برطانیہ میں روحانی امراض ،  مختصر اسباب و علاج
از: افتخار الحسن رضوی

برطانیہ میں آبادی کا ایک بڑا حصہ  روحانی مسائل میں مبتلا ہے۔ بہت پہلے میں اسے ایک دھوکہ یا نفسیاتی مسئلہ سمجھتا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں موجود علماء کرام  نے جب اس طرف توجہ دلائی اور بہت سارے روحانی بیماوں کی میری طرف بھجوانے لگے تو  مسائل کی سمجھ آنے لگی۔  ایک طویل عرصے  سے ان لوگوں کے  مسائل حل کرتے ہوئے اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تقریباً اسی فیصد برطانوی آبادی بلا واسطہ  یا بالواسطہ بُرے اثرات، نظرِ بد اور سحر وغیرہ میں مبتلا ہے۔ برطانیہ کے ساتھ ساتھ دیگر یورپی ممالک، امریکہ وغیرہ میں بھی ایسی شکایات ہیں۔ خصوصاً  پرانے گھروں میں یہ معاملات انتہائی خطرناک حد تک پہنچے ہوئے۔  اس میں کوئی شک والی یا اچنبھے کی بات بھی نہیں ہے کیونکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے معروف روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ؛
“أكثر من يموت من أمتي بعد قضاء الله وقدره بالعين۔  یعنی میری امت میں اکثر اموات تقدیر اور اس کے بعد نظر لگنے سے ہوں گی”۔
ایک اور معروف روایت ہے;
“ نظر انسان کو قبر میں ،اور اونٹ کو ہانڈی میں پہنچا دیتی ہے ،اور میری امت کی اکثر ہلاکتیں نظر لگنے ہی سے ہوں گی”۔
اس کے ساتھ ساتھ سیدہ اسماء بن عمیس رضی اللہ عنہا کی روایت جو  ترمذی اور امام احمد نے روایت کی ہے، وہ بھی بہترین دلیل ہے۔ رحمہا اللہ۔
ہند و پاک کے متعدد جید و اکابر علماء کی اموات نظر بد سے ہوئیں، جن پر میں کئی بار لکھ چکا ہوں۔   بالخصوص برطانیہ میں یہ مسائل  خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ علماء بھی اس کا شکار ہیں اور ظاہر ہے  ان مسائل کا حل و علاج آسان بھی نہیں اور ہر کوئی کر بھی نہیں سکتا۔ 
برطانیہ میں ایسے مسائل کی وجوہات درجِ ذیل ہیں۔
• پرانے گھروں میں رہنا۔ کئی گھر ایسے ہیں جو سو سال پہلے تعمیر کیے گئے تھے، اس وقت ان کا مالک کوئی غیر مسلم تھا اور وہاں حرام افعال کا ارتکاب ہوا، جو شریعت اسلامیہ سے متصادم تھے۔  مثلاً گزشتہ دنوں  لندن میں ایک گھر میں جنات کی حاضری ہوئی۔ تفتیش پر معلوم ہوا کہ وہ جنات اس گھر میں  ۱۹۱۰ سے مقیم ہیں۔ گزشتہ  ۱۱۴ برسوں کے دوران  اس گھر میں کئی لوگ آئے، تنگ آ کر چھوڑ گئے۔   اس دوران کئی عیسائی عاملین نے بھی اس کی کاٹ کرنے کی کوشش لیکن ناکام رہے، مقامی لوگوں نے اس کی تصدیق بھی کر دی۔
• ان گھروں کی بنیادوں میں  عیسائیوں نے اپنی تعلیمات پر مبنی حفاظتی تعویذات دفن کیے ہوں گے۔ اب یہاں مسلمان رہتے ہیں اور  اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے پیشاب اور دودھ کو آپس میں ملا دینا۔  آگ اور پانی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دینا۔ 
• چونکہ بریڈ فورڈ، برمنگھم،  اور لندن میں ہندو، سِکھ اور دیگر مشرک  جادوگر موجود ہیں۔ وہ اچھے خاصے پیسے لے کر جادو کرتے ہیں۔  مانچسٹر میں موجود ایک ٹی وی چینل جس کا مالک پاکستانی ہے، وہ ایک سِکھ جادوگر کو پروموٹ کرتا رہا ہے۔ یہی جادوگر  لوگوں کا گھر برباد کرنے کے لیے پانچ ہزار پاؤنڈ تک چارج کرتا ہے۔ کئی برس قبل میں نے آزمانے کے لیے اسے کال کی، پانچ منٹ کی مشاورت کے لیے اس نے پچاس پاؤنڈ مجھ سے لیے۔ میں نے گواہی کے طور پر ایک عالم دین دوست کو بھی ساتھ رکھا اور وہ یہ سب دیکھ کر حیران تھے۔  ہمارے مسلمان بھی اپنے ہی رشتہ داروں کے گھر ، صحت، ازدواجی زندگی اور  کاروبار برباد کروانے کے لیے ایسے لوگوں کے پاس بکثرت جاتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو طلاق کی شرح دیکھ لیں۔     برطانیہ میں ان جادوگروں کے دفاتر کے باہر میں نے کئی بار اپنی آنکھوں سے نقاب و حجاب کے ساتھ کھڑی مسلمان خواتین دیکھی ہیں۔   جادوگروں کا اتنی وافر تعداد میں موجود ہونا بھی ایسے مسائل میں کثرت کا سبب ہے  ۔ یاد رکھیں، جادوگر کے پاس جانے سے ہی نحوست کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جادو کرنا یا نہ کرنا بعد کا معاملہ ہے۔
