أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَذَرۡنِىۡ وَالۡمُكَذِّبِيۡنَ اُولِى النَّعۡمَةِ وَمَهِّلۡهُمۡ قَلِيۡلًا‏ ۞

ترجمہ:

اور ان مال دار جھٹلانے والوں کو مجھ پر چھوڑ دیں، اور ان کو تھوڑی مہلت دیں۔

المزمل : ١١ میں فرمایا : اور ان مال دار جھٹلانے والوں کو مجھ پر چھوڑ دیں اور ان کی تھوڑی مہلت دی۔

یہ ایسا ہے کہ کوئی شخص کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرے، اور اس کا کوئی عزیز دوست اس کام کو اس کی بہ نسبت زیادہ عمدگی سے کرسکتا ہو تو وہ اس سے کہے کہ تم خود یہ کام نہ کرو، اس کام کو تمہارے بدلہ میں کروں گا، اسی نہج پر اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے : کفار کی ایذا رسانیوں کا آپ خود ان سے انتقام نہ لیں، آپ کے بدلہ میں ان جھٹلانے والوں سے میں انتقام لوں گا، اور آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کر دوں گا۔

کفار سے یہ انتقام جنگ بدر میں لیا گیا، جب کفار مکہ کو جنگ بدر میں شکست ہوئی، ستر کافر مارے گئے اور ستر کافر قید کرلیے گئے یا قیامت کے دن کافروں سے انتقام لیا جائے گا، جب ان کو سخت عذاب میں مبتلا کر کے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا، اس لیے فرمایا : ان کو تھوڑی مہلت دیں کیونکہ جنگ بدر کا دن آنے والا ہے، یا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی مدت تھوڑی ہے اور عنقریب آخرت آنے والی ہے، وہاں ان جھٹلانے والے کافروں سے بھر پور انتقام لیا جائے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 11