أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَكۡثِرُ ۞

ترجمہ:

اور زیادہ لینے کے لیے کسی پر احسان نہ رکھیے۔

احسان رھنے کی ممانعت کو امام رازی کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص قرار دینا

المدثر : ٦ میں فرمایا : اور زیادہ لینے کے لیے کسی پر احسان نہ کیجئے۔

اس کی تفسیر میں امام رازی لکھتے ہیں۔

اس آیت کی حسب ذیل وجوہ سے تفسیر کی گئی ہے :

(١) اس آیت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کا حکم دیا تھا : قوم کو ڈرائیں، اپنے رب کی بڑائی بیان کریں، اپنے کپڑے پا رکھیں، معاصی کو ہمیشہ چھوڑ رہیے۔ اس کے بعد فرمایا : ان سخت احکام پر عمل کرنے میں اپنے رب پر احسان نہ جتائیں۔

جیسے کوئی شخص زیادہ لینے کے لیے احسان کرتا ہے۔ حسب بصری نے کہا : آپ اپنی نیکیوں سے اپنے رب پر احسان نہ کریں تاکہ اس سے زیادہ اجر لیں۔

(٢) آپ لوگوں کو جو اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں اور احکام دین کی تعلیم دیتے ہیں، اس سے ان پر احسان نہ کریں جیسے کوئی شخص زیادہ لینے کے لیے احسان جتاتا ہے۔

(٣) آپ اپنی نبوت کا لوگوں پر احسان نہ جتائیں جیسے کوئی شخص زیادہ لینے کے لیے احسان جتاتا ہے۔

(٤) آ لوگوں کو اس لیے عطا نہ کریں کہ ان سے بدلہ میں زیادہ لیں، اور اکثر مفسرین نے اس آیت کی اسی طرح تفسیر کی ہے۔

اس پر یہ سوال ہوتا ہے کہ اس عمل سے منع کرنے میں اللہ تعالیٰ کی کیا حکمت ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں درج ذیل حکمتیں ہیں :

(١) تاکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لوگوں کو عطا کرنا صرف اللہ کے لیے ہوا، لوگوں کے لیے نہ ہو۔

(٢) جو شخص کسی کو دنیا کی قلیل چیز دے گا اور اس سے زیادہ لینے کی توقع رکھے گا، وہ ضرور اس غیر کے ساتھ تواضع اور انکسار کے ساتھ پیش آئے گا اور یہ چیز منصب نبوت کے لائق نہیں ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ آیا یہ ممانعت صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص ہے یا امت بھی اس ممانعت میں داخل ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا ظاہر عموم نہیں ہے اور نہ قرینہ حال اس کے عموم کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ یہ چیز منصب نبوت کے خلاف ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ امت کو جو سود لینے سے منع فرمایا ہے وہ بھی اس میں خلل ہے۔

اس آیت کی پانچویں تفسیر یہ کی گئی ہے کہ آپ لوگوں کو کچھ دے کر اس وجہ سے ان پر احسان نہ رکھیں کہ آپ اپنے عطیہ کو بہت زیادہ گمان کرتے ہیں، بلکہ آپ کے شان کے لائق یہ ہے کہ آپ اپنی دی ہوئی چیز کو کم اور حقیر گمان کریں کیونکہ اگر آپ کسی کو پوری دنیا بھی دے دیں تو بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ قلیل ہے۔

اس کی چھٹی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اگر آپ کسی کو کوئی چیز دیں تو اس کے اوپر اس وجہ سے احسان نہ رکھیں کہ آپ اس کو بہت چیز دے رہے ہیں کیونکہ کسی چیز کو دے کر اس پر احسان جتانا اس کے اجر وثواب کو ضائع کردینا ہے، قرآن مجید میں ہے :

لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی کَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَہٗ رِئَآئَ النَّاسِ (البقرہ : ٦٢٤ )

اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور طعنہ کی اذیت دے کر باطل نہ کرو جیسے کوئی شخص دکھانے کے لیے اپنے مال کو خرچ کرتا ہے۔ )

(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧٠١۔ ٧٠٠، داراحیاء التراث العرب، بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام رازی کی تفسیر پر مصنف کا تبصرہ

