*فضیلتِ شبِ برأت کا مخالفین سے ثبوت*

تحقیق:  میثم عباس قادری

اس مقالہ میں وہابیہ کی کتب سے وہ حوالہ جات پیش کیے جا رہے ہیں جن میں انہوں نے خود شب برات کی فضیلت کا اقرار کیا ہے یا پھر علماء اسلام میں سے کسی کے قول کو قبول کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔

*شب برأت کے متعلق وہابی دیوبندی فرقوں کا موقف:*

شب برأت کے متعلق یہ مختصر وضاحت ضروری ہے کہ دیوبندی شب برأت کی فضیلت کے قائل ہیں لیکن اس رات اجتماعی عبادت کو بلا دلیل ممنوع اور بدعت قرار دیتے ہیں۔

مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی نے شب برأت میں اجتماعی عبادت کو ممنوع قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
” اس شب میں بیدار رہ کر عبادت کرنا خواہ خلوت میں یا جلوت میں افضل ہے لیکن اجتماع کا اہتمام نہ کیا جاوے “
📘( زوال السنة من اعمال السنة ،  ص 17 ، /شاھانی/ بحوالہ شب برات کی فضیلت ، مؤلف مولوی نعیم الدین دیوبندی ، ص 45 ، مطبوعہ مکتبہ قاسمیہ ۔ 17 ،  اردو بازار لاہور)

غیر مقلدین مجموعی طور پر اس رات کی فضیلت کے قائل نہیں ہیں اور شب برأت میں انفرادی عبادت کو منع کرتے ہیں۔ جیسا کہ ان کے فتاوی ستاریہ میں لکھا ہے :
” شب برأت کو رات بھر نفلیات وغیرہ پڑھنا بدعت ہے اپنی اپنی جانب سے دین اکمل کے اندر زیادتی کرنی ہے جو کہ شرعاً ممنوع ہے۔“
📕( فتاویٰ ستاریہ ، جلد اول ص 67 ، مکتبہ سعودیہ ، حدیث منزل، کراچی ، شاھانی)

امام الوہابیہ مولوی اسماعیل دہلوی صاحب نے ” تذکیر الاخوان میں کفر و نفاق کی باتوں کے ضمن میں شعبان میں حلوا پکانا بھی شامل کیا ہے۔ ملاحظہ ہو :

تقویة الایمان مع تذکیرالاخوان صفحه 63 / 64 )

حالانکہ شب برأت میں حلوا پکانے اور انفرادی یا اجتماعی عبادت کی ممانعت قرآن و حدیث سے ثابت نہیں اور امام الوہابیہ مولوی اسماعیل دہلوی صاحب نے خود بھی لکھا ہے:
” در فعلے از افعال و قولے از اقوال ہزار منافع و مضار مدرک شود و بصد وجه حسن یا قبح عقلاً در و ثابت شود اما تا وقتیکه کتاب منزل یا نص نبی مرسل بر لزوم یا منع او دلالت نداشته باشد وجوب یا حرمت آن قول و فعل شرعاً ثابت نمی تواں  شد “ ۔
ترجمہ: ” اگر کسی فعل یا قول میں عقل و ادراک سے ہزاروں نفع یا ضرر ( نقصان ) نظر آئیں یا کئی وجہ سے اُس میں حسن و تیج پایا جائے تا ہم جب تک منزل کتاب و حکم نبی مرسل سے اس کا جواز ( جائز ہونا ) یا نہی ( منع ہونا ) ثابت نہ ہو اس کا وجوب یا حرمت شرعاً ثابت نہیں ہوتا ۔ “
📘 ( منصب امامت ، ص 83 ، فارسی مع اردو مطبوعہ در مطبع فاروقی ، دہلی)

مولوی اسماعیل دہلوی نے اپنی اس عبارت کے برخلاف کتنے ہی امور کو اپنی کتب تقویۃ الایمان تذکیر الاخوان” ، ” ايضاع الحق اور ” تنویر العینین “ میں بغیر قرآن و سنت سے دلیل ہونے کے شرک و کفر کے قرار دیا ہے۔ یہاں تفصیل بیان کرنے کا وقت نہیں، بلکہ ان سے اس بات کی وضاحت مطلوب ہے کہ مولوی اسماعیل دہلوی کی اس صراحت کے باوجود وہابیہ دیابنہ شب برات میں اجتماعی عبادت کو بلا دلیل کتاب و سنت بدعت کیوں قرار دیتے ہیں۔؟

*مخالفین کے پیشواؤں اور ان کی معتمد کتب*

*( 1 ) فرقہ وہابیہ کے مورث اعلیٰ ابن تیمیہ سے ثبوت:*

مورث اعلیٰ جملہ وہابیاں ابن تیمیہ نے اپنی کتاب ” اقتضاء الصراط المستقیم “ میں شب برات کے متعلق لکھا ہے:
” اس رات کی فضیلت میں متعدد مرفوع احادیث اور آثار مروی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کی یہ ایک فضیلت والی رات ہے سلف میں سے بعض لوگ اس میں نماز پڑھتے تھے ۔“
📗( الاقتضاء الصراط المستقیم ترجمہ و تلخیص  تشخیص بنام راہ حق کے تقاضے ، ص 140،  مترجم مولوی مقتدیٰ حسن ( جامعہ سلفیہ بنارس ) مطبوعہ المکتبة السلفیہ ، شیش محل روڈ لاہور ، شاھانی)

