اک طرز تغافل ہے وہ انکو مبارک…
۔اک طرز تغافل ہے وہ انکو مبارک
اک عرض تمنا ہے وہ ہم کرتے رہیں گے ۔
مفتی عطاء المصطفی اعظمی علیہ الرحمہ سے ہماری ایک ملاقات کافی عرصہ پہلے ہوئی اور انکا تقوی اور سادگی مثالی تھی۔
افسوس یہ ہے کہ اتنی بڑی شخصیت نہ کسی بڑی مسجد خطیب تھے نہ کسی بڑے ادارے میں مدرس۔؟
ہم نے ان سے کیا فائدہ اٹھایا۔؟
وہ کراچی کے سنی سیٹھ حضرات اور وسائل رکھنے والی تنظیمات کی نظروں سے اوجھل کیوں رہے۔؟
ایک چھوٹے سے مدرسہ میں زندگی کا اکثر حصہ گذار دیا۔
ہم اپنے لائق ذہین باصلاحیت علماء کے ساتھ یہی رویے کب تک رکھیں گے کہ مرنے کے بعد انکی خدمات کا ڈھول پیٹیں اور زندگی میں فائدہ نہ اٹھائیں
۔ بڑے بڑے لوگ ہیں جو بحرالعلوم ہیں مگر انکی عمر مدرسہ کے لیے وسائل اکٹھے کرنے میں گزر رہی ہے۔ کیا ہم ایسے علماء کو وسائل سے مستغنی کر کے انکے علوم و تجربات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے؟
وسائل تو سب سے زیادہ ہمارے پاس ہیں۔
رفاہی کام سب سے زیادہ ہم کر رہے ہیں ۔
ہم ایک جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے وسائل کا ایک حصہ ایسے قیمتی ہیروں کے لیے مختص کیوں نہیں کر دیتے۔؟
عاجز علامہ غلام حسین سیفی۔