امام رازی نے اس آیت کی تفسیر میں اللہ پر احسان رکھنے کی ایک وجہ ذکر کی ہے اور پانچ وجوہ بندوں پر احسان رھنے کی ذکر کی ہیں اور یہ تصریح کی ہے کہ یہ ممانعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خاص ہے اور امت کے یہ یہ ممانعت ہیں ہے، ہمارے نزدیک امام رازی کی یہ تفسیر مناسب نہیں ہے کیونکہ منع اس چیز سے کیا جاتا ہے جس کا ثبوت ممکن اور متصور ہو، مثلاً دیوار سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ تم جھوٹ نہ بولو، کیونکہ دیوار کا جھوٹ بولنا ممکن اور متصور ہی نہیں ہے، اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ ممکن اور متصور نہیں ہے کہ آپ سخت اور مشکل احکام پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ پر احسان رکھیں، یا آپ اپنی نبوت اپنی پیغام رسانی، یا اپنی تبلیغ دین کا امت پر احسان رکھیں یا آپ امت کو کچھ عطاء فرمائیں تو بدلہ میں زیادہ لینے کے لیے یا اس کا زیادہ گمان کر کے یا رکا کاری کے لیے امت پر احسان رکھیں، یہ چیز تو عام مسلمان سے بھی متوقع نہیں ہے چہ جائیکہ آپ جو کائنات میں سب سے زیادہ متقی اور عبادت گزار ہیں اور سب سے زیادہ مخلص ہیں، آپ سے اس چیز کا خطرہ ہو حتیٰ کہ آپ کو اس چیز سے منع کرنے کی ضرورت پیش آئے، ہمارے نزدیک یہ آیت مجاز عقلی پر محمول ہے، اس آیت میں صراحت سے احسان رکھنے کی ممانعت کی نسبت آپ کی طرف ہے اور حقیقت بہ نسبت آپ کی امت کی طرف ہے، اصطلاح میں اس کو تعریض کہتے ہیں یعنی کہنا کسی کو اور سنانا دوسرے کو جیسے ماں اپنی بیٹی سے کہے : تم سالن میں تیل کم ڈالا کرو حالانکہ اس کی بیٹ تو سالن پکاتی ہی نہیں، سالن اس کی بہو پکاتی ہے تو وہ کہہ اپنی بیٹی کو رہی ہے اور سنا اپنی بہو کو رہی ہے، قرآن مجید میں اس کی مثال یہ آیت ہے :

لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ (الزمر : ٦٥) اگر آپ نے ( بھی) شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہوجائیں گے۔

آپ سے تو شرک متصور ہی نہیں ہے، در حقیقت اس آیت میں آپ کی امت سے خطاب ہے۔

اسی طرح آپ سے تو یہ متصور ہی نہیں ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر یا بندوں پر احسان رکھیں، اس لیے کہا آپ سے گیا ہے اور سنایا بندوں کو ہے، امام رازی نے اس آیت کی تفسیر کی دو اور وجہیں بھی ذکر کی ہیں، لیکن ان کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صدوربہت زیادہ بعید ہے، اس لیے ہم نے ان کو ترک کردیا۔ امام رازی بہت زیادہ ژوف بین مفسر ہیں، بہت نکتہ آفرین ہیں اور ہم ان سے بہت زیادہ استفادہ کرتے ہیں، لیکن اس آیت کی تفسیر میں انہوں نے زیادہ غور نہیں کیا۔

عبادت سے اللہ تعالیٰ پر احسان نہ رکھنے اور امت سے زیادہ لینے کے لیے ان پر احسان نہ رکھنے کے حضور کی سیرت سے دلائل

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق یہ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ آپ اللہ سبحانہٗ پر احسان رکھنے کے لیے سخت اور مشکل احکام پر عمل کرتے ہیں، جب کہ آپ کا حال یہ ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو اتنا زیادہ قیام کرتے تھے کہ آپ کے دونوں پیر سوج جاتے تھے، حضرت عائشہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ اتنی زیادہ مشقت کیوں اٹھاتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام ذنوب ( بہ ظاہر خلاف اولیٰ کاموں) کی مغفرت فرما دی ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیا میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ ہوجائوں۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨٣٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٣١، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٩٥٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٧٤، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٦٤٨، مسند احمد ج ص ٢٥٦ )

