عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَؕ – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 30
sulemansubhani نے Friday، 26 April 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَؕ ۞
ترجمہ:
اس پر انیس فرشتے مقرر ہیں
المدثر : ٣٠ میں فرمایا : اس پر انیس فرشتے مقرر ہیں۔
اس آیت کا معنی ہے کہ دوزخ کے معاملات انیس فرشتوں کے حوالے کردیئے گئے ہیں اور دوزخیوں پر یہ انیس فرشتے مقرر ہیں، انیس کی تفسیر میں اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ وہ انیس قسم کے فرشتے ہیں، دوسرا قول یہ ہے کہ وہ فرشتوں کی انیس صفیں ہیں، امام الواحدی المتوفی ٤١٨ ھ نے مفسرین سے نقل کیا ہے کہ دوزخ کے انیس محافظ ہیں، ایک مالک ہے، ان کے ساتھ اٹھارہ اور فرشتے ہیں، ان کی آنکھیں بجلی کی طرح ہیں، ان کی ڈاڑھیں گائے کے سینگھ کی طرح ہیں، ان کے بالوں کی لمبائی ان کے قدموں تک ہے، ان کے مونہوں سے آگ کے شعلے نکلتے ہیں، ان کے دو کندھوں کے درمیان ایک سال کی مسافت ہے، ان کی ایک ہتھیلی میں ربیعہ اور مضر جیسے دو قبیلے آسکتے ہیں، ان سے نرمی اور رحم کو نکال لیا گیا ہے، وہ ستر ہزار رافراد کو اپنے ہاتھ میں پکڑ سکتے ہیں اور ان کو جہان چاہیں دوزخ میں پھینک سکتے ہیں۔ ( الکشف و البیان ج ١٠ ص ٧٧، الوسیط للواحدی ج ٤ ص ٣٨٤)
علامہ واحدی متوفی ٤٦٨ ھ اور علامہ ابن جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :
جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابو جہل لعین نے کہا : ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مددگار انیس فرشتے ہیں، وہ تم کو انیس فرشتوں سے ڈرا رہے ہیں، جب کہ تم ایک جم غفیر ہو، کیا تم میں سے سو آدمی مل کر ایک فرشتے کو نہیں پکڑ سکتے اور پھر دوزخ سے نکل کر جنت میں چلے جائو، پھر ان میں سے بنو جمح کے ابو الاشدین نامی ایک شخص نے کہا : اے قریش کے لوگو ! جب قیامت کا دن ہوگا تو تمہارے آگے آگے پل صراط پر چلوں گا، پس میں اپنے دائیں کندھے کی ٹکڑ سے دس فرشتوں کو اور بائیں کندھے کی ٹک سے بقیہ نو فرشتوں کو دوزخ میں گرا دوں گا اور پھر ہم جنت میں داخل ہوجائیں گے، تب اس کے بعد کی آیات نازل ہوئیں۔ ( الوسیط ج ٤ ص ٣٨٤، زاد المسیرج ٨ ص ٤٠٨)
القرآن – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 30