أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الۡمُدَّثِّرُ ۞

ترجمہ:

اے چادر لپیٹنے والے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے چادر لپیٹنے والے !۔ اٹھیے پس لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایئے۔ اور اپنے ب کی بڑائی بیان کیجئے۔ اور اپنا لباس پاک رکھیے۔ (المدثر : ٤۔ ١)

” المدثر “ کے ساتھ خطاب اور لوگوں کو عذاب سے ڈرانے کے محامل

اس پر تمام مفسرین کا اجماع ہے کہ اس آیت میں ” المدثر “ سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے، رہا یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ” المدثر “ کے لقب سے کیوں ندا کی گئی ہے تو اس کی مفسرین نے حسب ذیل وجوہ بیان کی ہیں۔

(١) یہ سورت قرآن مجید کی ابتدائی سورتوں میں سے ہے، حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں حرا پہاڑ پر تھا کہ مجھے ندا کی گئی ہے :” یا محمد ! آپ اللہ کے رسول ہیں “ میں نے اپنی دائیں جانب دیکھا تو مجھے کچھ نظر نہیں آیا، پھر میں نے اپنی بائیں جانب دیکھا تو مجھے کچھ نظر نہیں آیا، پھر میں نے اپنے اوپر نظر ڈالی تو میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک تخت پر بیٹھا ہوا تھا، میں خوف زدہ ہو کر خدیجہ کے پاس گیا، پس میں نے کہا : مجھے چادر اڑھائو، مجھے چادر اڑھائو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو، پھر حضرت جبریل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور انہوں نے کہا : ” ایھا المدثر “۔ ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٧٣٥٨ )

(٢) چند لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت دی، ان کے نام یہ ہیں : ابو جہل، ابو لہب، ابو سفیان، الولید بن المغیرہ، النصربن الحارث، امیہ بن خلف اور العاص بن وائل، وہ سب اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا : اب حج کا موسم آرہا ہے اور عرب کے مختلف علاقوں سے وفودآئیں گے اور ہم سے ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق سوال کریں گے، تو ہم میں سے ہر شخص الگ الگ جواب دے گا، کوئی کہے گا : وہ کاہن ہیں، کوئی کہے گا : وہ مجنون ہیں، کوئی کہے گا : وہ شاعر ہیں، پس ہمارے مختلف جواب سن کر عرب کہیں گے : ان کے مختلف جواب اس پر دلیل ہیں کہ ان کے جواب باطل ہیں، پس آئو ہم کسی ایک جواب پر متفق ہوجائیں، کسی نے کہا : سب یہ کہیں کہ وہ شاعر ہیں، ولید نے اس اعتراض کیا کہ میں نے بڑے بڑے شعراء کا کلام سنا ہے، ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام ان میں سے کسی شاعر کے مشابہ نہیں ہے، پھر لوگوں نے کہا : یہ کہو کہ وہ کاہن ہیں، اس پر ولید نے اعتراض کیا کہ کاہن کی خبر سچی بھی ہوتی ہے اور جھوٹی بھی ہوتی ہے اور ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آج تک کوئی جھوٹی خبر نہیں دی، پھر انہوں نے کہا : یوں کہو کہ وہ مجنون ہیں، اس پر ولید نے یہ اعتراض کیا کہ مجنون خلاف عقل اور بےربط باتیں کرتا ہے اور ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آج تک ایسا کلام نہیں کیا، پھر الولید واپس اپنے گھر چلا گیا، لوگوں نے کہا : الولید بن المغیرہ نے اپنا مذہب بدل لیا ہے، پھر ابو جہل ولید کے پاس گیا اور کہا : اے ابو عبد شمس ! کیا ہوا ؟ یہ قریش تمہارے متعلق یہ کہہ رہے ہیں کہ تم نے اپنا مذہب بدل لیا ہے ؟ الولید نے کہا : مجھے اپنا مذہب بدلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لیکن میں ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق غور و فکر کر رہا ہوں، میں نے سوچا ہے کہ وہ ساحر ( جادوگر) ہیں، کیونکہ جادوگر وہ ہوتا ہے جو باپ اور بیٹے میں اور بھائی اور بھائی میں اور بیوی اور شوہر میں تفرقہ ڈال دیتا ہے، اور ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ایسا ہی کرتے ہیں، پھر وہ سب اس پر متفق ہوگئے کہ آپ کو جادوگر کا لقب دیا جائے، پھر وہ سب باہر نکلے اور مکہ کے مجمع میں چلا کر کہا کہ بیشک ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جادوگر ہیں، پھر لوگوں میں یہ شورمچ گیا کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جادوگر ہیں، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سنا تو آپ کو بہت رنج ہوا، آپ غم زدہ ہو کر گھر آئے اور چادر اوڑھ کر لیٹ گئے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی :

یٰٓااَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ ۔ (المدثر : ٢۔ ١) اے چادر لپیٹنے والے !۔ اٹھیے پس لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایئے۔

(٣) جو شخص چادر میں لپٹا ہوا ہو، وہ گویا کہ لوگوں سے چھپا ہوا ہے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار حرا میں تھے، گویا کہ یوں کہا گیا ہے کہ اے وہ شخص جو چادر لپیٹے ہوئے گوشہ گمنامی میں ہیں، آپ اٹھیے، گم نامی سے نکلیے، مخلوق کو ڈرانے میں مشغول ہوجائیں اور لوگوں کو پیغام حق سنانا شروع کردیں۔

(٤) اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ اللعلمین بنایا ہے، پس گویا کہ یوں کہا گیا : اے وہ شخص جو علم عظیم کے لباس میں ملبوس ہیں اور خلق عظیم سے متخلق ہیں اور رحمت کاملہ کے حامل ہیں، انہیں اور لوگوں کو اپنے رب کے عذاب سے ڈرائیں۔

(٥) اے چادر لپیٹنے والے ! اپنے بستر سے اٹھیں اور تبلیغ اسلام اور پیغام حق سنانے میں مشغول ہوجائیں۔

(٦) آپ عزم صمیم کے ساتھ اٹھیں اور اپنی قوم کو اللہ کی توحید پر ایمان لانے کی دعوت دیں اور اگر وہ ایمان نہ لائیں تو ان کو اللہ عزوجل کے عذاب سے ڈرائیں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 1