قرآن مجید میں تصریح ہے کہ مال فے اللہ تعالیٰ نے خصوصیت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطاء فرمایا ہے ( مال فے وہ مال ہے جس کو کفار مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں میں چھوڑ کر چلے گئے) ، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

وَمَآ اَفَآئَ اللہ ُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْہُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّلَا رِکَابٍ وَّلٰـکِنَّ اللہ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُط وَ اللہ ُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (الحشر : ٦)

اور کفار کا جو مال فے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو عطاء فرمایا جس کے لیے تم نے نہ اپنے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ، بلکہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے اپنے رسولوں کو غالب فرما دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ام حبیبہ بنت العرباض اپنے والد (رض) سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دیئے ہوئے مال فے سے صرف اون لیتے، اور فرماتے : میں اس مال میں سے صرف اتنا ہی لوں گا جتنا تم میں سے کوئی ایک لے گا ماسوا خمس ( مال غنیمت کا پانچواں حصہ) کے اور وہ بھی تم میں لوٹا دیا جائے گا۔ الحدیث۔

( مسند احمد ج ٤ ص ١٢٨ طبع قدیم، مسند البزاررقم الحدیث : ١٧٣٤، المعجم الکبیر ج ١٨۔ رقم الحدیث : ١٦٤٩، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٢٤٤٣، حافظ المہیثمی نے کیا : ام حبیبہ کی کسی نے جرح کی ہے نہ توثیق کی ہے اور اس حدیث کی سند کے باقی رجال ثقہ ہیں۔ مسند احمد ج ٢٨ ص ٣٨٥۔ رقم الحدیث : ٧١٥٤ )

غور کیجئے ! اللہ تعالیٰ نے حصوصیت کے ساتھ جو مال فے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطاء فرمایا، آپ اس میں سے بھی امت کو لوٹا دیتے تھے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق یہ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ آپ امت سے زیادہ مال لینے کے لیے اس پر احسان فرماتے تھے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے مال چھوڑا، وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے کوئی قرض دیا یا اولاد چھوڑی وہ ہمارے ذمہ ہے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٣٩٨، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٠٧٠، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٩٦٣ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر مومن کا دنیا اور آخرت میں، میں سب سے زیادہ ولی ( حق دار) ہوں اور اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو :

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ (الاحزاب : ٦) نبی مؤمنوں کی جانوں سے زیادہ ان کے حق دار ہیں۔

پس جو مومن مرجائے اور مال چھوڑے وہ اس کے وارثوں کا ہے، جو بھی اس کے رشتہ دار ہوں اور جس نے کوئی قرض چھوڑایا عیال کو چھوڑا تو وہ میرے پاس آئیں، پس میں اس کا ولی ( ذمہ دار) ہوں۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٣٩٩، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٠٧٠، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٩٦٣ )

حضرت ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم کسی کو وارث نہیں بناتے، ہم نے جو مال بھی چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔ الحدیث ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٧١١۔ ٣٠٩٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٥٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٩٢٥، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٧١٩، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٥٧٦)

ان احادیث کو پڑھ کر کیا کوئی شخص یہ گمان کرسکتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امت سے زیادہ لینے کے لیے اس پر احسان فرماتے تھے۔

بالخصوص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ لینے سے منع کرنا تب درست ہوتا، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مال دنیا لینے کی طلب ہوتی، حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مال دنیا لینے کی مطلقاً طلب نہیں تھی۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چٹائی پر سوئے ہوئے تھے اور اس چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو میں نقش ہوگئے تھے، ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم آپ کے لیے بستر بنادیں ؟ آپ نے فرمایا : مجھے دنیا سے کیا لینا ہے، میں دنیا میں ایک سوار مسافر کی طرح ہوں، جس نے ایک درخت کے سائے میں آرام کیا، پھر اس کو ترک کردیا۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٧٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٠٩، مسند احمد ج ١ ص ٣٩١)

