مشاجرات صحابہ اور حق
مشاجرات صحابہ اور حق
جنگ جمل اور صفین میں میں اسلامی تاریخ میں ہمیشہ سے محققین علماء کے چار گروہ رہے ہیں ۔
محققین کا پہلا گروہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اجتہاد کو حق (صواب) پر اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اجتہاد کو خطا پر سمجھتا ہے۔ اور اس گروہ کی سب سے بڑی دلیل حدیث عمار ہے۔ جو کہ صحیح روایت ہے۔
محققین کا دوسرا گروہ اس کے برعکس ہے یعنی وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے موقف کو حق (صواب) جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے موقف کو خطا پر سمجھتا ہے ۔اور انکی دلیل وہ تمام صحیح روایات ہیں جس میں فتن کے وقت آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل شام کا حق ہونا اور لازم پکڑنے کا ارشاد فرمایا ۔لہذا اس گروہ کے پاس بھی صحیح روایت ہے
محققین کا تیسرا گروہ دونوں کو حق پر سمجھتا ہے اور انکے نزدیک دونوں گروہوں میں کوئی بھی باطل پر نہ تھا بلکہ دونوں ہی حق پر تھے اور انکی دلیل بھی ایسی تمام صحیح روایات ہیں کہ جن میں فتنے کے وقت آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں گروہوں کی دعوت اور دعوی کا واحد ہونا بیان کیا ہے۔
محققین کا چوتھا گروہوں دونوں کو ہی باطل پر سمجھتا ہے کسی کو حق پر نہیں سمجھتا انکی دلیل بھی ایسی تمام صحیح روایات ہیں کہ جن میں فتنے کے وقت صحابہ کو بجائے جنگ کرنے کے علیحدہ ہوجانے کا حکم سنایا گیا تھا اور تلوار کو کند کرلینے کا حکم بتلایا گیا تھا۔
نتئجہ
اب حقیقت میں ان چار محققین علماء کے گروہوں کے دلائل سن لینے کے بعد نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس ایسی صحیح روایات ہیں کہ جن میں سے ہر گروہ اگر اپنے موقف پر اصرار کرے تو باقیوں کے موقف کی لازما نفی کرنا پڑے گی۔ حالانکہ ہر ہر فریق کے پاس صحیح روایات ہیں اور کوئی ایسی واضح دلیل نہیں جو کہ ایک طرف کی روایات کو ترجیح دے سکے یا پھر سب کے موقف میں تطبیق پیدا کر سکے۔
سوائے ایک اور پانچویں گروہ کے کہ جسکا کہنا یہ ہے کہ مشاجرات میں صحابہ سب کے سب صحابہ مجتہد تھے۔ لہذا سب کے سب اس لحاظ یعنی مجتہد ہونے کی اہلیت کے اعتبار سے اپنی اپنی جنگوں میں حق پر تھے۔ لیکن اپنے اپنے موقف یعنی جنگ کرتے وقت اپنے دعوی کے حق ہونے کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک خطا پر تھے ۔باقی واللہ اعلم باالصواب
تحریر ابو امامہ از افادات مفتی کامران شاہد