سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے منسوب متعہ کی روایت پر سلیمان معتزلی کی دوسری تحریر کا علمی تعاقب۔۔۔!!!

تحقيق: از رضاءالعسقلاني الشافعي غفرالله له

ہماری تحریر کے جواب میں رافضیوں کے ہمددر سلیمان معتزلی نے جو اعتراض اٹھائے تھے ہم ان کا اصولی اور تحقیقی جواب اس طرح پیش کرتے ہیں:
سلیمان المعتزلی:
الفاظ جن کی نسبت پر رضا عسقلانی نے اعتراض کیا ہے وہ الفاظ امام عبدالرزاق کی مصنف میں ہیں جو کہ ان کی اپنی کتاب ہے جبکہ جن الفاظ سے رضا عسقلانی نے تقابل کیا وہ الفاظ احمد بن حنبل اور امام مسلم نے براہ راست عبدالرزاق الصعنانی سے نہیں سنے بلکہ عبدالرزاق الصعنانی کے بعض شاگردوں کے واسطے سے سنے اس لحاظ سے عبدالرزاق الصعنانی کی مصنف کے الفاظ اصولی طور پر احمد بن حنبل اور مسلم کی روایت پر مقدم ہی ہوں گے

رضاء العسقلانی : لگتا ہے جناب پاگل ہو گے ہیں کہ جو یہ کہہ امام احمد بن حنبل اور امام مسلم کے شیخ امام حسن حلوانی کی روایت حافظ عبدالرزاق سے براہ راست نہیں ہے جب سند اس طرح ہے:

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا عبد الرزاق۔۔۔۔الخ
(مسند احمد بن حنبل، ج 3، ص 380، رقم 15115)
حدثنا الحسن الحلواني حدثنا عبدالرزاق۔۔۔الخ
(صحیح مسلم، ج 2، ص 1022، رقم 1405)
امام احمد بن حنبل اور امام حسن الحلوانی نے حافظ عبدالرزاق سے براہ راست سنا ہے اور یہ دونوں ائمہ الدبری سے اوثق سے ساتھ ساتھ حافظ عبدالرزاق کے قدیم السماع شاگرد ہیں تو مقدم متن انہی کا بیان کردہ شمار کیا جائے گا نہ کہ الدبری کا  اصول حدیث کی روشنی میں لیکن یہاں تو اس معتزلی  صاحب نے اصول حدیث کا کھلواڑ کر ڈالا ہے۔
___________________________

سلیمان المعتزلی:
لیکن انہی الفاظ پر رضا عسقلانی نے حافظ دبری کے حافظے کی بنا پر اعتراض کیا جبکہ اصولی طور پر یہ اعتراض باطل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دبری یہاں پر امام عبدالرزاق سے کوئی زبانی روایت نقل نہیں کر رہا بلکہ کتابت کر رہا ہے اور ہر ذی شعور یہ بات جانتا ہے کہ رجال کی توثیق کے اصول کا کتابت پر اطلاق ہوتا ہی نہیں جہاں تک دبری کے حافظے کا تعلق ہے تو یہ جرح زبانی طور پر روایات نقل کرنے کے حوالے سے تو ٹھیک ہے مگر یہاں پر دبری عبدالرزاق الصعنانی سے کتابت کر رہا ہے اور
¶ حالت اختلاط میں روایات نقل کرنا
¶ حالت اختلاط میں روایات کی کتابت کرنا دونوں کا اصول ہی مختلف ہے اس پر دلائل حاضر خدمت ہیں

رضاء العسقلانی : یہاں بھی معتزلی نے اپنی علمی جہالت دیکھائی ہے کہ الدبری حافظ عبدالرزاق سے زبانی روایت نقل نہیں کر رہا بلکہ کتابت کر رہا ہے جب  مصنف عبدالرزاق کے اندر  18 جگہوں پر الدبری کے اپنے الفاظ موجود ہیں کہ وہ کتابت نہیں بلکہ “قرانا علی عبدالرزاق”، “اخبرنا عبدالرزاق”،   اور” عن عبدالرزاق “کہہ رہا ہے چند ثبوت پیش خدمت ہیں:
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد بن بشر الأعرابي قال حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري قال قرأنا على عبد الرزاق۔۔الخ
(مصنف عبدالرزاق، رقم 184)
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد بن بشر بمكة قال حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري قال قرأنا على عبد الرزاق۔۔الخ
(مصنف عبدالرزاق، رقم 616)
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد بن بشر الاعرابي قال حدثنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم الدبري قال أخبرنا عبد الرزاق۔۔الخ
(مصنف عبدالرزاق، رقم 5859)
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد بن بشر قال حدثنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم الدبري قال أخبرنا عبد الرزاق۔۔الخ
(مصنف عبدالرزاق، رقم 9271)
حدثنا إسحاق الدبري عن عبد الرزاق۔۔الخ
(مصنف عبدالرزاق، رقم 16651)
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد الأعرابي قال حدثنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن عباد الدبري عن عبد الرزاق۔۔الخ
(مصنف عبدالرزاق، رقم 5598)
لہذا معتزلی کا کتابت والا شور شرابہ تو وڑ گیا ہے۔
___________________________

سلیمان المعتزلی:
حافظ ابن حجر عسقلانی ( جن کے نام کی نسبت کے اس نے اپنے نام کے ساتھ عسقلانی لکھا ہے) فتح الباری کے مقدمے میں رقمطراز ہیں ؛
وقال النسائي: فيه نظر لمن كتب عنه بآخرة، كتبوا عنه أحاديث مناكير. وقال الأثرم، عن أحمد: من سمع منه بعدما عمي فليس بشيء، وما كان في كتبه فهو صحيح، وما ليس في كتبه فإنه كان يلقن فيتلقن
امام نسائی نے کہا کہ ان سے عمر کے آخری حصے میں جو روایات بیان کی گئ وہ فیہ نظر ہیں کیوںکہ ان میں کئ مناکیر ہیں اور الأثرم نے احمد بن حنبل کے حوالے سے بیان کیا ان کے نابینا ہونے کے بعد کی روایات جو ان سے مروی ہیں وہ کوئ شہ نہیں لیکن جو ان کی کتاب میں ہیں وہ صحیح ہیں اور جو کچھ ان کی کتب میں نہیں تھا وہ تلقین کردہ تھا۔
( مقدمہ فتح الباری)
فتح الباری کے مقدمے کے اس کلام سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ عبدالرزاق الصعنانی سے مروی جن روایات پر جرح کی گئ ہے وہ ان کے نابینا ہونے کے بعد کی وہ روایات ہیں جو کہ ان کی مصنف میں نہیں تھیں جبکہ عبدالرزاق الصعنانی کی مصنف سے مروی روایات اصح ہیں