اس کے دو سطر بعد ابن تیمیہ نے مزید لکھا ہے:
” اکثر اہل علم اس رات کی فضیلت کے قائل ہیں امام احمد نے بھی اس کی وضاحت کی ہے۔”
📕( الاقتضاء الصراط المستقیم ترجمہ و تلخیص  تشخیص بنام راہ حق کے تقاضے ، ص 140،  مترجم مولوی مقتدیٰ حسن ( جامعہ سلفیہ بنارس ) مطبوعہ المکتبة السلفیہ ، شیش محل روڈ لاہور ، شاھانی)

*(  2 ) امام الوہابیہ مولوی اسماعیل دہلوی سے ثبوت :*

وہابیہ دیابنہ کے امام مولوی اسماعیل دہلوی صاحب شب برأت کے متعلق لکھتے ہیں :
” آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شب برأت میں کسی کو اطلاع دینے اور جتلانے کے بغیر بقیع میں تشریف لے جاتے اور دعا کرتے اور صحابہ میں سے کسی کو امر نہ فرماتے کہ اس رات قبروں پر جا کر دعا کرنی چاہیے چہ جائیکہ آپ نے تاکید کی ہو پس اگر اب کوئی شخص پیغمبر خدا صلی الله علیہ وسلم کی متابعت کے واسطے شب برأت کو صلحاء کا مجمع کر کے کسی مقبرہ میں بہت ساری دعاٸیں کرے تو آنجناب کی مخالفت کے باعث اسے ملامت نہیں کر سکتے ۔“
📔( صراط مستقیم ، ص 75 ، مطبوعہ ادارہ نشریات اسلام اردو بازار لاہور و ایضاً ص 109 ، مطبوعہ اسلامی اکادمی اردو بازار لاہور )

اس اقتباس سے ثابت ہوا کہ شب برأت میں صلحاء کا جمع کر کے عبادت کرنے والے کو ملامت کرنا غلط ہے اس لیے اگر مسلمان شب برأت کو قبرستان جائیں اور دعاٸیں کریں تو اس کی وجہ سے وہابیہ کا اہل سنت کو ملامت کرنا درست نہیں، وہابیہ دیابنہ سے گذارش ہے کہ ہماری نہیں تو اپنے امام کی بات ہی مان لیں اور اللہ تعالیٰ کی انفرادی اور اجتماعی عبادت سے منع نہ کریں کیونکہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے:
” وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ “
ترجمہ: اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالی کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کیے جانے کو روکے۔”
📕(سورة البقرة ، آیت 114 ، ترجمہ مولوی محمد جونا گڑھی غیر مقلد وہابی)

*( 3 ) مولوی ثناء اللہ امرتسری سے ثبوت*

وہابیہ کے مشہور اور مزعوم مناظر مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب سے شب برأت کے متعلق سوال ہوا۔ ذیل میں سائل کا سوال اور مولوی ثناء اللہ صاحب کا جواب دونوں ملاحظہ کریں،

سوال: ” پندرھویں شب شعبان کو کیا شب قدر کا کوئی ثبوت ہے اس شب کو ثواب جان کر تلاوت یا عبادت کرنا کیسا ہے۔ “ (عبد الماجد بریلی)

جواب: ” اس رات کے متعلق ضعیف روایتیں ہیں اس دن کوئی کار خیر کرنا بدعت نہیں ہے بلکہ بحکم انما الاعمال بالنیات موجب ثواب ہے “ ۔
📘( فتاویٰ ثناٸیہ ، ج اول ، ص 656 ، ناشر ادارہ ترجمان السنہ 7 ، ایبک روڈ لاہور ، شاھانی)

مولوی ثناء اللہ صاحب نے صراحتاً تسلیم کر لیا کہ شب برأت میں عبادت کرنا ثواب ہے۔

*( 4 ) مولوی ابراہیم میر سیالکوٹی سے ثبوت*

مولوی ابراہیم میر سیالکوٹی صاحب نے شعبان کے فضائل پر مستقل رسالہ لکھا ہے ذیل میں اس کے اہم اقتباسات پیش کیے جارہے ہیں

ابراہیم میر سیالکوٹی صاحب لکھتے ہیں :
” ماہ شعبان کے فضائل بعض تو صحیح حدیثوں سے ثابت ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جن کی متعلقہ احادیث ضعیف ہیں “۔
📗( فضاٸل شعبان مع کتاب ماہ شعبان اور شب برأت ، ص 31 ، مطبوعہ مدینة العلم جامعہ مجددیہ ، درس روڈ، نورآباد، فتح گڑھ سیالکوٹ )

” قرآن شریف میں سورہ دخان میں جو فرمایا اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ (پ: 25 ) اس کی نسبت بعض مفسرین عکرمہ وغیرہ کا قول ہے کہ اس سے نصف شعبان کی رات مراد ہے “ ۔
📔( فضاٸل شعبان مع کتاب ماہ شعبان اور شب برأت ، ص 36 ، مطبوعہ مدینة العلم جامعہ مجددیہ ، درس روڈ، نورآباد، فتح گڑھ سیالکوٹ )

*اب جو اقتباس نقل کیا جا رہا ہے اس کے تحت مولوی ابراہیم میر سیالکوٹی صاحب نے کچھ حواشی بھی تحریر کیے ہیں ان کو بھی ساتھ ہی نقل کیا جا رہا ہے*

” حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ایک رات آں حضرت ﷺ اٹھے اور نماز پڑھنے لگے تو آپ ﷺ کا سجدہ بہت لمبا ہو گیا میں نے گمان کیا کہ آپ کی روح مبارک قبض ہو گئی، جب میں نے آپ کو اس حالت میں دیکھا تو میں اٹھی اور آپ کا انگوٹھا ( پکڑ کر ) ہلایا آپ ہلے تو میں واپس آگئی پس میں نے آپ کو سجدے کی حالت میں یہ کہتے سنا: اَعوذ بِعَفُوِكَ مِنْ عِقَابِكَ وَ اَعوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَ اَعوذبِكَ مِنكَ اِلَيكَ لَا اَحصِى ثَنَائُ عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثنيت عَلى نَفسِكَ ۔
یعنی: ( خداوند! ) ” میں تیری معافی کے ساتھ تیری سزا سے پناہ پکڑتا ہوں ساتھ تیری رضا مندی کے تیری خفگی سے، اور پناہ پکڑتا ہوں ساتھ تیری ذات کے تجھ سے اور ( بھاگ کر ) تیری ہی طرف ( آتا ہوں) میں تیری ثناء تجھ پر گِن نہیں سکتا۔ تو ویسا ہے جیسی تو نے خود اپنی ذات کی ثناء کی “۔ اس کے بعد جب آپ نے سجدے سے سر اٹھایا اور نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے فرمایا ، يا عائشه یاخمیراء (لالڑی) (1)

کیا تو نے گمان کیا کہ میں نے تیری حق تلفی کی؟ میں نے عرض کیا نہیں خدا کی قسم اے خدا کے رسول ( ایسا خیال نہیں تھا لیکن آپ کی سجدہ کی درازی سے مجھے گمان گزرا کہ آپ قبض ہو گئے ہیں، اس پر آپ نے فرمایا کیا تو جانتی ہے کہ آج کون سی رات ہے میں نے عرض کیا خدا اور خدا کا رسول بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا یہ نصف شعبان کی رات ہے اللہ تعالی نصف شعبان کی رات کو اپنے بندوں پر نظر کرتا ہے تو بخشش مانگنے والوں کو بخشتا ہے اور رحمت طلب کرنے والوں پر رحمت کرتا ہے اور اہل کینہ کو چھوڑ دیتا ہے جس طرح کہ وہ ہوتے ہیں (2)۔

حضرت معاذ بن جبل ( رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ آں حضرت ( ﷺ ) نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو اپنی سب مخلوق کی طرف نظر کرتا ہے پس سب خلقت کے گناہ معاف کر دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ ور کے (3)۔
یہی مضمون جو حضرت معاذ کی حدیث کا ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے بھی مروی ہے اور وہ حضرت معاذ والی حدیث سے قوت پکڑ سکتی ہے۔

نصف شعبان کا روزہ: نصف شعبان کا روزہ رکھنے کی بابت سوائے حضرت علی کی روایت کے اور کوئی روایت نہیں ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نصف شعبان کی رات ہو تو تم اُس رات میں قیام کرو اور اس کے دن کا روزہ رکھو کیوں کہ اس میں مغرب – کے وقت پہلے آسمان پر خدا تعالی ( کی تجلی ) کا نزول ہوتا ہے تو خدا تعالی فرماتا ہے کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اس کو بخشوں؟ کیا کوئی رزق مانگنے والا ہے کہ میں اس کو رزق دوں؟ کیا کوئی مبتلائے ( مصیبت ) ہے کہ میں اُسے عافیت دوں؟ کیا کوئی ایسا ہے؟ کیا کوئی ایسا ہے؟ خدا تعالی اس طرح فرماتا رہتا ہے حتٰی کہ فجر ہو جاتی ہے ۔ ( ابن ماجہ ص 100 ) لیکن خاص اس روایت کے راویوں میں سے ایک راوی ابن ابی سبرہ ہے جسے امام احمد نے جھوٹی حدیثیں بنانے والا قرار دیا ہے اور امام بخاری وغیرہ نے اسے ضعیف کہا ہے اور امام نسائی نے کہا متروک ہے ( 4 )۔

اس روایت کے مقابلہ میں ایک اور روایت ہے جسے امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا کہ آنحضرت نے فرمایا کہ جب نصف شعبان باقی رہ جائے تو روزہ نہ رکھو ۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے۔ اور اس کے معنی بعض اہل علم سے یہ بتائے ہیں کہ کوئی شخص (شعبان کے نصف اول میں تو روزے نہ رکھے لیکن جب شعبان کے کچھ دن باقی رہ جائیں تو رمضان کی وجہ سے روزے رکھنے شروع کر دے ( 5 )

( سو یہ بات منع ہے ) جیسے ابو ہریرہ ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ رمضان سے ایک یا دو دن پیشتر روزے نہ رکھو (الحدیث) ظاہر ہے کہ یہ روایت حضرت علی والی روایت کے معارض نہیں ہے کیونکہ اس میں نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنے کی ممانعت ہے اور حضرت علی والی روایت میں خاص نصف شعبان والے دن کے روزے کا حکم ہے۔ دیگر یہ کہ ممانعت والی حدیث میں علت رمضان کی خاطر پیشتر روزہ رکھنا ہے اور حضرت علی والی روایت میں خاص شعبان کی اس رات کی فضیلت ملحوظ ہے پس ہر دو احادیث اپنے اپنے موقعہ پر ہیں  ( 6 )

دیگر احادیث: حضرت عاٸشہ صدیقہ ( رضی اللہ عنہا ) سے مروی ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا کہ اس رات میں یعنی نصف شعبان کی رات میں کیا ہوتا ہے؟  حضرت عاٸشہ ( رضی اللہ عنہا ) نے پوچھا حضرت کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ (1) اس میں لکھا جاتا ہے ہر بچہ بنی آدم کا جو اس سال میں پیدا ہونے والا ہو ۔ ( 2) اس میں لکھا جاتا ہے، ہر شخص بنی آدم میں سے جو اس سال مرنے والا ہے اور اس میں ان کے اعمال مرفوع ہوتے ہیں ، اور ۔ ( 3 ) اس میں ان کے اعمال مرفوع ہوتے ہیں، اور ۔ ( 4 ) اس میں ان کے رزق اترتے ہیں ( الحدیث ) ( 7)

