تفضیلیوں کا شیخ اسلام طاہر قادری کی خیانتیں
ازقلم: اسد الطحاوی

کچھ دن پہلے ہم ایک موصوف بنام “‎عبدالله بن طالب الحسيني” کی ایک پوسٹ فیسبک پر پڑھنے کو ملی۔ جس میں ائمہ اہلسنت کی طرف منسوب کچھ عبارتیں تھیں جس میں حضرت معاویہؓ کو ظالم قرار دیا گیا ۔
جبکہ وہ تمام دلائل جو پوسٹ میں تھے وہ طاہر القاردی بدعتی کی ویب سائٹ سے کاپی کیے ہوئےتھے۔ بنام حقیقت مشاجرات صحابہ تصنیف کے نام سے ۔
جب یہ خیانتیں ساری طاہر قادری کی ویب سائٹ پر اسکی تصنیف میں موجود ہے تو بجائے فسیبک پر کاپی کرنے والے کے ہم نے سوچا کہ اس پر رد تو اصل میں طاہر قادری دھوکہ باز پر بنتا ہے

نوٹ: تفضیلوں اور ایرانی مال کھانے والوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ حضرت معاویہؓ پر کسی نہ کسی امام سے “ظالم” کا لفظ ثابت کریں جس سے فاسق ثابت کرنے کی راہ ہمووار ہو ۔
لیکن اس لفظ “ظالم” پر بھی آخر میں بحث کرینگے ۔

سب سے پہلے ان ائمہ کرام کے حوالاجات کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں ‎۔

طاہر قادری ایک حوالہ امام عبدالقادر الجرجانی کی مفقود کتاب الامامہ کے حوالے سے نقل کرتا ہے :
امام اہلسنت امام عبدالقادر الجرجانی اپنی کتاب الإمامة‘‘ میں فرماتے ہیں
أَجْمَعَ فُقَهَاءُ الْحِجَازِ والْعراق مِنْ فَرِيْقَيِ الْحَدِيْثِ وَالرَّاْيِ مِنْهُمْ: مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَبُوْ حَنِيْفَةَ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَالْجَمْهُوْرُ الأَعْظَمُ مِنَ الْمُتَكَلِّمِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْنَ أَنَّ عَلِيًّا مُصِيْبٌ فِي قِتَالِهِ لِأَهْلِ صِفِّيْنَ كَمَا هُوَ مُصِيْبٌ فِي أَهْلِ الْجَمَلِ، وَأَنَّ الَّذِيْنَ قَاتَلُوْهُ بُغَاةٌ ظَالِمُوْنَ لَهُ لَكِنْ لَا يُكَفَّرُوْنَ بِبَغْيِهِمْ، وَقَالُوْا أَيْضًا: بِأَنَّ الَّذِيْنَ قَاتَلُوْهُ بُغَاةٌ ظَالِمُونَ لَهُ لَـكِنْ لَا يَجُوْزُ تَكْفِيْرُهُمْ بِبَغْيِهِمْ
فقہائے اسلام نے فرمایا ہے ملک حجاز اور عراق کے محدثین اور فقہاء کرام کی دونوں طرف کی جماعتیں جن میں امام مالک، امام شافعی، امام ابو حنیفہ، امام اوزاعی اور متکلمین رضی اللہ عنہم اور جمیع مسلمین کے جمہورِ اعظم کا اجماع ہے کہ سیدنا علی اہلِ صفین “”گروہِ معاویہ”” کے خلاف جنگ میں حق پر تھے، جیسا کہ آپ رضی اللہ عنہ اہلِ جَمل کے ساتھ قتال میں حق پر تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کی وہ باغی اور ظالم تھے، لیکن اُن کو کافر کہنا صحیح نہیں ہے۔
القرطبي في التذكرة، 2/626،
والمناوي في فيض القدير، 6/366

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب اسد الطحاوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چونکہ حوالاجات میں امام کی کتاب کا حوالہ نہیں دیا گیا کیونکہ کتاب مفقود ہے لیکن اس کتاب کا حوالہ امام مناوی کی فیض القدیر اور امام قرطبی کی کتاب تذکرہ کے حوالے سے دیا گیا ہے ۔

