وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 4
sulemansubhani نے Saturday، 17 February 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ ۞
ترجمہ:
اور اپنا لباس پاک رکھیے.
المدثر : ٤ میں فرمایا : اور اپنا لباس پاک رکھیے۔
لباس پاک رکھنے کے محامل
امام ابو جع فرمحمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ لکھتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : اپنے کپڑوں کو معصیت سے اور عہد شکنی سے آلودہ نہ کرو ( یعنی اپنے لباس کو معصیت اور عہد شکنی کے ساتھ متصف نہ کرنے کے وصف پر برقرار اور دائم رہو)
ابن زید نے کہا : اپنے لباس کو ظاہری نجاست کی آلودگی سے پاک رکھیں۔
(جامع لبیان جز ٢٩ ص ١٨٣۔ ١٨١ ملخصا، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
امام ابو منصور محمد بن محمود الماتریدی السمرقندی المتوفی ٣٣٣ ھ لکھت ہیں :
چونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام پہنچانے پر مامور تھے، اس لیے آپ کو اپنا لباس صاف اور پاک رکھنے کا حکم دیا گیا تاکہ لوگ آپ کی طرف تعظیم اور وقار کے ساتھ دیکھیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا : آپ فخر اور عہد شکنی کا لباس نہ پہنیں، حسن بصری نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ آپ اپنے اخلاق اچھے رکھیں، بعض نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ آپ زیادہ لمبے کپڑے نہ پہنیں، مباد اور کپڑے کسی نجاست پر گرجائیں۔ ( تاویلات ابل السنۃ ج ٥ ص ٣١١، السنۃ ج ٥ ٣١١، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٥ ھ)
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
امام شافعی نے کہا : اس آیت سے مقصود یہ بتانا ہے کہ نماز صرف پاک کپڑوں کے ساتھ پڑھنا جائز ہے۔
پھر امام رازی فرماتے ہیں : ایک قول یہ ہے کہ آپ اپنے کپڑوں کو پاک رکھیں، اس سے مراد یہ ہے کہ آپ اپنے قلب کو مشرکین کے اخلاق سے پاک رکھیں، کیونکہ وہ دوسروں پر افتراء باندھتے ہیں، عمد اً جھوٹ بولتے ہیں اور قطع رحم کرتے ہیں، دوسرا قول یہ ہے کہ آپ اپنے نفس اور اپنے قلب کو ان سے انتقام لینے کے عزم اور ان کے ساتھ برا سلوک کرنے کے عزم سے پاک رکھیں تیسرا قول یہ ہے کہ آپ نے جس چادر کو لپیٹا ہوا ہے، اس چادرزکو مشرکین کے افتراء کی وجہ سے بےصبری اور بےقراری سے پاک رکھیں۔
اس آیت کی ایک اور تفسیر یہ ہے کہ ” المدثر “ کا معنی ہے : نبوت کی چادر لپیٹنے والے، گویا کہ یوں فرمایا گیا ہے۔
اے نبوت کی چادر لپیٹنے والے ! آپ اپنے آپ کو بےصبری، بےقراری، غضب اور کنبہ سے پاک رکھیں کیونکہ یہ اوصاف منصب نبوت کے لائق نہیں ہیں۔
اس کنایہ کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا لباس اس کو لازم ہوتا ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بزرگی انسان کے لباس سے اور اس کی عفت اس کے تہہ بند سے ظاہر ہوتی ہے اور درج ذیل آیت میں بھی مرد اور عورت کی ذوات کو لباس سے تعبیر فرمایا ہے۔
ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ (البقرۃ : ١٨٧) تمہاری بیویاں تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔
(تفسیرکبیر ج ١٠ ص ٦٩٩، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 4