كُلُّ نَفۡسٍ ۢ بِمَا كَسَبَتۡ رَهِيۡنَةٌ – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 38
sulemansubhani نے Saturday، 27 April 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كُلُّ نَفۡسٍ ۢ بِمَا كَسَبَتۡ رَهِيۡنَةٌ ۞
ترجمہ:
ہر شخص اپنے عمل کے بدلے میں گروی ہے.
المدثر : ٣٩۔ ٣٨ میں فرمایا : ہر شخص اپنے عمل کے بدلہ میں گروی ہے۔ ماسوا دائیں طرف والوں کے۔
وہ کون سے نفوس ہیں جو قیامت کے دن اپنے اعمال کے عوض گروی ہوں گے اور وہ کون سے نفوس ہیں جو گروی نہیں ہوں گے ؟
اس آیت کا معنی ہے : ہر نفس نے اپنے آپ کو اللہ کے پاس اپنے عمل کے بدلہ میں رہن اور گروی رکھا ہوا ہے، اور اس کے عمل کے مطابق اس سے معاملہ کیا جائے گا، اگر اس کے اعمال نیک ہیں تو وہ اپنے آپ کو اللہ کے عذاب سے چھڑالے گا اور اگر اس کے اعمال بد ہیں تو اپنے نفس کو ہلاکت سے نہیں بچا سکے۔
ما سوا دائیں طرف والوں کے، کیونکہ وہ اپنے اعمال کی وجہ سے گروی نہیں ہوں گے، ان کے مصداق اور ان کی تعیین میں اختلاف ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : وہ ملائکہ ہیں، حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے کہا : وہ مسلمانوں کی اولاد ہیں، وہ مکلف نہیں تھے۔ انہوں نے کوئی کسب نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ گروی ہوں، ابن جریج نے کہا : ہر شخص سے حساب لیا جائے گا ماسوا دائیں طرف والوں کے اور وہ اہل جنت ہیں، پس بیشک ان سے حساب نہیں لیا جائے گا، اور اسی طرح مقاتل نے بھی کہا ہے کہ یہ وہ اصحاب الجنۃ ہیں جو یوم میثاق میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی دائیں جانب تھے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا : یہ جنتی ہیں اور مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے، الحسن اور ابن کیسان نے کہا : یہ وہ مخلص مسلمان ہیں جن کے نفوس کو گروی نہیں رکھا جائے گا کیونکہ انہوں نے اپنے حقوق ادا کردیئے ہوں گے، ایک قول یہ ہے کہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے صحائف اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے، امام ابو جعفر نے کہا : ہم اور ہمارے شیعہ دائیں طرف والے ہیں ( اس قول میں شیعہ سے مراد ان کے محبین ہیں، آج کل کے شیعہ اور رافضی مراد نہیں ہیں) اور ہم اہل بیت سے جن نے بغض رکھا ان کے نفوس قیامت کے دن گروی ہوں گے، الحکم نے کہا : یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خدمت کے لیے چن لیا، یہ گروی نہیں ہوں گے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے خدام اور اس کے چنے ہوئے بندے ہیں اور ان کو ان کا کسب ضرر نہیں دے گا، القاسم نے کہا : ہر شخص سے اس کے عمل پر محاسبہ کیا جائے گا خواہ اس کا عمل نیک ہو یا بد، ماسوا اس کے جس کا اعتماد اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہو نہ کہ اپنے اعمال پر اور جس نے اللہ تعالیٰ کے فضل پر اعتماد کیا اس کا نفس گروی نہیں ہوگا۔
(الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٨٠۔ ٧٩، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 38