2 ۔ امام بیہقی نے حضرت عائشہ سے روایت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس جبرائیل نے آکر ذکر کیا کہ یہ رات نصف شعبان کی ہے اس میں خدا تعالی دوزخ سے اتنے لوگ آزاد کرتا ہے جتنے قبیلہ بنی قلب کے بکریوں کے بال ہیں ( لیکن ) خدا تعالی اس رات میں نظر رحمت نہیں کرتا طرف مشرک کی ، اور نہ کینہ دوز کی ، اور رشتہ داری کے پیوند کو قطع کرنے والے کی طرف، اور نہ ( تکبر سے ) اپنا تہبند  یا پاجامہ ( ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والے کی طرف ، اور نہ اپنے ماں باپ کے ستانے والے کی طرف اور نہ شراب نوشی پر پیشگی کرنے والے کی طرف ( 8 ) ایک روایت میں قابل نفس کا ذکر بھی آیا ہے یعنی خدا تعالی شب برأت میں اس شخص کی طرف بھی نہیں دیکھتا جس نے کسی بے گناہ کو قتل کیا ہو (9)
خلاصة الباب – محدثین کا مذہب یہ کہ جو کچھ صحیح حدیث سے ثابت ہو اس پر عمل بلاتردد کیاجاۓ اور اس میں کسی دیگر کی مخالفت  کا اندیشہ نہ کیاجاۓ ، اور فضاٸل اعمال میں اگر کوٸی حدیث ضعیف ہو یا اس کے طرق کٸی ایک ہوں جو ایک دوسرے کی تاٸید کرتے ہوں تو اس میں چنداں حرج نہیں دیکھا گیا ۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ” مصفٰے شرح فارسی موطا امام مالک “  میں فرماتے ہیں سلف استنباط مسائل و فتاوٰی  میں دو طریق پر تھے ایک وہ کہ قرآن وحدیث اور آثار صحابہ کو جمع کر کے اُن سے استنباط کرتے تھے اور یہ طریقہ اصل محمدثین کا ہے۔ (ص 4 ) اسی طرح شیخ عبد الحق صاحب محدث دہلوی حنفی ” مجموعہ المکاتیب والرسائل “ میں رسالہ نمبر 10 ” اقامة المراسم “ میں فرماتے ہیں۔ ” محمدثین کا طریقہ منصوص پر عمل کرنے کا ہے جو صحیح روایت سے ثابت ہو، مع اس کے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر بھی عمل جائز ہے خصوصاً جب کہ ان کے متعدد طرق ہوں اور ایک دوسرے سے قوت پکڑ سکتی ہوں “ ۔
📗( فضائل شعبان مع کتاب ماہ شعبان اور شب برأت ، ص 36 تا 42 ، مطبوعہ مدینة العلم جامعہ مجددیہ ، درس روڈ نور آباد ، فتح گڑھ ، سیالکوٹ ، شاھانی)

شب برأت میں سوائے قیام لیل اور درازی سجدہ کے جو مسنون دعا کے ساتھ ہو اور زیارت قبور کے اور اہل قبور کے لیے دعائے بخشش مانگنے کے اور عاشوراء کے دن کے سوائے اس کے روزے کے اور اپنے اہل پر توسیع طعام کے کچھ بھی ثابت نہیں اور توسیع طعام کی احادیث بھی ضعیف ہیں اور ان کے تعدد طرق سے اس نقصان کی تلافی ہو جاتی ہے، (ص 59 / 60 ) ۔ ہدایت ۔ ہم نے شعبان اور شب برأت کے متعلق صحیح اور ضعیف احادیث میں امتیاز کر دیا ہے اتباع سنت کا شوق رکھنے والے سنت نبویہ کو مضبوطی سے پکڑلیں ۔
📙( فضائل شعبان مع کتاب ماہ شعبان اور شب برأت ، ص  43 ،  مطبوعہ مدینة العلم جامعہ مجددیہ ، درس روڈ ، نور آباد فتح گڑھ، سیالکوٹ)

*( 5 ) مولوی عبداللہ روپڑی سے ثبوت :*

وہابیہ کے مشہور مزعومہ محدث مولوی عبداللہ روپڑی صاحب سے بھی نصف شعبان کے روزہ کے متعلق سوال ہوا۔ ذیل میں سوال اور جواب دونوں ملاحظہ کریں۔ ” فتاوی اہلحدیث “ میں لکھا ہے:
سوال: ماہ شعبان کی چودہویں یا پندرہویں روزہ رکھنا یا تین روزے تیرھویں چودھویں پندرہویں تاریخ میں رکھنے جائز ہیں یا نہیں بعض کہتے ہیں یہ بدعت ہے۔ الخ۔

جواب: شب برأت کا روزہ رکھنا افضل ہے چنانچہ مشکوۃ وغیرہ میں حدیث موجود ہے اگرچہ حدیث ضعیف ہے لیکن فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل درست ہے ہر ماہ کی تیرہویں چودہویں پندرہویں کا روزہ بھی حدیث میں آیا ہے۔ الخ
📘( فتاوٰی اہل حدیث ، جلد دوم ، ص 554 ، ادارہ أحیاء السنة النبویة ، ڈی بلاک سیٹلاٸٹ ٹاٶں ، سرگودھا )