رضاء العسقلانی ::یہاں معتزلی  صاحب نے امام نسائی کی عبارت کے ترجمہ میں دجل سے کا م لیا ہے کیونکہ امام نسائی     کی عبارت”  فيه نظر لمن كتب عنه بآخرة، كتبوا عنه أحاديث مناكير.”  اس طرح ہے اور معتزلی  صاحب ترجمہ اس طرح کر رہا ہے: ان سے عمر کے آخری حصے میں جو روایات بیان کی گئ وہ فیہ نظر ہیں کیوںکہ ان میں کئ مناکیر ہیں۔
جبکہ اس کا درست ترجمہ اس طرح ہے:
جن لوگوں نے ان (عبدالرزاق) کی آخیر عمر میں  احادیث کتابت کیں ان میں نظر ہے کیونکہ(اس دور میں) ان سے احادیث مناکیر لکھی کی گئیں۔
معتزلی نے دجل سے “کتب عنہ” کا ترجمہ “روایات بیان کی گئیں”  کیا اور “کتبو عنہ” کا ترجمہ ان میں مناکیر ہیں کیا جب کہ ہر عربی جاننے والا بندہ آرام سے جان سکتا ہے یہ ترجمہ غلط ہے۔
امام نسائی کی عبارت سے تو معتزلی کا استدلال ہی فارغ ہو گیا کیونکہ امام نسائی آخری زمانے کی کتابت پر نظر کا حکم لگا رہے ہیں کیونکہ الدبری کا سماع و کتابت وغیرہ بھی آخری زمانے کی ہے جس کا ثبوت یہ ہے:
وقال ابن الصلاح: إنه استنكر كثيرا من حديث إسحاق الدبري عنه لأنه كتب عنه في آخر عمره
امام ابن الصلاح کہتے ہیں: ان (حافظ عبدالرزاق )کی کثیر مناکیر روایات ہیں اسحاق الدبری  کے طریق سے  کیونکہ الدبری نے ان (حافظ عبدالرزاق) سے آخری عمر میں (احادیث) کتابت کیں۔
(المختلطین للعلائی، ص75، رقم 29)
لہذا معتزلی کا کتابت والا مسئلہ بھی فارغ ہو گیا۔
___________________________

سلیمان المعتزلی:
حافظ ابن حجر عسقلانی لسان المیزان ( وہ کتاب جس کے نام پر فیس بک کے عسقلانی نے پروفائل بنائ ہے ) میں رقمطراز ہیں ؛
وإنما الكلام في الأحاديث التي عنده في غير التصانيف فهي التي فيها المناكير
عبدالرزاق الصعنانی کی آخری زمانے کی صرف ان احادیث پر کلام ہے جو ان کی تصانیف میں سے نہیں اور ان میں نکارت ہے
( لسان المیزان)
حافظ مزي رقمطراز ہیں ؛
سمعت أبا عَبد اللَّهِ يسأل عن حديث النار جبار؟ فقال: هذا باطل ليس من هذا شئ. ثم قال: ومن يحدث به عن عبد الرزاق؟ قلت: حَدَّثَنِي أحمد بن شبويه. قال: هؤلاء سمعوا بعدما عمي، كان يلقن فلقنه، وليس هو في كتبه وقد أسندوا عنه أحاديث ليست في كتبه كان يلقنها بعدما عمي.
وَقَال حنبل بْن إِسْحَاقَ، عَنْ أَحْمَد بْن حنبل نحو ذَلِكَ، وزاد: من سمع من الكتب فهو أصح.
میں نے ابو عبدااللہ سے سنا کہ ان سے حدیث نار کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا یہ روایت باطل ہے یہ کوئ شہ نہیں پھر کہا کہ یہ روایت عبدالرزاق کی طرف سے بیان کی گئ ؟ میں نے کہا احمد شبویہ نے اسے روایت کیا اور انہوں نے عبدالرزاق کے نابینا ہونے کے بعد ، آپ انہیں پڑھتے تھے لیکن یہ آثار آپ کی کتابوں میں نہیں تھے انہوں نے ان کے نابینا ہونے کے بعد ان کی طرف ایسے آثار منسوب کیے جو ان کی کتب میں نہیں تھے جو انہوں نے نابینا ہونے سے پہلے پڑھائ تھیں
حنبل بن اسحاق نے احمد بن حنبل کی سند سے بھی ایسا ہی کہا اور مزید کہا: جو کتابوں سے سنتا ہے وہ اصح ہے !
  (تهذيب الكمال)
امام بخاری رحمہ اللہ رقمطراز ہیں ؛
باب عَبْد الرزاق
١٩٣٣ – عَبْد الرزاق بْن همام بْن نافع أَبُو بكر مولى حمير اليماني، سمع الثوري وابْن جريج، ومات سنة إحدى عشرة ومائتين ٣، ما حدث من كتابه فهو أصح
عبدالرزاق بن ہمام بن نافع ابو بکر مولی حمیر الیمانی ان کا سمع ثوری ، ابن جریج سے ہے ان کا انتقال سن دو سو گیارہ ہجری میں ہوا (ما حدث من كتابه فهو أصح) اور جو کچھ ان کی کتاب سے بیان کیا جائے وہ اصح ہے
[ تاريخ الكبير للبخاري : باب عَبْد الرزاق رقم : ١٩٣٣]
محدثین کے اس کلام سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ عبدالرزاق الصعنانی کی جن روایات پر زمانہ اختلاط کی وجہ سے اعتراض کیا گیا ہے یہ وہ روایات ہیں جو امام عبدالرزاق الصعنانی کی تصانیف کے علاوہ ہیں جبکہ ان کی تصانیف میں موجود روایات پر یہ اعتراض نہیں
اس لحاظ سے رضا عسقلانی کا دبری کے امام عبدالرزاق الصعنانی سے زمانہ اختلاط والے سماع کا استدلال بنتا ہی نہیں کیوں کہ مصنف عبدالرزاق کی یہ روایت امام عبدالرزاق الصعنانی کی تصنیف میں ہے نہ کہ تصنیف سے خارج۔

