أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلۡ اِلَيۡهِ تَبۡتِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور آپ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہیں اور سب سے منقطع ہو کر اسی کے ہو رہیں.

رب کے نام کو یاد کرنے اور رب کو یاد کرنے کا فرق

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

المزمل : ٨ میں فرمایا : اور آپ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہیں اور سب سے منقطع ہو کر اسی کے ہو رہیں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کا حکم دیا ہے، ایک اس کے نام کا ذکر کرنے اور دوسرا سب سے منقطع ہو کر صرف اس کی طرف متوجہ رہنے کا۔

یہاں دو چیزیں ہیں : ایک رب کے نام کا ذکر کرنا، دوسرا ہے دل میں رب کا ذکر کرنا، یہاں فرمایا ہے : آپ اپنے رب کے نام کا ذکر کریں اور دوسری آیت میں فرمایا ہے :

وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّخِیْفَۃً (الاعراف : ٢٠٥) آپ چپکے چپکے اور گڑگڑا کر اپنے دل رب کا ذکر کیجئے۔

ابتداء میں یہ حکم دیا کہ انسان اپنے رب کے نام کا ذکر کرے اور جب وہ ایک طویل مدت تک اپنے رب کا نام ذکر کرتا رہا تو پھر اس کے دل سے اسم محو ہوجائے گا اور اس میں صرف مسمی باقی رہ جائے گا، پھر اس کو الاعراف : ٢٠٥ میں یہ حکم دیا کہ وہ اپنے دل میں اپنے رب کو یاد کرے اور جب بندہ اپنے رب کی یاد میں مشغول ہوگا تو اس کو اپنے رب کی ربوبیت کے مطالعہ کا مقام حاصل ہوگا اور وہ یہ جان لے گا کہ اس کا رب کس طرح اس کی تربیت اور پرورش میں اس پر احسان کرتا ہے اور جب بندہ اس مقام پر پہنچے گا تو اس کا دل اپنے رب کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے مطالعہ میں مشغول ہوگا، پھر وہ اور ترقی کرے گا، پھر وہ اپنے رب کے ذکر میں مشغول رہے گا، اور اس وقت وہ اللہ کی ہیبت اور خشیت کے مطالعہ کے مقام پر ہوگا، اور اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی قہارت، عزت، علوم اور صمدیت ہوگی اور بندہ اسی مقام پر ترقی کرتا رہے گا، اور اللہ تعالیٰ کے جلال، اس کی تنزیہہ اور اس کی تقدیس میں متردد رہے گا، پھر ترقی کرتے ہوئے اس کی ذات کے مطالعہ کے مقام تک پہنچے گا اور یہ وہ مقام ہے جس کی شرح کرنے سے الفاظ اور عبارت عاجز ہیں اور اس کو تحریر کا لف اس پہنانے سے قاصر ہیں اور جب بندہ یہاں تک پہنچ جائے تو پھر اس کے سامنے صرف اسی کی ذات ہوتی ہے اور یہاں پہنچ کر پندہ ٹھہر جاتا ہے، کیونکہ یہ مقام صفات کی طرف نہیں ہے کہ وہ ایک صفت کے مطالعہ سے دوسری صفت کے مطالعہ کی طرف منتقل ہوتا رہے اور نہ اس کی ذات اجزاء سے مرکب ہے کہ وہ ایک جز کے مطالعہ سے دوسرے جز کی طرف منتقل ہوتا رہے، اور نہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی کسی نفس کے ساتھ کوئی مناسب ہے کہ وہ اس کی ذات کو اس پر قیاس کرسکے، پس اس کی ذات ظاہر ہے کیونکہ وہ ہر ظاہر کے ظہور کی مبداء ہے اور اس کی ذات باطن ہے کیونکہ وہ تمام مخلوقات کی عقول سے ماوراء ہے، پس سبحان ہے وہ ذات جو اپنے ظہور کی شدت کی بناء پر عقول سے محجوب ہے اور اپنے نور کے کمال کی وجہ سے مخفی ہے۔

سب سے منقطع ہو کر اللہ کی عبارت میں مشغول ہونے اور اللہ میں مشغول ہونے کا فرق

نیز امام رازی لکھتے ہیں :