قارئین آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مولوی عبداللہ روپڑی غیر مقلد صاحب نے نصف شعبان کے روزے کو افضل قرار دیا ہے جب کہ دوسری طرف غیر مقلدین کے امام ابن تیمیہ اپنی کتاب ” اقتضاء الصراط مستقیم “ میں نصف شعبان کے روزے کو مکروہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
” اس دن کا روزہ رکھنا شریعت میں کوئی اصل نہیں رکھتا بلکہ مکروہ ہے ۔ “
📗( جادوء حق تلخیص اقتضاء الصراط المستقیم ترجمہ مولوی عبدالرزاق ، ص71 ، مطبوعہ ادارہ ترجمان السنہ ، شیش محل روڈ لاہور ، /شاھانی/ ایضاً فکر و عقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے تلخیص اقتضاء الصراط المستقیم ، ص 82 ، مطبوعہ دارالسلام 36 لوٸر مال سیکریٹریٹ شاپ لاہور ، /شاھانی/ ایضاً راہ حق کے تقاضے تلخیص اقتضاء الصراط المستقیم ، مترجم مولوی ڈاکٹر مقتدیٰ حسن غیرمقلد ، ص 140 ، مطبوعہ المکتبة السلفیہ ، شیش محل روڈ لاہور ، شاھانی)

اس اقتباس میں یہ واضح ہے کہ ابن تیمیہ نے پندرہ شعبان کے روزے کو مکروہ قرار دیا ہے ، یوں مولوی عبداللہ روپڑی غیر مقلد صاحب کا اپنے امام ابن تیمیہ سے نصف شعبان کے روزے کے مسئلے پر اختلاف ہو گیا، اس مقام پر احناف کے خلاف ” الاختلاف بین ائمة الاحناف “ جیسی کتاب لکھنے والے غیرمقلد مؤلف کے لیے لمحہ فکریہ ہے، ، یاد رہے کہ غیر مقلدین کے آپسی شدید اختلافات کے بہت سے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔ جن میں سے 32 تضادات اور اختلافات مجلہ کلمہ حق ، شماره 1 ، 3 ، 4 ، 5 ، 6 ، 7 میں راقم کے قسط وار مضمون بعنوان ” وہابیوں کے تضادات “ میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔

*( 6 ) مولوی صلاح الدین سے ثبوت:*

مولوی صلاح الدین یوسف غیر مقلد صاحب نصف شعبان کی فضیلت کے متعلق لکھتے ہیں :
” شعبان کی پندرھویں رات کی بابت متعدد روایات آتی ہیں جن میں اس رات کی بعض فضیلتوں کا ذکر ہے لیکن یہ روایات ایک آدھ روایت کے علاوہ سب ضعیف ہیں لیکن چونکہ یہ کثرت طرق سے مروی ہیں ، اس لیے بعض علماء اس بات کے قائل ہیں کہ اس رات کی کچھ نہ کچھ اصل ہے بنا بریں اس رات کی کچھ نہ کچھ فضیلت ضرور ہے اور دوسرے علماء کی رائے میں ضعیف روایات قابل عمل نہیں “ ۔
📕( مسٸلہ رویت ہلال اور 12 اسلامی مہینے ، ص 322 /323 ، مطبوعہ دارالسلام 36 ۔ لوٸر مال سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور )

مزید لکھتے ہیں :
” علامہ البانی رحمہ اللہ اور شعیب ارناؤط رحمہ اللہ وغیرہ نے کثرت طرق کی بنا پر اس ایک روایت کو صحیح قرار دیا ہے جب کہ باقی سب روایات ضعیف یا موضوع ہیں، وہ ارشاد گرامی درج ذیل ہے۔
يَطَّلِعُ الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى اِلَى خَلقه ليلة النصف من شعبان فَيَغفِرُ لِجَمِيعِ خَلقِه اِلاَلِمُشرِك اَو مَشَاحِن:
ترجمہ: ” الله تعالى شعبان کی پندرھویں رات کو اپنی پوری مخلوق کی طرف نظر رحمت سے دیکھتا ہے پھر مشرک اور کینہ پرور کے سوا باقی ساری مخلوق کی بخشش کر دیتا ہے “۔
📔( مسٸلہ رویت ہلال اور 12 اسلامی مہینے ، ص 343 ، مطبوعہ دارالسلام ، 36 ، لوٸر مال سیکریٹریٹ سٹاپ ، لاہور )

