أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

رات کو نمازیں قیام کریں مگر تھوڑا۔

نماز تہجد پڑھنے کے حکم میں مذاہب فقہاء

المزمل : ٤۔ ٢ میں رات کے قیام یعنی تہجد پڑھنے کا حکم دیا ہے اور اس سلسلہ میں تین قول ہیں :

(١) سعید بن جبیرنے کہا : ان آیتوں میں صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تہجد پڑھنے کا حکم فرمایا ہے۔

(٢) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور انبیاء سابقین (علیہم السلام) پر رات کا قیام فرض تھا۔

(٣) حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا، اور حضرت ابن عباس (رض) سے بھی ایک روایت یہی ہے۔

سعد بن ہشام بن عامر سے ایک طویل روایت ہے، اس میں مذکور ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے کہا کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیام کے متعلق خبر دیجئے، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : کیا تم قرآن مجید میں ” یایھا المزمل “ نہیں پڑھتے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں، آپ نے فرمایا : اللہ عزوجل نے اس سورت کے شروع میں آپ پر رات کا قیام فرض کردیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب ایک سال تک رات کو قیام کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصہ کو بارہ مہینوں تک روکے رکھا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصہ میں تخفیف نازل فرمائی، پھر رات کا قیام نفل ہوگیا جب کہ اس سے پہلے فرض تھا۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٤٦، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٣٤٢، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٢٠١، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٣٠١، مسند احمد ج ٦ ص ٥٤ )

علامہ یحییٰ بن شرف نواوی متوفی ٦٧٦ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

یہی قول ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت کے حق میں تہجد کی نماز نفل ہوچکی ہے، رہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو آپ کے متعلق تہجد کی فرضیت کے منسوخ ہونے میں اختلاف ہے، اور ہمارے نزدیک صحیح یہ ہے کہ آپ سے بھی تہجد کی فرضیت منسوخ ہوچکی ہے، جیسا کہ اس حدیث میں ہے۔ ( شرح مسلم النواوی ج ٣ ص ٢٢٤٠، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)

علامہ ابو العباس احمد ابن ابراہیم مالکی قرطبی متوفی ٥٥٦ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) کا ظاہر قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض تھی اور بعد میں اس کی فرضیت منسوخ ہوئی، نیز اس آیت میں ہے : آدھی رات یا اس سے کچھ کم کردیں یا اس پر کچھ اضافہ کردیں اور یہ اسلوب فرضیت کی علامت نہیں ہے اور یہ صرف مستحب کی علامت ہے اور اس کی تاپید اس حدیث سے ہوتی ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تین چیزیں مجھ پر فرض ہیں اور تمہارے لیے نفل ہیں، وتر، چاشت کی نماز اور نماز فجر کی دو رکعتیں (حلیہ الاولیاء ج ٩ ص ٢٣٢)

اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور اس مبحث میں صحیح قول حضرت عائشہ (رض) کا ہے۔

(المفہم ج ٢ ص ٣٧٩، دارابن کثیر، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

حافظ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی ٨٥٥ ء اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

تہجد کی نماز خصوصیت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فرض تھی اور ایک قول یہ ہے کہ مسلمانوں پر بھی فرض تھی، پھر پانچ نمازوں کی فرضیت کے بعد آپ سے اس کی فرضیت منسوخ ہوگئی، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : مگر اس کا نفل ہونا برقرار ہے، ایک قول یہ ہے کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ دس سال تک تہجد کی نماز پڑھتے رہے، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی ” اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ “ ( المزمل : ٢٠) تو اس کا قیام نصف شب تک منسوخ ہوگیا اور تہائی شب تک اس کا قیام رہ گیا، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی :” فاقروا ما تیسر من القرآن “ تو پھر تو آپ پر نصف شب یا تہائی شب کے اختیار سے تہجد پڑھنا واجب تھا، پھر جب آپ پر قیام دشوار ہوا تو اس کا وجوب منسوخ ہوگیا یعنی نصف شب یا تہائی شب تک پڑھنے کا اختیار اور تہائی شب تک پڑھنے کا وجوب باقی رہا، پھر پانچ نمازوں کی فرضیت سے تہائی رات تک تہجد پڑھنے کا وجوب بھی منسوخ ہوگیا اور اس کا استحباب باقی رہا۔ ( شرح سنن ابو دائود ج ٤ ص ٢١١، مکتبہ الرشید، ریاض، ١٤٢٠ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں پر تہجد کی فرضیت منسوخ ہونے کے دلائل

ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت پر رات کے قیام اور تہجد کی فرضیت منسوخ ہوچکی ہے، اب یہ امر باقی رہتا ہے کہ تہجد کی فرضیت کی ناسخ کون سی دلیل ہے، اس سلسلہ میں امام فخر الدین محمد بن عمر رازی لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : آدھی رات تک قیام کریں یا اس سے کچھ کم کردیں یا اس پر کچھ اضافہ کردیں، پس اس آیت میں رات کے قیام کو نمازی کی رائے کی طرف مفوض کردیا ہے اور جو چیز واجب ہو وہ اس طرح نہیں ہوتی۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَمِنَ الَّیْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّک ( بنی اسرائیل : ٧٩) اور رات کو آپ تہجد پڑھیے یہ آپ کے لیے نفل ہے۔

اس دلیل پر یہ اعتراض ہے کہ ” نافلۃ لک “ کا معنی ہے : یہ آپ پر زائد فرض ہے، یعنی پانچ نمازوں پر زائد فرض ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس تاویل سے اس لفظ کو مجاز پر محمول کیا گیا ہے اور جب تک حقیقت محال یا متعذر نہ ہو کسی لفظ کو مجاز یا محمول نہیں کیا جاتا۔

تیسری دلیل یہ ہے کہ جس طرح رمضان کے روزوں سے عاشورہ کا وجوب منسوخ ہوگیا اور قربانی کے وجوب سے عتیرو کا وجوب منسوخ ہوگیا، اسی طرح پانچ نمازوں کی فرضیت سے تہجد کی نماز کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔

( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٦٨٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

نماز تہجد پڑھنے کا وقت اور اس کی رکعات

تہجدکی نماز کا وقت رات کے آخری تہائی حصہ ہے یا نصف شب کے بعد کا وقت ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر رات کو جب تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے، پس فرماتا ہے : میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں، کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے تو میں اس کی دعا کو قبول کروں، کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو عطاء کروں، کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اس کی مغفرت کر دوں، وہ اسی طرح ندا فرماتا رہتا ہے حتیٰ کہ فجر روشن ہوجاتی ہے۔

( صحح البخاری رقم الحدیث : ٦٣٢١۔ ١١٤٥ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٥٨، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٤٦ )

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز حضرت دائود (علیہ السلام) کی نماز ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزے حضرت دائود (علیہ السلام) کے روزے ہیں، حضرت دائود (علیہ السلام) نصف شب تک سوتے تھے، پھر تہائی رات کو اٹھ کر نماز میں قیام کرتے تھے، پھر رات کے چھٹے حصہ تک آرام کرتے تھے، اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٣١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١١٥٩، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٤٤٨، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٢٤٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٧١٢)

فرض کیجئے کہ چھ گھنٹے کی رات ہے تو حضرت دائود (علیہ السلام) تین گھنٹے سوتے تھے، پھر دو گھنٹے نماز پڑھتے تھے اور آخری ایک گھنٹہ آرام کرتے تھے۔ وعلی ھذا القیاس۔

مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات کی نماز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا : آپ رات کو سات رکعات بھی پڑھتے تھے، نو رکعات بھی پڑھتے تھے اور گیارہ رکعات بھی پڑھتے تھے اور سنت فجر کی دو رکعات اس کے علاوہ ہوتی تھیں۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٣٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٣٨، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٣٤٠، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٣٩، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٦٩٧، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٣٩٣)

ابو سلمہ بن عبد الرحمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات میں کس طرح نماز پڑھا کرتے تھے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان، آپ نے رات میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھیں، آپ چار رکعات پڑھتے، ان کے حسن اور طول کے متعلق نہ پوچھو، آپ پھر چار رکعات پڑھتے، ان کے حسن اور طول کے متعلق نہ پوچھو، آپ پھر چار رکعات پڑھتے، ان کے حسن اور طول کے متعلق نہ پوچھو، پھر آپ تین رکعات و تر پڑھتے، حضرت عائشہ (رض) نے کہا : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : اے عائشہ (رض) ! میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٤٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٣٨، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٣٤١، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٣٤١ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٣٤١ لسنن اللنسائی رقم الحدیث : ٣٩٣)

القرآن – سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 2