اپنے ہی لوگوں سے رئیس الخنازیر و گستاخِ سیدنا معاویہ, را فضی وغیرہ القابات پانے والے دَرِ بھنگی ساجد خان کے دُرِ بھنگی کا منہ توڑ جواب

✍ نظام امیر حنفی ماتریدی

کرناٹک کے شہر بنگلور میں اہل السنة والجماعة (بریلوی) کا سیدنا امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کے موضوع پر گستاخ تقیہ باز مَوالی را فضی ٹولے سے بغرضِ مناظرہ, شرائط طے کرنے کےلئے مجلس منعقد ہوئی
اس مجلس میں مَوالی فرقہ بہت ذلیل ہوا لیکن ان تقیہ بازوں کی ذلالت دیکھ کر پاکستان کے گھمنی ٹولے کے سپوت دَرِبھنگی ساجد خان رضاخانی دیوبندی کو دردِ زہ جیسا درد ہوا کہ اس کی چیخوں سے آسمان فیس بُک پریشان ہوگیا
سبھی لوگ سوچنے لگے کہ اس درد و کرب کے عالَم میں اس نے بصورتِ مضمون جہالت کا کونسا بچہ جَنا؟ اور جب بذریعہ واٹس ایپ ایک ساتھی نے اس مضمون کو بندہ ناچیز کے سامنے پیش کیا تو مَیں نے اس دربھنگی کو ملنے والے سارے القابات کا اسے مستحق جانا
مختصراً اصولی باتوں سے آئینہ پیش کرتا ہوں تاکہ یہ جاہلِ اعظم اپنا چہرہ دیکھ سکے اور یوں شاید اسے غیرت آجائے

