واقعہ حرہ اسناد کی روشنی میں
واقعہ حرہ اسناد کی روشنی میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : صاحبزادہ رحمان ضیاء قادری زید شرفہ
جمع و ترتیب : محمد قاسم چشتی نظامی غفرلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واقعہ حرہ کی اسناد پر حضرت صاحبزادہ رحمان ضیاء قادری کی راۓ
(محترم میثم عباس قادری رضوی کی ایک پوسٹ پر صاحبزادہ رحمان ضیاء قادری کے بہترین علمی اور تحقیقی آراء جو کمنٹس کی صورت میں تھی ۔انکو ترتیب دے کر ہم نے مستقل تحریر کی شکل دے دی ہے ۔ تاکہ افادہ عام ہو
اللّه پاک Sahibzada Rehman Zia Qadri کو جزاۓ خیر عطاء فرماۓ ۔کہ آپ نے میرے درد دل کو محسوس کیا ہے ۔ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہئے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واقعہ حرہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں کہ اسے اسی حیثیت سے دیکھا جائے اور بیان کیا جائے.
جہاں اسکے ساتھ یزید پلید کے اعمالِ بد جڑے ہیں وہاں
عفت مآب صحابیات اور انکی اولادوں کی عزت و ناموس کا معاملہ بھی جڑا ہوا ہے.
آج کے اس گئے گزرے دور میں غیرت کے نام پر قتل ہوجاتے ہیں تو خیرالقرون کے لوگوں کی غیرت و حمیت کا آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں.
واللہ اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا تو صحابہ کرام و تابعین رضی اللہ عنہم قیامت برپا کر دیتے حرم و تقدیس مسجد نبوی شریف کی حفاظت کے لیے بھی اور اپنی غیرت کی حفاظت کے لیے بھی.
اس لیے محض بڑے ائمہ کرام رحمہم اللہ کے نقل کردینے کو ہی بنیاد نہ بنانا چاہیے بلکہ سنداً ، متناً و درایتاً بھی ایسے واقعات کو پرکھنا چاہئے
علامہ فیض احمد اویسی نے بھی اس واقعہ کی تردید کی ہے ۔ اللّه ہمارے ائمہ کرام کی مغفرت فرمائے ‘ ہمارے علماء نے عدم توجہ یا کسی مفسر پر اعتماد کرکے اسکو نقل کیا بھی ہے ۔۔۔۔ تو یہ اسکے صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہے !
جیسے ہمارے بڑے بڑے علماء کرام نے امام مسلم بن عقیل رضی الله عنہ کے بچوں کا کربلا والا واقعہ نقل کر دیا جبکہ اسکی اصل ہی نہیں ہے ۔جھوٹا اور من گھڑت واقعہ ہے
پہلے دور میں اتنی جدت نہیں تھی کہ کتب باآسانی دستیاب ہوں پریس ہوں تو رسائی مشکل تھی جیسے جیسے جدت آئی بہت سے واقعات کی اصل و سند ہی من گھڑت یا جعلی یا روافض کی گھڑی ہوئی نکلیں ۔۔۔۔۔
اس واقعہ کو اعلی حضرت نے بھی نقل کیا ہے فتاویٰ رضویہ میں شاہ عبد الحق محدث دہلوی یا امام قرطبی کے حوالے سے غالبا جبکہ شاہ محدث دہلوی نے امام قرطبی سے نقل کیا اور امام قرطبی نے ابن حزم ظاہری سے بعینہ نقل کر دیا ۔۔۔۔
پھر اس واقعہ کو عقلا بھی دیکھیں تو عقل رد کرے گی ۔۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے جو اصحاب رسول رسولِ اللہ کے خچر کے پیشاب کی توہین برداشت نہ کریں انکے سامنے مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے جائیں وہ ہیشاب و لید کریں۔ایمان گوارہ نہیں کرتا کہ کیسے ممکن ہے ۔۔!
کہ مدینہ میں تو آل رسول کی اولادیں تھیں یا اصحابِ رسول کی اولادیں ۔۔۔
۔ ہوں رسول اللہ کی شہزادیاں یا اصحابِ رسول کی شہزادیاں ایک ہزار کے قریب جنکو یزید کی فوج جبری زنا کرکے 3 دن میں حاملہ کرے ۔۔۔۔ نعوذباللہ تعالیٰ ۔۔ کیسے ممکن ہے اصحابِ رسول و تابعین چیڑ پھاڑ کر رکھ دیتے ۔۔۔
تو یہ بات بہت دور تک جاتی ہے توہین ہے آل و اصحابِ کی ۔۔۔۔۔۔
پھر ایہ تطہیر کا کیا کریں گے؟؟
پھر جو آل و اصحاب رسول یا تابعین موجود ہے وہ اپنی عزت بچانے کیلئے لڑے کیوں نہ ؟؟
سب دیکھتے رہے کیا ۔۔۔ ؟؟
جن سے امت نے غیرت کا درس لیا ہے
وہ کیسے اس عمل پر خاموش رہ سکتے ہیں ۔۔۔۔
پھر 9 سو سال کا دور ہے کسی نے بھی اسکو نقل نہیں کیا ابن حزم ظاہری پہلا لکھاری ہے اسکو نقل کرنے والا باقی سب نے اس سے چھاپہ مارا ہے
اور ہمارے علماء عدم توجہ یا کسی بڑے کی کتب سے اعتماد کرتے ہوئے نقل کرتے چلے گے ۔۔۔۔۔۔
اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ ایسا جھوٹ ہے کہ سن سن کر سچ سے زیادہ سچا لگتا ہے ۔۔۔۔۔
یزید پلید کی اور بہت سے بدبختیاں ہیں ۔۔۔
اسکو رگڑنے کیلئے ہم نا سمجھی میں آل و اصحابِ کی توہین کر جائیں ۔۔۔ تو یہ ہماری بدبختی ہے ۔۔۔۔
یاد رکھیں دین کی اصل سند سے ہے گر سند نہیں تو کوئی بھی جو چاہے بیان کرے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واقعہ حرہ کی اسناد اور انکی حیثیت
۔۔۔۔۔۔۔۔
مغيرة بن مقسم الضبى کی روایت
امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا :
أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أخبرنا عبد الله بن جعفر حدثنا يعقوب بن سفيان حدثنا يوسف بن موسى حدثنا جرير عن مغيرة قال أنهب مسرف بن عقبة المدينة ثلاثة أيام فزعم المغيرة أنه افتض فيها ألف عذراء
مغيرة بن مقسم الضبى سے منقول ہے کہ مسلم بن عقبہ نے تین دن تک مدینہ میں لوٹ مار کیا اور مغيرة بن مقسم الضبى کا گمان ہے کہ اس نے مدینہ میں ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی۔[دلائل النبوة للبيهقى : 6/ 475 ومن ھذا الطریق اخرجہ ابن عساکر فی تاريخ دمشق : 58/ 108]۔
یہ روایت کئی وجوہ باطل ومردودہے۔
اولا:
مغيرة بن مقسم الضبى نے اپنا ماخذ نہیں بتایا ہے ان کی وفات 136 میں ہوئی ہے کبار تابعین سے ان کی ملاقات ثابت نہیں ہے لہٰذا انہیں واقعہ حرہ کا دور ملا ہی نہیں۔
ثانیا:
مغيرة بن مقسم الضبى تیسرے طبقہ کے مدلس ہیں دیکھئے [طبقات المدلسين لابن حجر ت القريوتي: ص: 46]۔اورانہوں نے اس روایت میں سماع کی صراحت تو دور کی بات اپنے استاذ کا نام بھی نہیں بتایا ہے۔
قارئین غور کریں کہ اس روایت میں ایک نہیں ایک ہزار لڑکیوں کی عصمت دری کا ذکر ہے۔ذراغور کریں کیا خیرالقرون کی اسلامی فوج کا یہی حال تھا ؟؟؟
اورجھوٹ اور تہمت کا سلسلہ یہیں پر بند نہیں ہوجاتا بلکہ کذابوں تہمت پرستوں نے ان ہزاروں لڑکیوں میں سے ہرلڑکی سے بچے بھی پیدا کردئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
مصعب بن عبداللہ الزبیری کی روایت
حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852) نے کہا:
قال الزبير بن بكار حدثني عمي قال كان بن مطيع من رجال قريش شجاعة ونجدة وجلدا فلما انهزم أهل الحرة قتل عبد الله بن طلحة وفر عبد الله بن مطيع فنجا حتى توارى في بيت امرأة من حيث لا يشعر به أحد فلما هجم أهل الشام على المدينة في بيوتهم ونهبوهم دخل رجل من أهل الشام دار المرأة التي توارى فيها بن مطيع فرأى المرأة فاعجبته فواثبها فامتنعت منه فصرعها فاطلع بن مطيع على ذلك فدخل فخلصها منه وقتل الشامي
مصعب بن عبداللہ زبیری کہتے ہیں کہ ابن مطیع قریش کے بہادر لوگوں میں سے تھے ، جب اہل حرہ کو شکست ہوئی اور عبداللہ بن طلحہ قتل ہوئے تو ابن مطیع نے فرار ہو کراپنی جان بچائی اور ایک عورت کے گھر میں اس طرح چھپ گئے کہ کسی کو اس کی خبر تک نہ ہو ۔پھر جب اہل شام نے مدینہ پر لوگوں کے گھروں میں حملہ کیا اور انہیں لوٹا تو ایک شامی شخص اس عورت کے گھر میں داخل ہوا جس میں ابن مطیع چھپے ہوئے تھے ، جب اس شخص نے اس عورت کو دیکھا تو وہ اس کو پسندآگئی پھر یہ اس عورت پر ٹوٹ پڑا ، اس عورت نے اپنا بچاؤ کیا لیکن اس شخص نے اسے مات دے دی ، ابن مطیع نے یہ سب دیکھا تو اندر داخل ہوئے اور اس عورت کو اس شخص سے بچایا اوراس شامی شخص کوقتل کردیا [الإصابة لابن حجر: 5/ 26]۔
