کتاب العلم باب 16 حدیث نمبر 74
١٦- باب ما ذكر في ذهاب موسى صلى الله عليه وسلم في البحر إلى الخضر
اس کا ذکر کہ حضرت موسی صلی اللہ علیہ وسلم سمندر میں حضرت خضر کی طرف گئے
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں علم پر رشک کرنے کا ذکر کیا گیا تھا اور اس باب میں علم کے حصول کے لیے ان کی طرف جانے کا ذکر ہے۔
وقوله تعالى (هل أتبعك على أن تعلمن ممّا علمت رشدا) (الكہف :66)
امام بخاری کہتے ہیں: اور اللہ تعالی کا یہ ارشاد: ’’ کیا میں آپ کی اس لیے اتباع کروں کہ آپ مجھے بھلائی کا وہ علم سکھائیں،جو آپ کو سکھایا گیا ہے ‘‘(الکہف:66 ) ۔
امام بخاری نے اس آیت سے علم کی فضیلت پر استدلال کیا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے علم کے حصول کے لیے سمندر کے پرخطر سفر کو اختیار کیا اور علماء کی اتباع کرنے پر استدلال کیا کہ حضرت موسی علیہ السلام ایسے عظیم الشان نبی نے بھی حصول علم کی خاطر حضرت خضر علیہ السلام کو اپنی اتباع کی پیش کش کی اور اپنی اتباع کرنے کا پہلے ذکر کیا اور طلب علم کا بعد میں ذکر کیا اور یہ نہیں کہا کہ آپ مجھے اپنا پورا علم سکھا دیں، بلکہ یہ کہا کہ آپ کو جو علم دیئے گئے ہیں، ان میں سے کچھ علم مجھے عطا فرما دیں اور یہ استاذ کا غایت ادب اور احترام ہے۔
74- حدثنا محمد بن غرير الزهري قال حدثنا يعقوب بن إبراهيم قال حدثني ابي، عن صالح،عـن ابـن شهاب حدث أن عبيد الله بن عبداللہ اخبرہ،عن ابن عباس أنـه تـمـارى هو والحر بن قیس بن حصن الفزاري في صاحب موسى، فقال ابن عباس هو خضر، فمر بهما أبي بن كعب، فدعاه ابن عباس فقال إني تماريت أنا وصاحبي هذا فی صاحب موسى، الذى سأل موسى السبيل إلى لقیہ، ھل سمعت النبي صلى الله عليه وسلّم يذكر شانـه؟ قال نعم، سمعت رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم يقول بينما موسى في ملاء من بنی اسـرائـيـل، جاءه رجل فقال هل تعلم أحدا أعلم منك؟ قال موسى لا، فأوحى الله إلى موسی بلی،عبدنا خضر، فسأل موسى السبيل إليه، فجعل اللہ له الحوت، إيه، وقيل له إذا فقدت الحوت فارجع فإنك ستلقاه ، وكان يتبع أثر الحوت في البحر،فقال لموسى فتاه( ارايت إذ أوينا إلى الصخرة فإني نسيت الحوت وما أنسانيه إلا الشيطان آن أذكرة واتخذ سبيله في البحر عجبا، قال ذلك ما كنّا نبغ فارتدا على اثارهما قصصا (الکہف:63-64) فـوجـدا خـضـرا فكان من شأنهما الذي قص الله عزوجل في كتابہ۔ اطراف الحدیث : ۷۸۔ ۱۲۲۔3278۔3400۔ 3401۔ 4725۔4726۔4727۔6672۔7478
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں محمد بن غریر الزہری، نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی از صالح از ابن شہاب، انہوں نے حدیث بیان کی کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے ان کو خبر دی از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ ان کی حر بن قیس بن حصن الفزاری سے صاحب موسی کے متعلق بحث ہوئی حضرت ابن عباس نے کہا: صاحب موسی حضرت خضر تھے، ان کے پاس سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ گزرے حضرت ابن عباس نے ان کو بلایا اور کہا: میرے اور میرے اس ساتھی کی حضرت موسی علیہ السلام کے متعلق بحث ہوئی ہے، جن سے ملاقات کے راستہ کا حضرت موسی علیہ السلام نے سوال کیا تھا۔ کیا آپ نے سنا ہے کہ نبی ﷺ نے ان کے متعلق کچھ فرمایا تھا؟ حضرت ابی نے کہا: ہاں ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس وقت حضرت موسی بنواسرائیل کی ایک جماعت میں تھے ایک شخص نے آ کر ان سے سوال کیا: کیا آپ کو علم ہے کہ آپ سے بڑا کوئی عالم ہے؟ حضرت موسی نے کہا: نہیں، تو اللہ تعالی نے حضرت موسی کی طرف وحی کی : کیوں نہیں ! ہمارا بندہ خضر ( تم سے بڑا عالم) ہے پس حضرت موسی نے ان کے راستہ کا سوال کیا تو اللہ تعالی نے مچھلی کو ان کے لیے نشانی بنادیا اور ان سے کہا گیا: جس جگہ آپ اس مچھلی کو گم پائیں، وہیں سے لوٹ جائیں تو عنقریب آپ کی ان سے ملاقات ہو گی، وہ سمندر میں مچھلی کے نشان کے یچھے پیچھے جا رہے تھے تو حضرت موسی سے ان کے شاگرد( حضرت یوشع بن نون ) نے کہا: کیا آپ نے ابھی دیکھا، جب ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کررہے تھے، وہیں میں مچھلی ( کا ذکر کرنا) بھول گیا تھا،اور مجھے دراصل شیطان نے اس کا ذکر کرنا بھلا دیا تھا0 حضرت موسی نے کہا: ہم اسی کی تو تلاش میں تھے، پھر وہ اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوۓ لوٹے 0‘‘ ( الکہف : 64 ۔ 63 ) پھر ان دونوں نےحضرت خضر کو پالیا، پھر ان کے مکالمہ کا وہ قصہ ہے جس کو اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے ۔
صحیح مسلم : ۶۱۱۵ سنن ترمذی:۳۱۴۹ سنن کبری للنسائی:۱۳۰۹ صحیح ابن حبان : ۱۰۲ مسند احمد ج ۵ ص ۱۱۷ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۱۱۰۹۔ج 35 ص36 مؤسسة الرسالة بیروت
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں حضرت موسی کے سمندر کے راستہ میں حضرت خضر سے حصول علم کے لیے جانے کا ذکر ہے اور یہی باب کا عنوان تھا ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) محمد بن غریر الفربری ،انہوں نے یعقوب بن ابراہیم اور مطرف بن عبداللہ نیشاپوری سے سماعت کی ہے، اور ان سے امام بخاری نے روایت کی ہے، باقی کتب ستہ میں ان سے روایت کی ہے۔
(۲) یعقوب بن ابراہیم بن سعد المدنی، یہ اپنے والد وغیرہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے امام احمد اور یحیی بن معین نے روایت کی ہے ابن سعد نے کہا: یہ ثقہ اور مامون ہیں شوال ۲۰۸ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۳) یعقوب بن ابراہیم کے والد یعنی ابراہیم بن سعد۔
( ۴ ) ابراہیم بن کیسان۔
(۵) محمد بن مسلم بن شہاب الزہری۔
(۲) عبید للہ بن عبد لله ۔
( ۷ ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ان سب کا تعارف ہو چکا ہے
(۸) حر بن قیس الفزاری، یہ عیینہ بن حصن کے بھائی ہیں، یہ اس وفد میں سے ایک ہیں، جو غزوہ تبوک سے واپسی کے موقع پر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور یہ حضرت عمر کی مجلس میں بیٹھنے والے تھے۔
(۹) حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ، یہ اس امت میں سب سے بڑے قاری ہیں، عقبہ اور بدر کے حاضرین میں سے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے تھے کہ ابی بن کعب سید المسلمین ہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ۱۶۴ احادیث روایت کی ہیں امام بخاری اور امام مسلم ان میں سے تین پر متفق ہیں امام بخاری ۴ کے ساتھ منفرد ہیں اور امام مسلم 7 کے ساتھ 19 ھ میں مدینہ میں فوت ہو گئے تھے، دوسرا قول ۲۰ھ کا اور تیسر اقول۳۰ھ کا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۹۳ – ۹۴)
حضرت موسی علیہ السلام کا تعارف
اس حدیث میں حضرت موسی علیہ السلام کا تذکرہ ہے، ان کا تعارف حسب ذیل ہے:
حضرت موسی علیہ السلام کے والد کا نام ہے: عمران بن یصھر بن قاھث بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ۔جس وقت عمران کی عمر 70 سال تھی، اس وقت حضرت موسی پیدا ہوئے اور عمران ۷ ۱۳ سال کی عمر میں فوت ہوئے اور حضرت موسی کی عمر 120 سال تھی الفربری نے کہا: وہ ۱۶۰ سال کی عمر میں میدان تیہ میں فوت ہوۓ طوفان نوح کے 1620 سال بعد ان کی وفات ہوئی جب وہ بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے روانہ ہوئے تھے، اس وقت ان کی عمر ۸۰ سال تھی ۴۰ سال میدان تیہ میں رہے ۔جب الريان بن الولید فوت ہوگیا جس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر کے خزانوں کا امیر بنایا تھا اور ان کے ہاتھ پر اسلام لایا تھا۔ اس کے بعد قابوس بن مصعب بادشاہ ہوا، اس کو بھی حضرت یوسف علیہ السلام نے اسلام کی دعوت دی تھی، وہ اسلام نہیں لایا، وہ ظالم بادشاہ تھا، حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالی نے اٹھا لیا، پھر وہ بادشاہ ہلاک ہوگیا پھر اس کے بعد اس کا بھائی الولید بن مصعب بن ریان بادشاہ ہوا، اس کی حکومت کے ایام بہت طویل تھے، حتی کہ وہی حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ کا فرعون تھا، جس کی طرف اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ سلام کو بھیجا تھا، اس سے زیادہ سرکش اور اس سے زیادہ لمبی عمر والا اور کوئی بادشاہ نہیں گزرا تھا وہ چار سو سال زندہ رہا حضرت موسی کا نام موشی کا معرب ہے فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم نے ان کا یہ نام رکھا تھا۔ عبرانی زبان میں ’’ مؤ‘ کا معنی ہے: پانی اور شے‘‘ کا معنی ہے: درخت حضرت موسی کی والدہ نے ان کو تابوت میں رکھ کر اس تابوت کو سمندر میں ڈال دیا تھا۔ پھر وہ تابوت بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا اور یوں حضرت موسی علیہ السلام نے فرعون کے گھر پرورش پائی ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۸۹ )
حضرت خضر علیہ السلام کا تعارف
اس حدیث میں حضرت خضر علیہ السلام کا بھی ذکر ہے، ان کا تعارف حسب ذیل ہے:
حضرت خضر کے نام میں کئی اقوال ہیں ابن قتیبہ نے’’المعارف‘‘ میں لکھا ہے: ان کا نام بلیاء ہے ابوحاتم سجستانی نے کہا: ان کا نام خضرون ہے، مقاتل نے کہا: ان کا نام ارمیاہ ہے ۔ ان کا لقب خضر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سفید چادر پر بیٹھتے تو اس کے پیچھے سبزہ اگ جاتا مجاہد نے کہا: جب وہ نماز پڑھتے تو ان کے اردگرد کی چیزیں سبز ہوجاتیں ۔ ان کے زمانہ میں بھی اختلاف ہے، ایک قول ہے کہ وہ افریدون کے زمانہ میں تھے، جو ذوالقرنین اکبر کا سپاہی تھا، ثعلبی نے کہا ہے کہ وہ ذوالقرنین کے وزیر تھے اور انہوں نے آب حیات پی لیا تھا ابن جریر نے کہا ہے کہ صحیح قول یہ ہے کہ وہ افریدون کے زمانہ سے پہلے تھے، حتی کہ انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام کا زمانہ پالیا۔ حضرت خضر کے ولی یا نبی ہونے میں بھی اختلاف ہے صحیح یہ ہے کہ وہ نبی ہیں کیونکہ انہوں نے کہا: وما فعلته عن أمرى. (الكهف: ۸۲) میں نے یہ کام اپنی راۓ سے نہیں کیے۔ یعنی جن کاموں پر حضرت موسی علیہ السلام نے اعتراض کیے تھے، وہ سب کام انہوں نے اپنی راۓ سے نہیں کیے تھے بلکہ وحی سے کیے تھے اور وحی صرف انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوتی ہے، ورنہ الہام کی بناء پر کسی کوقتل کرنا جائز نہیں ہے یا کسی کی کشتی توڑنا جائز نہیں ہے ۔ ان کی حیات میں بھی اختلاف ہے، جمہور ان کی حیات کے قائل ہیں اور محققین کہتے ہیں : ان کی وفات ہوچکی ہے اس کی تفصیل جاننے کے لیے شرح صحیح مسلم :6046۔ج 6 ص۸۵۹ – ۸۵۳ کا مطالعہ فرمائیں، نیز ان تمام مباحث کی مکمل تفصیل جاننے کے لیے تبیان القرآن ج ۷ ص ۱۷۱۔۱۵۰ الکہف: 65– 60 کا مطالعہ فرمائیں ۔
مسائل علمیہ میں بحث کر نے اور طلب علم کے لیے سفر کرنے کے آداب اور مسائل
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسائل علمیہ میں بحث کرنا جائز ہے، جیسا کہ حضرت ابن عباس اور حر بن قیس الفزاری میں بحث ہوئی اور جب دو علماء میں اختلاف ہو تو کسی تیسرے بڑے عالم سے فیصلہ کر لینا چاہیے جیسے حضرت ابن عباس نے حضرت ابی بن کعب سے فیصلہ کرایا اور کسی عالم کو اپنے مؤقف پر ضد نہیں کرنی چاہیے۔
انسان کتنا بڑا عالم کیوں نہ ہو، اس کو مزید علم کی جستجو میں رہنا چاہیے اور کسی سے علم حاصل کرنے میں تکلف اور جھجک سے کام نہیں لینا چاہیے، جیسے حضرت موسی علیہ السلام حضرت خضر عالیہ السلام سے حصول علم کے لیے روانہ ہوگئے اورسفر میں اپنے ساتھ اپنے شاگرد کو بھی لیا اور کھانے پینے کی چیزیں بھی ہمراہ لیں اور یہ تمام چیزیں توکل کے عین مطابق ہیں، خلاف نہیں ہیں ۔
[…] حدیث کی تخریج اس کے اطراف اور اس کی شرح صحیح البخاری: ۷۴ میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں […]
[…] حدیث : ۷۴ میں اس حدیث کی مکمل تخریج اور شرح گزر چکی ہے باقی امور کی شرح ہم یہاں ذکر کریں گے۔ […]