#اولاً: کاپر کاپر والا نعرہ تو تیرے اپنے تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس نعرے پر کبھی اپنے استاد تقی عثمانی سے ہی معلوم کیا ہوتا تو تجھے کچھ سمجھ آتی
قید و بند کی صعوبت و خون یہ سب تیرے کئی اپنے ہی واڑ چکے بلکہ یاسر ندیم الواجدی نے چند دن قبل ہی حق نواز جھنگ وی کے کردار کو مخصوص الفاظ میں پاکستانی مسئلہ قرار دیا گویا اسے سیاست کہہ دیا
اس ہی طرح تیرے اپنے بابا قاضی مظہر حسین چکوالی کے جاری کردہ ماہنامہ میں ہے
یہاں اس امر کی تنقیح ضروری ہے کہ مولانا جھنگ وی مرحوم نے شیعہ جارحیت کا جواب دینے کے لیے کا فر کا فر شیعہ کا فر کو بطور نعرہ کے اور مشن کے جو اپنایا تھا اور ہر تقریر ہر جلسہ اور ہر جلوس میں اس نعرہ کی گونج پیدا کی گئی۔ تو کیا ملکی سطح پر سنی شیعہ تصادم اور فرقہ وارانہ قتل و غارت کا سلسلہ اسی نعرہ کا نتیجہ تو نہیں ہے۔ ہماری دیانتدارانہ رائے یہ ہے کہ مولانا جھنگ وی مرحوم غیرت ایمانی کی بناء پر مغلوب الحال ہو گئے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے سنی نوجوانوں میں ایک روح پھونکی۔ ان کی کیسٹیں سن کر بھی بعد میں سنی نوجوان مشتعل ہوتے رہے اور وہ اخلاقی اور شرعی حدود کو قائم نہ رکھ سکے۔
مولانا جھنگ وی مرحوم بھی غلبہ حال کی وجہ سے عملاً اعتدال پر قائم نہ رہ سکے اور اس نعرہ کے نتائج سے وہ غافل رہے۔ اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ اہل حق کا نعرہ ہمیشہ مثبت ہی رہا۔ دور رسالت میں مشرکین کے مقابل میں نعرہ “اللہ اکبر ” ہی تھا
(ماہنامہ حق چاریار 1995ء نومبر، صفحہ نمبر 11)
کل کراچی کے علاقے گولیمار میں گولی مار کر علاقے کو اسم بامسمی بنانے والے را فضیوں کے مقابل تمہارے بہنے والے خون کو تیرے اپنے ہی مغلوب الحالی اور اخلاقی و شرعی حدود قائم نہ رکھنے کا نتیجہ قرار دے کر شاید مٹی میں مل گئے اور تو فیس بوک پر سپاہ والوں سے داد سمیٹنے اور انہیں بےوقوف بنانے کےلئے ڈرامے بازیاں کررہا ہے؟ شرم۔۔۔۔ شرم۔۔۔۔شرم
یہ ہیں تیرے اپنوں کا کارنامہ اور اگر مزید کتابی حوالہ جات دوں تو جوابی مضمون طویل ہوجائے
سیدنا امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کی ذات پر مناظرہ کرنے سے تجھے یہ درد اٹھ گیا لیکن شیخین کریمین رضی اللّٰہ عنھما پر تیرے کئی اپنے حسن اللھیاری سے مناظرہ کرچکے بلکہ عبداللطیف صفدر نے دو مناظرے ایمانِ شیخین پر کئے،
ہمیں سنتے وقت تُو بہرا ہوجاتا ہے لیکن اپنوں کو سن کر گونگا بن کیوں بیٹھا رہا؟
کیا حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے ایمان پر بات ہوسکتی ہے؟
ایک کھلا را فضی جو امریکہ میں بیٹھ کر ویڈیو کال پر مناظرہ کرے اس سے تو ایمانِ شیخین پر مناظرہ جائز ہو لیکن ایک تقیہ پرست را فضی جو سنیت کے لبادہ میں سادہ لوح مسلمانوں کے عقائد خراب کرے اس سے ایمانِ معاویہ پر مناظرہ تیرے ماتم کا سبب بنے؟
دراصل تیرے اپنے تجھے گستاخِ معاویہ کہہ چکے۔ اس ہی وجہ سے اپنے پیٹی بھائیوں کا ذلیل ہوجانا تجھے پسند نہ آیا ورنہ اس سارے رونے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
طارق مسعود مرزائے جہلم سے مناظرہ کےلئے گیا تو موضوعات میں سیدنا معاویہ کا موضوع بھی شامل تھا
اس وقت تیرے اکابرین کا خون کسی لیباٹری میں سٹور تھا؟
تیرے اپنے استاد تقی عثمانی نے بھی دفاعِ معاویہ پر کتاب لکھی تو کیا اسے بھی یاد نہ رہا؟
یہ باتیں اگر اپنے لونڈوں لپاڑوں میں کرتا تو داد ملنا ممکن تھی لیکن اپنے خصم کے مقابل یہ سب کہنا تیرے مناظر اعظم کہلوانے کے مشن میں آڑ لائے گا

عدالتِ صحابہ بدیہی ہے تو دلیل لا؟ البتہ اپنے اس دعوی پر دلیل لانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتانا کہ عقیدہ ختم نبوت بدیہات سے ہے یا نہیں؟
اسکے بعد تجھے رشیدیہ پڑھائینگے ان شاءاللّٰہ

#ثانیاً: دربھنگی اول تا دربھنگی ثانی تم سب بھنگی بن گئے اور ایک دوسرے کا ہی گند چاٹنے لگے
جس گھمن کو تو اپنا باپ کہتا ہے اس کا اپنا ایک مماتی سے مناظرہ موجود ہے جس میں گھنٹوں بحث صرف دعوی پر رہی اور اس بحث میں تیرے گھمن چاچا نے جو اصول بیان کئے ہیں اس ہی کے تحت مماتیوں کے مقابل تم اسے فاتح کہتے ہو ورنہ اس کی فاتحہ پڑھی جائے
تمہارا دعوی “اپنے اصول و فتاوی کی روشنی میں کا فر” یہ الزامی دلیل ہے اور گھمن چاچا کے قوانین کے تحت یہ دعوی ہی درست نہیں۔ اس کی تمام تفصیلات میری وال پر تیرے ایک لونڈے کی دھلائی میں پوسٹوں کی صورت میں موجود ہے
اپنے ماسٹر امین اوکاڑوی کی ہی مان لے، وہ کہتا ہے

