حضرت امیر معاویہ اور دور حاضر کے سادات
حضرت امیر معاویہ اور دور حاضر کے سادات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : علامہ معراج علی مرکزی زیدہ شرفھم
17 اگست 2024ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امام ابو القاسم اسماعیل بن محمد اصبہانی (متوفی٥٣٥ھ) “نظریۂ اہل سنت” بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
نشهد أن معاوية رضي الله عنه من أهل الجنة.
(الحجة في بيان المحجة وشرح عقيدة أهل السنة ، فصل: بيان عقيدة أهل السنة ، ج ٢ ، ص ٢٦٥ ، دار الرایۃ ، الریاض)
ترجمہ: ہم گواہی دیتے ہیں کہ (حضرت) معاویہ (رضی اللہ عنہ) جنتی ہیں۔
اللہ رب العزت ان سادات کرام کو ہدایت عطا فرمائے جو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ اصلی سید تبھی ہوں گے جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کریں ، اے سادات کرام! کیا حضرت غوث اعظم ، حضرت سید احمد کبیر رفاعی ، تارک السلطنت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی ، سید ابو الحسین احمد نوری مارہری ، سید یوسف بن اسماعیل نبہانی سید نہ تھے ؟ یقینا سید تھے مگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ان کی تعلیمات کا جائزہ لیں اور اپنے احوال پر غور کریں۔
حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ عنہ اپنی اولاد کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ذبوا عن أعراض الصحابة قاطبة ، وعليكم بمحبتهم ومدحهم ، فإن هؤلاء القوم قد عفا الحق سبحانه عنهم ، ولايؤاخذهم بما جري بينهم وإنهم يتواهبون ويدخلون الجنة.
(قلائد الزبرجد علی حکم مولانا الغوث الرفاعی أحمد ، ص ٢٧١ ، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت)
ترجمہ: تمام صحابہ کی عزتوں کا دفاع کرو ،تم پر ان کی محبت و ستائش لازم ہے ، کیوں کہ وہ ایسی جماعت ہے جن کے معاملات سے اللہ رب العزت نے درگزر فرمایا اور ان کے درمیان جو شکر رنجیاں ہوئیں ان پر مواخذہ نہ فرمائے گا وہ ایک دوسرے کو ہدیہ پیش کریں گے اور جنت میں داخل ہوں گے۔
سید یوسف بن اسماعیل نبہانی قدس سرہ نے سادات کرام کی شان میں پوری کتاب “الشرف المؤبد” تحریر فرمائی ہے ، مگر آپ اس کے خاتمے میں فرماتے ہیں:
ان محبة آل البيت لاتجدي نفعا إذا خالطها بغض أحد من أصحاب رسول الله صلي الله عليه وسلم.
(الشرف المؤبد لآل محمد ، ص ٧ ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ)
ترجمہ : کسی ایک بھی صحابی رسول کے بُغض کے ہوتے ہوئے اہل بیت کی محبت کوئی نفع نہیں دے گی۔
لہذا خدا کے واسطے اپنے دل کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی کدورت سے صاف کریں! ورنہ آپ لائق احترام نہیں رہیں گے اور “خسر الدنیا والآخرۃ” کے مصداق ٹھہریں گے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی شافعی (متوفی ٨٥٢ھ) فرماتے ہیں:
من لم يحب الصحابة فليس بثقة ، ولا كرامة.
(تھذیب التھذیب ، حرف الالف ، من اسمہ اسحاق ، ج ١ ، ص ١٢١ ، مؤسسۃ الرسالۃ ، بیروت)
ترجمہ: جس کے دل میں صحابہ کی محبت نہ ہو وہ لائق اعتماد نہیں ، اور نہ عزت و احترام کے لائق ہے۔
امام احمد بن حنبل قدس سرہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا تھا:
رضي الله عنه وأماتنا علي محبته۔
(شذرات الذهب ، ج ١ ، ص ٢٧٠ ، دار ابن کثیر ، بیروت)
ترجمہ: اللہ تعالی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے راضی ہو اور ہمیں ان کی محبت میں موت عطا فرمائے۔
ہم بھی یہی دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں تمام صحابہ بالخصوص حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) اور تمام اہل بیت کی محبت میں موت عطا فرمائے۔ آمین