*( 7 ) مولوی عبدالرحمان اٹاوی سے ثبوت:*

مولوی عبدالرحمان اٹاوی غیر مقلد صاحب اپنے مضمون شب برأت کی فضیلت میں لکھتے ہیں :
” جہاں ہماری عبادت میں سستی آگئی ہے من جملہ ان کے ایک موقع ماہ شعبان کی پندرھویں شب بھی ہے۔ بعض ہمارے بھائی بھی اس رات کی عبادت اور فضیلت سے قطعی انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے، لہذا اس بارے میں جتنی احادیث آئی ہیں مع جرح و تعدیل ہدیہ ناظرین کی جاتی ہیں *ان ارید الالاصلاح ما استطعت وما توفيقي الا بالله عليه توكلت والیہ انیب*۔ ترمذی شریف میں حضرت عائشہ رضی الله عنها سے مروی ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو (اپنی باری میں ) نہیں پایا، میں نکل کر دیکھتی ہوں تو آپ جنت البقیع (مدینہ کے قبرستان ) میں ہیں، آپ نے فرمایا ! کیا تم نے خیال کیا کہ اللہ اور رسول صلی الله عليه وسلم تم پر ظلم کریں، میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ( ﷺ ) مجھے معاً گمان ہوا کہ آپ کسی بیوی کے پاس تشریف لے گئے ہیں اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ اللہ سبحانہ و تعالٰی شعبان کی پندرھویں رات کو آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور بنی کلب ( قبیلہ ) کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ اپنی مخلوق کو اس رات میں بخش دیتا ہے۔ اس بارے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہم کو حجاج کی روایت سے پہنچی ہے اور میں نے اپنے استاد امام محمد ( امام بخاری ) رحمة الله علیہ سے سنا وہ اس حدیث کو ضعیف کہتے تھے اور کہا کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے عروہ سے نہیں سنا ، اور امام محمد ( بخاری ) رحمة الله علیه نے کہا کہ حجاج نے ابی کثیر سے نہیں سنا۔ شارح ترمذی صاحب ” تحفہ الاحوذی “ فرماتے ہیں ” یہ حدیث دو جگہ منقطع ہے “ پھر فرماتے ہیں اس کو اچھی طرح جان لیجیے کہ شب برأت کی فضیلت میں کئی حدیثیں مروی ہیں یہ سب حدیثیں بتا رہی ہیں کہ اس کی فضیات کا ثبوت ہے۔ پہلا ثبوت یہی منقطع حدیث ہے جو مذکور ہوئی ، اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس کے بارے میں شارح فرماتے ہیں کہ امام بزار اور امام بیہقى رحمة الله عليہ نے اس حدیث کو نقل فرما کر کہا کہ اس کی اسناد اچھی ہیں کوئی حرج نہیں كذا في الترغيب والترهيب للمنذري في باب الترهيب من التهاجر ( الاحوذی)
دوم : انہی اُم المؤمنین سے روایت ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے اور اس میں بہت بڑا لمبا سجدہ کیا حتیٰ کہ میں نے خیال کیا کہ آپ انتقال فرما گئے ہیں ( اللہ اکبر اس قدر عبادت میں ریاض سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی نہیں کر سکتا پھر برابری کا وسوسہ کیسا ) جب مجھے یہ خیال گزرا تو میں کھڑی ہو گئی اور آپ کے پیر کے انگوٹھے کو ہلایا تو آپ نے حرکت کی تو میں لوٹ گئی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ! اے عائشہ اے خمیراء (سرخ رنگ) کیا تو نے یہ خیال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے حق میں ناانصافی کریں گے میں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے خیال کیا کہ طول سجدہ کی وجہ سے آپ فوت ہو گئے ، آپ نے فرمایا اے عائشہ تم جانتی ہو کہ یہ کون سی رات ہے؟ میں نے عرض کیا اس کو تو اللہ اور اس کے رسول ہی جان سکتے ہیں آپ نے فرمایا یہ شعبان کی پندرھویں شب ہے اللہ تبارک و تعالی اس میں اپنے بندوں پر نظر عنایت سے جھانکتا اور دیکھتا ہے اور گناہوں سے بخشش مانگنے والوں کو بخشتا ہے اور رحم و کرم کی درخواست کرنے والوں کی درخواست کو منظور فرما کر ان پر رحم و کرم فرماتا ہے دنیوی بنا پر کینہ بغض و عداوت رکھنے والوں کو مؤخر کر کے ان کا معاملہ التوا میں ڈال دیتا ہے تا وقتیکہ وہ آپس میں صلح نہ کر لیں اس حدیث کو امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے مرسل روایت کیا ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔
سوم: حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنه رسول الله صلى الله علیه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں شب میں تمام مخلوق کو دیکھتا اور انہیں بخشتا ہے سوائے مشرک اور کینہ بغض و عداوت والے کے۔ حافظ منذری نے اس حدیث کو ذکر کر کے کہا اس کو طبرانی نے ” اوسط “ میں اور ابن حبان نے اپنی ” صحیح “ میں اور بیہقی نے اپنی ” سنن “ میں روایت کیا ہے اور ابن ماجہ نے اسی لفظ کے ساتھ حدیث ابو موسیٰ سے اور بزار اور البیہقی نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس کے مثل روایت کیا ہے جس کی سند میں کوئی برائی ہو۔ اس کے بعد شارح ترمذی فرماتے ہیں ابن ماجہ کی حدیث ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں ابن ابی ربیعہ راوی ہے اور وہ ضعیف ہے۔
چہارم: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی شب برأت میں اپنی مخلوق کو جھانک کر دیکھتا ہے اور اپنے بندوں کو بخشتا ہے مگر حسد و بغض و کینہ رکھنے والے اور قاتل ان دونوں کو نہیں بخشتا، امام منذری نے کہا کہ اس حدیث کو امام احمد رحمة الله عليه نے به اسناد لین روایت کیا ہے ۔
پنجم: حضرت مکحول کو کثیر بن مرہ اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ لیلہ نصف شعبان میں زمیں والوں کو بخشتا ہے سوائے مشرک اور کینہ دار کے۔ منذری نے کہا اس کو امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کر کے کہا یہ حدیث بھی مرسل جید ہے اور طبرانی و بیہقی دونوں نے بروایت مکحول عن ابی ثعلبہ روایت کی ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا اللہ تعالی اس رات میں اپنے بندوں کو جھانک کر دیکھتا ہے اور ایمان والوں کو بخشتا ہے اور کافروں کو ڈھیل دیتا ہے اور اہل کینہ حسد و بغض کو یوں ہی چھوڑ دیتا ہے تاوقتیکہ اس سے باز آ جائیں یہ حدیث بھی مرسل ہے۔
ششم: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نصف شعبان کی شب ہو تو رات میں قیام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو اللہ تعالی آفتاب غروب ہوتے ہی آسمان دنیا پر تشریف لاتا ہے اور صبح صادق تک بندوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کوئی گناہوں سے بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اُسے بخش دوں؟ کوئی مجھ سے رزق مانگنے والا ہے کہ میں اسے روزی عنایت کروں ؟ کوٸی مصیبت زدہ آفت زدہ  (مجھ سے دعا مانگنے والا ) ہے کہ میں اسے عافیت اور تندرستی دوں ؟ کوئی کسی طرح کا بھی سوالی ہے کہ میں اس کے سوال کو پورا کروں؟ اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا اور اس میں ایک راوی ابوبکر بن عبداللہ بن محمد بن ( یہاں سے نسخہ ناقص ہے میثم قادری) ہے اس کو ” واضع الحدیث “ کہا ۔۔۔۔۔ (راقم کے پاس اہل حدیث گزٹ کے اس شمارے میں یہ مقام ناقص ہے اس لیے یہاں نقطے لگا دیے گئے ہیں۔ میثم قادری ) اور امام نسائی نے اس کو متروک کہا ہے اس کے بعد صاحب ” تحفہ الاحوذی “ فرماتے ہیں ۔۔ یہ تمام حدیثوں کا مجموعہ حجت ہے ان پر جو کہتے ہیں اس رات کی فضیلت ثابت نہیں۔ واللہ اعلم “
📕( اہلحدیث گزٹ ، دہلی ص 9 / 10 ، بابت 15 جون 1947 ع ، شاھانی)