مناظرہ صرف تحقیقی دلائل کا نام ہوتا ہے اس لئے تحقیقی دلائل سے آگے نہیں بڑھے گا۔ الزامی جواب مناظرہ کا حصہ نہیں ہوتا ۔ اس لئے الزامی جوابات کی بجائے تحقیقی جوابات ہی ہوں گے
(تجلیاتِ صفدر، جلد سوم، صفحہ 445)
جب مناظرہ میں الزامی دلائل حصہ ہی نہیں بن سکتے تو اپنے دعوی کی بنیاد ہی الزامی دلائل پر رکھنا کیونکر درست ہوسکتا ہے؟
اپنے چار مُرتَد بچانے کو یہ مناظرانہ ڈرامہ کوئی فائدہ نہ دے گا
منظور مینگل کی کال ریکارڈنگ میرے پاس موجود ہے جس میں منظور مینگل نے اس دعوی کو بالفاظِ دیگر غلط قرار دیا ہے بلکہ مناظرانہ چال کہی ہے
اگر اپنے چار مُرتَد بچانے کی اتنی ہی فکر ہے تو اپنے بڑوں سے امام احمدرضا خان علیہ الرحمہ کی تک فیر لکھوا لا
دارلعلوم کراچی، دیوبند، بنوری ٹاؤن، اکوڑہ خٹک، مظاہرالعلوم وغیرہ سے مشخص و معین تک فیر لا کر دکھا ورنہ جس در کا تو بھنگی ہے اس ہی گھر کے گٹر میں ڈوب کر مرجا
دربھنگی اول کہتا ہے کہ
امام احمد رضا ان (قاسم,رشید,خلیل,اشرف) کو کا فر نہ کہتے تو خود کا فر ہوجاتے ملخصاً
(اشدالعذاب علی مسیلةالپنجاب، صفحہ نمبر 13)
مطلب کہ امام احمدرضا علیہ الرحمہ کا فر نہیں
اب رہا تو، جو اپنے پالتوؤں سے خود کو دربھنگی ثانی کہلواتا ہے تَو تُونے اپنی دفاع جلد اول سے امام احمدرضا کی تک فیر والی عبارت خود کٹوادی اور اس ہی پر نجیب اللّٰہ عمر نے آپا بن کر سیاپا کھڑا کردیا اور تم دونوں سوکنوں کی مثل فیس بک پر لڑ پڑے
معلوم ہوا کہ دربھنگی اول تا دربھنگی ثانی تک فیر کسی نے نہیں کی بلکہ الزامی ڈرامہ رچایا اور یہ ڈرامہ خود ان ڈرامے بازوں کے مطابق ہی غلط قرار پاتا ہے
بقول گھمن جب دعوی دعوی ہی نہ ہو تو مناظرہ کس پر ہوگا ملخصا (مناظرہ حیات النبی ﷺ)
ولہذا اگر اپنے مُرتَد بچانے ہیں تو وہی کر جو کہا لیکن یہ سب کرنا تیرے بَس کا روگ نہیں
ہاں تُو فیس بک پر ڈینگیاں مار کر احساسِ کمتری کے شکار دیوبندیوں کا شکار کرتا رہ

#ثالثاً: امام اہل سنت احمدرضا خان علیہ الرحمہ کے نزدیک تفضیلی پر را فضی کا اطلاق ہو سکتا ہے اور خود فاضل بریلی علیہ الرحمہ نے تفضیلیوں سے مناظرہ کیا ملاحظہ ہو فتح خیبر
حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
فمن قدمه على أبي بكر وعمر فهو غال في تشيعه و يطلق عليه رافضي
(ھدی الساری صفحہ نمبر 460)
وہ را فضی ویسے ہی ہمارے سامنے آتا تو ضرور ہم اس کی شکل نہ دیکھتے بلکہ اس پر پیشاب کرنا اپنے پیشاب کو زیادہ ناپاک کرنا سمجھتے مگر وہ مناظرہ کرنے آیا تھا۔
ویسے تو اپنے لونڈوں سے کہلواتا پھرتا ہے کہ تجھے بریلویت کا بڑا علم ہے لیکن تیری معلومات چَوَنِّی جتنی بھی نہ نکلی