جبکہ امام قرطبی اور امام مناوی کے پاس بھی امام عبد القادر جرجانی کی یہ مفقود کتاب موجود نہیں تھی ۔ بلکہ انہوں نے یہ حوالہ ابو الخطاب ابن دحیہ کلبی سے نقل کیے تھے انکی تصنیف سے ۔

امام قرطبی کا ابن دحیہ سے نقل کرنے کا ثبوت :
امام قرطبی اس عبارت کو نقل کرنے سے پہلے کہتے ہیں:
قال الحافظ ابن دحية: قوله: الخ۔۔۔۔
اسکے بعد مذکورہ عبارت جو حضرت معاویہ کو ظالم کہنے کے حوالے سے اہلسنت کے تمام ائمہ محدثین کا اجماع نقل کیا گیا ہے امام جرجانی کی کتاب سے ۔
اسکے بعد دیگر ائمہ کے اقوالات سب پیش کرنے کے بعد امام قرطبی آخر میں لکھتے ہیں :
قاله الإمام الحافظ أبو الخطاب بن دحية.
اور پھر اس باب کا اختتام کرتے ہیں۔
[التذكرة، ص ۱۰۹۰]

امام مناوی سے ثبوت :
امام مناوی جب امام عبد القادر جرجانی کا قول نقل کرتے ہیں مذکورہ تو اس سے پہلے تصریح کرتے ہیں :
أخرجه قال ابن دحية: وهذا من علي إلزام مفحم لا جواب عنه وحجة لا اعتراض عليها وقال الإمام عبد القاهر الجرجاني في كتاب الإمامة۔۔۔۔الخ
[فيض القدير، ج۶، ص۳۶۵]

تو معلوم ہوا کہ امام عبد القادر جرجانی کے حوالے سے تمام ائمہ مجتہدین اہلسنت کے حوالے سے حضرت معاویہؓ کو باغی کے ساتھ ظالم کہنے کے حوالے سے اجماع کا دعویٰ نقل کرنے والے ابن دحیہ ابو خطاب ہے ۔ اور اس سے ان دونوں آئمہ نے نقل کیا ہے ۔ جبکہ طاہر قادری نے ان دونوں ائمہ سے ابن دحیہ کلبی سے نقل کرنے کی بجائے ڈریکٹ عبارت لگائی جس سے پڑھنے والے کو محسوس ہو کہ ان ائمہ کے پاس امام عبد القادر جرجانی کی کتاب تھی۔

اور ابو خطاب ابن دحیہ نقل کرنے کے حوالے متعمد نہیں تھا۔
جیسا کہ امام ذھبی سے امام ابن حجر عسقلانی نے لسان المیزان میں نقل کیا ہے ۔

متهم في نقله مع أنه كان من أوعية العلم.
یہ نقل کرنے کے حوالے سے اس پر جھوٹے ہونے کا الزام ہے باوجود اسکے اہل علم ہونے کے

نیز آگے لکھتے ہیں :
وقال ابن النجار: رأيت الناس مجمعين على كذبه وضعفه وادعائه سماع ما لم يسمعه ولقاء من لم يلقه وكانت أمارات ذلك عليه لائحة
امام ابن النجار کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ سب لوگ اس کی جھوٹ بولنے، اسکے ضعف کے حوالے سے متفق تھے ۔اور اسکے دعوے ۔کہ اس نے وہ چیزیں سنی ہیں جو اس نے نہیں سنی، اور اس نے ایسے لوگوں سے ملاقات کا دعویٰ کیا جن سے اس نے ملاقات نہیں کی۔ اس پر ان علامات کا ظاہر ہونا واضح تھا۔

