مقام ولایت
آپ نے “سچا مومن” لفظ سنا تو بہت ہوگا، آج دیکھ بھی لیجئے !
لوگوں کے گھر کام کاج کرکے پیسے جمع کرنا اور پھر اس سے دیار حبیب کی زیارت بھی کوئی معمولی بات نہیں
لیکن
اصل کمال یہ خاتون تب کرتی ہیں جب اپنے چار بچوں کی کی موت کا تذکرہ کرتی ہیں۔ چار بچے تھے، چاروں پانچ سال کی عمر کو پہنچ کر فوت ہوگئے۔ آخری عمر میں میاں بھی فوت ہوگیا۔ اور ان کے موت کا ذکرتے ہوئے بھی ان کا بارگاہ الہی میں صابر و شاکر رہنا ذرا دیکھئے
ولی اپنے زمانے کا سب سے بڑا صابر و شاکر شخص ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ کا شاکر بندہ بنا رہتا ہے۔ نہ اسے دکھ خدا سے دور کرسکتے ہیں، نہ ہی سکھ۔ ملتان کو اولیاء کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ یہ خاتون واقعی ملتان کی جیتی جاگتی ولیہ ہیں۔ خوش بخت ہوگا جو ان کی دعائیں لے گا
دعائیں دعاء کی درخواست کرکے نہیں لی جاتیں۔ کچھ ایسا کرنا ہوتا ہے کہ اگلا بے اختیار دل کی گہرائی سے دعاء دیدے۔
“مقام ولایت”
::::::::::::::::
آج صبح ملتان کی ایک خاتون کی ویڈیو شیئر کی ہے۔ اس خاتون کی گفتگو دینی لحاظ اس قدر غیر معمولی ہے کہ سنتے ہی ہمارا دل ہمارے اختیار میں ہی نہ رہا۔ اس گفتگو میں سیکھنے اور سمجھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ سو چاہتے ہیں کہ اس گفتگو کو آپ کے لئے تھوڑا کھولیں
٭ سب سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ یہ گفتگو اول تا آخر “تعلق مع اللہ” کا ایک بے مثال درس ہے۔ بندے کا اپنے رب سے تعلق کس نوعیت کا ہونا چاہئے یہ اس بوڑھی عورت سے سیکھا جا سکتا ہے
٭ گفتگو کے آغاز میں جب انٹرویو لینے والی خاتون ان سے پوچھتی ہیں
“پہلی بار آئی ہو ؟”
تو بے اختیار و برجستہ فرماتی ہیں
“شکر کر اللہ نے مجھے بلا لیا ہے”
اللہ کا ولی کبھی بھی یہ نہیں سوچتا کہ اسے کیا نہیں ملا۔ وہ ہمیشہ اللہ کی ان نعمتوں پر فوکسڈ رہتا ہے جو اسے میسر ہیں۔ اور وہ ان پر دل کی گہرائی سے شاکر رہتا ہے۔ چنانچہ یہ خاتون بے اختیار یہی کہتی ہیں کہ پہلے نہ آنے کی کوئی اہمیت نہیں۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ اللہ نے مجھے بلا لیا اور یہی مقام شکر ہے
٭ جب بچوں کا ذکر آتا ہے تو وہ یہ نہیں کہتیں
“میرے چار بچے تھے”
بلکہ مکرر فرماتی ہیں
“اللہ نے چار بچے دیئے تھے۔ اللہ نے چار بچے دیئے تھے”
گویا ان بچوں کے ملنے کو بھی وہ اپنے آپ سے نہیں بلکہ اپنے رب سے جوڑ رہی ہیں۔یہ بھی ولایت کا ہی مقام ہے کہ ولی ہر چیز میں اپنے رب کو ہی مقدم رکھتا ہے اور اسی کا احسان مند رہتا ہے
٭ بچوں اور شوہر کی موت کا ذکر کرتے ہی وہ فورا اللہ کی شکر گزار ہوجاتی ہیں۔ ذرا ایک لمحے کو غور کیجئے۔ ان کے چار ہی بچے تھے۔ چاروں صرف پانچ سال ان کے پاس رہے۔ نہ اس نے ان کا لڑکپن دیکھا، نہ جوانی، نہ شادی نہ پوتے، نواسے۔ لیکن شاکر ایسی ہیں جیسے یہ سب وہ پا چکی ہوں اور ان کے پا چکنے پر شکر ادا کر رہی ہوں۔