بالکل سادہ سی بات ہے جس میں کوئی راکٹ سائنس نہیں جو سَر کھپانا پڑے مگر تیری بالائی منزل ہی خالی ہے
مماتی خود کو دیوبندی کہتے/لکھتے ہیں لیکن نجس العین پسپائی ودیگر جملہ تفضیلیہ تفسیقیہ خود کو بریلوی ہی نہیں مانتے بلکہ یہ سب تو مثلِ روا فض ہم اہل السنة (بریلوی) کو نا صبی کہتے ہیں
تعجب! جو خود کو بریلوی نہ مانے وہ بریلوی ہے لیکن جو خود کو دیوبندی مانے وہ دیوبندی نہیں
گرگٹ سے زیادہ رنگ بدلنے کی صلاحیت رکھنے والے دربھنگی ثانی کو گھمن کی توپ کی سلامی پیش کرنی چاہیئے
مکہ و مدینہ زاداللّٰہ شرفھما میں دجل و فریب کے ساتھ جھوٹ بولنا تمہارا کام ہے۔ وہاں جاتے ہو تو خود کو تیمی نجدی ظاہر کرتے ہو اور یہاں آکر نجدی عقائد والوں سے خود کو بری ظاہر کرتے ہو
اس ہی وجہ سے ابن عبدالوھاب نجدی کے دفاع میں تونے کتاب لکھ رکھی ہے تاکہ سعودی ریال جمع کرنے کو سعودی علما کی آنکھوں میں دُھول جھونکو
اپنی وال سے عقیدتیں کیش کرانے کےلئے اپنی کتابوں کے تراجم کا ذکر کرتا رہتا ہے کہ فلاں انگریزی میں شائع ہوگئی تو فلاں عربی میں شائع ہونے والی ہے وغیرہ وغیرہ
ہمت کر اور شیخ نجدی کے دفاع والی اپنی کتاب کو عربی میں ٹرانسلیٹ کرا اور اپنے استاد تقی عثمانی سے تقریظ یا کلماتِ تبریک وغیرہ جو چاہے لکھوا اور شائع کرا پھر دیکھ تجھے اور تیرے شیخو کو دنیا بھر سے کتنی تعریفیں سننے کو ملینگی
اور اگر یزید پلید پر اپنی کتاب کو بھی یونہی شائع کردے تو سعودی تجھے سونے میں تول دینگے 😁
ہمت کر کیونکہ تو اپنے بچوں سے پڑھواتا پھرتا ہے۔۔۔ جرات کا نام ہیں دیوبند والے
😂😂😂

رہی تیری کتاب تو اس کا جواب تقریباً لکھا جاچکا ہے اس لئے ڈینگیں مارنے کا فائدہ نہیں بلکہ ایک مزید جواب بالکل جداگانہ طرز پر لکھا گیا ہے جس کی پروف ریڈنگ عنقریب فائنل ہونے والی ہے اور پھر وہ جلد ہی زیورِ طبع سے آراستہ ہوجائے گا۔ گویا تیری کتاب کے دو جواب آئینگے
اور تیری جتنی دلیلیں ہیں وہ سب وڑ چکی ہیں بس اب تھوڑا صبر کر کیونکہ دو جلدیں تو لکھی جاچکی ہیں مزید کچھ کام ہوگا پھر پروف ریڈنگ اور طباعت وغیرہ کے مراحل طے ہوجائینگے
البتہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جس تنظیم کے لوگوں کے خون کا نام تو لے رہا تھا اس تنظیم نے گلیوں بازاروں, رکشوں بسوں وغیرہ میں امام اہل سنت احمدرضا خان علیہ الرحمہ کے تک فیرِ روا فض کا فتوی اسٹیکرز بنوا کر چسپاں کیا تھا اور انہی لوگوں نے اس فتوی کو تاریخی دستاویز میں “اھم” فتوی قرار دیا
مہر محمد میانوالی نے امام اہل سنت کی کتاب ردالرِّفْضَہ کو سونے سے تولنے کے قابل کہا
لیکن اس مقام پر ان کا خون، خون نہیں بلکہ تیرے نزدیک پانی پانی ہوگیا
ویسے ان لوگوں کو بھی منظور نعمانی سے پہلے کے تیرے بڑوں سے فتوی نہیں ملا
تلاش کر ورنہ ہمارا برادشت کر
اب آئیندہ اپنی کتاب کی بِکری کرانے کےلئے یوں تشہیر نہ کرنا ورنہ بہت زیادہ ذلیل کرونگا