اور کہتے ہیں :
وكان ظاهري المذهب كثير الوقيعة في الأئمة وفي السلف من العلماء خبيث اللسان أحمق شديد الكبر قليل النظر في أمور الدين متهاونا.
وہ ظاہری مکتب فکر کا پیروکار تھا، جو ائمہ اور سلف کے علماء کے بارے میں بہت زیادہ بدگوئی کرتا تھا۔ اس کی زبان بہت خباست بھری تھی ۔ور وہ بے وقوف تھا، اس میں شدید تکبر تھا، دین کے امور میں کم نظر اور ان میں لا پروائی کرنے والا تھا۔
[لسان المیزان، برقم: 5597]

یہ ہے اسکی حقیقت کا حال جس سے ائمہ اہلسنت مجتہدین سے حضرت معاویہؓ کے ظالم ہونے پر اجماع نقل کیا جا رہا تھا ۔

اور ابن دحیہ واقعی نقل کرنے کے حوالے سے جھوٹا اور خیانت کرنے والا تھا اسکا ثبوت بھی ہم کو مذکورہ پوسٹ کے رد میں تحقیق کے دوران مل گیا ہے جو کہ درج ذیل ہے ۔

چونکہ امام قرطبی نے اس باب میں تمام ائمہ کے اقوال سارے ابن دحیہ کلبی کی طرف سے نقل کیے تھے ۔
اور اس میں ایک حوالہ امام عبد القاھر بغدادی کا بھی تھا جس میں یہ عبارت منسوب شدہ ہے
وقال الإمام أبو منصور التيمي البغدادي في كتابه الفرق من تأليفه
امام ابو منصوف نے اپنی کتاب الفرق جو کہ انکی تصنیف ہے میں کہا ہے ۔۔

في شان القصة عقيدة أهل السنة وأجمعوا أن علياً كان مصيباً في قتاله لأهل صفين كما قالوا بإصابته في قتل أصحاب الجمل،
وقالوا أيضاً: بأن الذين قاتلوه بغاة “ظالمون له” ولكن لا يجوز تكفيرهم ببغيهم.
[التذکرة ، امام قرطبی]

جبکہ امام ابو منصوف عبد القاھربغدادی کی کتاب میں اصل عبارت یوں ہے :
وَكَانَ اهل السّنة وَالْجَمَاعَة يَقُولُونَ بِصِحَّة إِسْلَام الْفَرِيقَيْنِ فى حَرْب الْجمل وَقَالُوا ان عليا كَانَ على الْحق فى قِتَالهمْ واصحاب الْجمل كَانُوا عصاة مخطئين فى قتال على وَلم يكن خطؤهم كفرا وَلَا فسقا
اور اہلِ سنت و جماعت کا یہ موقف تھا کہ جنگِ جمل میں دونوں فریقین کے اسلام کی صحت برقرار ہے، اور انہوں نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے جب انہوں نے ان کے خلاف جنگ کی، اور جمل کے اصحاب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں نافرمانی اور غلطی پر تھے، لیکن ان کی یہ غلطی نہ کفر تھی اور نہ ہی فسق۔
[الفرق بين الفرق]

جبکہ پوری کتاب میں کہیں بھی امام عبد القاھر نے حضرت معاویہؓ کے حوالے سے انکو ظالم نہیں لکھا ہے ۔
یہی سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن دحیہ نے یہ جھوٹے الفاظ امام عبد القاھر کی طرف منسوب کیے تھے ۔ اور ان سے امام قرطبی نے نقل کیے ہیں۔ جبکہ اصل کتاب میں ایسا کچھ موجود نہیں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر اسی کتاب میں امام قرطبی نے ابن دحیہ کے حوالے سے امام ابو منصور بغدادی کی کتاب اصول الدین سے درج ذیل عبارت نقل کی ہے جس میں حضرت معاویہؓ پر ظالم کے الفاظ ہیں :