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے رب نے مجھے یہ پیش کش کی کہ میرے لیے مکہ کی وادی کو سونے کا بنادے، میں نے کہا : نہیں ! اے میرے رب ! میں ایک دن سیر ہو کر کھائوں گا اور ایک دن بھوکارہوں گا، اور تین دفعہ عرض کیا : جب میں بھوکا ہوں گا تو تیرے سامنے گڑ گڑائوں گا اور جب میں سیر ہوں گا تو تیری حمد کروں گا اور تیرا شکر ادا کروں گا۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٣٤٧، مسند احمد ج ٥ ص ٢٥٢ )

آپ دنیا سے اس قدر مستغنی تھے کہ پوری کائنات میں آپ ایسا کوئی ہو ہی نہیں سکتا، پھر آپ کے متعلق یہ کہنا کس طرح درست ہوگا کہ آپ لوگوں پر اس لیے احسان کرتے تھے کہ لوگ آپ کو زیادہ دیں، سو المدثر : ٦ میں آپ کو اس سے منع کیا گیا، اس لیے لا محالہ اس آیت کی وہی تاویل اور توجیہ کرنی ہوگی جو ہم نے بیان کی ہے کہ اس آیت میں بہ ظاہر آپ کو خطاب کیا گیا ہے اور حقیقت میں مراد آپ کی امت ہے۔

دیگر متقدمین اور متأخرین کی المدثر : ٦ کی تفسیر

امام رازی اس تفسیر میں منفرد نہیں ہیں، ان سے پہلے اور ان کے بعد کے تمام قابل ذکر مفسرین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے، دیکھئے امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ، امام ابو اسحاق ثعلبی متوفی ٣٢٧ ھ، علامہ الماوردی التوفی ٤٥٠، امام واحدی متوفی ٤٦٨ ھ، علامہ زمخشری متوفی ٥٣٨ ھ، علامہ ابن جوزی متوفی ٥٩٧ ھ، علامہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ، علامہ بیضاوی توفی ٦٨٥ ھ، علامہ اسماعیل حقی متوفی ١١٣٧ ھ، قاضی ثناء اللہ مظہری متوفی ١١٤٣ ھ، علامہ آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ، ان کی تفسیروں کے حوالے درج ذیل ہیں :

جامع البیان جز ٢٩ ص ١٨٥، الکشف، والخفاء ج ١٠ ص ٧٠، النکت والعیون ج ٦ ص ١٣٨، الوسیط ج ٤ ص ٣٨١، الکشاف ج ٤ ص ٦٤٨، زاد المسیر ج ٨ ص ٤٠٢۔ ٤٠١، الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٦٤، تفسیر البیضاوی ع الخفا جی ج ٩ ص ٣٢٣، روح البیان ج ١٠ ص ٢٦٧، تفسیر المظہری ج ١٠ ص ٩١، روح المعانی جز ٢٩ ص ٢٠٥۔

المدثر : ٦ کی بعض اردو تفاسیر

اردو تفاسیر میں سید مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ نے المدثر : ٦ کی تفسیر میں لکھا ہے۔

یعنی جیسے کہ دنیا میں ہدیے اور نیوتے دینے کا دستور ہے کہ دینے والا یہ خیال کرتا ہے کہ جس کو میں نے دیا ہے وہ اس سے زیادہ مجھے دے دے گا، اس قسم کے ہدیے اور نیوتے شرعاً جائز نہیں، مگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے منع فرمایا گیا کیونکہ شان نبوت بہت ارفع و اعلیٰ ہے اور اس منصب عالی کے لائق یہی ہے کہ جس کو جو دیں وہ محض کرم ہو، اس سے لینے یا نفع حاصل کرنے کی نیت نہ ہو۔ ( خزائن العرفان ص ٩٢٠، تاج کمپنی لمیٹڈ، کراچی)

مفتی محمد شفیع دیو بندی متوفی ١٣٩٦ ھ اسی آیت کے تحت لکھتے ہیں :