#رابعاً: حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کا دفاع ہماری جانب سے ناکام ہے یا کامیاب ہے اس کا اندازہ دشمنانِ امیر معاویہ کا علمی محاسبہ میں لگے تیرے ہم مسلکی لوگوں کے تعریفی کلمات سے ہی دیکھ لے اور پھر اس دور میں حضرت معاویہ کے نام کی مساجد, مدارس,بچوں کے نام, فضائل و سیرت پر کتب کے علاوہ دفاعِ معاویہ میں قلمی کام خود بتارہا ہے کہ کامیاب کون ہے
وہ تیرا حیدرآباد کا پرانا پالشیا فخرالزمان، اس کا مناظرہ ایک را فضی سے ہوا تو را فضی نے پوچھا تم نے کون سی کتب پڑھی ہیں
جواباً اس نے اہل سنت بریلوی کی کتب کے نام گنوانے شروع کردیئے لیکن تجھے اس سے کیا مطلب؟ تو خود اپنے ہی لوگوں میں گستاخِ معاویہ مشہور ہے
اب تجھے عرفان شاہ مشہدی کے مناظرے کا بھی دکھ درد ہے؟
او جاہل! میں پہلے بھی بتاچکا ہوں کہ ہمارے نزدیک را فضی کا اطلاق تفضیلی پر بھی ہوتا ہے اور عرفان شاہ کو ہم نے اگر را فضی کہا ہے تو اس سے اس کا تبرائی ہونا لازم نہیں آتا
عرفان شاہ نے حضرت معاویہ کی تک فیر تو دور کی بات ہے تفسیق بھی نہیں کی
تجھے فاتح بریلویت کہنے والے صرف اپنے دل کو تسکین دیتے ہیں ورنہ جس طرح کی تیری تحریر ہے اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ تو مَرے ہوئے سارے دیوبندی مناجرین کی فاتحہ ہے
یہی وجہ ہے کہ گھمن ٹولے کا رد ہمارے غیر عالم لوگ بھی کردیتے ہیں
تو تیس مار خان نہیں بلکہ دیوبندیوں کا ٹیز مار خان ہے جسے یہ بھی نہیں معلوم کہ را فضیوں کا یہ طریقہ آج کا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے
اگر تحفہ اثناعشریہ میں ان کے مکائد پڑھتا تو تجھے پتہ چلتا کہ را فضی اپنا بندہ سنی ظاہر کرکے اسے سنیوں میں اونچائی تک لے جاتے ہیں پھر آخر عمر میں وہ خود کو را فضی ظاہر کردیتا ہے
تجھے عرفان شاہ مشہدی کے مناظرے کے سبب تکلیف ہورہی ہے لیکن تیرے اپنے دیوبندیوں نے اس مناظرہ کی ویڈیو کیسٹ (سی ڈی) شائع کرکے عرفان شاہ مشہدی کو دیوبندی اور مخالف ہزاروی گروپ کے را فضی کو بریلوی بنا کر ظاہر کیا اس کی مکمل تفصیل ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے تجھے دکھائی جاچکی ہے، لے دوبارہ دیکھ کر اپنا گجنی پَن دور کر 👇
https://youtu.be/TmuCI3Aalfc?si=W3bYsqweaG9LDAdH

یہ ڈرامہ تیرے دیوبندی اس لئے کررہے تھے تاکہ حُبِّ صحابہ سینہ میں بسائے عام مسلمان جب دفاع صحابہ کی غرض سے تمہاری کسی تنظیم میں آئے اور اس کے نظریات بریلوی والے ہوں تو تم اپنا یہ جعلی کھیل دکھا کر ایسے لوگوں کو اپنے دجل و فریب سے شکار کرو

