مشہور روایت ”من كنت مولاه فعلي مولاه” سے کیا خلافت مراد ہے ؟
مشہور روایت ”من كنت مولاه فعلي مولاه” سے کیا خلافت مراد ہے ؟
امام حسن المثنی کے بیٹے ، امام حسن بن حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب ھاشمی مدنی علیہ الرحمہ کی گواہی!!!
امام بیھقی ایک روایت اپنی سند صحیح سے لاتے ہیں :
أخبرنا يحيى بن إبراهيم بن محمد بن علي , أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب قال: ثنا محمد بن عبد الوهاب , أنا جعفر بن عون , أنا فضيل بن مرزوق، قال: سمعت الحسن بن الحسن، وسأله، رجل، ألم يقل رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من كنت مولاه فعلي مولاه» ، قال لي: بلى والله لو يعني بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم الإمارة والسلطان لأفصح لهم بذلك، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان أنصح للمسلمين، فقال: «يا أيها الناس، هذا ولي أمركم والقائم عليكم من بعدي فاسمعوا له وأطيعوا والله لئن كان الله ورسوله اختار عليا لهذا الأمر وجعله القائم به للمسلمين من بعده ثم ترك علي ما أمر الله ورسوله لكان علي أول من ترك أمر الله ورسوله»
امام فضیل بن مرزوق بیان کرتے ہیں میں نے امام حسنؒ بن حسنؓ بن حسنؓ بن علیؓ بن ابو طالب کو کہتے سنا:
اور ان سے سوال کیا ایسے شخص کے بارے جو کہتا ہے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا؟: “جسکا میں مولا ہوں علیؓ بھی انکے مولا ہیں”
تو انہوں نے کہا: ” بے شک، اور اللہ کی قسم، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے خلافت اور حاکم (سلطان)کی بات کی ہوتی تو وہ اس کو لوگوں کو واضح طور پر بتا دیتے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے لئے بہت فصیح تھے”۔ انہوں (امام حسن)نے فرمایا(حضور اکرمﷺ یوں فرماتے): “اے لوگو، یہ تمہارا قائد اور میرا جانشین ہے، سو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔ وہی کچھ ہوگا کہ اگر اللہ اور اس کے رسول نے حضرت علیؓ کو اس امر کے لئے منتخب کیا اور مسلمانوں کے لئے اس کو قائم کیا تھا،
پھر اگر وہ(لوگ) حضرت علیؓ کو چھوڑ دیتے اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی ہدایات کو نظر انداز کرتے، تو (خود) حضرت علیؓ پہلے ہوتے جو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو چھوڑتے
[الاعتقاد ، ص 355،وسندہ صحیح]
۔
(یعنی کہ اللہ و رسولﷺ نے انکو خلیفہ بناتے اور جانشین مقرر کرتے اور حضرت علی ؓ اپنا یہ حق بغیر جدو جہد کے چھوڑ دیتے جو کہ اللہ و رسولﷺ کی طرف سے تھا تو یوں خود مولا علیؓ پہلے ہوتے جو اللہ و رسولﷺ کے حکم کی نا فرمانی کرنے والے ہوتے بقول امام حسن۔ معاذاللہ)
امام حسن بن حسن بن حسن بن ابی طالب ھاشمی مدنی جو اہل بیت کی نسل سے ہیں
انکے والد کو امام حسن المثنی بھی کہا جاتا ہے یعنی امام حسن مثنیؓ امام حسنؓ کے والد تھے اور انکی شادی امام حسین ؓ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ سے ہوئی تھی ۔ تو معلوم ہوا کہ امام حسن بن حسن بن حسن کے والد امام حسنؓ کے بیٹے اور انکی والدہ امام حسینؓ کی بیٹی ہیں۔
جیسا کہ امام ابن حبان فرماتے ہیں :
الحسن بن الحسن بن الحسن بن علي بن أبي طالب رضي الله عنهم يروي عن أبيه روى عنه أهل بلده أمه فاطمة بنت الحسين بن علي مات في الحبس
امام حسن بن حسن بن حسن بن علی بن ابو طالب یہ اپنے والد سےروایت کرتے تھے اور اہل علاقہ سے انکی والدہ حضرت فاطمہؓ جو امام حسینؓ بن علیؓ کی بیٹی تھیں ۔
[الثقات ابن حبان برقم: 7153]
ایسے ہی امام ابن سعد الطبقات میں بیان کیا ہے
امام ذھبی تذھیب میں فرماتے ہیں :
الحسن بن الحسن بن الحسن بن علي بن أبي طالبالهاشمي المدني، وأمه فاطمة ابنة الحسين بن علي، وله أخوان: عبد الله وإبراهيم.
روى عن: والديه.وعنه: فضيل بن مرزوق، وعبيد بن وسيم الجمال، وعمر بن شبيب المُسلي.
امام حسن جو کہ امام حسن بن حسنؓ بن علیؓ ہیں (امام علی کے پڑپوتےہیں ) یہ مدنی ھاشمی خاندان کے ہیں اور انکی والدہ حضرت فاطمہؓ ہیں جو کہ امام حسینؓ بن علیؓ کی بیٹی ہیں ۔ اور ان (امام حسن ) کے دو بھائی تھے ایک عبداللہ اور دوسرا ابراہیم
یہ اپنی والدہ حضرت فاطمہ ؓبنت حسینؓ سے روایت کرتے تھے ، اور ان سے فضیل بن مرزوق اور دیگر روایت کرتے ہیں
[تذهيب تهذيب الكمال ]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معلوم ہوا کہ اہل بیت کے گھرانے سے تعلق رکھنے علماء اہل بیت جنہوں نے سینہ با سینہ علم اپنے والدین سے سیکھا انہوں نے بھی گواہی دی ہے کہ نبی کریم کا حضرت علی کو “مولا” کہنا حضرت علی کو خلیفہ یا انکی بطور سلطان اتباع کا حکم نہیں تھا۔
اگر حقیقی طور اس لفظ سے مراد خلافت ہوتی تو حضرت علی کبھی حکم نبی کو نظر انداز نہ کرتے اور بقول مخالفین حضرت علی نے کسی حکمت کے سبب نبی کریم کے اس حکم کے باوجود خلفاء ثلاثہ کی بیعت کر لی تھی توبقول امام حسن بن حسن رضی اللہ حضرت علی خود (معاذ اللہ) نبی کریم کی حکم کی نافرمانی کرنے والے ثابت ہو جاتے جو کہ محال ہے!
اسکا مطلب اہلسنت نے واقعی صحیح منہج اور روایت کے پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اس روایت کے تحت “مولا” کا معنی دوست صحیح اخذ کیا ہے۔
اور یہی امام شافعی نے اس روایت سے استلال کیا ہے کہ فرمان رسول “مولا” سے مراد اسلامی بھائی چارہ ہے۔
یہ موقف حضرت علی کی شخصیت کے مطابق بھی عین صحیح ہے کہ وہ حضرت علی جو خود خلافت کا اعلان کرکے اس کی رٹ قائم کرنے کے لیے اپنے باغیوں سے جنگ کی۔
وہ حضور کے فرمان و حکم اور منصوص خلافت پر خاموشی سے کیسے خلفاء ثلاثہ کی بیعت کر لی؟؟؟
زرہ نہیں پورا سوچیں!!!
تحقیق: دعا گو اسد الطحاوی