انوکھا مہر
______________انوکھا مہر !!
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
شہر آپ کے لیے اجنبی تھا اس لیے راستوں سے بھی کوئی شناسائی نہیں تھی۔کوئی بھی مہمان ہوتا تو فطری طور پر میزبان کے پیچھے ہی چلتا تاکہ راستوں کی اجنبیت سے بھٹکنے کا اندیشہ نہ رہے، مگر یہاں معاملہ ذرا مختلف تھا، میزبان کے روپ میں ایک خاتون حضرت صفورا تھیں اور مہمان حضرت موسیٰ علیہ السلام!
ایک غیر محرم خاتون کے پیچھے کسی اجنبی مرد کا چلنا کئی وجہوں سے نامناسب تھا، اولاً یہ کہ خاتون کے آگے چلنے کی صورت میں پیچھے چلنے والے کی نگاہ خاتون کے جسم پر پڑتی، ثانیاً تیز ہواؤں کی بنا پر دوپٹہ وغیرہ کھل جانے کا خدشہ بھی موجود تھا۔اس لیے حضرت موسیٰ کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ حضرت صفورا ان کے آگے چلیں کہ اس میں بے پردگی اور ان کے جسم پر نگاہ پڑ جانے کا امکان تھا۔اس لیے آپ نے حضرت صفورا سے فرمایا:
“آپ میرے پیچھے چلیں، راستے کی رہنمائی کے لیے کچھ پتھریاں ہاتھ میں اٹھا لیں۔جس جانب چلنا ہو پتھری مار کر اشارا کرتی رہیں تاکہ نگاہوں کی وقار بھی سلامت رہے اور منزل تک بھی پہنچ جائیں۔”
یوں تو حضرت صفورا پہلے ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پاکباز طبیعت سے قدرے واقف ہو ہی چکی تھیں مگر اس بات نے ان کے دل میں آپ کا مقام ومرتبہ مزید دوبالا کر دیا۔انہیں حضرت موسیٰ کی طبیعت وفطرت میں اپنے والد حضرت شعیب علیہ السلام کا عکس جمیل نظر آرہا تھا۔انہیں پاکیزہ احساسات کے زیر اثر انہوں نے بغل ہی سے کچھ پتھریاں اٹھائیں اور گھر کی جانب سفر شروع ہوگیا۔پیچھے سے حضرت صفورا پتھریوں سے راستے کا اشارہ کرتی جاتیں اور حضرت موسیٰ آگے آگے چلتے جاتے۔اس طرح کچھ ہی دیر کے بعد آپ کاشانہ شعیب علیہ السلام پر پہنچ گیے۔جہاں حضرت شعیب علیہ السلام نے آپ کا اپنائیت کے ساتھ استقبال کیا۔
سیدنا شعیب علیہ السلام کا نورانی اور پر جمال چہرہ دیکھ کر حضرت موسیٰ کو ایسا محسوس ہوا جیسے کھوئے ہوئے بچے کو اس کا مربی ومہربان باپ مل جائے۔ملاقات اگرچہ پہلی تھی مگر آپ کے چہرے پر برستے نور نے حضرت موسیٰ کو ایسا متاثر کیا کہ انہوں نے بیٹھتے ہی اپنا سارا قصہ بیان کر دیا:
فَلَمَّا جَآءَہٗ وَقَصَّ عَلَیۡہِ الۡقَصَصَ۔(سورہ قصص:25)
“جب حضرت موسیٰ حضرت شعیب کے پاس پہنچے تو انہیں سارا قصہ سنا ڈالا۔”
آپ کہاں اور کن حالات میں پیدا ہوئے، پرورش کیسے اور کن حالات میں ہوئی۔خاندان اور اجداد کے بارے میں، یہاں آنے کی اصل وجہ اور فرعونی مظالم کے سارے احوال حضرت شعیب کو پوری تفصیل سے بیان کر دئے۔سارے احوال سن کر حضرت شعیب علیہ السلام نے آپ کو تسلی دی اور فرمایا:
قَالَ لَا تَخَفۡ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ۔(سورہ قصص:25)
حضرت شعیب نے کہا آپ خوف نہ کریں آپ ظالموں سے نجات پا چکے ہیں۔”
کھانا تیار تھا، مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ سوچ کر انکار کر دیا کہ کہیں یہ کھانا میرے پانی پلانے کے عمل کا بدلہ نہ ہو جائے۔حضرت شعیب نے فرمایا، مہمان اور مسافر کی ضیافت ہمارے اجداد کی روایت ہے۔اسے آپ اپنے عمل کا معاوضہ نہیں ہماری روایت اور مہمان نوازی سمجھیں۔اس بات کو سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام شریک طعام ہوئے اور رب کا شکر ادا کیا۔
_______حضرت شعیب علیہ السلام پر حضرت موسیٰ کے سارے حالات ظاہر ہو چکے تھے۔ان کے ذاتی اوصاف اور عادتیں بھی ان کی بلند کرداری کا روشن اعلان تھیں۔مصر واپسی کی صورت میں قتل ہو جانے کا خدشہ تھا، اس لیے ان کے مستقبل کے بارے میں آپ غور وفکر میں تھے۔حضرت صفورا بڑی ذہین خاتون تھیں، والد گرامی کے کیفیت سے اندازہ لگا لیا کہ وہ کس چیز کے بارے میں غور وفکر کر رہے ہیں، اس لیے انہوں نے اپنی رائے رکھتے ہوئے عرض کیا:
قَالَتۡ اِحۡدٰىہُمَا یٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡہُ۔(سورہ قصص:26)