گھمن ٹولے کے تمام ٹٹ پونجئے یہاں وہاں سے الزامی حوالہ جات اکھٹا کرکے کتے جیسی زبان نکال کر خود کو پھنے خان سمجھتے ہیں
جب تیرے بڑے مرزائے قاد یان کو مرد صالح کہہ رہے تھے تب ہمارے بزرگ مرزائے قاد یان کا رد لکھ رہے تھے
اور تو مرزائیوں کو ہمارے کھاتے میں ڈالے گا؟ اپنے استاد تقی عثمانی کو ہی پڑھ لیتا تو ایسا نہ کہتا لیکن تو پڑھتا کب ہے؟ تجھے تو یہاں وہاں سے کاپی پیسٹ کرکے محقق بننا ہے
تمہارا دریاآبادی مرزائیوں کی تک فیر نہیں کرتا تھا لیکن تم اس کی تک فیر نہیں کرتے
کیا خیال ہے پھر لاہوری مرزائی تو تیرے نزدیک مظلوم ٹھہرے؟
تو زیادہ کچھ نہ کر بلکہ رب نواز حنفی کو فون کرکے اس سے اتنا پوچھ لے کہ یہ سپاہ والے اللّٰہ وسایا جیسے شاہینِ ختم نبوت کے پیچھے کیوں پڑے ہیں؟
احتساب قاد یانیت کے نام سے جو کام تم لوگوں نے چھاپ کر سیٹھوں کو یہ تاثر دیا کہ یہ ہیں دیوبند والے اور ان کا کام، تو یہ اُن سیٹھوں تک رہنے دے کیونکہ اندر کا حال کھلا تو پھر چندہ بند ہوجائے گا
میں اس باب میں بھی زیادہ نہیں لکھتا کہ یہاں مرزائے قا دیان کے سور منہ مارینگے

#خامساً: اپنے القابات میں سے خائن لقب کی لاج رکھتے ہوئے تو نے رنگ دکھا دیا
کشف القناع کی پوری عبارت دیکھ

دیوبندی موصوف لکھتے ہیں کہ: اس قسم کے حوالوں کی بنیاد پر رضاخانی عوام کو یہ دھوکا دیتے ہیں کہ مولوی کوثر نیازی دیوبندی تھا حالانکہ اس اصول کے تحت نیازی کا کٹر رضاخانی اور بریلوی ہونا ثابت ہوتا ہے اور حقیقت بھی یہی تھی رضا خانی نیازی کو اپنے مجلسوں میں بطور مہمان خصوصی بالا یا کرتے

الجواب : مولانا کوثر نیازی صاحب دیوبندی تھے، عربی تعلیم عبد الحق ندوی صاحب سے حاصل کی وہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے صحیح بخاری کا درس مشہور دیوبندی عالم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدادریس کاندھلوی مرحوم و مغفور سے لیا ہے” ۔ ۱۲ ( مولانا کوثر نیازی کا یہ مقالہ مختلف اخبار و رسائل میں شائع ہوا اور پاکستان کے مشہور و معروف اخبار” جنگ ” میں بھی چھپا، اس مقالہ کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر ادارہ تحقیقات امام احمد رضا نے کتابی صورت میں اس کو شائع کیا )

