یہ کائنات خودبخود بنی
یہ کائنات خودبخود بنی ؟
کیا قوانین فطرت خودبخود وجود میں آ گئے ؟
یورپ میں الحاد جدید درحقیقت کسی علمی فکری تحریک کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ کلیسا کے مظالم کے ردعمل میں مذہبی طبقے اور بالآخر خدا سے بغاوت کی ایک تحریک تھی جس کے پس پردہ تمام حدود و قیود سے مکمل طور پر چھٹکارہ حاصل کرنے کی خواہش شامل تھی ۔چونکہ الحاد ایک غیر فطری اور کمزور سہاروں پر کھڑا نظریہ تھا بلکہ حق سے انحراف کرنے کو الحاد کا نام دیا جاتا تھا اس لیے جب ایک مخصوص طبقے نے کلیسا سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اس نظریے کو اپنایا تو اسے عقلی اور فکری بنیادیں فراہم کرنے کے لیے بعض سائنسی نظرہات کا سہارا لیا تاکہ اسے ایک نفسیاتی ردعمل کے بجائے ایک عقلی اور فکری تحریک کے طور پر متعارف کروایا جا سکے اور مذہب عالم ہی کے طرز پر اس کی “تبلیغ” بھی کی جا سکے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کی طرف راغب کیا جا سکے۔
الحاد کی کمزور دیواروں کو سہارا لینے کے لیے جن سائنسی نظریات کو اس کی اساسات کا درجہ دینے کی کوشش کی گئی درحقیقت ان کا الحاد سے دور دراز کا کوئی تعلق نہ تھا بلکہ ان کا تعلق خالصتاََ سائنس سے تھا جو کہ کسی بھی مخصوص طرز فکر کی مؤید نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی مذہب کے خلاف ہوتی ہے۔ بلکہ اس کا دائرہ کار ہی مذہب سے جدا ہوتا ہے۔
سائنس کے ایسے ہی دو نظرہات جن کے ذریعے الحاد کو سائنسی بنیادیں فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے وہ بگ بینگ اور قوانین فطرت کا وجود ہیں۔ سائنس بتاتی ہے کہ کائنات کی ابتداء بگ بینگ کے ذریعے ہوئی یعنی ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک کثیر تعداد میں مادہ ایک دھماکے سے جدا ہوا اور ایک منظم اور مربوط کائنات وجود میں آ گئی اور اس کائنات کو چلانے میں سب سے بڑا ہاتھ قوانین فطرت کا ہے جن کے لگے بندھے اصولوں پر کائنات چل رہی ہے۔
سائنس نے یہ نظریات اس لیے پیش نہیں کیے کہ ان سے خالق کائنات کی نفی کی جا سکے اور نہ ہی خالق کائنات کا اثبات یا اس کی نفی سائنس کے دائرہ کار میں آتی ہے جیسا کہ سائنس دانوں نے خود اس کی تصریح بھی کی ہے۔ لیکن ملاحدہ نے ان نظریات کو اپنے “عقیدے” کے اثبات اور اس کی ترویج کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا ۔ ان نظریات کا اگر الحاد سے کوئی تعلق ہے تو ملحدین پہلے یہ ثابت کریں کہ ان نظریات کے ذریعے سائنسی طور پر وجود خدا کا انکار کیا جا سکتا ہے ؟
جب سائنس دانوں سے بھی یہ سوال کیا جائے کہ بگ بینگ کیوں ہوا ؟ قوانین فطرت کیسے وجود میں آئے ؟ تو وہ بھی اس کا کوئی معقول جواب نہیں دے سکتے۔
جو ملاحدہ ان نظریات کی آڑ لیکر اپنے خودبخود والے “عقیدے” کی ترویج کرتے ہیں ان کے لیے بطور مثال عرض ہے ۔
ایک کیلکولیٹر جس کا کام جمع تفریق ضرب تقسیم وغیرہ کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے بعض مخصوص پرزے ایک خاص ترتیب کے ساتھ جوڑے گئے ہیں ۔ اور ہر حصے پرزے کا اپنا ایک کام ہے ۔ کیا یہ کیلکولیٹر ازخود وجود میں آ گیا ؟ کیا اس کے تمام پرزے ازخود ایک خاص ترتیب میں ایک دوسرے سے جڑ گئے ؟ اور اس قدر منظم انداز میں کہ ہر ایک پرزے نے مطلوبہ کام بھی کرنا شروع کر دیا ؟ اگر ایسا کہا جائے تو کہنے والے کو ہر کوئی خبطی سمجھے گا ۔ ایک عام شخص بھی جانتا ہے کہ کیلکولیٹر کی اس ایجاد کے پیچھے ایک ذہین دماغ موجود ہے ۔ جس نے پوری ذہانت کے ساتھ اسے ایجاد کیا ہے۔
ایک کیلکولیٹر خود نہیں بن سکتا تو اتنی بڑی وسیع و عریض کائنات ازخود کیسے بن سکتی ہے ؟
کیلکولیٹر کے پرزے ازخود ایک خاص ترتیب میں جڑ کر مخصوص کام انجام نہیں سے سکتے تو اس منظم و مربوط کائنات کو چلانے کے لیے قوانین فطرت ازخود کیسے وجود مین آ سکتے ہیں ؟؟؟
پس
ان سائنسی نظریات کا الحاد سے کچھ تعلق نہیں
اور ملحد اگرچہ وہ بہت بڑا سائنس دان ہی کیوں نہ ہو
اس کے ذاتی “عقائد و نظریات” کا بھی سائنس سے کوئی لینا دینا نہیں ۔۔۔!
✍️مُحَمّد إسحٰق قریشي ألسلطاني
#MiQs00786