*( 8 ) شب برأت میں اجتماعی طور پر عبادت کرنے کا شام کے تابعین سے ثبوت*

نجدی وہابی علماء کے فتاوی جات پر مشتمل کتاب ” توحید کا قلعہ “ میں وہابی نجدی حضرات کے مزعومہ مفتی اعظم عبدالعزیز بن باز اپنے فتوی میں شب برأت کی فضیلت کے بارے میں لکھتے ہیں:
” اس رات کی فضیلت کے بارے میں اہل شام وغیرہ سے سلف کے کچھ آثار ملتے ہیں “۔
📗( توحید کا قلعہ ، ص 131 ، مطبوعہ دار القاسم، ریاض سعودی عرب ۔ مترجم عبدالولی عبدالقوی )

اپنے اسی فتوی میں بن باز نجدی صاحب نے حافظ ابن رجب حنبلی کی کتاب ” لطائف المعارف “ سے اقتباس کا خلاصہ نقل کیا ہے جس کے شروع میں حافظ ابن رجب حنبلی نے لکھا ہے:
” شام کے کچھ تابعین مثلاً خالد بن معدان ، مکحول ، لقمان بن عامر ، وغیرہ شعبان کی پندرہویں شب کی تعظیم کرتے تھے اور اس میں عبادت کے لیے جشن کرتے تھے بعد کے لوگوں نے اس شب کی تعظیم انہیں سے لی ہے “
📙( توحید کا قلعہ ، ص 135 ، مطبوعہ دار القاسم، ریاض سعودی عرب ۔ مترجم عبدالولی عبدالقوی)

حافظ ابن رجب حنبلی کی کتاب سے نقل کردہ خلاصہ کے آخر میں بھی لکھا ہے:
” تابعین کی ایک جماعت سے اس کا ثبوت ملتا ہے جو اہل شام کے بڑے فقہاء میں سے ہیں “
📘( توحید کا قلعہ ، ص 137 ، مطبوعہ دار القاسم، ریاض سعودی عرب – مترجم عبدالولی عبدالقوی ، شاھانی)

حافظ ابن رجب شب برأت میں عبادت کے متعلق مزید لکھتے ہیں:
” اس رات مساجد میں اجتماعی طور پر عبادت کرنا مستحب ہے، خالد بن معدان اور لقمان بن عامر وغیرہ اس شب اچھے کپڑے پہنتے ، دھونی دیتے ، سرمہ لگاتے اور پوری رات مسجد میں ہی مصروف عبادت رہا کرتے تھے ۔ اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے وہ کہتے ہیں اس شب مساجد میں اجتماعی طور پر عبادت کرنا بدعت نہیں ہے اسے حرب کرمانی نے اپنے ” مساٸل “ میں ذکر کیا ہے “۔
📔( توحید کا قلعہ ، ص 135 / 136 ، مطبوعہ دارالقاسم ، ریاض ، سعودی عرب ، مترجم عبدالولی عبدالقوی )

*( 9 ) علامه اوزاعی اور حافظ ابن رجب سے شب برأت میں انفرادی عبادت کا ثبوت*

حافظ ابن رجب علامہ اوزاعی کا قول نقل کرتے ہیں :
” فرداً نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے، اہل شام کے امام، فقیہ، عالم علامہ اوزاٸی رحمہ اللہ کا یہی کہنا ہے، ان شاء اللہ یہی قول صحت سے قریب ترین ہے “ ۔
📘( توحید کا قلعہ ، ص 136 ، مطبوعہ دارالقاسم ، ریاض سعودی عرب ، مترجم عبدالولی عبدالقوی)

اس قول سے ثابت ہوا کہ علامہ اوزاعی شب برأت میں انفرادی عبادت کے قائل ہیں اور حافظ ابن رجب نے علامہ اوزاعی کی تائید کی ہے لہذا دونوں علماء سے شب برأت کی فضیلت اور عبادت کا ثبوت مل گیا۔

سعودی مفتی عبدالعزیز بن باز نجدی صاحب کے حافظ ابن رجب کی کتاب سے نقل کردہ خلاصے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے شب برأت کی فضیلت کے بارے میں لکھا ہے:
” شعبان کی پندرہویں شب کے بارے میں امام احمد رحمه اللہ سے کوئی بات نہیں ملتی ، البتہ اس رات میں عبادت کے استحباب کے بارے میں ان سے دور روایتیں ملتی ہیں “ ۔
📕( توحید کا قلعہ ، ص 136 ، مطبوعہ دارالقاسم ، ریاض ، سعودی عرب ، مترجم عبدالولی عبدالقوی )