اس سے صاف ظاہر ہے کہ کوثر نیازی صاحب کٹر دیوبندی تھے ، البتہ یہ سیدی اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی کرامت ہے کہ اپنے عشق و محبت کو خود منکروں سے منوالیا ۔ جس وقت کوثر نیازی صاحب فیڈرل منسٹر تھے اُس وقت دیوبندی تو ان کے تَلوے چاٹا کرتے تھے مگر آج انہیں دیوبندیت سے ہی خارج کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اس طرح تو ہو سکتا ہے کہ کچھ سالوں بعد دیوبندی موصوف کی حماقتوں کو دیکھ کر ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ دیوبندی ان کی دیوبندیت کا ہی انکار کر دیں ، کیونکہ وہ تمام لوگ جنہوں نے دیوبندیوں سے جواب مانگا دیوبندیوں نے انہیں دیوبندیت سے خارج کر دیا ہے۔
باقی رہی یہ بات کہ اہل سنت کوثر نیازی صاحب کو اپنی مجلسوں میں بطور مہمان خصوصی بلایا کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی شخصیت تھی اور ان کی وزارت مذہبی امور ١٩٧٤ سے ۱۹۷۷ تک رہی، ملک کے دیگر بڑے عہدوں سے بھی وابستہ رہے، اس لحاظ سے ریاست کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے انہیں محافل میں مدعو کیا جاتا تھا ، اب اس کی وجہ سے وہ مذہباً بریلوی ثابت نہ ہوں گے ، مدرسہ دیوبند کے صد سالہ جشن کے موقع پر دیوبندیوں نے اندرا گاندھی کو بھی مدعو کیا تھا اور وہاں پر ایک عجیب نظارہ یہ تھا کہ علماء دیوبند نیچے اور اندرا گاندھی جی ساڑھی سمیت اوپر۔
(کشف القناع جلد اول صفحہ 214 تا 215)
اس میں محض دیوبندی مدرسہ میں پڑھنے پر کہاں مذہباً دیوبندی کہا گیا؟
تو نے ہی اپنے دفاع میں دفع الوقتی سے کام لیتے ہوئے جو باتیں کیں تو تیرے منہ جیسی چپیڑ ہی تجھ پر رسید کی گئی
کوثر نیازی کا وہ قول جس کے جواب میں تو نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا وہی بتاتا ہے کہ یہ بریلوی نہیں
اگر اسے دیوبندی تسلیم نہیں کرتا تو پھر بتا اس کا کونسا عقیدہ دیوبندیوں کے بنیادی عقائد کے خلاف ہے؟
قیاس کےلئے علتِ مشترکہ ضروری ہے، مگر نجس العین پسپائی و کوثر نیازی میں مفقود ہے ولہذا تیرا قیاس، قیاس مع الفارق ہوا

اگر محض پڑھنے کی بنیاد پر تو نجس العین پسپائی کو بریلوی کہنے پر مُصر ہے تو زیادہ نہیں دو نام لیتا ہوں ان دونوں کو دیوبندی مان کر دکھا
اہلحدیث وہابی مکتبہ فکر کے مناظر جناب ثناءاللّٰہ امرتسری اور شیعوں کا مبلغ اعظم اسماعیل گوجروی یہ دونوں دیوبند کا فیضان ہیں جیساکہ تیرے یار سعید احمد نے فیضان دیوبند نامی کتاب میں لکھا ہے اور یہ کتاب ابوعیوب کے استاد زرولی خان کے مدرسہ سے دستیاب ہوجائے گی

