تم بہت یاد آتے ہو
*تم بہت یاد آتے ہو*
حضور سیدی مرشدی مولائی حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری نور اللہ مرقدہ شہنشاہ خطابت کے منصب پر براجمان تھے، عوام ہی نہیں علماء بھی آپ کی خطاب کو بغور سماعت فرمایا کرتے تھے۔
میں نے بچپن سے آپ کو بہت سنا ہے، اس قدر سنا کہ آج بھی کئی کلمات ہو بہو آپ ہی کے انداز میں زبان سے جاری ہوجاتے ہیں، آپ کا خطبہ جمعہ سننے کے لیے کئی لوگ دور دراز سے سفر کرکے آتے تھے، اور بعد جمعہ بیان کی کیسٹ ، سی ڈی ساتھ لے جاتے تاکہ گھر والوں کو سنائیں۔
ہمارے اپنے گھر میں کیسٹ ٹیپ میں حاجی مشتاق قادری علیه الرحمة کی آواز میں نعتیں بجتی تھیں اور شاہ صاحب رحمة الله عليه کے بیانات سنے جاتے تھے،
فقیر بچپن سے دیکھتا تھا کہ کبھی کبھی جمعہ کے دن شاہ صاحب رحمة الله عليه خطاب نہیں فرماتے تھے بلکہ پہلی صف میں تشریف فرما ہوتے اور ایک نورانی شکل کے حسین و جمیل بزرگ سر پر غلابی رنگ کا عمامہ شریف سجائے کھڑے کھڑے خطاب فرما رہے ہوتے، دریافت کرنے پر معلوم ہوتا کہ یہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلی رحمة الله عليه کے پر پوتے حضور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان صاحب ہیں،
کبھی ایسا ہوتا کہ شاہ صاحب پہلی صف میں تشریف فرما ہوتے اور ایک بزرگ بڑی گرجدار آواز میں جھوم جھوم کر خطاب فرما رہے ہوتے دریافت کرنے پر معلوم ہوتا کہ یہ صاحب بہار شریعت کے صاحبزادے حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفی اعظمی دامت برکاتھم العالیہ ہیں،
ایک بار ایسا بھی ہوا کہ کسی کے آنے کا انتظار تھا لیکن خطاب کا وقت ہو چکا تھا اور وہ تشریف نہیں لائے تھے حضور شاہ صاحب رحمة الله عليه نے خطاب شروع کردیا دوران خطاب وہ عظیم ہستی جن کا انتظار تھا تشریف لے آئیں یعنی مارہرہ شریف کی شہزادے پروفیسر ڈاکٹر محمد امین میاں برکاتی دامت برکاتھم العالیہ، حضور شاہ صاحب رحمة الله عليه منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور فرمایا اب خطاب مارہرہ شریف کی شہزادے فرمائیں گے،
میرے والد صاحب بتاتے ہیں کہ شاہ صاحب رحمة الله عليه کے استاد و مربی حضور مصلح اہلسنت حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی نور اللہ مرقدہ کے زمانے سے اسی طرح چلا آرہا ہے کہ جب کوئی بڑی ہستی کراچی تشریف لاتیں تو قاری صاحب رحمة الله عليه انہیں میمن مسجد مصلح الدین گارڈن (کھوڑی گارڈن مسجد) میں جمعہ پڑھانے کی دعوت دیا کرتے، حضور غزالی زمان رازی دوراں علامہ احمد سعید کاظمی رحمة الله عليه جب کراچی تشریف لاتے تو کھوڑی گارڈن مسجد میں ضرور خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے،،، یہی عمل شاہ صاحب رحمة الله عليه نے ساری زندگی جاری رکھا۔
شاہ صاحب رحمة الله عليه خود سید زادے، سرکار غوث اعظم رضي الله عنه کی آل سے، لیکن اپنے عمل سے ہمیشہ یہ درس دیتے رہے کہ اکابر کا ادب و احترام بہر صورت لازم ہے گرچہ وہ سادات میں سے نہ ہوں، ان کی موجودگی میں لب کشائی کی جسارت بغیر ان کی اجازت کے بہر صورت مذموم،،،
لیکن آج افسوس ہوا یہ دیکھ کر کہ ایک بزرگ ہستی، سید زادے سرکار غوث اعظم رضي الله عنه کے شہزادے کو دوران بیان روک دیا گیا،
کہاں ہیں سادات کی عزت و احترام کے مدعیان؟؟؟ کیا اب وہ اس گھناؤنی حرکت پر خطیب مسجد کی سرزنش نہیں کریں گے؟؟؟ یا پنجاب کے سادات سادات ہیں کسی اور علاقے کے سادات سادات نہیں ہیں؟؟؟
اللہ کریم ہمیں غرور و تکبر سے بچائے اور بزرگوں کا ہمیشہ ادب و احترام کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،،،،
🖋️ محمد انس رضا قادری
