پیر صاحب جو 6 کروڑ روپے کے مقروض
پاکستان کے وہ پیر صاحب جو 6کروڑ روپے کے مقروض تھے۔
ابھی برادرم علامہ اعظم اشرفی صاحب شیخ الحدیث جامعۃ الحبیب صاحب کی زبانی پتہ چلا کہ کہ حضرت پیر سائیں سردار احمد رحمتہ اللہ علیہ جن کا حالیہ رمضان المبارک ہی میں انتقال ہوا ہے ۔چھ کروڑ روپے سے زائد رقم کے مقروض تھے۔خوش قسمتی سے پیر صاحب نے اپنی وفات سے ایک سال قبل اپ نے قیمتی زرعی زمین بیچ کر وہ قرضہ ادا کیا حالانکہ اس زمین کے امدن بھی خلق خدا خدمت پر خرچ ہو رہی تھی۔
پیر صاحب کے اوپر اتنا زیادہ قرضہ لنگر کی خدمت ،مہمان نوازی، غربا مساکین اور یتیموں کی حاجت روائی، علم دین کی اشاعت پر بے دریغ خرچ کرنا ۔ کئی بیواؤں یتیموں کی کفالت کرنا کئی بچوں کے تعلیمی اخراجات تن تنہا برداشت کرنا علماء اساتذہ کرام کے مشاہرہ جات اپنی جیب سے ادا کرنا اور دیگر دینی امور پر خرچہ تھا ۔
ہمارے یہاں مروجہ پیری مریدی میں پیر صاحبان کی جائیداد اور دولت کا حساب ہی کوئی نہیں ہوتا دوسری طرف پیر سائیں سردار احمد عالم رحمت اللہ علیہ جیسے پیر تھے جن کی ساری جائیداد اور زمین اللہ تبارک و تعالی کی راہ میں وقف تھے۔
جن دنوں میں لاہور زیر تعلیم تھا حضرت پیر سائیں سردار احمد رحمت اللہ علیہ قادری ہمارے مدرسے میں کئی دفعہ تشریف لائے ان کی زیارت اور دست بوسی کی سعادت نصیب ہوئی۔ اپ کی زندگی کی یہ بات مجھے بہت متاثر کرتی ہے کہ اپ نے اپنے مریدوں میں ذہین فطین ،با ہنر ،باکمال اورقابل بچوں کو اپنی کفالت میں لے لیتے اور ان کے جملہ تعلیمی اخراجات اپنی جیب خاص سے ادا فرماتے وہ بچے مختلف شعبہ جات میں تعلیم حاصل کرتے کئی بچے ڈاکٹر، انجینیئر ،پروفیسر، وکیل اور دیگر شعبہ جات میں تعلیم حاصل کی۔ اسی طرح بچوں کی بھاری تعداد دین کی طرف مائل ہوئی وہ بچے حافظ ،قاری ، مبلغ مدرس مفتی محقق بنے ۔ یہ سب کچھ اپ کی شفقت اور ذاتی توجہ کی برکت تھی کہ معاشرے کو اتنے قابل اور باکمال افراد نصیب ہوئے ۔
اپ اہل علم سے بہت زیادہ محبت فرماتے جو بھی عالم مدرس یا محقق نظر اتا اس کی بے دریغ خدمت کرتے تھے اپ نے کئی علماء کا علاج معالجہ اپنی جیب سے کروایا کئی علماء کرام حضرات کی بچیوں کی شادیاں کروائیں اس کے جملہ اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے نیز کئی علماء مدرسین کو اپنی جیب سے حج اور عمرے کروائے ۔ طالب علموں اور علماء کو اپنی جیب سے کتابیں خرید کر دیتے تھے۔ اپ کے پاس کوئی بھی عالم دین جب ملاقات کے لیے جاتا تو اپ اس کے لیے بڑے اچھے کھانے تیار کرواتے اور بہت ہی عزت و احترام کے ساتھ ان کی خدمت میں پیش کرتے ۔اپ کی زبان بہت ہی نرم تھی بڑی محبت اور شفقت سے پیش اتے تھے۔سچی بات یہ ہے کہ اپ نے اپنے جملہ وسائل علم اور دین کے لیے صرف کر رکھے تھے ۔ اور خدا تعالی نے اپ کی زبان میں بے پناہ تاثیر رکھی تھی اپ کی جو بھی بات ہوتی تھی دل پر اثر کرتی تھی کئی لوگوں کے کردار کے اندر اپ کے بیانات سن کر انقلابی تبدیلی ائی ہے ۔