یہ روایت باطل ومردودہے۔
زبیربن بکار کے چچا مصعب بن عبداللہ الزبیری 236 ھ میں فوت ہوئے اورحرہ کا واقعہ سن 63 ہجری کا ہے ۔ یعنی انہیں واقعہ حرہ کا زمانہ ملا ہی نہیں ، لہٰذا بےسند اوربے حوالہ ہونے کی وجہ سے یہ بات باطل ہے۔
اس روایت کے کذاب ہونے کی ایک زبردست دلیل یہ بھی ہے کہ ابن مطیع اہل شام کے سخت خلاف ہونے کے باوجود بھی خود انہوں نے اہل شام کے اس کردار سے کسی کو آگاہ نہیں کیا اور اس میں ذرہ برابر بھی سچائی ہوتی تو ابن مطیع کو یہ واقعہ آگ کی طرح پھیلا دینا چائے تھا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ثابت ہوا کہ یہ من گھڑت بات اور سراپا بکواس ہے۔
اس روایت میں کذابوں نے صرف عزت لوٹنے کی کوشش دکھلائی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
ام ہیثم بنت یزید (مجہولہ) کی روایت
امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597) نے کہا:
أخبرنا محمد بن ناصر، قال: أخبرنا المبارك بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّد بن عبد الواحد، قَالَ: أَخْبَرَنَا أبو بكر أحمد بْن إبراهيم بن شاذان، قال:أخبرنا أحمد بن محمد بن شيبة البزاز، قال: أخبرنا أحمد بن الحارث الخزاز، قال:حدثنا أبو الحسن المدائني، عن أبي عبد الرحمن القرشي، عن خالد الكندي، عن عمته أم الهيثم بنت يزيد، قالت:رأيت امرأة من قريش تطوف، فعرض لها أسود، فعانقته وقبلته، فقلت: يا أمة الله، أتفعلين هذا بهذا الأسود، قالت: هو ابني وقع علي أبوه يوم الحرة، فولدت هذا.
ام ہیثم بنت یزید سے روایت ہے کہ میں نے قریش کی ایک عورت کو طواف کرتے ہوئے دیکھا اتنے میں اس کے سامنے ایک کالا شخص آیا تو اس نے اسے گلے لگالیا اور اسے بوسہ دیا ۔ تو میں نے کہا : اللہ کی بندی ! تو اس کالے کے ساتھ ایسا کررہی ہے ؟ تو اس نے جواب دیا : یہ میرا بیٹا ہے اس کے باپ نے حرہ کے دن میری عصمت دری کی تھی جس کے بعد میں نے اسے جنا۔[المنتظم لابن الجوزي: 6/ 15، الرد على المتعصب العنيد المانع من ذم يزيد لابن الجوزي ص: 67]۔
یہ روایت بھی باطل ہے ام ہیثم مجہولہ ہے اور خالد کندی کا بھی کوئی اتا پتا نہیں ملتا۔
اس پراز خرافات روایت میں تو صرف ایک عورت کی عزت لوٹنے کی بات ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
ہشام بن حسان کی روایت
عن المدائني، عن أبي قرة، قال: قال هشام بن حسان : ولدت ألف امرأة بعد الحرة من غير زوج
ہشام بن حسان سے روایت ہے کہ حرہ کے بعد ہزاروں عورتوں نے بغیرشوہر کے بچے جنے[المنتظم لابن الجوزي: 6/ 15، الرد على المتعصب العنيد المانع من ذم يزيد لابن الجوزي ص: 67]
یہ روایت بھی باطل ومردود ہے کیونکہ اسے بیان کرنے والے ہشام بن حسان بصری کی وفات 148 ہجری ہے یہ صغار تابعین کے دور کے ہیں اور حرہ کا زمانہ انہوں نے نہیں پایا اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ لہذا یہ بے حوالہ بات مردود وباطل ہے۔
قارئین غور کرین کتنی عجیب بات ہے کہ کوئی کہتا ہے: واقعہ حرہ میں ایک ہزار لڑکیوں کی عصمت دری کی گئی اور کوئی ان میں سے ہر ایک لڑکی سے بچے بھی پیدا کروا رہاہے ۔
اور پھر یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ
آیات تطھیر کس کھاتے میں جاۓ گی۔؟
گر یہ جھوٹے منگھڑت واقعات مان لیئے جاۓ
یہاں مسئلہ یہ ہے یہ کئ عرصے سے چلی آ رہی ہیں اب اگر کسی کو تحقیق کے بعد بتایا جاۓ تو وہ
ایموشنل بلیک میلنگ شروع کر دیتے ہیں ۔
مطالعہ کرتے نہیں ہیں۔ بس جسکو سنا اس سے سن کر آگے بیان کر دیا۔۔۔
اللّه پاک ہمیں دین اسلام کو سیکھنے کا جذبہ عطاء فرماۓ
حق و باطل میں امتیاز پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمین بجا النبی الآمین علیہ افضل الصلوات والتسلیم