“دونوں بیٹیوں میں سے ایک بیٹی نے کہا ابا جان! آپ انہیں اجیر(گھریلو کاموں کا ذمہ دار) بنا لیں۔”
حضرت موسیٰ کی پاک باز طبیعت اور ان کے حالات کی بنا پر حضرت شعیب ان کے لیے کوئی مناسب ترکیب سوچ رہے تھے کہ آپ کی صائب الرائے بیٹی نے بڑا ہی دور اندیشانہ مشورہ دیا کہ انہیں گھریلو کام کاج کے لیے رکھ لیا جائے۔اس طرح حضرت موسیٰ بھی اپنی افتاد سے پوری طرح محفوظ ہوجائیں گے اور ہمیں بھی باہر آنے جانے کی زحمت سے نجات مل جائے گی۔مشورہ اگرچہ بہت اچھا تھا مگر یہاں دو بنیادی سوال بھی منہ کھولے کھڑے تھے:
1۔گھریلو کام کاج محنت ومشقت بھرا تھا، کیا حضرت موسیٰ اسے نبھا سکتے ہیں؟
2۔جس گھر میں جوان لڑکیاں ہوں، گھر کا سرپرست بوڑھا اور کمزور ہو کیا ایسے گھر میں کسی اجنبی جوان کا رکھنا مناسب ہوگا؟
حضرت صفورا کی ذہانت اور دور اندیشی بڑے کمال کی تھی انہوں نے سوالات اٹھانے کا موقع ہی نہیں دیا اور پہلے ہی دونوں سوالوں کا شافی جواب دے دیا:
اِنَّ خَیۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِیُّ الۡاَمِیۡنُ۔(ایضاً 26)
“بے شک بہتر اجیر وہ ہے جو طاقت ور اور امانت دار ہو۔”
اس ایک جملے میں حضرت صفورا نے بکمال بلاغت حضرت موسیٰ کی دونوں خوبیاں بیان کردیں کہ وہ طاقت ور بھی ہیں اور امانت دار بھی!
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی لخت جگر سے ہوچھا:
بابا کی جان! تمہیں حضرت موسیٰ کی طاقت و امانت کا علم کیسے ہوا؟
حضرت صفورا نے بتایا کہ جس کنویں کا پتھر دس لوگ مل کر ہٹاتے ہیں اسے حضرت موسیٰ نے تنہا ہی ہٹا دیا تھا جس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ آپ بے حد طاقت ور ہیں۔پھر انہوں نے راستے میں حضرت موسیٰ کے آگے چلنے اور خود کو پیچھے چلانے کی بات سنا کر کہا کہ یہ کام وہی شخص کر سکتا ہے جس کی نگاہوں پر حیا وشرم کا پہرہ ہو اور دل ودماغ امانت شرعی کے جذبات سے لبریز ہو۔
ان باتوں کو سن کر حضرت شعیب علیہ السلام اپنی بیٹی کی ذہانت اور دور اندیشی کی داد دئے بغیر نہ رہ سکے۔بیٹی کے مشورے نے انہیں ایک بہترین فیصلے پر پہنچنے میں بڑی مدد کی، اپنی اس رائے کا اظہار انہوں نے حضرت موسیٰ سے اس طرح کیا:
قَالَ اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنۡ اُنۡکِحَكَ اِحۡدَی ابۡنَتَیَّ۔(سورہ قصص:27)
“حضرت شعیب نے حضرت موسیٰ سے کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں۔”
بیٹی کا مشورہ بہت اچھا تھا کہ حضرت موسیٰ کو اجیر بنا لیا جائے، اس میں حضرت موسیٰ کے لیے بھی مستقل عافیت تھی اور لڑکیوں کے لیے باہری کاموں سے راحت، مگر حضرت شعیب علیہ السلام نے دوسرے رخ سے سوچا کہ اس جوان صالح کو رشتہ نکاح کے ذریعے اپنی فرزندی میں لینا اجیر بنانے سے زیادہ مفید اور بہتر ہوگا کہ اس طرح ان کی رہائش باوقار بھی ہوگی اور خانگی معاملات میں ان کی دل چسپی بھی رہے گی. یہی سوچ کر آپ نے حضرت موسیٰ کو اپنی دختر کا رشتہ پیش کیا۔پیغام نکاح کی خصوصیت ایک انوکھے مہر کی شرط تھی:
ہٰتَیۡنِ عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ۔(ایضاً)
“نکاح اس مہر پر کہ تم آٹھ برس میرے یہاں ملازمت کرو۔”
