مولویوں سے بدظنی کی وجوہات
کیا وجہ ہے کہ بر صغیر کے مولویوں سے نو جوانوں کا 80فیصد طبقہ بد ظن ہوتا جا رہا ہے
اور انکے متبادل ساحل اور انجینئیر جیسے لوگوں کو پسند کرنے لگے؟
لیکن یہی 80فیصد طبقہ اسلام کے راستے پر بھی چل رہا نماز روزہ زکوٰۃ جیسے ارکان کو بھی ادا کر رہا ہے۔
دینی معاملات میں بھی دلچسبی رکھتا ہے ۔
سیرت رسول کو بھی مقدم کرتا ہے حلال و حرام کا خیال بھی کرتا ہے۔
لیکن مولوی سے بد ظن ہے اور انکی باتوں پر یقین نہیں کرتا تمام مسالک کے مولویوں کو ایک جیسا سمجھتا ہے۔
آخر اسکی کیا وجہ؟
کہ نوجوان اسلام سے دور نہیں لیکن مولوی سے دور ہوتا جا رہا ہے؟
اسکا جواب یہی ہے۔
کہ بر صغیر کے مولوی کا طریقہ تبلیغ 50 سال پرانا ہے۔۔
انکے مضامین وہی ہیں جو 50 سال پرانے لوگوں میں تھے۔
اور مولویوں کا ان مضامین میں توانائی خرچ کرنا جنکی نواجوان ٹکے کی پرواہ نہیں کرتا۔
مثلا!
بریلوی علما کی اکثریت کا زور
• اولیاء اللہ کی کرامات پر
• سیرت و واقعات اولیاء
• قیاسی اعتقادی مسائل
•درباروں و قدی نشینی والی فلمیں
•ایک دوسرے کے اختلاف پر گمراہیت کے فتوے بانٹنا۔
•مخالف مسالک کو ہر مسلے کیں غلط ثابت کرکے روندنا۔
دیوبند کے علماء کی اکثریت کا زور
•اپنے بزرگوں کی عبارات کا دفاع کرتے رہنا ہر وقت
•میلاد و جلوس پر اتنی شدت سے بیانیات و لٹریچر میں شدت اختیار کرنا کہ مخالفین کو گمراہ قرار دے دینا۔
•حیاتی و مماتی اختلاف پر مناظرے جدو جدل
•اپنے بزرگوں کی شان میں ہر غلو کا دفاع اور اولیاء اللہ کے بارے معیار تبدیل کر لینا۔
اہل حدیثوں کے علماء
•یہ لوگ دس صدیاں پیچھے ہیں۔
•وہ اعتقادی مسائل جو صدیوں۔ پہلے امت نے حل کر لیے انہی کو زندہ رکھنا اور اختلاف جاری کرنا ۔
اللہ استوا•
•مسلہ تفویض
•رفع الیدین و فاتحہ جیسے معمولی فروعی مسائل پر سیکڑوں کتابین و لٹریچر
•شرک و بدعت جے فتوں کی توپیں کھولنا۔
یہ سب وہ مسائل ہیں جنکو نوجوان لڑک پن سے سںتے سنتے اب اپنی نسلین پیدا کر چکے ہیں۔
لیک مولویوں کی ابحاث وہی کھڑی ہیں۔
ان سب مسائل کے باوجود سب سے بڑی وجہ!!!
ان تین مسالک کا ایک دوسرے کو مسلمان نہ سمجھنا یا مطلق گمراہ سمجھنا۔
یہ وہ اول سبب ہے جس سے عام عوام اور سادہ لوگ اور پروفیشنل و جدید علوم پر دسترس رکھنے والے لوگ مولویوں سے دور ہو چکے ہیں۔
کیونکہ دنیا کے ہر شعبہ میں یہ تین مسالک کے لوگ کام کر رہے ہیں۔ بطور ٹیم بطور دوست اور بطور تاجر بطور اساتذہ کبھی اختلاف نہیں کرتے اور جدید علوم پر متفق ہیں۔
ایک ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔
ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں۔
ایک دوسرے کے جنازے پڑھتے ہیں۔
ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔
ایک دوسرے میں شادیاں کرتے ہیں۔
لیکن جب یہ سنتے ہیں کہ ہمارے مولویوں کے مطابق میرا فلاں دوست فلاں رشتے دار فلاں استاذ فلاں کالیگ۔ گمراہ و ب دین یا خارج اسلام بن رہا ہے تو وہ مولویوں کو ہی جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں کہ یہ جھگڑے مولویوں کے روٹیوں کے ہیں ۔
کیونکہ یہی نوجوان سیاست کے ایوانوں میں تمام مولویوں کو ہاتھ میں ہاتھ ڈالے متحد دیکھتے ہیں اور سٹیجوں اور مساجد میں ایک دوسرے پر آگ اگلتے۔
انے ولی نسل نماز پڑھنے کے لیے کبھی یہ نہیں دیکھے گی کہ یہ مسجد کس فرقے کی ہے۔
جبکہ یہ معاملہ کب سے شروع ہے ۔
ان تمام مسالک کو چاہیے ایک صدی ہو چکی اس جنگ وجدل سے سب نے اپنے مسالک کے نوجوانوں کو بیزار کر دیا فرقہ واریت سے۔
لیکن اج بھی چند اچھے علماء ان مسالک میں موجود ہیں جو کوئی تطبیق و تدبیر اور فہم و اعتدال سے انے والی نسل کو ان فرقہ واریت و فضول ابحاث سے نکال سکے۔
ورنہ ہم سب اپنی اپنی ڈیڈ اینٹ کی مسجد میں خود کو ہی فقط مومن اور باقیوں کو گمرہ سمجھتے چل بسے گیں۔
یہی ایک کڑوا حل ہے۔
وگرنہ ہر کچھ عرصے میں کوئی نہ کوئی نمونہ ہمیشہ تمام مولویوں کو گالی دیکر نوجوان معاشرے کی ہمدردی حاصل کرکے انکو اپنے پیچھے لگاتا رہے گا۔
اسد الطحاوی✍️