پھر سب سے عظیم الشان جملہ وہ دہرا کر یہ کہتی ہیں
“جہاں وہ (اللہ سبحانہ و تعالی) رکھے۔ جہاں وہ رکھے”
اس جملے میں دراصل وہ یہ کہہ رہی ہیں کہ میرا اللہ میرے بچوں کو میرے گھر رکھے یا قبر میں مجھے کوئی پروا نہیں، میں تو اس بات پر پوری طرح راضی ہوں کہ اللہ کی مرضی ہے وہ انہیں جہاں بھی رکھے۔ وہ جہاں بھی رکھے میں راضی بھی اور شاکر بھی۔
٭ اس پوری گفتگو کا سب قیمتی جملہ وہ عین اس لمحے فرماتی ہیں جب کیمرہ ان سے گھوم کر بند ہونے لگتا ہے
“میں تو اس (اللہ سبحانہ و تعالی) سے بہت خوش ہوں”
بخدا یہ جملہ ہم اور آپ کہیں تو شاید خدائی پکڑ میں آجائیں۔ لیکن اس خاتون کی زبان سے یہ مقام ولایت ہے۔ ہم سمجھاتے ہیں کہ کیسے
قرآن مجید میں اللہ سبحانہ و تعالی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی نسبت سے فرماتے ہیں
“اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی”
ہم سب جانتے ہیں کہ بطور مسلمان ہماری اولین ذمہ داری و مقصد حیات یہ ہے کہ ہم اللہ کو راضی اور خوش کریں۔ لیکن صحابہ کرام کے حوالے سے اللہ سبحانہ و تعالی یہ عجیب خبر دیتے ہیں کہ میں تو ان سے راضی ہوں ہی مگر بات صرف اتنی نہیں بلکہ وہ بھی مجھ سے راضی ہیں۔ یعنی صحابہ کا مقام اتنا بلند کردیا کہ ان کے راضی ہونے کو بھی اہم کردیا۔ سوال یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی رضامندی میں اشارہ کیا ہے ؟ اشارہ یہ ہے کہ صحابہ نے بے پناہ مشقت بھری زندگی گزاری ہے۔ وہ اللہ کی خاطر بے گھر ہوئے، بائیکاٹ سے گزرے، ان کی کھالیں کھینچی گئیں۔ انہیں ذہنی و قلبی اذیتوں سے گزارا گیا، ان کی اولاد قتل ہوئی، وہ جنگوں میں بھی یوں شہید کئے گئے کہ جنگی جرائم کر دیئے گئے۔ اور اگر گھروں پر حالت امن میں رہے تو زیادہ عرصہ فاقوں میں رہے۔ تو اللہ سبحانہ و تعالی درحقیقت ان کی طرف سے گواہ بن رہے ہیں کہ یہ جو اذیت بھری زندگی انہوں نے گزاری، ان تمام اذیتوں کے ہوتے وہ اس کے باوجود مجھ سے راضی ہیں کہ اگر میں چاہتا تو پلک جھپکتے ان کی زندگی راحتوں سے بھر دیتا اور میں نے نہیں بھری تب بھی وہ مجھ سے راضی ہیں۔ یہ ہے بندگی کا اعلی ترین مقام۔
سو یہ ملتان والی انپڑھ خاتون درحقیقت صحابہ سے نسبت پاتی نظر آتی ہیں کہ پرمشقت زندگی کی ذرہ برابر بروا نہیں۔ وہ ہر حال میں اللہ سے اسی طرح راضی وخوش ہیں جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین راضی و خوش تھے۔
ہم اور آپ یہ جملہ کیوں نہیں کہہ سکتے ؟ ہم نے چند سال قبل ایک دو بار یہ کہا تھا، مگر یکایک خیال آیا کہ اگر اللہ سبحانہ و تعالی نے آگے سے پوچھ لیا
“تیرے ساتھ میں نے کیا کیا ہے تو راضی ہونے کی بات کرتا ہے ؟ چار سو گز کے مکان میں رہتا ہے، تین وقت کھانا، اولاد، پوتے، اور ساری نعمتیں میسر ہیں۔ تو صرف شکر کر، تیرے راضی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں۔ رضامندی صرف انہی کی قابل قبول ہے جن کی زندگی صحابہ جیسی پر مشقت اور صبر وشکر والی رہی ہو !”