اگر وہابیہ یہ کہیں کہ شب برأت کی فضیلت میں وارد احادیث ضعیف ہیں تو مختصراً عرض ہے کہ اگر آپ کے بقول انہیں ضعیف ہی مان لیں تو پھر بھی باتفاق محدثین عظام یہ احادیث فضائل اعمال میں مقبول ہیں ( جگہ کی کمی کی وجہ سے دو حوالے مزید پیش کیے جاتے ہیں ایک حوالہ پہلے آپ حافظ عبداللہ رو پڑی وہابی صاحب کے حوالہ سے ملاحظہ کر چکے ہیں )

*ضعیف حدیث اور صدیق حسن بھوپالی*

نواب صدیق حسن خان بھوپالی ضعیف حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:
” نووی در اذکار گفته علماء محدثين و فقها وغيرهم گفته اند که عمل بحدیث ضعیف در فضائل مستحب ست. اگر موضوع نیست “ ۔
یعنی امام نووی نے ” کتاب الاذکار “ میں بیان کیا ہے کہ علماء محدثین اور فقہاء نے فضائل میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا مستحب قرار دیا ہے بشرطیکہ وہ موضوع نہ ہوں “۔
📗( منہج الوصول الى اصطلاح احادیث الرسول ، ص50 ، مطبوعہ  در مطبع شاہجہانی)

*ضعیف حدیث کے اعمال میں قابل عمل ہونے پر علماء کے اتفاق کا ڈاکٹر خالد علوی سے ثبوت*

ڈاکٹر خالد علوی صاحب نے بھی اپنی مشہور کتاب ” اصول الحدیث “ کے صفحہ 236 تا 288 تک فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی بابت علماء کا اتفاق نقل کیا ہے “ ۔
📙( اصول الحدیث ، ص 286 تا 288 ، ناشر الفیصل ناشران و تاجران کتب اردو بازار لاہور ، شاھانی)

                تمت

حوالے:

( 1. حضرت عاٸشہ رضی اللہ عنہا کو گورے رنگ کی وجہ کی خمیراء بھی کہتے تھے یعنی لالڑی ۔ 12 ( ابراہیم میر )

( 2. ترغیب و ترھیب للمنذری رحمة اللہ علیہ بر حاشیہ مشکوة ص 178
امام منذری نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرمایا: اس حدیث کو امام بیہقی نے علاء بن حارث کے طریق سے حضرت عاٸشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا اور کہا کہ یہ *مرسل جید* یعنی علاء نے عاٸشہ سے سنا نہیں ، امام منذری نے اس حدیث کو ” ترغیب و ترہیب “ ہی میں دوسرے مقام پر ” باب التھاجر ص 428 “ میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ احتمال ہے کہ علاء نے یہ حدیث مکحول سے لی ہو یہ عاجز ابراہیم میر سیالکوٹی کہتا ہے کہ روایت مکحول کے واسطے سے کٸی ایک دیگر صحابہ سے بھی مروی ہے مثلاً کثیر بن مر ، ابو ثعلبہ سے ( دیکھو ترغیب و ترہیب ص 428 )  گویا یہ سب طرق مرسل ہیں لیکن دیگر مختلف صحابہ سے مروی ہونے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ مسٸلہ بے بنیاد نہیں ہے ، خصوصاً! حضرت معاذ کی حدیث کو ملحوظ خاطر رکھنے سے جو اس کے بعد نمبر 3 پر درج کی ہے صاف کھل جاتا ہے ۔ 12 منہ ( ابراہیم میر )

( 3. امام منذری نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا ، روایت کیا اس کو طبرانی نے ” اوسط “ میں اور ابن حبان نے اپنی ” صحیح “ میں ، اور بیہقی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اسی طرح ساتھ ایسی اسناد کے جس میں کوٸی براٸی نہیں ۔ 12 منہ ( ابراہیم میر )

(4. میزان الاعتدال ص 639 جلد ثانی ترجمہ ابوبکر بن عبداللہ بن ابی ہبرہ ۔ 12 منہ ( ابراہیم میر )

( 5. دیکھو اسی رسالہ کا صفحہ نمبر 52 ۔ 12 منہ ( ابراہیم میر )

( 6. حضرت علی رضی اللہ عنہ والی روایت پر جو جرح ہے وہ بحال خود ہے ، اس جگہ دونوں حدیثوں کے مضمون میں جو تعارض کا وہم پڑ سکتا ہے اس کو رفع کیا ہے ۔ 12 منہ ( ابراہیم میر )

( 7. مشکوة ۔ ( ابراہیم میر )

( 8. ترغیب و ترہیب مطبوعہ برحاشیہ مشکوة 179 ۔ 12 منہ ( ابراہیم میر )

( 9. ترغیب و ترہیب ص 428 قال المنذری رواہ احمد عن عبداللہ بن عمر باسناد لین ۔ 12 منہ ( ابراہیم میر ) ۔

*ہم نے اس تحریر میں جتنے بھی حوالاجات نقل کیے ہیں سب کے سب وہابیہ ، دیابنہ کے کتب سے ، اگر پھر بھی وہابیہ دیابنہ اپنی ہٹ دھرمی نہ چھوڑیں تو ہم کچھ نہیں کر سکتے ، ہمارا امقصد صرف فرقہ باطلہ کو حق بات دکھانا ہے باقی تسلیم کرنا یا نہ کرنا ان کی مرضی ہے ، کیوں کہ ہدایت اللہ تعالی کی طرف سے ہے ۔ ( محمد علی شاھانی )*

*( طالب دعا ۔ محمد علی شاھانی )*