اس کے بعد فرمایا : اور سب سے منقطع ہو کر اسی کے ہور ہیں۔

اس آیت میں ” تبتل “ کا لفظ ہے، تمام مفسرین نے ” تبتل “ کی تفسیر اخلاص کے ساتھ کی ہے، اور لغت میں ” تبتل “ کا معنی ہے : منقطع ہونا، حضرت سیدہ مریم کو بتول اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ سب لوگوں سے منقطع ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوگئی تھی، اور لیٹ نے کہا ہے کہ ” تبتل “ کا معنی ہے : ایک چیز کا دوسری چیز سے ممیز اور ممتاز ہونا، اور بتول ہر اس عورت کو کہتے ہیں جو مردوں سے رغبت نہ رکھتی ہو، اس تمہید کے بعد مفسرین نے اس آیت کی حسب ذیل تفسیریں کی ہیں :

فزا نے کہا : جب عابد ہر چیز کو ترک کرے اللہ تعالیٰ کی عبدت کی طرف متوجہ ہوجائے تو کہا جاتا ہے : ” قد تبتل “ یعنی ہر چیز سے منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے اور اس کی عبادت میں مشغول ہوگیا۔

زید بن اسلم نے کہا : ” تبتل “ کا معنی ہے : دنیا اور دنیا کی سب چیزوں کو چھوڑ دینا اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو اجر وثواب ہے اس کا طلب کرنا۔

جاننا چاہیے کہ اس آیت کا معنی اس سے کہیں بلند ہے، جو ان علماء ظاہر نے بیان کیا ہے، کیونکہ جو سب سے منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مستغرق ہوا، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف منقطع اور مستغرق نہیں ہوا، بلکہ اللہ کی عبادت کی طرف منقطع اور مستغرق ہوا اور جو سب سے منقطع ہو کر آخرت کی طرف متوجہ ہوا، اور جو اللہ کی معرفت میں مشغول ہوا وہ بھی اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوا، سو جس نے نفس عبادت کے لیے عبادت کو ترجیح دی، یا جس نے طلب ثواب کے لیے ثواب کو ترجیح دی یا جس نے معرفت کے لیے معرفت کو ترجیح دی تو وہ معرفت کی طرف متبتل ہوا اور جس نے عبادت کو ترجیح دی وہ عبادت کی طرف متبتل ہوا اور جس نے آخرت اور ثواب کو ترجیح دی وہ آخرت اور ثواب کی طرف متبتل ہوا اور یہ سب اللہ کے غیر کی طرف متبتل ہیں، اللہ کی طرف متبتل نہیں ہیں جب کہ اس آیت میں فرمایا : ” وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا۔ “ ( المزمل : ٨) یعنی سے منقطع ہو کر صرف اللہ کی ذات میں مشغول ہو جائو اور بس اسی کے ہو جائو اور یہ وہ مقام ہے جس کو کلام سے واضح نہیں کیا جاسکتا اور نہ خیال میں اس کی تعبیر آسکتی ہے اور جو شخص اس مقام کے حصول کا ارادہ کرے، اسے چاہیے کہ وہ عین ذات تک پہنچنے والا بنے نہ کہ وہ محض خبر کو سننے والا ہو، اور انسان اس کی کوئی مثال نہیں پاسکتا، ماسوا اس کے جس کو شدید عشق ہوا اور اس کی ذات اور اس کے تمام حوال اور مشاعر فنا ہوجائیں، اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ ” تبتل “ کا ذکر فرمایا ہے، پہلی مرتبہ یہ بتانے کے لیے اس کی طرف ” تبتل “ کرنا مقصود بالذات ہے اور دوسری مرتبہ یہ بتانے کے لیے کہ اس کی طرف ” تبتل “ کرنا مقصود بالعرض ہے۔ (تفسیر کبیر ج ١٠ ص ١٨٧۔ ١٨٦، داراحیاء التراث، العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

” تبتل “ کے متعلق مصنف کی تحقیق

امام رازی نے ” وتبتل الیہ تبتیلأٔ کی تفسیر میں جو فرمایا، وہی برحق اور صحیح ہے تاہم یہ اللہ تعالیٰ کے محبین اور عارفین اور اس کے خاص اولیاء کرام کا مرتبہ ہے، ہم ایسے ناقصین کے لیے یہ بھی کافی ہے کہ ہم سب سے منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں یا اس کی معرفت میں مشغول ہوں یا آخرت کے اجر وثواب کی نیت سے دنیا اور دنیا کی چیزوں سے منقطع ہو کر آخرت میں مشغول ہوں۔

