عام انتخابات نتائج کے معانی:
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

عام انتخابات ٢٠٢٤ء/ کے نتائج  کل آ‌ گئے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دونوں کے دونوں الائنس (کانگریس قیادت والا ‘انڈیا’ اور بی جے پی قیادت والا ‘این ڈی اے’) اس پر خوش ہیں۔ ان میں اول الذکر کو ٢٣٤/ سیٹیں ملیں تو آخر الذکر کو ٢٩٢. اس طرح، ان رزلٹس نے ایک بار پھر سے، گودی میڈیا کے فرضی ایگزٹ پولز کی قلعی کھول دی ہے۔

کانگریس تو کل دن بھر آن لائن اور آف لائن ہر جگہ متحرک نظر آئی۔ شام کے وقت پارٹی صدر ملک ارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کی۔ اس دوران کہا کہ یہ عوام کی جیت ہے۔ اور یہ نتیجے آئین پر بی جے پی کے مسلسل حملوں کے خلاف جنتا کے غم و غصے کا اظہار ہے۔ ادھر، دن بھر خاموش رہنے کے بعد، شام ہوتے ہوتے، بھاجپا نے بھی اپنے ہیڈ کوارٹر پر جیت کا جشن منایا۔

بی جے پی جیت کا جشن اس لیے منا رہی کہ گو پارٹی اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ تاہم، اپنی حلیف پارٹیوں کے ساتھ اس نے ٢٧٢/ کے جادوئی ہندسے کو پار کر لیا ہے۔

رہی بات کانگریس کے اعلان فتح کی تو میری سمجھ کے مطابق وہ کئی لحاظ سے ہے: نریند مودی اور بھاجپا جس پارٹی کو نیست و نابود کرنے کی بات بار بار کرتے رہے ہوں، اس کے لیے ٩٩/ سیٹوں پر جیت درج کرنا اپنے آپ میں بڑی بات ہے۔ یہی نہیں، پارٹی نے پچھلے عام انتخابات کے مقابلے اس بار تقریباً دو گنی نشستوں پر جیت درج کی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ راہل گاندھی اس انتخابی مہم کے دوران ریلیوں میں دستور ہند کی ایک کاپی لے کر گھومتے؛ اور عوام سے کہتے تھے کہ بی جے پی اس کو ختم کرنا/ بدلنا چاہ رہی (جیسا کہ اس کے کئی نیتا آن ریکارڈ اس کا اعتراف کرتے بھی پاے گئے)۔ لیکن جب تک وہ زندہ ہیں ہیں، ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ اور ان نتائج نے اس بات پر مہر لگا دی ہے کہ کم سے کم اس بار بھاجپا ایسا نہیں کر پاے گی۔ اس جہت سے یہ کانگریس اور ‘انڈیا’ الائنس کی جیت ہے۔

راقم کی نظر میں ان نتائج کے کئی معانی ہیں:

اس بار انتخابی مہم کے دوران مسلم مخالف بیانات دینے کا اپنا ہی ریکارڈ، نریند مودی نے توڑ دیا۔ ایک طرف انہیں “گھس پیٹھیہ” “زیادہ بچے جننے والے” کہا؛ ان کے حق راے دہی کو “ووٹ جہاد” کا نام دیا اور کیا کیا نہیں کہا، کیسے کیسے بیان نہیں دیے۔ تو دوسری جانب کانگریس پر بار بار یہ الزام بھی لگایا کہ جیتنے کے صورت میں وہ اکثریتی طبقے کی محنت کی کمائی مسلمانوں کے حوالے کر دے گی (گو پوری کوشش تھی کہ جس طرح بھاجپا نے مسلمانوں کو سیاسی طور پر یتیم اور سماجی حیثیت سے اچھوت بنا دیا ہے؛ ملک کی دوسری سب سے بڑی پارٹی بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کرے۔ اف، اتنی نفرت!)۔ اور سب سے زیادہ پریشان کن بات تو یہ تھی کہ وہی مودی جو انتخابی ریلیوں میں اینٹی-مسلم اسٹیٹمینٹ دیتے نہیں تھکتے، انٹرویوز میں یکسر اس سے مکڑ جاتے اور یہاں تک کہتے سنائی دیے: “جس دن وہ ہندو-مسلم کریں گے، عوامی زندگی میں رہنے لائق نہیں رہیں گے۔” مگر، ریلیوں میں جا کر پھر وہی مسلم-مخالف بیانات کا سلسلہ شروع کر دیتے۔

پورے الیکشن کمپین کے دوران جس طرح مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا گیا تھا، اس سے کوئی بھی اندازہ لگا سکتا تھا کہ تیسری بار واضح اکثریت ملنے کے بعد بھاجپا کن منصوبوں پر کام کرتی۔ مگر شکر ہے کہ وہ اس میں ناکام رہی۔ اس لیے اگر بھاجپا اپنی حلیف پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت سازی کر بھی لیتی ہے تو اس کے لیے یونیفارم سول کوڈ، این آر سی اور اس طرح کے دوسرے مسلم-مخالف اور آئین شکن ایجنڈوں کو نافذ کرنا انتہائی دشوار ہوگا۔