• برطانیہ میں خوراک کے  اندر حرام اجزاء  کا شامل ہونا بہت آسان اور عام ہے۔ مثلاء چِکن اور دیگر گوشت مشکوک ہیں۔ حرام کھانے سے جادو بآسانی ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی ڈرگز، الکوحل اور دیگر نشہ آور اشیاء آسانی سے دستیاب ہیں۔ بلکہ چرس بھنگ وغیرہ  ایک خاص مقدار تک استعمال کرنا قانوناً جائز ہے۔ آپ جتنا حرام کھائیں گے جادو وغیرہ اتنا ہی آسانی سے ہو گا۔
• چونکہ حرام تعلقات قائم کرنا بھی بہت آسان ہے اور والدین اپنی اولاد کو روک بھی نہیں سکتے، یہ بھی ایک اہم وجہ ہے۔ آپ جتنے گندے رہیں گے، جتنازیادہ حرام کریں گے اتنا ہی جادو زیادہ اثر کرے گا۔ مشاہدات تو یہی ہیں کہ زنا،    لواطت اور حرام تعلقات جادوگروں کی بنیادی  ضروریات میں شامل ہیں۔
• روحانی تربیت کا فقدان ہے۔ پیر صاحبان اور علماء نے  تعویذات کی فوٹو کاپیز رکھی ہوئی ہیں۔ گردہ، مثانہ، جگر، دل، دماغ  اور ہر بیماری میں ایک ہی تعویذ دیتے ہیں اور پانچ دس پاؤنڈ کے بدلے  یہ سب ہوتا ہے۔  روحانی علاج کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی اوپن ہارٹ سرجری کی۔ اس میں بھی اتنی ہی اہلیت، قابلیت اور صلاحیت درکار ہے جتنا دماغ کی سرجری کرنے کے لیے ایک ڈاکٹر کو مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

علاج:
• ماہر روحانی معالج پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
• سب سے پہلے تشخیص ضروری ہے۔ جادو یا جنات کا مقام یا لوکیشن تلاش کی جائے۔ جیسا کہ سورہ الفلق اور سورہ الناس کی تفسیر میں موجو دہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جب جادو کی کوشش کی گئی تو رب تعالٰی نے اس جادو کے ایک کنویں میں دفن ہونے کی اطلاع دی اور سیدنا جبریل علیہ السلام نے یہ سب معلومات رسول اللہ ﷺ تک پہنچائیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس جگہ سے  مدفون پُتلا نکالا اور پھر اسے ضائع کیا گیا۔
• چلتے پھرتے معالج سے کام نہ کروائیں۔ یہ ایک مستقل اور فُل ٹائم پریکٹس ہے۔ معالج  خود اس کی کاٹ کرے اور پھر دیے گئے وظائف پر آپ عمل کریں۔
• جادو مختلف  طریقوں سے  ہوتا ہے۔ مثلاً کھانے میں ملا کر دیا جائے، پلایا جائے، جِنات کے ذریعے بھیجا جائے۔ پڑھ کر دم کر دیا جائے، پُتلا بنا کر دبا دیا جائے، حمل کی بندش کر دی جائے، گھر، مکان یا دفتر میں دبا دیا جائے وغیرہ۔ ہر جادو کی الگ کاٹ اور علاج ہے۔
• اگر یہ کنفرم ہو جائے  کہ جادو یا جنات کا معاملہ ہے تو کچھ عرصہ کے لیے دوسری جگہ منتقل ہو جائیں، اپنا علاج مکمل کریں۔ لیکن یہ فیصلہ آپ کا معالج کرے گا۔ بالکل ویسے ہی جیسے کوئی ڈاکٹر مریض کو ہسپتال میں داخل کرنے کے بعد علاج کرتا ہے۔
• اپنے مسائل کے متعلق کسی ہمدرد یا خیر خواہ کو بتائیں اور  دوران علاج اس کی مدد حاصل کریں کیونکہ جادو میں مبتلا افراد کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ خود کو بیمار نہیں سمجھتے اور علاج کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ مسلسل انکار کرتے ہیں۔ لہٰذا کسی دوسرے خیر خواہ کی مدد کے بغیر یہ علاج بھی ممکن نہیں ہوتا۔
• ان تمام مسائل کا حتمی علاج کوئی ماہر معالج ہی بتا سکتا ہے۔  معالج کے پاس چل کر جائیں، اس علاج کو اتنی ہی اہمیت دیں جتنی اہمیت آپ شوگر، گردوں، دل اور دماغ کے امراض کو دیتے ہیں۔ اس علاج کے بدلے معالج  کو معاوضہ بھی دیں کیونکہ  اس میں معالج کا وقت، اس کی اپنی صحت اور  توانائی اس پر خرچ  ہوتی ہے۔ رضائے الٰہی کے لیے کام کرنے والے معالج طلب تو نہیں کرتے لیکن آپ ان کو معاوضہ دیں تاکہ ایسے افراد    کی مالی حالت بہتر ہو اور یہ کام مزید بہتر انداز میں کر سکیں۔
اس پر مزید بھی لکھوں گا، سرِ دست کچھ مشاہدات پیش کر رہا ہوں۔ رب کریم سب کو سلامتی و عافیت سے نوازے۔
افتخار الحسن رضوی
۲۵ شعبان ۱۴۴۵ بمطابق ۶ مارچ ۲۰۲۴