رضاء العسقلانی:  یہ بات تو ہماری دلیل ہے کیونکہ  الدبری نے حافظ عبدالرزاق سے  مصنف کتابت نہیں کی بلکہ قرآت اور ان سے سماع کیا ہے اس کا ثبوت یہ ہے:
فسأله عن مصنف عبد الرزاق كيف رواه فقال كان أبي إبراهيم بن عباد القارئ للديوان على عبد الرزاق وحضرت السماع حتى انقضى وكان إذا مضى حديث يستحسن أصحاب الحديث إسناده قالوا له يا أبا بكر حدثنا فكان يقرأه لنا وكان أبي يعلم على ذلك الحديث
الدبری سے مصنف عبدالرزاق کا پوچھا گیا  کہ اس نے اس کو کیسے روایت کیا ہے؟
تو الدبری نے کہا میرے والد ابراہیم بن عباد  حافظ عبدالرزاق کے سامنے دیوان (مصنف کا صحیفہ)پڑھ کر سنایا کرتے تھے میں سماع کے اختتام کے وقت وہاں رہتا تھا۔دوران سماع جب کوئی ایسی حدیث گزرتی جس کو ا صحاب حدیث اچھا سمجھتے تھے  تو ان (حافظ عبدالرزاق) کے شاگرد ان سے کہتے تھے   ” یا ابابکر حدثنا” (ابوبکر حافظ عبدالرزاق کی کنیت ہے) وہ خود ہم  پرقرات کرتے اور میرے والد  اس حدیث پر علامت لگا دیتے۔
(فهرسة ابن خير، ص 109)
یہاں کہیں بھی ذکر نہیں کہ اس نے مصنف عبدالرزاق کتابت کی ہے بلکہ سماع اور قرات کا ذکر ہے یہ بات بھی خود الدبری کی ہے کسی اور کی بھی نہیں۔
اور اس کے علاوہ  یہ واقعہ کس زمانے کا ہے اس کے بارے میں امام ذہبی لکھتے ہیں:
سمع تصانيفه منه في سنة عشر ومائتين باعتناء أبيه به
الدبری  نے ان (عبدالرزاق) سے اس کی تصانیف 210ھ میں سماع کیں جب اس کے لئے اس کے والد (ابراہیم بن عباد) نے احتمام کیا۔
(سیر الاعلام  النبلاء ج13، ص 417)
لہذا اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ الدبری کی کتابت (اگرچہ اس کا ثبوت موجود نہیں) اور سماع وغیرہ حافظ عبدالرزاق کی بصارت چلے جانے اور  حافظہ متغیر ہونے کے بعد کا اس کا ثبوت یہ ہے:
امام احمد بن حنبل کہتے ہیں:
عبدالرزاق کے پاس 200 ھ سے قبل  ہمارے پاس آئے تو ان کی نظر صحیح تھی ، پس جس نے ان سے ان کے نابینا ہونے کے بعد روایات سماع کیں وہ ضعیف السماع ہیں، ان کی طرف توجہ نہیں کی جائے۔
(سوالات ابن ہانی، رقم 2275)
ایسے ہی امام احمد نے اور جگہ کہا
ان کی بصارت جانے کے بعد ان سے جو احادیث سنی گئیں ، ان کی کوئی حیثیت نہیں، ا س وقت انہیں باطل راوایت کی بھی تلقین کی جاتی تھی۔
(سوالات  ابن ہانی، رقم 2275)
امام ابن عدی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
الدبری کی عبدالرزاق سے روایت کرنے میں کوئی حیثیت نہیں سمجھی جاتی، یہ بہت چھوٹا تھا جب اس کا باپ (ابرہیم بن عباد) اسے عبدالرزاق کے پاس لے جاتا تھا، پھر وہ کہتا پھرتا تھا کہ ہم نے عبدالرزاق پر قرات کی کی، جب کہ قرآت کوئی اور کرتا تھا یہ تو صرف وہاں موجود ہوتا تھا اور اس نے عبدالرزاق سے مناکیر بیان کیں۔
(الکامل لابن عدی ، ج1 ص 338)
لہذا تحقیق سے ثابت ہوا کہ اس کی کتابت   (اگرچہ اس کا ثبوت موجود نہیں) اور سماع وغیرہ حافظ عبدالرزاق سے 200ھ کے بعد کا ہے اس لئے یہاں واضح   ثبوت موجود ہے کہ جن روایات میں  الدبری حافظ عبدالرزاق کے قدیم ا لسماع  اور اوثق شاگردوں کی مخالفت کرے گا تو اس کا  وہ اضافہ وغیرہ رد کر دیا جائے گا۔
(نوٹ: تحریر  طویل ہونے کے ڈر سے صرف عربی عبارات کے ترجمہ لکھ رہا ہوں)
___________________________

سلیمان المعتزلی:
اس پر میں حافظ ذہبی کا کلام نقل کرنا بھی مفید سمجھتا ہوں ؛
حافظ ذہبی اس مسلہ پر رقمطراز ہیں ؛
إِسْحَاق بن إِبْرَاهِيم بن عبّاد۔
أبو يعقوب الدَّبَرِيُّ اليماني الصَّنْعَانيّ.
سَمِعَ مصنّفات عبد الرزاق سنة عشرة باعتناء والده إِبْرَاهِيم، وكان صحيح السّماع.
ومولده على ما ذكر الخليلي سنة خمسٍ وتسعين ومائة.
روى عنه: أبو عوانة في «صحيحه» ، وَخَيْثَمَة الأَطْرَابُلُسيّ، وَمحمد بن عبد الله التقوي، وَمحمد بن محمد بن حمزة، وأبو الْقَاسِم الطَّبَرَانيّ، وجماعة.
وَتُوُفِّي سنة خمسٍ وثمانين بصنعاء
قَالَ ابن عَدِيّ: استصغر في عبد الرزاق، أحضره أبوه عنده وَهُوَ صغير جدًا، فكان يَقُولُ: قرأنا على عبد الرزاق قراءة غيره، وحدّث عنه بأحاديث منكرة . قُلْتُ: ساق له حديثًا واحدًا من طريق ابن أنعم الإفريقي يحتمل مثله، فأين الأحاديث الذي ادّعى أنّها له مناكير.
كُتبًا، فَإِذَا جاء كما سمعها.
وَقَالَ الحاكم: سألت الدَّارَقُطْنيّ عن الدَّبري أيدخل في الصحيح؟
قَالَ: أي والله، هُوَ صدوق، ما رأيت فيه خلافًا.
امام ذھبی فرماتے ہیں کہ:
الدبری نے امام عبدالرزاق کی تصانیف کو سنا ہے دس سال کی عمر میں اپنے والد کے ذریعے، اور انکا سماع بالکل صحیح ہے (تصانیف کا ) ابی عوانہ نے اپنی صحیح میں ان کی تخریج کی ہے (یہ توثیق ہے ) اور امام طبرانی اکثر روایات انہیں سے بیان کرتے ہیں دارقطنی نے انکی توثیق کی ہے کہ انکی صحیح روایات لی جائے ، امام ابن عدی کی جرح جو انہوں نے الکامل میں الدبری پر کی ہے اسکا رد کیا ہے امام ذھبی نے یہ کہتے ہوئے کہ انکو سوائے اس طریق کے علاوہ اور کوئی منکر نہ ملی
[تاریخ الإسلام للذهبي ، ر:١٣٥ ]
حافظ ذہبی کے کلام سے بھی یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ دبری کا عبدالرزاق الصعنانی سے سماع مصنف کی روایات کے حوالے سے بالکل محفوظ ہے
رضاء العسقلانی:  :
پہلے  تو یہ ہے معتزلی نے امام ذہبی کی بات سمجھی ہی نہیں ہے کیونکہ وہ الدبری کے ڈائریکٹ  حافظ عبدالرزاق سے سماع صحیح کی بات نہیں کر رہے بلکہ اس کے والد ابراہیم بن عباد کے ذریعے حافظ عبدالرزاق تک اس کے سماع کی تصحیح کر رہے ہیں۔ یعنی امام ذہبی اس کے والد ابراہیم بن عباد کے واسطے سے حافظ عبدالرزاق تک اس کے سماع کو درست مان رہے ہیں کیونکہ ابراہیم بن عباد کا سماع حافظ عبدالرزاق کے حافظہ متغیر ہونے اور بصارت چلے جانے سے پہلے کا ہے۔
لہذا جو روایت الدبری کی اپنے والد ابراہیم بن عباد سے پھر حافظ عبدالرزاق سے ہوگئی وہ درست سماع پر تسلیم کی جائے گئی۔ لیکن یہان تو معتزلی  نے بلنڈر مار دیا اور خود پھنس کیا گیا ہے کیونکہ الدبری بنا والد کے واسطہ سے مصنف عبدالرزاق قرات کرتا ہے جس کے ثبوت یہ ہیں:

أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد بن بشر الأعرابي قال حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري قال قرأنا على عبد الرزاق۔۔الخ
(مصنف عبدالرزاق، رقم 184)
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد بن بشر بمكة قال حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري قال قرأنا على عبد الرزاق۔۔الخ
(مصنف عبدالرزاق، رقم 616)

لہذا کتابت کے ساتھ ساتھ معتزلی کا سماع صحیح کا دعوی بھی باطل ثابت ہوا۔

اس کے علاوہ مجھے الدبری کے والد ابراہیم بن عباد کے بارے میں زیادہ معلومات نہ مل سکیں کہ ان کا حافظہ اور ضبط کیسا تھا  اور کتنا وہ اوثق تھا۔ بس یہ بات ملتی ہے اس کا حافظ عبدالرزاق سے صحیح سماع تھا کیونکہ اس کا سماع حافظ عبدالرزاق سے حافظہ متغیر ہونے سے پہلے کا تھا۔ اس لئے اس کے سماع کو صحیح کہا گیا ورنہ  اس کی  یہ اعلی درجہ کی توثیق نہیں ہے ضبط کے لحاظ سے ۔

اگر ہم الدبری کے والد کو ثقہ بھی مان لیں تب بھی  اس کی حافظ عبدالرزاق سے قرات کردہ روایت امام احمد بن حنبل اور امام حسن حلوانی کی حافظ عبدالرزاق سے بیان کردہ روایت مخالفت میں حجت نہیں کیونکہ امام احمد بن حنبل اور امام حسن حلوانی اس سے کئی گنا اوثق اور ضابط حافظ الحدیث ہیں۔
لہذا یہ بات ہمارے ہی حق میں ہے۔ الحمدللہ
___________________________

سلیمان المعتزلی:
ثانیاً رضا عسقلانی نے ایک اور غلطی یہ کردی کہ رجالی اصول کو پکڑ کہ کتابت پر منطبق کردیا
مثلاً رضا عسقلانی نے دبری کے سماع (جس پر اوپر کلام کر چکا ہوں) اور دبری کی توثیق کا باقی رواۃ کی توثیق سے تقابل کرکے روایت کو شاذ قرار دینے کی کوشش کی جبکہ رجالی اصول کتابت پر منطبق ہوتا ہی نہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ جس طرح محدثین کے ہاں زیادت ثقہ اسباب طعن میں سے ہے بالکل اسی طرح انقطاع بھی أسباب طعن میں سے ہے لہذا زیادت ثقہ کی علت کو اگر کتابت پر منطبق کرکے کتابت کے ذریعے منتقل ہونے والے مخصوص جز پر جرح کردی جاۓ تو جن کتب کی اسناد ھی نہیں ان کی تو تمام روایات اسی اصول پر ساقط ہو جانی چاہیں جبکہ محدثین کے ہاں معاملہ اس کے بالکل برخلاف ہے
چناچہ امام ابن حجر عسقلانی(جن کی نسبت سے رضا عسقلانی خود کو عسقلانی کہتا ہے) لنکت علی ابن صلاح میں فرماتے ہیں : 
لِأَنَّه الْكِتَاب الْمَشْهُور الْغَنِيّ بشهرته عَنْ اعْتِبَارِ الْإِسْنَاد مِنَّا إلَى مُصَنَّفِه كَسُنَن النَّسَائِيّ مَثَلًا لَا يَحْتَاجُ فِي صِحَّةِ نِسْبَتُهُ إلَى النَّسَائِيّ إلَى اعْتِبَارِ حَالِ رِجَال الْإِسْنَاد مِنَّا إلَى مُصَنَّفِه
” مشہور کتاب کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ہم سے لے کر مصنف تک اس کی سند معتبر ہو ۔ مثلاً سنن نسائی کے لئے اِس بات کی حاجت نہیں کہ ہم سے لے کر امام نسائی تک اس کی سند کے رجال معتبر ہو۔ ”
[ النکت علی کتاب ابن صلاح ج1 ص271 ]
ابن حجر عسقلانی کا یہ کلام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کتابت کا منہج رجالی قواعد سے بالکل مختلف ہے اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کتابت کو مان رہے ہیں مگر مخصوص جز میں نکارت بتا رہے ہیں تو اس کا سیدھا سا جواب یہی ہو گا کہ باقی کتاب بھی اسی طرز سے منتقل ہوئ ہے
ثانیاً جب مؤلف کی طرف منسوب مان لیا تو پھر مؤلف سے نیچے والے رواۃ پر جرح بنتی ہی نہیں اور اگر بنتی ھے تو پھر زیادت ثقہ کا قاعدہ جس طرح دبری کی وجہ سے مصنف عبدالرزاق کی ان دو روایات کو ساقط کر رہا ہے اس طرز پر وہ تمام کتب جن کی اسانید ہی نہیں ان سب کی روایات کو بھی ساقط کیا جاسکتا ہے ۔
ثالثاً ان اخبار کا متن بھی سرے سے زیادت ثقہ والے اعتراض کی اجازت دیتا ہی نہیں کیوں ان روایات کی اسناد اؤر متون ہی سرے سے مختلف ہیں ۔

رضاء العسقلانی:  :
: ویسے معتزلی  صاحب پاگل ہو گے ہیں جو بار بار کتابت کی بات کی رٹ کیے جارہا ہیں جب کہ الدبری کتابت نہیں قرات کرتا ہے اور ویسے بھی آخری زمانے کی کتابت پر امام نسائی کی جرح موجود ہے وہ بھی جناب کو دیکھا دیتے ہیں:
وقال النسائي: فيه نظر لمن كتب عنه بآخرة، كتبوا عنه أحاديث مناكير
جن لوگوں نے ان (عبدالرزاق) کی آخیر عمر میں  احادیث کتابت کیں ان میں نظر ہے کیونکہ(اس دور میں) ان سے احادیث مناکیر لکھیں  گئیں۔
امام نسائی کی عبارت سے تو معتزلی کا استدلال ہی فارغ ہو گیا کیونکہ امام نسائی آخری زمانے کی کتابت پر نظر کا حکم لگا رہے ہیں کیونکہ الدبری کا سماع و کتابت وغیرہ بھی آخری زمانے کی ہے جس کا ثبوت یہ ہے:
وقال ابن الصلاح: إنه استنكر كثيرا من حديث إسحاق الدبري عنه لأنه كتب عنه في آخر عمره
امام ابن الصلاح کہتے ہیں: ان (حافظ عبدالرزاق )کی کثیر مناکیر روایات ہیں اسحاق الدبری  کے طریق سے  کیونکہ الدبری نے ان (حافظ عبدالرزاق) سے آخری عمر میں (احادیث) کتابت کیں۔
(المختلطین للعلائی، ص75، رقم 29)
لہذا کتابت کا مسئلہ بھی معتزلی کا فارغ ہو گیا۔
باقی رہا کہ کتاب کے رواۃ کا مسئلہ میں نے مصنف عبدالرزاق کا انکار کیا ہی نہیں ہے کیونکہ میں تو  صرف اوثق حافظ کے مخالفت میں  غیر اوثق شاگرد کے اضافے پر نقد کیا ہے جسے  ائمہ علل کرتے آئے ہیں۔ اس میں ایسی کیا بات  جس سے کتاب پر کوئی مسئلہ ہو؟؟
ایسا  کس نے کہا ہے مناکیر چیک کرنے کے لئےشاگردوں کے ضبط بھی چیک نہ کرو؟؟؟ لگتا ہے یہ معتزلی صاحب نے ذاتی اصول بنایا ہے۔
___________________________