یعنی کسی شخص پر احسان اس نیت سے نہ کیجئے کہ جو کچھ اس کو دیا ہے اس سے زیادہ وصول ہوجائے گا، اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کو ہدیہ تحفہ اس نیت سے دینا کہ وہ اس کا معاوضہ میں اس سے زیادہ دے گا، یہ مذموم و مکرو ہے۔ قرآن کی دوسری آیت سے اگرچہ اس کا جواز عام لوگوں کے لیے معلوم ہوتا ہے مگر وہ بھی کراہت سے خالی نہیں اور شریفانہ اخلاق کے منافی ہے خصوصاً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تو اس کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ ( معارف القرآن ج ٨ ص ٦١٤، ادارۃ المعارف، کراچی ١٤١٤ ھ)

سید ابو الاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ لکھتے ہیں :

ان کا ایک مفہوم یہ ہے کہ جس پر بھی احسان کرو، بےغرضانہ کرو، تمہاری عطاء اور بخشش اور سخاوت اور حسن سلوک محض اللہ کے لیے ہو، اس میں کوئی شائبہ اس خواہش کا نہ ہو کہ احسان کے بدلہ میں تمہیں کسی قسم کے دنیوی فوائد حاصل ہوں، بالفاظ دیگر اللہ کے لیے احسان کرو، فائدہ حاصل کرنے کے لیے کوئی احسان نہ کرو۔

دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نبوت کا جو کام تم کر رہے ہو، یہ اگرچہ اپنی جگہ ایک بہت بڑا احسان ہے کہ تمہاری بدولت خلق خدا کو ہدایت نصیب ہو رہی ہے، مگر اس کا کوئی احسان لوگوں پر نہ جتائو اور اس کا کوئی فائدہ اپنی ذات کے لیے حاصل نہ کرو۔

تیسرا مفہوم یہ ہے کہ تم اگرچہ ایک بہت بڑی خدمت انجام دے رے ہو، مگر اپنی نگاہ میں اپنے عمل کو کبھی بڑا نہ سمجھو اور کبھی یہ خیال تمہارے دل میں نہ آئے کہ نبوت کا یہ فریضہ انجام دے کر اور اس کام میں جان لڑا کر تم اپنے رب پر کوئی احسان کر رہے ہو۔ ( تفہیم القرآن ج ١٤٥٦، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، ستمبر ١٩٩٠ ئ)

سابقہ تفاسیر کا جائزہ

سید مودودی کی یہ تفسیر امام رازی کی بیان کی ہوئی تفسیر کا خلاصہ ہے، اندازِ بیان کا فرق ہے، امام رازی نے نہایت ادب سے اس طرح لکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں نہیں کرنا چاہیے، اور سید مودودی نے حسب عادت اور حسب مزاج اللہ تعالیٰ کی ترجمانی اور نمائندگی کرتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے لکھا ہے : تمہیں یوں نہیں کرنا چاہیے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ تمام تفسرین غلط ہیں، ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام تفسیریں صرف ظاہر آیت کی تعبیر ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شایان شان نہیں ہیں کیونکہ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا تھا کہ اس شخص کو کسی کام سے منع کیا جاتا ہے جس سے وہ کام متصور ہو اور اس سے اس کام کی توقع ہو یا خطرہ ہو، مثلاً اوندھے آدمی سے یہ نہیں کہا جاتا کہ تم پرائی عورتوں کو نہ دیکھو اور گونگے سے نہیں کہا جاتا کہ تم جھوٹ نہ بولو، کیونکہ ان لوگوں سے ان کاموں کا خطرہ ہی نہیں ہے، سو اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فطرت سلیمہ، آپ کی پاکیزہ سرشت، آپ کے حسین مزاج اور آپ کے مکارم اخلاق کے پیش نظر آپ سے یہ خطرہ ہی نہیں ہے کہ آپ اللہ پر احسان رکھنے کے لیے عبادت کریں گے یا بندوں سے زیادہ لینے کے لیے انہیں کچھ دے کر ان پر احسان کریں گے حتیٰ کہ اس آیت میں آپ کو اس مذموم فعل سے منع کیا جائے، اس لیے میرے نزدیک اس آت میں اگرچہ بظاہر اس فعل سے ممانعت کی نسبت آپ کی طرف ہے، مگر حقیقت میں آپ کی امت کو اس فعل سے منع کیا گیا ہے اور اس ممانعت سے مراد بھی امت ہی ہے۔

بسیار تلاش کے بعد مجھے صرف ایک مفسر گرامی ایسے ملے، جنہوں نے میری طرح اس آیت کی تفسیر کی ہے :