ہم نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ سب سے منقطع ہو کر اللہ کے ساتھ مشغول ہو، اس پر یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ یہ تو رہبانیت ہے اور اسلام میں رہبانیت جائز نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جو رہبانیت ممنوع ہے، وہ یہ ہے کہ انسان نکاح نہ کرے اور کسی جنگل یا غار میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرے، حصول رزق کے لیے محنت اور مشقت نہ کرے، ماں باپ، بیوی بچوں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق ادا نہ کرے، اور سب سے منقطع ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ تمام حقوق اور فرائض کو ان حقوق اور فرائض کی وجہ سے ادا نہ کرے بلکہ اس نیت سے ان حقوق اور فرائض کو ادا کرے کہ اللہ سبحانہٗ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان حقوق اور فرائض کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم رات کے کسی وقت میں خصوصاً تہائی رات گزر جانے کے بعد تہجد کی نماز پڑھے اور اس کے بعد اپنے دل و دماغ کو تمام خیالات اور تفکرات سے خالی کر کے اور سب سے منقطع ہو کر کر پہلے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے اور جب اس ذکر کی برکت سے اس کا دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے نور ہوجائے تو پھر اللہ تعالیٰ کی یاد میں مستغرق ہو کر بیٹھ جائے اور جب وہ ہر ات کو تہجد پڑھ کر اس کی مشق کرتا رہے گا تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ واصلین اور محبین میں سے ہوجائے گا اور اس کا دل اللہ سبحانہٗ کی تجلیات کے لیے آئینہ بن جائے گا۔

تہجد پڑھنے کی فضلیت میں احادیث

مذکور الصدر آیات میں تہجد کی نماز پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے، اور رات کے آخری پہر اٹھ کر نماز پڑھنے کی فضلیت میں حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارا رب ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے، جب رات کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، وہ اشارد فرماتا ہے : کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے تو میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو عطاء کروں، کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اس کی مغفرت کردوں گا ؟ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٤٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٥٨ )

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : رات میں ایک ایسی ساعت ہے کہ وہ جس بندہ مسلمان کو بھی مل جائے تو وہ اس ساعت میں اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی جو خبر بھی طلب کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ خیر عطاء فرمادے گا اور وہ ساعت ہر رات میں آتی ہے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٥٧ )

حضرت عبد اللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزے حضرت دائود (علیہ السلام) کے روزے ہیں اور سب سے زیادہ پسندیدہ نماز حضرت دائود (علیہ السلام) کی نماز ہے، حضرت دائود (علیہ السلام) نصف رات تک سوتے تھے، پھر تہائی رات تک نماز میں قیام کرتے تھے، پھر رات کے چھٹے حصہ میں سوتے تھے ( مثلاً چھ گھنٹے کی رات ہو تو تین گھنٹے تک سوتے تھے، پھر دو گھنٹے تک نماز پڑھتے تھے، پھر آخری ایک گھنٹہ میں آرام کرتے تھے) اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٣١، صحیح مسلم الحدیث : ١٥٩ )

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم رات کے قیام کو لازم رکھو کیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین کا طریقہ ہے اور یہ تمہارے رب کی طرف تمہارے قرب کا ذریعہ ہے، اور تمہارے گناہوں کے مٹنے کا سبب ہے، اور تمہارے گناہوں سے بچنے کا طریقہ ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ١١٤٩ )

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے، ایک وہ شخص جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، دوسرے وہ لوگ جو صف باندھ کر نماز پڑھتے ہیں اور تیسرے وہ لوگ جو دشمن کے مقابلہ میں صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔

( مسند احمد ج ٣ ص ٨٠، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥ ص ٥٦٢، الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٣٥٥٥ )

حضرت عمرو بن عینیہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رب سب سے زیادہ بندہ کے قریب رات کے آخری حصہ میں ہوتا ہے، اگر تم اس کی استطاعت رکھتے ہو کہ تم ان لوگوں میں سے ہو جائو جن کا اللہ تعالیٰ اس وقت ذکر کرتا ہے تو ہو جائو۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٧٩)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سب سے افضل لوگ قرآن کے حاملین ہیں اور رات کو نماز پڑھنے والے ہیں۔ ( تہذیب تاریخ دمشق ج ٢ ص ٤٢٣ )

القرآن – سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 8