سلیمان المعتزلی:
مصنف عبدالرزاق کی روایت
ابن جريج عن عطا کے طریق سے ہے اور اس میں عطاء براہ راست صفوان بن یعلی سے سے یعلی بن امیہ کی روایت بیان کررہے ہیں جبکہ صحیح مسلم کی روایت کی سند میں سرے سے صفوان بن یعلی کا تذکرہ تک موجود نہیں ثانیاً اس روایت کی مطابقت میں ہی صحیح مصنف عبدالرزاق کی ابو زبیر کے طریق سے مروی روایت بھی ہے جس میں جابر بن عبداللہ بیان ھی معاویہ بن ابو سفیان کا متعہ والا واقعہ کر رہے ہیں جبکہ صحیح مسلم کی روایت کا سیاق بالکل الگ ہے
: متن کے اختلاف کا اعتراض اور اس کا رد ؛
امام عبدالرزاق کا شاگرد ابراھیم بن اسحاق الدبری امام عبدالرزاق سے مناکیر بیان کرتا ہے اور یہ یہی روایت عبدالرزاق کے اوثق شاگرد امام احمد نے روایت کی ہے اور صحیح مسلم میں بھی ہے ۔ اس میں معاویہ کا ذکر نہیں اور نا ہی ابن عباس کا ذکر ہے : 
حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا عبد الرزاق أنا بن جريج قال عطاء حين قدم جابر بن عبد الله معتمرا فجئناه في منزله فسأله القوم عن أشياء ثم ذكروا له المتعة فقال نعم استمتعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر حتى إذا كان في آخر خلافة عمر رضي الله عنه
(مسند احمد بن حنبل، ج 3، ص 380، رقم 15115)
اسی طرح صحیح مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے لیکن اس میں بھی کوئی اضافہ موجود نہیں ہے۔
وحدثنا الحسن الحلواني حدثنا عبدالرزاق أخبرنا ابن جريج قال قال عطاء قدم جابر بن عبدالله معتمرا فجئناه في منزله فسأله القوم عن أشياء ثم ذكروا المتعة فقال نعم استمتعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبي بكر وعمر
(صحیح مسلم، ج 2، ص 1022، رقم 1405)
جواب : 
اتنی خواری کرنے کے بعد بھی یہ جہالت بکھیری ہے اس نے ۔ کیونکہ المصنف لعبدالرزاق کی روایت ہی بالکل الگ ہے ۔ اور مسند احمد اور صحیح مسلم کی جس روایت کی یہ بات کر رہا ہے یہی روایت ابراھیم بن اسحاق الدبری نے بھی عبدالرزاق سے اسی متن کے ساتھ بیان کی ہے : 
حدثنا إسحاق ، عن عبد الرزاق، عن ابن جريج ، عن عطاء قال: “قدم جابر، فجئناه في منزله فسأله القوم عن أشياء ثم ذكروا له المتعة، فقال: نعم، استمتعنا على عهد رسول الله ﷺ وأبي بكر وعمر،
[ مسند ابی عوانہ ج 11 ص 260 ]
اسی طرح ایک اور روایت ہے جابر بن عبدالله رضی الله عنه سے صحیح مسلم میں : 
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ، الْأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، حَتَّى نَهَى عَنْهُ عُمَرُ، فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ»
[صحيح مسلم ج3 ص 1023]
یہ روایت بھی ابراھیم بن اسحاق الدبری نے اسی متن سے بیان کی ہے : 
حَدَّثَنَا الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَسَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ، وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ ⦗٣٤⦘ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، حَتَّى نَهَى عُمَرُ النَّاسَ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ “،
( مسند ابی عوانہ )
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: ” كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الْأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى نَهَانَا عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ “
( سنن الکبری للبیھقی )
ان موصوف سے عرض ہے کہ اس میں مخالفت کہاں ہے ؟ جس متن پر یہ اچھل رہا ہے بالکل یہی متن تو ابراھیم بن اسحاق الدبری نے بھی بیان کیا ہے عبدالرزاق سے اور کوئی اضافی بھی نہیں ۔ کیونکہ یہ روایت الگ ہے اور المصنف لعبدالرزاق کی روایت الگ ہے جو کہ واضح صاف نظر آرہا ہے ۔ اس میں پورا ایک واقعہ بیان کیا جارہا ہے اور شروعات ہی سرے سے مختلف ہے اور سند بھی یہاں عطا صفوان بن یعلی سے اور وہ اپنے باپ یعلی بن امیہ سے بیان کر رہے ہیں ۔ اور یعلی بن امیہ جو کہ صحابی ہیں وہ خود معاویہ بن ابی سفیان کے متعہ کرنے کا ذکر کر رہے ہیں ۔ لہذا یہ اس کی صریح جہالت ہے کہ مسند احمد اور صحیح مسلم کی روایت سے اس کو جوڑ رہا ہے ۔

رضاءالعسقلانی:
ویسے سیانے سچ کہتے ہیں انسان  کے منہ سے سچ نکل جاتا ہے ہم نے مصنف عبدالرزاق کی جس روایت پر نقد کیا اس میں خود الدبری کبھی اضافہ بیان کرتا ہے تو کبھی بیان نہیں کرتا
معتزلی نے یہاں ہمارے ہی دلائل نقل کر دیئے اپنی جہالت کی وجہ سے کیونکہ اس کو علل الحدیث کا پتہ نہیں اس نے سمجھا شاید اس طرح سے اس کے دلائل مضبوط ہو جائیں گئے جب کہ یہ بات الٹا اس کے گلے پڑ گئی ہے۔
چلیں دیکھاتے ہیں جناب کو علل الحدیث کی اصلیت

مصنف عبدالرزاق کی مکمل سند مع الدبری اس طرح ہے:

حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري قال قرأنا على عبد الرزاق ۔۔عن بن جريج عن عطاء قال لأول من سمعت منه المتعة صفوان بن يعلى قال أخبرني عن يعلى أن معاوية استمتع بامرأة بالطائف فأنكرت ذلك عليه 
فدخلنا على بن عباس فذكر له بعضنا فقال له نعم فلم يقر في نفسي حتى قدم جابر بن عبد الله فجئناه في منزله فسأله القوم عن أشياء ثم ذكروا له المتعة فقال نعم استمتعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبي بكر وعمر حتى إذا كان في آخر خلافة عمر استمتع عمرو بن حريث بامرأة سماها جابر فنسيتها فحملت المرأة فبلغ ذلك عمر فدعاها فسألها فقالت نعم قال من أشهد قال عطاء لا أدري قالت امي أم وليها قال فهلا غيرهما قال خشي أن يكون دغلا الاخر۔۔۔الخ
(مصنف عبدالرزاق، ج 7، ص 496، رقم 14021)
لیکن جب امام ابوعوانہ  نے خود الدبری سے  عبد الرزاق کے طرق سے اس  حدیث کو روایت کیا تو اس کے متن میں سیدنا معاویہ  اور سیدنا ابن عباس کے تذکرے کا اضافہ نہیں کیا جس ثبوت یہ ہے:

حدثنا إسحاق ، عن عبد الرزاق، عن ابن جريج ، عن عطاء قال: “قدم جابر، فجئناه في منزله فسأله القوم عن أشياء ثم ذكروا له المتعة، فقال: نعم، استمتعنا على عهد رسول الله ﷺ وأبي بكر وعمر،
(مسند ابی عوانہ ج 11 ص 260)
عین یہی متن کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا:
حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا عبد الرزاق أنا بن جريج قال عطاء حين قدم جابر بن عبد الله معتمرا فجئناه في منزله فسأله القوم عن أشياء ثم ذكروا له المتعة فقال نعم استمتعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر حتى إذا كان في آخر خلافة عمر رضي الله عنه
(مسند احمد بن حنبل، ج 3، ص 380، رقم 15115)

اور اسی متن کو امام حسن حلوانی نے بھی روایت کیا امام عبدالرزاق سے
وحدثنا الحسن الحلواني حدثنا عبدالرزاق أخبرنا ابن جريج قال قال عطاء قدم جابر بن عبدالله معتمرا فجئناه في منزله فسأله القوم عن أشياء ثم ذكروا المتعة فقال نعم استمتعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبي بكر وعمر
(صحیح مسلم، ج 2، ص 1022، رقم 1405)

تو اس سے واضح ہوا کہ الدبری سے متن میں اضافہ نقل کرنے میں خطا ہوئی کیونکہ کبھی وہ متن میں اضافہ بیان کرتا ہے تو کبھی نہیں کرتا جب کہ اس کی بنا اضافے کے متن والی روایت عین اوثق حفاظ امام احمد بن حنبل اور امام حسن حلوانی کے بیان کردہ متن کے مطابق ہے  اور اضافہ متن میں کسی نے اس کی متابعت نہیں کی لہذا واضح دلیل سے ثابت ہوا یہ اضافی متن منکر ہے اور الدبری اس درجہ کا راوی نہیں ہے کہ اس کے اضافے کو قبول کیا جائے کیونکہ اس نے بہت سی غلطیاں کیں ہیں حافظ عبدالرزاق کی تصانیف میں۔ اس لئے قاضی محمد بن حمد بن مفرج القرطبی   کو الدبری کی خطاؤں پر پوری کتاب  لکھنا  پڑی  جیسے امام ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں

وفي “الميزان” أن في مرويات ابن خير كتاب “خطأ الدبري على عبد الرزاق في مصنفات عبد الرزاق”
(تهذيب التهذيب ج١ ص ٥٧١ رقم ٣٥٩)
الحمدللہ  علل الحدیث کے اصول سے ثابت ہوا اضافے متن منکر ہے۔
___________________________

سلیمان المعتزلی:
اسے کہتے ہیں جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ویسے رضا عسقلانی کا مجھ پر روایت آدھی نقل کرنے کا گلہ تھا جبکہ خود عطاء اور صفوان بن یعلی کی توثیق پر بحث کرتے ہوئے اپنی نقل کردہ مکمل روایت ہی بھول گۓ قارئین کرام ذرا تحریر کا آغاز دوبارہ پڑھیے رضا عسقلانی نے وہاں پر مکمل روایت نقل کی ہے اور اس میں واضح الفاظ ہیں کہ عطاء نے جب صفوان بن یعلی کی خبر کا انکار کیا تو عطاء نے اس کا ذکر ابن عباس اور جابر بن عبداللہ انصاری سے کیا اور ان دونوں اصحاب نے اس کی تصدیق کردی اب لطف کی بات تو یہ ہے کہ جب صفوان بن یعلی کے بیان کی خود ابن عباس نے ہی تصدیق کردی تو صفوان بن یعلی کی توثیق پر بحث بالکل بے معنیٰ ہو جاتی ہے جبکہ مصنف عبدالرزاق کی ھی دوسری روایت میں جو کہ ابو زبیر کے طریق سے ہے ، جابر بن عبداللہ انصاری معاویہ بن ابو سفیان کا متعہ کرنا روایت کررہے ہیں لہذا صفوان بن یعلی کی توثیق پر کلام کرکے رضا عسقلانی نے تحریر میں بے جا طوالت شامل کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا

رضاء العسقلانی: ویسے کہتے ہیں جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے دیکھا جائے تو یہ واقعہ تاریخی طور پر جھوٹا ہے کیونکہ یہ واقعہ طائف میں ہوا ہے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں میں طائف گئے تھے ثبوت پیش خدمت ہے:

عبد الله بن العباس بن عبد المطلب
كان يسكن المدينة ثم سكن مكة ومات بالطائف سنة ثمان وستين
(معجم الصحابۃ للبغوی، ج 3، ص 482)

ومات عَبْد اللَّهِ بْن عَبَّاس بالطائف سنة ثمان وستين فِي أيام ابْن الزُّبَيْر، وَكَانَ ابْن الزُّبَيْر قد أخرجه من مكة إِلَى الطائف
(الاستیعاب، ج 3، ص 934)
اور اسی طرح حضرت عطاء کا بھی طائف  تقریبا 68 ہجری میں گئے جب سیدنا ابن عباس بیمار تھے یہ بات شیعہ عالم نے بھی تسلیم کی ہے:
رواه العلامة المجلسي عن كفاية الأثر عن عطاء قال: دخلنا على عبد الله بن عباس وهو عليل بالطائف
(الکنی والالقاب للقمی، ج1 ص 347)

اس وقت سے پہلے سیدنا یعلی بن امیہ 38ھ یا 48ھ  میں صفین یا مکہ میں وصال کر گئے تھے اور ایسے ہی سیدنا امیر معاویہ 60 ھ دمشق میں وصال کر گئے تھے پھر یہ 68ھ  میں  سیدنا معاویہ نے اپنی وفات کے 8 سال بعد کیسے متعہ کرلیا کیا تھا ؟؟؟ یہ جواب تو معتزلی صاحب کو اصولی اور تاریخی طور پر دینا چاہیے نہ کہ ادھر ادھر کی باتیں کر کے دینا چاہیے۔