اپ نرم دم گفتگو گرم دم جستجو جیسے اطوار کے مالک تھے ایک مختصر سی زندگی میں اپ نے بہت ہی شاندار کام کیے ہیں ۔کئی تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں ۔کئی مساجد کا انتظام و انصرام اور غریب غربا اور مساکین کی خدمت کی ۔سچ فرمایا حضرت شیخ سعدی نے
طریقت بجز خدمت خلق نیست
بتسبیح و سجادہ و دلک نیست
حضرت پیر سائیں سردار احمد عالم قادری رحمۃ اللہ علیہ استانہ عالیہ کھر یپڑ شریف پتوکی ۔ اپ ایک باعمل عالم شریعت،
با کردار صوفی،صاحب سوز و گداز ،اور علم و حکمت کا ایک بحر بیکراں تھے بہت ہی مشفق مہربان علم دوست، کتاب دوست انسان تھے ۔ اپ نے ساری زندگی قران و سنت کی خدمت میں گزاری ہے ۔اپ مثنوی روم کے عالم اور عامل اور عارف تھے اتنی خوبصورتی کے ساتھ مثنوی شریف پڑھتے تھے کہ لوگوں کی تقدیریں بدل جاتی تھیں لوگوں کے مسائل کا حل اپ کی گفتگو میں ہوتا تھا پاکستان اور بیرون ملک میں اپ کے مثنوی شریف پڑھنے کے انداز کو ایک خاص شہرت حاصل تھی ۔ اپ ساری زندگی شہرت اور ناموری سے دور رہے لیکن اس کے باوجود خدا تعالی نے اپ کو بہت زیادہ عزت اور شہرت عطا فرمائی تھی ۔اپ کی سیرت کے اندر تکلف اور بناوٹ نام کو بھی نہیں تھا بہت ہی باوقار اور عجز و انکسار کا پیکر تھے ۔
اپ کی سیرت و کردار سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ کہ بابے اگر صاحب علم اور صاحب کمال ہوں تو معاشرے کو خیر اور فلاح دیتے ہیں اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ بابوں نے کیا کیا ہے ؟بابوں نے بہت کچھ کیا ہے دین متین کی خدمت کی ہے اور انسانیت کی عزت و تکریم اور خیر خواہی اور خدمت کی ہے ۔پیر سائیں سردار احمد رحمت اللہ علیہ نے جو انقلابی کام کیے ہیں وہ رہتے دنیا تک اپ کی یادگار رہیں گے ۔
شیخ الحدیث علامہ محمد اعظم اشرفی صاحب میرے ساتھ مدرسہ میں پڑھتے رہے ہیں ۔ علامہ صاحب مجھ سے سینئر تھے لیکن مجھ پر بہت زیادہ محبت اور شفقت سے پیش اتے تھے دوپہر کا کھانا ایک عرصے تک علامہ صاحب کے ساتھ کھایا اور ان کی زبانی پیر سائیں سردار احمد رحمت اللہ علیہ کی سیرت و کردار کے مختلف گوشے سنتا رہتا کچھ کا عینی شاہد بھی ہوں ۔
خدا تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی حضرت پیر سائیں سردار احمد رحمت اللہ علیہ کی دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے اور اپ کا علمی اور روحانی فیضان تا قیامت جاری و ساری فرمائے ۔۔خدا تعالی اپ کے اخلاص کی برکت سے ہم کو بھی دولت اخلاص سے مالا مال فرمائے۔
تمام پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ حضرت پیر سائیں سردار احمد رحمت اللہ علیہ کے ایصال ثواب کے لیے ایک دفعہ فاتحہ شریف اور تین دفعہ سورہ اخلاص تین دفعہ درود شریف پڑھ دیں ۔
ڈاکٹر محمد رضا المصطفی قادری کڑیانوالہ گجرات
21-03-2024.جمعرات
