گجے اور غلیظ ترین  رافضی یسین قادری سے سوال

برسبیل تنزل ہم کوئی بھی فہرست جو صحیح سند سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قتل کردا افراد کی تعداد کا تعین کرتی ہو اسکا مطالبہ بھی نہیں کرتے ۔صرف چند سوالات رکھتے ہیں امید ہے آپ جواب دیکر ہمارے علم میں اضافہ ضرور  فرمائیں گے۔

پہلا سوال : قرآن کی ایک نص ایک آیت اگرچہ  نہ عبارت النص ہو نہ دلالۃ النص ہو نہ اشارۃً النص ہو ۔بلکہ فقط اقتضا ء النص ہی ہو سے یہ ثابت کریں کہ اللہ کے نزدیک مومنین میں سے سب سے  افضل ترین وہ ہے جو کہ جنگوں میں سب سے زیادہ بندے قتل کرے ۔جبکہ اس کے برعکس صحیح حدیث میں ہے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو جب غزوہ خیبر میں علم دے کر بھیجا تو یہ ارشاد فرمایا” حدیث کا مفہوم اللہ کمی بیشی معاف فرمائے کہ اے اگر ایک شخص بھی تیرے ذریعے ہدایت پاگیا تو وہ تیرے لیے سو سرخ اونٹوں کی دولت سے بہتر ہے۔”
یعنی بجائے قتل ہونے کے بندہ اگر آپکی تبلیغ سے اسلام لے آئے تو وہ زیادہ افضل ہے.اور امت میں افضلیت کا حق دار ہے

دوسرا سوال : قرآن میں جہاد اور قتال کا حکم عمومی ہے اور اسکی فضیلت بھی عمومی بیان ہوئی ہے جمع کے صیغوں کے ساتھ عمومی حکم کے بطور ،اب جہاد میں لڑنا ،لڑنے کے لیے نکلنا تلوار چلانا تیر چلانا تلوار کے وار روکنا تیر کے وار روکنا یعنی دفاع کرنا گھات لگانا آگے بڑھ کر حملہ کرنا پیچھے ہٹ کر بطور حکمت عملی کے حملہ کرنا اپنی جان کی حفاظت کرنا اور دشمن کو قتل کرنے کے درپے ہونا اور سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرنا اور اس کے ساتھ بے شمار تکنیکی چیزیں جو سب جنگ کا حصہ ہوتی ہیں جہاد اور قتال کے مفہوم میں شامل ہیں جن میں مال خرچ کرنا وغیرہ بھی شامل ہے۔ لہذا ان سب کو کسی نہ کسی اسٹیج پر پرفارم کرنے والا ہر ہر فرد ان تمام قرآنی عمومی بشارات کا مصداق بعینہ ہوگا  نہ کہ فقط سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس میں تخصیصِ خاص ہے اور نہ ہی فقط آگے بڑھ کر تلوار چلانے والوں کی تخصیص کی کوئی دلیل ہے۔ یعنی اولا تو ان بشارات کا حامل ہر ہر فرد جو جنگ میں کسی بھی طریق سے حصہ لے رہا ہے وہ فردا فردا اور درجہ بدرجہ ہے کیونکہ بشارات عمومی اور جمع کے صیغے سے ہیں اور ثانیا ان بشارات میں فقط سیدنا علی کی تخصیص کی کوئی دلیل نہیں۔تو پھر آپ ان سے کیسے افضلیت سیدنا علی ثابت کرتے ہیں؟؟؟

تیسرا اور آخری اور منطقی سوال اگر سب غزوات میں سیدنا علی ہی کفار کو کافی ہوتے تھے تو پھر بدر کے تین سو تیرہ سے لیکر ہر ہر غزوہ میں مومنین کی ایک اچھی خاصی  تعداد کو کیوں اسٹیک پر لگایا جاتا رہا کیوں نہ وحی سے خاص کرکے کفار کے لشکر جرار کے سامنے ہر بار فقط سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہی نہ بھیج دیا جاتا؟؟کیونکہ حقیقت میں بقول رافضی جنگ تو فقط وہی یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کرتے تھے باقی صحابہ تو معاذاللہ ہر بار بھاگ جاتے تھے لہذا اتنی جانوں کو ہر بار کیوں اسٹیک پر لگایا جاتا بالخصوص آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بار بار کیوں میدان میں تشریف لے جاتے تھے کیونکہ آپکی جان تو جان ایمان تھی اور ہے۔۔فافھم