باقی سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری سے جو متعہ کے حوالہ سے مشہور واقعہ روایت ہے وہ طائف کا نہیں بلکہ مکہ کا ہے جس کا ثبوت یہ ہے:

حدثنا محمد بن المثننى وابن بشار قال ابن المثنى حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة قال سمعت قتادة يحدث عن أبي نضرة قال : كان ابن عباس يأمر بالمتعة وكان ابن الزبير ينهى عنها قال فذكرت ذلك لجابر بن عبدالله فقال على يدي دار الحديث تمتعنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم۔۔۔الخ
(صحیح مسلم، رقم 1217)
الدبری کی غلطیوں کی وجہ سے سارے متن گڈمڈ ہو گیا ہے مکہ، طائف کے واقعات کو ایک ساتھ ملا  کر ایک کردیا ہے۔
___________________________

سلیمان المعتزلی:
رسول اللهﷺ نے غزوہِ خیبر میں متعہ سے منع کیا اور غزوہِ خیبر 7 ہجری کو ہوا تھا : ( السيرة النبوية لابن هشام، 455/3 ) اس کے بعد فتح مکہ میں کے بھی بعد غزوہِ طائف 8 ہجری میں جاکر ہوا اور اس میں خود یہ بھی مان رہا کہ معاویہ اور یعلی بن امیہ اکٹھے ساتھ تھے تو معاویہ نے متعہ کیا اور وہ بھی غزوہ خیبر ، فتح مکہ کے بعد جب رسول اللهﷺ نے متعہ سے روک دیا تھا۔
اور پھر خود اس روایت میں ہی تصریح ہے کہ معاویہ اس عورت کو وظیفہ بھیجا کرتے تھے تو اس سے بھی یہ ظاھر ہوگیا کہ یہ ان کے اپنے دور حکومت کا واقع تھا۔
الغرض دونوں ہی صورتوں میں ہماری پوسٹ کا مدعا قائم ہے ہماری تحریر پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

رضاء العسقلانی: معتزلی کی جہالت چیک کریں جب تاریخی طور پر جواب نہیں بنا تو کہتا ہے یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہوا کہ جب کہ یہ جس مکس متن کو یہ ایک روایت سمجھتا ہے اس میں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آخری زمانے  تک کی بات کی گئی ہے جس کا ثبوت یہ ہے:
حتى قدم جابر بن عبد الله فجئناه في منزله فسأله القوم عن أشياء ثم ذكروا له المتعة فقال نعم استمتعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبي بكر وعمر حتى إذا كان في آخر خلافة عمر۔۔الخ
یہاں تک کہ ہم جابر بن عبداللہ سے ملے، ہم ان کے گھر گئے، اور لوگوں نے ان سے سوال پوچھے۔ پھر (ہم نے) متعہ کی بات چھیڑی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی پاک ﷺکی زندگی میں متعہ کیا، پھر ابو بکر کی زندگی میں، اور پھر عمر کے زمانے میں یہاں تک کہ ان کی خلافت کے آخری عرصے میں۔۔الخ
لہذا معتزلی صاحب  کا نبی ﷺ کے زمانے میں اس واقعہ کا دعوی کرنا باطل ہے۔
___________________________

سلیمان المعتزلی:
رہا اعتراض یعلی بن امیہ ، جابر بن عبداللہ اور ابن عبّاس کی معاویہ بن ابو سفیان سے ملاقات کا تو اس مقام پر بھی رضا عسقلانی صاحب نے علم تاریخ سے نابلد ہونے کا ثبوت دیا ہے أولا یہ تینوں اصحاب معاویہ بن ابو سفیان کے معاصرین تھے اور معاویہ بن ابو سفیان کے دور حکومت میں زندہ تھے ثانیاً معاویہ بن ابو سفیان اس وقت حاکم تھے اس لحاظ سے ان کے افعال کی implications اور causality  frame work کا ایک عامی پر قیاس بنتا ہی نہیں کیوں کہ خبری سے منتقل ہونے والے واقعہ کی تاثیر اس کے علم کے لیے اسباب کا خود ہی تعین کردیتی ھے لہذا ایک حاکم وقت کا متعہ کرنا اور جابر بن عبداللہ ، ابن عبّاس اور یعلی بن امیہ جیسے معاصرین کا معاویہ بن ابو سفیان کے متعہ سے لا علم ہونا محال ہے حتیٰ کہ اس واقعہ کو معاویہ بن ابو سفیان کے دور حکومت والے زمانے سے پہلے زمانے پر بھی محمول کردیا جاۓ تب بھی اس مقام پر جس کردار سے واقعہ کا وقوع ہو رہا ہے اس واقعہ کا معاصرین میں عام ہوجانا ہر گز بعید نہیں خاص کر تب جب ابن عباس اور جابر بن عبداللہ جیسے لوگ موجود ہوں جو معاویہ بن ابو سفیان کی شخصیت کا عطاء سے زیادہ علم رکھتے ہیں ۔
لہذا تاریخی میدان میں بغیر مہارت کے ایک غیر منطقی اعتراض کرکے رضا عسقلانی نے محض بے جا طوالت شامل کی ہے

رضاء العسقلانی:: جناب معتزلی صاحب اگر آپ کی بات کو تسلیم کر لیاجائے تو پھر ارسال خفی  کا علم ہی فارغ ہو جائے گا،
جیسے ہم پچھلی تحریر میں بتا چکے ہیں کہ سیدنا یعلی بن امیہ طائف کے امیر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بنے اور اس وقت سیدنا معاویہ  دمشق کے امیر تھے درمیان میں فاصلہ کئی مہینوں کا ہے
تاریخ میں یہ تو ملتا ہے کہ سیدنا یعلی بن امیہ سیدنا عمر رضی اللہ عنما کے ساتھ شام تو گئے لیکن یہ کہیں بھی ذکر نہیں ملتا کہ سیدنا معاویہ سیدنا عمر کے زمانے میں طائف یا مدینہ گئے ہوں تو یہ  اب اس معتزلی کا کام ہے اس بات کو تاریخی حقائق سے ثابت کرنا کہ سیدنا معاویہ اور سیدنا یعلی بن معاویہ طائف میں ملے کس زمانے میں ملے تاکہ متعہ کے وقت کا تعین ہو سکے؟؟؟ ورنہ تاریخی طور پر یہ واقعہ جھوٹا ہے۔
___________________________

