فَاِذَا نُقِرَ فِى النَّاقُوۡرِۙ – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 8
sulemansubhani نے Wednesday، 17 April 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاِذَا نُقِرَ فِى النَّاقُوۡرِۙ ۞
ترجمہ:
پس جب صور میں پھونک مار دی جائے گی۔
المدثر : ٨ میں فرمایا : پس جب صور میں پھونک ماری جائے گی۔
” نقر “ اور ” ناقور “ کا معنی اور صور کے متعلق احادیث
اس آیت میں ’ نقر “ کا لفظ ہے ’ ’ نقر “ اور ” الدف “ کا معنی ہے : بانسری یا ڈھول بجانا، پرندے کا چونچ سے انڈے میں سوراح کرنا ” نقرفی الناقور “ کا معنی ہے : بگل بجانا، اس آیت میں یہی آخری معنی مراد ہے اور ” الناقور “ کا معنی ہے، بگل۔
اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ اس سے پہلی بار صور میں پھونکنا مراد ہے یا دوسری بار، جب پہلی بار صور میں پھونکا جائے گا تو تمام عام لوگ مرجائیں گے اور انبیاء علہیم السلام بےہوش ہوجائیں گے اور جب دوسری بار صور میں پھونکا جائے گا تو مردے زندہ ہوجائیں گے اور انبیاء علہیم السلام ہوش میں آجائیں گے۔ حدیث میں ہے :
حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں کیسے نعمتوں سے محفوظ ہوں جب کہ فرشتہ نہ صور منہ میں رکھا ہوا ہے اور سر جھکائے ہوئے ہے اور اس نے اپنا کان اللہ کا حکم سننے کی طرف لگایا ہوا ہے کہ اس کو کب صور میں پھونکنے کا حکم دیا جاتا ہے، یہ حدیث صحابہ پر بہت شاق گزری تو آپ نے فرمایا : تم کہو :” حسبنا اللہ و نعم الوکیل “ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٤٣، مسند احمد ج ٣ ص ٧ )
حضرت عبد اللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! صور کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ ایک سینگھ ( بگل) ہے، جس میں پھونک ماری جائے گی۔
( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٤٢، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٤٤، مسند احمد ج ٢ ص ١٦٢ )
القرآن – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 8