أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذَرۡنِىۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا ۞

ترجمہ:

آپ اس کو مجھ پر چھوڑ دیں جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ اس کو مجھ پر چھوڑ دیں جس کو میں نے اکیلاپیدا کیا۔ اور میں نے اس کے لیے بہت مال مہیا کردیا۔ اور بیے جو اس کے سامنے ہیں۔ اور میں نے اس کے لیے اور بہت کچھ مہیا کیا۔ وہ پھر بھی وہ چاہتا ہے کہ میں اور زیادہ کروں۔ ہرگز نہیں ! بیشک وہ ہماری آیتوں کا دشمن ہے۔ عنقریب میں اس کو صعود پر چڑھائوں گا۔ بیشک اس نے سوچا اور فیصلہ کیا۔ اس پر اللہ کی مار ہو اس نے کیسا فیصلہ کیا۔ اس پر پھر اللہ کی مار ہو اس نے کیسا فیصلہ کیا۔ پھر اس نے غور کیا۔ اور تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا۔ پھر اس نے اعراض کیا اور تکبیر کیا۔ پھر کہا : یہ ( قرآن) تو وہی جادو ہے جو پہلے سے نقل ہوتا آیا ہے۔ یہ صرف بشر کا کلام ہے۔ میں مغرب اس کو دوزخ میں داخل کردوں گا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ دوزخ کیا ہے۔

(المدثر : ٢٧۔ ١١)

الولید بن المغیرہ کی مذمت میں قرآن مجید کی آیات

مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ یہ آیات الولید بن المغیرہ کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔ ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٧٤١٥)

المدثر : ١١ میں فرمایا : آپ اس کو مجھ پر چھوڑ دیں، اس کا معنی یہ ہے کہ آپ اس سے انتقام لینے کے درپے نہ ہوں، اس سے انتقام لینے کے لیے میں اکیلا کافی ہوں، اور یہ جو فرمایا ہے : میں نے اس کو اکیلا پیدا کیا ہے، اس کا ایک معنی یہ ہے کہ اس کا پیدا کرنے میں میرا کوئی شریک نہیں ہے، اور اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب میں نے اس کو پیدا کیا توہ اکیلا تھا، نہ اس کے پاس مال تھا نہ اس کی کوئی اولاد تھی، اس آیت میں ولید کے لیے وحید کا لفظ فرمایا ہے، امام رازی نے کہا : اس میں یہ ارشاد ہے کہ وہ اکیلا ہے یعنی اس کا کوئی جائز باپ نہیں ہے اور یہ اس کے نسب میں طعن کی طرف اشارہ ہے، جیسے فرمایا :” عُتُلٍّم بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ ۔ “ (القلم : ١٣) پھر ان سب عیوب کے باوجود وہ نطفہ نا تحقیق ہے۔