راہل گاندھی نے اس الیکشن میں جس جوش و خروش کے ساتھ مقابلہ کیا، واقعی قابل تعریف ہے۔ وہ ایک طرف بے روز گاری، مہنگائی اور نفرت کے خلاف بولتے رہے؛ تو دوسری جانب نوکری اور سماجی انصاف کے اپنے وعدوں کو پورے زور و شور سے عوام کے سامنے پیش کرتے رہے۔ ایک شخص جسے پچھلے دس سالوں سے “پپو” کہہ کر مسلسل ٹرول کیا جاتا رہا، وہ جس انداز سے فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلنے لگے تھے، خوش گوار حیرت ہوتی تھی۔ نوبت یہ ہو گئی تھی کہ وہ مودی پر حملہ آور ہوتے اور وزیر اعظم کو دفاع کرنا پڑتا۔ وہ ایجنڈہ سیٹ کرتے اور مودی جواب دیتے۔

اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی نے جس طرح کی کار کردگی دکھائی، قابل تحسین ہے۔ اور اس کے لیے اکھیلیش یادو کی ستائش بنتی ہے۔ ان نتائج نے پارٹی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔‌اور یہ اگلے اسمبلی انتخاب میں اس کے لیے یقیناً حوصلہ افزائی کا کام کریں گے۔

ان نتائج نے بی جے پی کے ناقابل تسخیر ہونے کے گھمنڈ کو چکنا چور کر دیا ہے اور نریند مودی کے کبر و نخوت سے بھرے “ایک اکیلا” کے نعرے کی بخیہ ادھیڑ کر رکھ دی ہے۔ افتخار عارف کے لفظوں میں کہیں تو:
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں 

اور اس کا اثر کل جشن فتح کے موقع پر، مودی کے چہرے پر بھی محسوس بھی کیا جا سکتا تھا۔ اتنا ہی نہیں، بھاجپا نے کل جو بینر لگایا تھا، اس پر دوسری بھارتی زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی شکریے کے الفاظ لکھے تھے (ورنہ اب تک بی جے پی ہیڈ کوارٹر پر عموماً ہندی اور انگریزی ہی میں پوسٹر/بینر ہوا کرتے تھے۔ اردو تو چھوڑیے، دوسری اور ہندوستانی زبانوں کی بھی گنجائش نہیں ہوتی تھی).

اس لیے اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ یہ رزلٹس اپوزیشن پارٹیوں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو کر ان میں خود اعتمادی کی لہر دوڑا دیں گے۔ اور ایک نئے عزم و حوصلے کے ساتھ انتخابی میدان میں آئندہ اترنے کے لیے ان کی تحریک کا کام کریں گے۔ راقم کو اس کی پوری امید بلکہ یقین ہے۔

حیدر آباد سے مادھوی لتا اور امراوتی سے نونیت رانا کی شکست سے قلبی سکون ملا‌۔ ان دونوں نے انتخابی مہم کے دوران علامتی طور پر مسجد کی طرف تیر اندازی کی تھی۔ اور سب سے بڑھ کر تعجب خیز تو ایودھیا کا رزلٹ رہا۔ جس شہر میں رام مندر کی تعمیر کی آڑ میں بی جے پی یہاں تک پہنچ سکی، اسی حلقے میں اسے زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ کہنا تو جلد بازی ہوگی کہ لوگوں نے صرف نفرت اور محض مذہب کے نام پر ووٹ دینا چھوڑ دیا ہے۔ تاہم ملک کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوے ان نتیجوں سے بڑی خوش گوار حیرت ہوئی۔

ان سب کے بیچ، بہار سے آر جے ڈی کی کارکردگی بڑی افسوس ناک رہی۔ گزشتہ کئی سالوں میں تیجسوی یادو نے اپنی جو شبیہہ بنائی ہے، اس سے اندازہ بلکہ بہت حد تک یقین تھا کہ پارٹی اس بار کچھ بڑا کرے گی۔ مگر ایسا نہیں ہو پایا۔ شاید، سیٹوں کی تقسیم کو لے کر وہاں کے لوگ ‘راجد’ سے ناراض تھے۔ امید ہے کہ یہ نتائج تیجسوی کے لیے چشم کشا ثابت ہوں گے۔ اور وہ آئندہ اس معاملے میں احتیاط سے کام لیں گے۔

اسی طرح دہلی کے نتائج بھی انتہائی مایوس کن رہے۔ حیرت ہوئی کہ عام آدمی پارٹی کی مفت بجلی، اچھی تعلیم اور بہتر علاج کی اسکیمیں کچھ بھی اثر دکھانے میں‌ ناکام رہیں۔ شاید، بد عنوانی کے الزامات اور پارٹی لیڈران کی حالیہ گرفتاریاں، اس میں کار فرما ہیں۔

✍️ #محمدحیدررضا
٥/ جون ٢٠٢٤ء

#GeneralElections2024 #Election2024 #ElectionResults