أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ وَاهۡجُرۡهُمۡ هَجۡرًا جَمِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور آپ کافروں کی باتوں پر صبر کریں اور ان کی خوش اسلوبی سے چھوڑ دیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کافروں کی باتوں پر صبر کریں اور ان کی خوش اسلوبی سے چھوڑ دیں۔ اور ان مال دار جھٹلانے والوں کو مجھ پر چھوڑ دیں اور ان کو تھوڑ مہلت دیں۔ بیشک ہمارے پاس ( ان کے لیے) بھاری بیڑیاں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور درد ناک عذاب ہے۔ جس دن زمین اور پہاڑ لرزنے لگیں گے، اور پہاڑ ریت کا بکھرا ہوا ٹیلا بن جائیں گے۔ ( المزمل : ١٤۔ ١٠)

کفار کی ایذا سانیوں پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا

المزمل : ١٠ میں فرمایا : اور آپ کافروں کی باتوں پر صبر کریں۔

یعنی کفار آپ کو گالیاں دیتے ہیں اور آپ کا مذاق اڑا کر آپ کو ایذا پہنچاتے ہیں تو آپ ان کی دل آزار باتوں سے نہ گھبرائیں اور ان کے لیے ہدایت کی دعا کرنے سے نہ رکیں۔

اور فرمایا : ان کو خوش اسلوبی سے چھوڑ دیں۔

یعنی آپ ان سے انتقام لینے کے درپے نہ ہوں، کیونکہ پھر آپ کے لیے ان کو اللہ کا پیغام سنانا مشکل ہوگا، یہ آیت جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی ہے، پھر اس کا کافی عرصہ بعد کفار سے قتال کرنے کا حکم نازل ہوا، پس آیت قتال نے اس سے پہلے کی آیتوں کو منسوخ کردیا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 10