَشَدُّ وَطۡـاً وَّاَقۡوَمُ قِيۡلًا سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 6
sulemansubhani نے Saturday، 17 February 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ هِىَ اَشَدُّ وَطۡـاً وَّاَقۡوَمُ قِيۡلًا ۞
ترجمہ:
بیشک رات کو اٹھنا ( نفس پر) سخت بھاری ہے اور کلام کو درست رکھنے والا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک رات کو اٹھنا نفس پر سخت بھاری ہے اور کلام کو درست رکھنے والا ہے۔ بیشک دن میں آپ کی بہت مصروفیات ہیں۔ اور آپ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہیں اور سب سے منقطع ہو کر اس کے ہو رہیں۔ اور مشرق اور مغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، سو آپ اس کو اپنا کار ساز بنالیں۔ (المزمل :6-9
رات کو نماز کے لیے اٹھنے میں مشقت کی وجوہ
المزمل : ٦ میں فرمایا : بیشک رات کو اٹھنا نفس پر سخت بھاری ہے اور کلام کو درست رکھنے والا ہے۔
اس آیت میں ” ناشئۃ اللیل “ کا لفظ ہے ” انشاء “ کا معنی احداث ہے اور ہر وہ چیز جو حادث ہو وہ ” ناشئۃ “ ہے اور اس میں دو قول ہیں، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد رات کی ساعات اور رات کے اوقات ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو رات کے اوقات میں حادث ہوتی ہیں۔
پہلے قول کی صورت میں تمام رات ” ناشئۃ “ ہے، حضرت عباس اور حضرت ابن الزبیر نے کہا : تمام رات ” ناشئۃ “ ہے، حضرت زین العابدین نے کہا : مغرب سے عشاء تک کا وقت ” ناشئۃ “ ہے، دوسرے قول کی صورت میں اپنے بستر سے اٹھ کر نماز پڑھنے کے لیے قیام کرنا ” ناشئۃ “ ہے، انسان جب رات کے اندھیرے اور تنہائی میں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے حوال اور کسی روشنی میں اور لوگوں کے ساتھ میل جول اور معاش کی مصروفیات میں اس کا دل و دماغ اور اس کے حواس دنیا داری میں مشغول ہوتے ہیں۔
” اشد وطا “ کا ایک معنی ہے : رات کو اٹھنا دن کو بہ نسبت نفس پر سخت بھاری ہے، کیونکہ دن کو اٹھنے میں اور بہت دنیاوی دلچسپیاں ہوتی ہیں، دن میں انسان کا روبار میں نفع کی امید میں مشغول رہتا ہے، اپنی پسند کی چیزیں خریدتا ہے، سیر اور تفریح کرتا ہے، دوستوں سے ملاقات کرتا ہے اور رات کو اٹھنے میں صرف ایک ہی کلام ہے اور وہ اللہ کو یاد کرنا ہے اور اس کی عبادت کرنا ہے، جس سے جسم کو آسودگی اور تلذذ کے بجائے مشقت اور تھکاوٹ حاصل ہوتی ہے، اس لیے رات کو اٹھنا نفس پر بہت بھاری ہے۔
اور ” وطا ‘ کا دوسرا معنی ہے : موافقت، یعنی رات کو عبادت کرنے میں قلب کی زیادہ موافقت ہوتی ہے اور دیگر شواغل نہ ہونے کی وجہ سے دل یک سوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور زیادہ خشوع اور خضوع اور کیف و سرور حاصل ہوتا ہے۔
اور رات کو اٹھنا کلام کو زیادہ درست رکھنے والا ہے، کیونکہ رات کو سکوت کا وقت ہوتا ہے، کوئی شوروغیرہ نہیں ہوتا اور اس وقت جو بھی اللہ کے کلام کا ذکر کرتا ہے، اس میں کسی قسم کا خلل نہیں آتا۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 6