سلیمان المعتزلی:
اس مقام پر رضا عسقلانی نے انتہائی دجل و فریب کا مظاہر کیا ہے رضا عسقلانی نے ابن عباس اور علی بن ابی طالب کی طرف منسوب اثر کا تقابل کرکے دبری کی خطا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی جبکہ ان دونوں آثار کی اسناد ہی مختلف ہیں
ابن عباس والے اثر کی سند ؛
عبد الرزاق عن بن جريج ۔۔ قال عطاء وسمعت بن عباس يقول——-
غور کیجیے یہاں ابن جریج عطاء سے اور وہ ابن عباس سے روایت کررہے ہیں
جبکہ دوسرے اثر کی سند کچھ یوں ہے
عبد الرزاق۔۔ قال بن جريج وأخبرني من أصدق أن عليا قال بالكوفة——-
قارئین کرام دونوں آثار کی اسناد ملاحظہ کیجیۓ جب سرے سے اسناد ھی مختلف ہیں تو خطا کا اعتراض کہاں سے آگیا ؟؟؟؟
اس میں ابن جریج کہہ رہے ہیں کہ سچے شخص نے بیان کیا اب وہ صدوق کون ہیں مولی علی علیہ السلام سے کبھی ملاقات بھی کی سماع بھی ہوا یا نہیں سرے سے کوئ ذکر ھی نہیں لہٰذا یہ اثر تو سندا بھی فارغ ہے جبکہ ابن عبّاس والی روایت میں عطا ابن عباس سے روایت لے رہے ہیں
ثانیاً جابر بن عبداللہ والی روایت کا اوپر جواب دے چکا ہوں جب واقعات ہی مختلف ہیں تو زیادت ثقہ کا اعتراض بنتا ہی نہیں

رضاء العسقلانی: میاں لگتا ہے علل الحدیث سے واقف ہی نہیں ہے کم درجہ توثیق کے رواۃ کبھی کبھی غلطیاں کر کے ایک روایت کا متن کسی دوسری سند کے ساتھ ملا دیتے ہیں اس لئے تو الدبری کی غلطیوں پر ایک کتاب لکھی گئی ہے جس کا نام ہے  ” خطأ الدبري على عبد الرزاق في مصنفات عبد الرزاق”  ہے
اس بارے میں ائمہ علل کی کچھ تصریحات پیش کر دیتا ہوں تاکہ متعزلی کی جہالت واضح ہو سکے
امام دارقطنی ایک روایت کی سند پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں
وحديث عبد الأعلى عن معمر خطأ،
وهو محفوظ عن الزهري عن سعيد، وعن أبي سلمة عن أبي هريرة.
(علل الدراقطنی،ج11 ص 113)
فقال يرويه أبو بكر بن أبي سبرة عن بن جريح عن صديق بن موسى عن عبد الرحمن بن أبي بكر عن أبيه وهو وهم
والمحفوظ عن بن جريح عن صديق بن موسى عن محمد بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبيه مرسلا عن النبي صلى الله عليه وسلم
(علل الدارقطنی، ج 1 ص 290)
اب معتزلی اپنی جہالت سے ان وہم شدہ سندوں کو دو تسلیم نہ کرے لے !!!
___________________________

سلیمان المعتزلی:
امام حافظ ابن حجر عسقلانی نے معاویہ صاحب کا متعہ کرنے والی مذکورہ روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ، فرماتے ہیں : 
فَأَخْرَجَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مِنْ طَرِيقِ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى أَنَّ مُعَاوِيَةَ اسْتَمْتَعَ بِامْرَأَةٍ بالطايف وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ
” عبدالرزاق نے صفوان بن یعلی بن امیہ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ مجھے یعلی نے بتایا معاویہ نے طائف میں ایک عورت سے متعہ کیا اور اس کی سند صحیح ہے ۔ “
[ فتح الباري ، ج11 ، ص428 ]
اور حافظ ابن حجر کے علاؤہ دورِ حاضر کے عللِ حدیث کی ماہرین نے اس کی تصحیح کی ہے جیسے کہ گزشتہ تحریر میں نقل کیا گیا اور کسی نے الدبری کی حوالے سے اعتراض نہیں کیا۔مزید اس روایت کو امام ابن عبد البر نے بھی امام عبدالرازق کے حوالے سے نقل کیا ہے :
وَذَكَرَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ سَمِعْتُ مِنْهُ الْمُتْعَةَ صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى أَنَّ مُعَاوِيَةَ اسْتَمْتَعَ بِامْرَأَةٍ بِالطَّائِفِ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَدَخَلْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ لَهُ بَعْضُنَا ذَلِكَ فَقَالَ نَعَمْ فَلَمْ تَقِرُّ بِي نَفْسِي حَتَّى قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ

رضاء العسقلانی :یہاں بھی معتزلی نے جہالت پھیلائی ہے کیونکہ سند کے صحیح ہونے سے اس کے متن کے صحیح ہونا لازم نہیں ہوتا ہے  ہمارا اعتراض تو متن پر ہے سند پر نہیں مفت میں اتنا وقت ضائع کیا۔ ہوا

باقی رہی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی یہ روایت
عبد الرزاق عن بن جريج قال أخبرني أبو الزبير قال سمعت جابر بن عبد الله يقول استمتعنا أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم حتى نهي عمرو بن حريث قال وقال جابر إذا انقضى الأجل فبدا لهما أن يتعاودا فليمهرها مهرا آخر قال وسأله بعضنا كم تعتد قال حيضة واحدة كن يعتددنها للمستمتع منهن
اس کا یہ اضافی حصہ تو منکر ہے کیونکہ یہاں ابن جریج نے سماع کی تصریح نہیں کی وقال ابوالزبیر کہا ہے:
وقال أبو الزبير وسمعت جابر بن عبد الله يقول استمتع معاوية بن أبي سفيان مقدمة من الطائف على ثقيف بمولاة بن الحضرمي يقال لها معانة قال جابر ثم أدركت معانة خلافة معاوية حية فكان معاوية يرسل إليها بجائزة في كل عام حتى ماتت
(مصنف عبدالرزاق، ج 7، ص 499، رقم 14025-14026)
اس کی نکارت کا ثبوت یہ ہے:
امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں:
إذا قال ابن جريج ” قال فلان و ” قال فلان ” و ” أخبرت ” جاء بمناكير
(تاریخ بغداد، ج10، ص 404)
تحریر زیادہ طویل ہونے کی وجہ سے معتزلی کا فقہ شافعی  پراعتراض  یہاں چھوڑ رہا ہوں کیونکہ ایک تو وہ ہمارا موضوع ہماری بحث کا حصہ نہیں تھا  موضوع ہمارا اس روایت کی تحقیق پر تھا معتزلی  نے مفت میں اسے گھسیڑ دیا ۔ اگر اسے واقعی اس روایت سے ہٹ کر اس مسئلہ پر بات کرنی ہے تو اس  روایت سے بحث ختم ہونے پر اس پر بھی بات کر لیں گئے اس لئے معتزلی کو چاہیے صرف موضوع پر رہے  ادھر ادھر نہ جائے ورنہ اس طرح کی باتیں ہمارے پاس بھی ہیں لیکن فائدہ نہیں   ہوگا ساری  اس روایت کی بحث دوسری طرف چلی جائے گئی۔
معتزلی صاحب کے تمام اعتراض کے جوابات مکمل ہوئے۔ الحمدللہ

کتبه: ١٢ رمضان المبارك ١٤٤٥ھ
22 مارچ 2024 ء