عموماً نکاحوں کا مہر مال کے طور پر طے کیا جاتا ہے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام خالی ہاتھ تھے۔جان کو شدید خطرہ لاحق تھا۔ایسے میں حضرت شعیب نے ایک ٹھیک ٹھاک وقت تک اپنے پاس رہنے کی مدت ہی کو ان کا مہر بنایا تاکہ اس طرح انہیں ایک مستقل رہائش مل جائے۔دشمنوں سے محفوظ رہیں اور حضرت شعیب کو بھی امانت دار فرزند نسبتی کے روپ میں خانگی ذمہ داری اٹھانے والا شخص مل جائے۔آپ نے مزید ان سے فرمایا:
فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ وَمَاۤ اُرِیۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَیۡكَ۔(سورہ قصص:27)
“اگر تم رہنے کی مدرت پورے دس برس کرلو تو تمہاری طرف سے ہے میں تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا۔”
آٹھ سال کی مدت میری جانب سے مہر ہے زیادہ رہنا چاہیں تو آپ کا اختیار ہے۔میری جانب سے کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے:
سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ۔(سورہ قصص:27)
“اے موسیٰ آپ مجھے نیک لوگوں میں سے پاؤگے۔”
اس طرح سخت آزمائشوں سے گزر رہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا نیا باب شروع ہوا۔اور ان کی وہ دعاے خیر جو انہوں نے درخت کے نیچے مانگی تھی وہ کھانے سے بڑھ کر گھر بسنے تک قبول ہوچکی تھی:
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اس انوکھے مہر کے ساتھ پیغام نکاح منظور کیا جس کی برکت سے حضرت صفورا جیسی باحیا اور عقل مند خاتون ان کے نکاح میں آئیں۔برکتوں سے بھرے اس واقعے میں بھی اہل ایمان کے لیے ہدایت کے لیے کتنے ہی لؤلؤ ومرجان موجود ہیں:
🔸حیا اور پردہ عورت کی زینت وعزت ہے۔جس کا مظاہرہ حضرت صفورا نے کیا۔ان کا چہرہ بڑی آستین اور پوا جسم کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا ساتھ ہی جسم وروح پر حیا کا احساس بھی غالب تھا۔
🔹اصل مردانگی خواتین کو عزت دینا اور اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ نے کیا۔ایک طرف اپنی نگاہوں کو جھکائے رکھا تو دوسری جانب حضرت صفورا کی حیا داری کا بھی پورا لحاظ کیا۔
🔸مسافر/ضرورت مند/احسان کرنے والے کی مہمان نوازی/حوصلہ افزائی سنت انبیا ہے اس سے انسان کو نیکیوں کی مزید رغبت ملتی ہے۔
🔹خلوص سے کیا گیا کام انسان کے لیے ایسی راہیں کھولتا ہے جس کا انسان کو وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔جیسا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ہوا کہ صرف پانی پلانے کے عمل نے انہیں دیار غیر میں رہائش بھی دلائی اور حضرت صفورا جیسی نیک خاتون کی رفاقت بھی نصیب ہوئی۔
🔸مشورہ کرنا ہمیشہ اچھا ہوتا ہے بھلے ہی عمر ومرتبے میں چھوٹے ہی سے کیا جائے۔حضرت شعیب اگرچہ پیغمبر تجربہ کار اور باپ تھے پھر بھی اپنی بیٹی سے مشورہ کیا۔
🔹بیٹیوں سے مشورہ کرنے میں عار ہے نہ شرمندگی! کئی بار یہ مشورے مردوں کے ذہن میں بھی نہیں آتے۔حضرت صفورا کے مشورے ہی نے ان کے والد کو ایک اچھے فیصلے تک پہنچنے میں معاونت کی۔
🔸بیٹیوں کی شادی کے لیے لڑکے کا امیر وکبیر اور صاحب جائداد ہونا ضروری نہیں، صحت وقوت اور اخلاقی خوبیاں سب سے اہم ہیں جیسا کہ حضرت شعیب نے حضرت موسیٰ کی صحت وقوت اور ان کے جذبہ امانت داری کی بنا پر ان سے بیٹی کا رشتہ کیا۔
حضرت موسیٰ کا وطن چھوٹا تھا، اللہ نے انہیں سسرال کے روپ میں نیا وطن عطا فرما دیا۔گھر والے چھوٹ گیے تھے خدا نے ان کا اپنا گھر بسا دیا۔جتنی پریشانیاں آپ نے اٹھائیں اللہ نے اس سے کئی گنا زیادہ خوشیاں واپس عطا فرما دیں۔اور کیوں نہ ملتیں کہ انہوں نے اللہ ہی سے لو لگائی تھی اور اللہ کی بارگاہ سے بندے کو کبھی مایوس نہیں کیا جاتا۔
جو چاہئے سو مانگیے اللّه سے امیر
اس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال سے
26 رمضان المبارک 1445ھ
6 اپریل 2024 بروز ہفتہ