وَقَالَ أَبُوْ مَنْصُوْرٍ الْبَغْدَادِيُّ فِي كِتَابِهِ ‹‹أُصُوْلِ الدِّيْنِ
وَأَمَّا أَصْحَابُ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّهُمْ بَغَوْا، وَسَمَّاهُمُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بُغَاةً فِي قَوْلِهِ لِعَمَّارٍ: «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ يَدْعُوْهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُوْنَهُ إِلَى النَّارِ » وَلَمْ يَكْفُرُوْا بِهَذَا الْبَغْيِ أَجْمَعُوْا أَنَّ عَلِيًّا مُصِيْبٌ فِي قِتَالِهِ أَهْلَ صِفِّيْنَ مُعَاوِيَةَ وَعَسْكَرَهُ بِأَنَّ الَّذِيْنَ قَاتَلُوْهُ “بُغَاةٌ ظَالِمُوْنَ لَه”ُ وَلَـكِنْ لَّا يَجُوْزُ تَكْفِيْرُهُمْ ِببَغْيِهِمْ.
رہے اصحابِ معاویہ تو وہ باغی تھے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو فرمایا «اے عمار تمھیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا تم اس کو جنت کی طرف بلاؤ گے جبکہ وہ تمھیں جہنم کی طرف بلاتے ہوں گے» رسول اللہ نے خود اُنہیں باغی قرار دے دیا تھا گروہِ معاویہ نے سیدنا علی کے ساتھ جنگ کی “وہ سب نا انصاف و ظالم اور باغی تھے” لیکن ان کـافر کہنا جائز نہیں ۔
في أصول الدين/315
المناوي في فيض القدير، 6/366

اور یہ من و عن حوالہ طاہر قادری نے نقل کیا ہے اور بطور حوالہ اصول الدین کا دینے کے بعد امام مناوی کا بھی ساتھ میں نقل کیا ہے ۔
جبکہ اصل ماخذ جب موجود ہو تو دوسرے ناقل سے نقل کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟
اسکی وجہ یہ تھی کہ اصل کتاب میں یہ الفاظ ظالم کے تھے ہی نہیں وہ تو فیض القدیر میں تھے ۔ لیکن ان جہلاء کو معلوم نہیں تھا کہ امام مناوی نے تو ان دحیہ دجال سے نقل کیے تھے ۔

اب اوپر پیش کی گئی اصل عبارت امام ابو منصور کی کتاب اصول الدین میں یوں ہے :

واما أصحاب معاوية فإنهم بغوا وسماهم النبي صلّى الله عليه وسلم بغاة في قوله لعمّار: يقتلك الفئة الباغية ولم يكفروا بهذا البغى، لأن عليّا قال: إخواننا بغوا علينا ولانه قال لأصحابه لا تتبعوا مدبرا ولا تذفّفوا على جريح فلو كانوا كفرة لاباح ذلك فيهم
اور جہاں تک حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کا تعلق ہے، تو انہوں نے بغاوت کی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیںباغی گروہ کہا، جیسا کہ آپ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا: “تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا۔ لیکن اس بغاوت کی وجہ سے انہیں کافر نہیں کہا گیا، کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے بھائیوں نے ہم پر بغاوت کی۔ اور انہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: پیچھے ہٹنے والے کا پیچھا نہ کرو اور زخمی کو قتل نہ کرو۔ اگر انہوں نے کفر کیا ہوتا تو یہ (قتل اور پیچھا کرنے کا حکم) ان کے بارے میں جائز ہوتا۔
[امام ابو منصور البغدادی، اصول الدین ،ص۲۹۰]

دیکھا جا سکتا ہے کہ امام ابو منصور کی پوری عبارت میں کہیں بھی ظلم یا ظالم یا فاسق کے الفاظ نہیں فقط بغاوت کے ہیں ۔

معلوم ہوا کہ یہ قول جو کہ عبد القادر جرجانی کے حوالے سے نقل کیا جاتا ہے اسکا ناقل ابن دحیہ ہے جو کہ متھم راوی ہے ۔
اور
امام ابو منصور عبد القاھر سے جو الفاظ نقل کیے گئے ہیں ظلم کے اسکا ناقل بھی ابن دحیہ ہے ۔ اور اسکا جھوٹ بالکل واضح ہے کیونکہ اسکی نقل کے برعکس اصل کتب میں یہ الفظ موجود نہیں جس سے ابن دحیہ پر جرح کا مفسر ہونا ثابت ہوتا ہے

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی