افضل کون ؟ مناظرہ
آل نبی اولادِ علی پیر سید ذوالفقار علی گیلانی شاہ صاحب مدظلہ العالی اور منہاجیوں کے فیض یافتہ مولوی یاسین رافضی کے درمیان مسئلہ افضلیت پر ٹاکرا ہوا ، یہ اس کا پہلا حصہ ہے اس حصے میں اس بے صبرے مولوی یاسین نے اس کے پاس جو کچھ تھا وہ بیان کردیا ، لیکن سید ذوالفقار علی شاہ صاحب بار بار اس کو اُصولی گفتگو کی طرف دعوت دیتے رہے ، جس پر یہ نہیں آیا کیونکہ اسے پتا ہے کہ اگر میں اس طرح آیا تو ایسے پھنسوں گا جیسے چوہا کڑِکّی میں پھنستا ہے ۔
میں نے پوری دیانت داری سے ایک ایک لفظ اس تمام گفتگو کا سُنا اور یہ باتیں نوٹ کیں ۔
1-یاسین رافضی بھی زید قریشی کی طرح علم العقائد سے جاہل ہے اور سطحی علم کا مالک ہے ۔
2-یاسین رافضی اپنے اسلاف یعنی ابومخنف لوط بن یحییٰ اور سائب کلبی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جھوٹی اور کمزور روایات بیان کرتا رہا جن کی اس مسئلہ میں کوئی حیثیت نہیں ۔
3-یاسین رافضی خود اردو کی ایک کتاب وہ بھی اپنی ہی لکھی ہوئی اٹھا کر لایا اور اسی سے رٹہ مارتا رہا ، اور الزام شاہ صاحب پر کہ اردو کتابوں کے حوالے دکھا رہے ہو ، حالانکہ شاہ صاحب نے عربی و فارسی کتب بھی دکھائیں اور عربی عبارات پڑھنے کا مطالبہ بھی کیا جو وہ پورا نہ کرسکا ۔
4-شاہ صاحب نے بڑی تحمل مزاجی کا مظاہرہ کیا اور ٹھنڈے ماحول میں بات کی ، لیکن یاسین رافضی نے ثابت کردیا کہ یہ لوگ اہل بیت کی محبت کے سراسر جھوٹے دعویدار ہیں کہ ایک سید زادے سے جس طرح اس نے گفتگو کی اور بازاری الفاظ استعمال کیے ، وہ انہیں منافقین کا خاصہ ہے ۔ جس آل رسول کے نام پر یہ لوگ اپنے پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں اُن کی طرف یوں گھور رہا تھا جیسے شاہ صاحب نے اس کی زنجیریں چھین لی ہوں ۔
5- یاسین رافضی نے دوران گفتگو ایک حدیث پاک بیان کرتے ہوئے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یہ الفاظ منسوب کیے کہ آپ نے سیدہ فاطمہ پاک کو فرمایا : “اے میرے بچڑے” اِن الفاظ کا استعمال کرنا کیسا ہے؟ یہ میں اہل علم و ادب پر چھوڑتا ہوں ۔
6- یایسن رافضی کا طریقہ واردات ہے کہ “میں نہیں کہہ رہا یہ اہل سنت کی کتب میں لکھا ہے بندہ پوچھے: کہ جو باتیں بار بار شاہ صاحب کر رہے ہیں وہ بھی تو اہل سنت کی کتب میں لکھی ہیں وہ کون سا “رشید ابن رشید” پڑھ کر سُنا رہے ہیں ۔
بہر حال شاہ کی گفتگو ابھی اس موضوع کے مقدمہ میں تھی اور یایسن رافضی وہ دلائل دے رہا ہے جن کا ابھی موقع ہی نہیں ۔ چلو اگر تمہیں ذیادہ ہی دلائل آئے ہوئے ہیں تو جو کہہ رہے ہو اُس کو ثابت بھی تو کرو ۔۔۔۔۔
اخے سند کا مطالبہ نہ کرو میں حدیث کی کتابیں ساتھ نہیں لایا۔۔۔ بندہ پوچھے پھر یہاں مینگو لینے آئے ہو ، چلو کتابیں نہیں لائے تو کیا ہوا شاملہ کھولو روایت نکالو اور سند پڑھ کر اسے درست ثابت کردو ۔
✍️ارسلان احمد اصمعی قادری
20/4/24ء
میں نے مولانا یاسین صاحب کی کتاب کا نام سنا اور تجسس تھا مگر اس کا خلاصہ مولانا صاحب کی اس مناظرے سے سامنے آ گیا۔
1۔ مولانا نے علم کو معیار افضلیت بتایا ہے ۔ حالانکہ علم سے فضیلت و برتری ثابت ھوتی ھے مگر افضلیت یعنی سب سے برتری ثابت نہیں ھوتی۔ افضل اور سب سے برتر وہی ھے جو تقوی میں سب سے آگے ھے۔(سورة الحجرات)
2۔ مولانا صاحب نے “سلونی” کا دعویٰ سننے والے تابعین کے حوالے یا اعلم الناس کہنے والے جن تابعین کے حوالے پیش کئے انہوں نے شیخین کا زمانہ نہیں پایا ۔
3۔ مولانا صاحب نے حضرت علی کو مدینة العلم کا دروازہ بتایا مگر یہ چھپا گئے کہ حضرت علی مرتضیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق سے بھی حدیث کا علم لیا ھے۔ اور بعد میں اعلم الناس بالسنة بنے ہیں۔
4۔ مولانا صاحب فضائل کیلئے ضعیف روایت لینے کا اصول پیش کرتے ہوئے یہ بھول گئے ہیں کہ وہ فضیلت علی نہیں بلکہ افضلیت علی ثابت کرنے آئے ہیں ۔ مولانا صاحب کی خلاف اصول گفتگو سن کر اب ان کی کتاب پڑھنے کا تجسس ہی ختم ھو گیا ۔