فَكَيۡفَ تَتَّقُوۡنَ اِنۡ كَفَرۡتُمۡ يَوۡمًا يَّجۡعَلُ الۡوِلۡدَانَ شِيۡبَا – سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 17
sulemansubhani نے Saturday، 17 February 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَكَيۡفَ تَتَّقُوۡنَ اِنۡ كَفَرۡتُمۡ يَوۡمًا يَّجۡعَلُ الۡوِلۡدَانَ شِيۡبَا ۞
ترجمہ:
اگر تم نے اس کا انکار کیا تو تم اس دن کے عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔
قیامت کے دن بچوں کو بوڑھا کرنے کی توجیہ
المزمل : ١٧ میں فرمایا : اگر تم نے اس کا انکار کیا تو تم اس دن کے عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔
زمخشری نے کہا : اس آیت کا معنی ہے : اگر تم اپنے کفر پر قائم رہے تو قیامت کے دن اپنے آپ کو اس عذاب سے کیسے بچائو گے، جو دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ کسی سخت دن کی سختی اور شدت کو اسی طرح بیان کیا جاتا ہے، اس کی وجہ سے یہ ہے کہ غم اور فکر انسان پر بڑھاپے کو بہت جلد طاری کردیتا ہے، کیونکہ غم اور فکر سے انسان کی حرارت غریزی سرد پڑجاتی ہے، اس وجہ سے اجزاء غذائیہ پوری طرح پک نہیں سکتے اور بلغم کا باقی اخلاط پر غلبہ ہوجاتا ہے اور اس وجہ سے انسان کے بال سفید ہوجاتے ہیں اور سفید بالوں کو بڑھاپے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ قیامت کے دن بچے حقیقت میں بوڑھے ہوجائیں گے کیونکہ قیامت کے دن بچوں پر غم اور خوف کا طاری ہونا جائز نہیں ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قیامت کا دن طویل ہو کہ بچے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں۔
القرآن – سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 17