غامدی صاحب اور ملک بینک
غامدی صاحب اور ملک بینک
ابھی صبح نماز فجر کے بعد غامدی صاحب کا ایک کلپ سُنا جس میں انسانی ملک بینک کے قیام پر وہ اپنی رائے دے رہے تھے
غامدی صاحب کا موقف ہے کہ رضاعت باقاعدہ اہتمام یعنی جانبین کی رضامندی نیز عورت کا بچہ کو رضاعی ماں بننے کی نیت سے چھاتی سے دودھ پلانے سے ہوگی.
ملک بینک میں یہ چیزنہیں پائی جاتی ، اس لئے غامدی صاحب اضطرار کی قید لگاتے ہوئے اسے جائز قرار دیتے ہیں ،
مجھے غامدی صاحب کا یہ موقف انتہائی کمزور لگا
کسی طویل تحریر کے بجائے چند ایک سوال ذہن میں آرہے ہیں
رضاعت کی بنیاد دودھ پلانا ہے اگر ایک عورت ایک بچے کو گود لیتی ہے مگر دودھ نہیں پلاتی تو کیا یہ رضاعت کہلائی گی ؟؟
نہیں ۔۔۔ کیونکہ رضاعت کی بنیاد دودھ پلانا ہے حالانکہ یہاں جانبین کی طرف سے اہتمام تو ہوا مگر دودھ نہیں پلایا گیا
تو پھر صحیح مسئلہ یہ ہی کہ دودھ کسی بھی طریقہ سے پلایا جائے تو رضاعت قائم ہو جائے گی، جیساکہ
ابن نجیم لکھتے ہیں:
«إنَّ الْوَجُورَ، وَالسَّعُوطَ تَثْبُتُ بِهِ الْحُرْمَةُ اتِّفَاقًا». [البحر الرائق 3/ 246]
’وجور اور سعوط دونوں سے بالاتفاق حرمتِ رضاعت ثابت ہو جاتی ہے‘۔
وجور کا مطلب ہے دودھ نکال کر کسی برتن کے ذریعے منہ کی طرف سے دودھ پلانا اور سعوط کا مطلب ہے کہ ناک کے ذریعے دودھ ڈالنا۔
[بغية المقتصد شرح بداية المجتهد 10/ 5931]
نیز حضرت سالم کی مندرجہ ذیل روایت
عن عائشة رضي الله عنها أن سالما مولى أبي حذيفة كان مع أبي حذيفة وأهله في بيتهم، فأتت -تعني ابنة سُهيل- النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: إن سالما قد بلغ ما يبلغ الرجال. وعَقَل ما عقلوا. وإنه يدخل علينا. وإني أظن أن في نفس أبي حذيفة من ذلك شيئا. فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم «أَرْضِعِيهِ، تَحْرُمِي عليه، ويذهب الذي في نفس أبي حذيفة» فرجعت فقالت: إني قد أرضعته. فذهب الذي في نفس أبي حذيفة.
[رواه مسلم]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں کہ سالم جو کہ حضرت ابو حذیفہ کے غلام تھے ، ابو حذیفہ کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے اور سہل کی بیٹی ( سہلہ )رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ سالم حدِّ بلوغ کو پہنچ گیا ہے اور مردوں کی باتیں سمجھنے لگا اور وہ ہمارے گھر میں آتا ہے اور میں خیال کرتی ہوں کہ ابو حذیفہ کے دل میں اس سے کراہت ہے ، چنانچہ ان سے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم سالم کو دودھ پلا دو ، تم اس کے اوپر حرام ہو جاؤ گی اور وہ کراہت جو ابو حذیفہ کے دل میں ہے ختم ہو جائے گی، پھر وہ لوٹ کر نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہا کہ انہوں نے اسے دودھ پلا دیا ، چنانچہ ابو حذیفہ کے دل میں جو بات تھی وہ ختم ہو گئی۔
حافظ ابن سعد ، حافظ ابن حجر عسقلانی ، قاضی عیاض وضاحت کرتے ہیں کہ حضرت سہلہ نے ایک برتن میں دودھ نکال کر سالم کو پلایا
جب آپ کے پاس ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے معاملہ میں حضرت سالم کی حسن صحیح روایت موجود ہے
اور اس کی بنیاد پر ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بڑی عمر میں بھی کسی عورت کا دودھ پینے پر رضاعت کا فتوی دیا کرتی تھیں اور اسی پر ابن تیمیہ و شوکانی وغیرہ کا موقف ہے
جبکہ صحابہ کرام و جمہور فقہاء حرمت رضاعت کی مدت کو قرآن کی رو سے دو سال پر محمول کرتے ہیں اور حضرت سالم کے واقعہ کو اُن کا خاصہ شمار کرتے ہیں
تو اندازہ ہوجانا چاہئیے کہ رضاعت کے معاملہ کی کیا حساسیت ہے
نیز سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کا بھی قول ہے کہ
لاَ رَضَاعَ إِلاَّ مَا شَدَّ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ
رضاعت نہیں ہے مگر جو ہڈیوں کو مضبوط کرے اور گوشت کو بڑھائے
تو جب دو سے ڈھائی سال کی عمر میں جب بچہ کی غذا کا انحصار صرف ماں کے دودھ پر ہوتا ہے
اور وہی اُس کی ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے اور گوشت کو بڑھاتا ہے تو اب وہ دودھ براہ راست بچہ چھاتیوں سے پئے یا ملک بینک سے لے کر پئے حرمت ثابت ہونی چاہئیے .
لہذا جب معاملہ حرمت کا ہے تو احتیاط اشد ضروری ہے
اسے “ باقاعدہ اہتمام “ جیسی خود ساختہ تعبیرات کے سائے میں جواز فراہم نہیں کرنا چاہئیے
محمد حسن رضا خان
ڈلاس ، امریکہ