امام ابو منصور محمد بن محمود الماتریدی السمرقندی الخفی المتوفی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :

مجاہد اور حسن بصری نے کہا : آپ زیادہ عمل نہ کریں تاکہ اپنے رب پر احسان رکھیں، امام ابو منصور فرماتے ہیں : اگر اس آیت کی یہ تاویل ہے تو پھر اس خطاب سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غیر ہے، اگرچہ خطاب آپ سے ہی ہے، کیونکہ یہ وہم نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب پر احسان رکھیں گے اور نہ یہ وہم ہوسکتا ہے کہ آپ اس لیے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں گے کیونکہ اس قسم کا عمل تو عام لوگوں میں سے بھی کوئی نہیں کرسکتا، جس میں ذرا سی بھی نیکی ہو، تو اس قسم کے کام کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کیسے وہم کیا جاسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر احسان رکھنا تو منافقین کا فعل ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

یَمُنُّوْنَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْاط قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَکُمْ (الحجرات : ١٧)

وہ (منافقین) اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں، آپ کہیے : تم اپنے اسلام لانے کا مجھ پر احسان نہ رکھو۔

( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص، ٣١١، مؤسسۃ الرسالۃ، ناشرون، ١٤٢٥ ھ)

مصنف کے مؤقف کی مزید وضاحت

تا ہم امام ما تریدی نے اس کو جائز قرار دیا ہے کہ آپ سے یہ فرمایا جائے کہ آپ زیادہ لینے کے لیے احسان نہ رکھیں اور اس کی تائید میں طہٰ : ١٣١ اور آل عمران : ١٩٦ کو پیش کیا ہے، اور بہ اعتبار ظاہر آیات کے ہم بھی اس کو جائز کہتے ہیں، لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عظیم مقام، آپ کی پاکیزہ سیرت اور آپ کی نیک سرشت کے اعتبار سے ہم کہتے ہیں کہ ان آیات کا ظاہر آپ کے شایان شان نہیں ہے اور ایسی تمام آیات مجاز عقلی پر محمول ہیں، جیسے یہ آیات مجاز اً امت کی طرف اسناد پر محمول ہیں :

وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَہْوَآئَہُمْ مِّنْم بَعْدِ مَا جَآئَکَ مِنَ الْعِلْمِلا اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (البقرہ : ١٤٥ )

اور اگر آپ کے پاس علم آنے کے بعد بھی آپ نے اہل کتاب کی خواہشوں کی پیروی کی تو بیشک آپ ظالموں سے ہوجائیں گے۔

یعنی اگر آپ کی امت نے ایسا کیا تو وہ ظالموں میں سے ہوجائے گی، اسی طرح فرمایا :

وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللہ ِ مَالاَ یَنْفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَج فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (یونس : ١٠٦)

اور آپ اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت نہ کریں جو آپ کو نفع پہنچا سکے نہ نقصان پہنچا سکے، پس اگر بالفرض آپ نے ایسا کہا تو آپ ظالموں میں سے ہوں گے۔

یعنی اگر آپ کی امت نے ایسا کیا تو وہ ظالموں میں سے ہوگی۔

لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ ۔ (آل عمران : ١٩٦)

کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔

یعنی آپ کی امت کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔

وَلَا تَمُدَّنَ عیْنَیْکَ اِلَی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِط وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی۔ (طہٰ : ١٣١)

اور ان چیزوں کی طرف آپ ہرگز اپنی آنکھیں نہ پھیلائیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کی زینت دنیا کے طور پردے رکھی ہیں تاکہ ہم ان کو اس زینت دنیا میں آزمائیں اور آپ کے رب کا دیا ہوا ہی بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔

یعنی آپ کی امت ان چیزوں کی طرف آنکھیں نہ پھیلائے۔

ہمارے نزدیک ایسی تمام آیات میں بہ ظاہر آپ کی طرف نسبت اور حقیقۃًان آیات میں تعریضاً امت کی طرف نسبت ہے اور یہ تمام آیات مجاز عقلی پر محمول ہیں اور یہی آپ کے مقام کے مناسب ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 6