#سادساً: ہم سنی ضرور کہتے ہیں کہ دیابنہ مزارات اولیاء کو مانتے نہیں کیونکہ یہ اصلاً وہابی الفکر ہیں لیکن دیابنہ میں حصر نہیں کرتے جو تیرا استدلال درست ہو
صاحبِ مزار کو قبول کرنے کا یہ مطلب کہاں سے نکلا کہ اس کا گدی نشین بھی معتبر ہو ؟
را فضی مزارات پر قابض ہیں جیسے لعل شہباز قلندر علیہ الرحمہ پر قابض ہیں یونہی تقیہ پرست را فضی ان دنوں اجمیر شریف پر قابض ہیں پھر تو ان بزرگوں کا انکار کرے گا؟
اگر انکار کرنا ہے تو پھر واضح انکار کر تاکہ مرزائے جہلم سے تیرا قارورہ مل جائے
عجیب و غریب جاہلانہ باتیں کرکے تو اسے جواب کا نام دیتا ہے، اس ہی وجہ سے اکثر پڑھے لکھے دیوبندی تجھ سے براءت کرتے نظر آتے ہیں
مزارات پر سنی جاتے ہیں کہنے کا مطلب سنی ہی جاتے ہیں لینا بھی تیری علمیت کی دلیل ہے
اگر تیرے جیسے دو چار شاگرد مزید تقی عثمانی کو مل گئے تو اس کی ناک کٹ کر قیمہ بن جائے گی
اور اب تونے ایک لمبی فہرست جڑ دی جس میں علمائے اہل سنت کے ناموں کے ساتھ بعضے تفضیلی شامل کرکے کہنے لگا کہ تم ان سب کو غیرمعتبر کہتے ہو اور پھر ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہا ہے کہ فیس بک کے ٹٹ پونجئے انہیں غیرمعتبر کہتے ہیں فیاللعجب
اس بھلے مانس کو اس کا کوئی چمچہ ہی یاد کرادے کہ اپنی بیٹی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے مفرورِ پاکستان الیاس گھمن کی جب تو نے دلالی کی تھی تب معاصرانہ چپقلش کو حجت تسلیم نہ کیا تھا
اب اپنے خصوم پر معاصرانہ چپقلش کو کیسے دلیل بنا بیٹھا ؟
اگر بضد ہے تو بتا کہ بینکنگ کے مسئلہ میں تقی عثمانی معتبر ہے یا زرولی خان وغیرہ پارٹی؟
ک۔۔ف جو نہ مانے ک۔۔ف تونے کہا تھا اور بڑا خون خون کیا تھا لیکن اس نعرے کا مخالف تو وہ فضل الرحمن ہے جس کے نغمے گُنگناتے ہوئے تو تحریک لبببیک پر عوعو کررہا تھا
اعظم طارق نے کہا
مولانا عبد الغفور حیدری صاحب دونوں جمیعتوں کے مابین اتحاد کے لئے کافی مخلصانہ انداز میں گفتگو کرتے لیکن اس وقت جب مولانا فضل الرحمن صاحب شیعیت کے ک ف ر کو تسلیم نہ کرنے پر کمر بستہ ہو جاتے……
(میرا جرم کیا ہے؟ صفحہ نمبر 279)
اپنے جرنیل کی بات نہ مان کر اس کے خون کا سودا کرتے ڈیزل کا ڈبہ قبول کرے گا؟
اب فضلو بابا کےلئے کیا حکم ہے کیونکہ تو نے ہی لکھا “جو نہ مانے وہ بھی۔۔۔” یونہی اور بہت سے پیش کرسکتا ہوں
مہنگے ناڑے بیچنے کی ریس میں ریکارڈ بنانے والا درباری ملا جس کے ک ف ر پر بھی تیرے گھر والوں نے کتابیں لکھ رکھی ہیں اُس طارق جمیل کے نام کا کوئی قصیدہ کیوں نہیں پڑھتا؟
را فضیت کو آج کل سب سے زیادہ سپورٹ یہی کررہا ہے بلکہ اس کا تو عملی فسق بھی علانیہ موجود ہے کہ غیرمحرم لڑکیوں سے چسکے لے لے کر ویڈیو کال پر باتیں کرتا ہے بلکہ فلائنگ کِس یعنی اُڑتی چُمّیاں پَپّیاں دیتا ہے

تیرے بابا مانچسٹروی کے قریبی اقبال رنگونی نے لکھا ہے
… مولانا حیدری کی شہادت کے کچھ ہی عرصہ بعد فیصل آباد کے محلہ سیتو پورہ میں ایک مسجد کے سامنے دیوار پر خلفاء راشدین کے ناموں کے ساتھ حضرت معاویہ کا نام بھی لکھا ہوا تھا تو آپ نے اپنی موجودگی میں حکما یہ کہہ کر کرچی پھروادی کہ یہ نام مٹادو کہ اس سے امت میں انتشار پھیلتا ہے
(بنیادی غلطیاں صفحہ 12)
حضرت امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کا نام مٹانے والے اس طارق جمیل پر تو گونگا شیطان بنا بیٹھا رہے گا کیونکہ اس کے خلاف بولنے یا لکھنے سے تیری دکان بند ہوجانے کا تجھے خطرہ لاحق ہے
الحمدللّٰہ ثم الحمدللّٰہ ہم صحابہ و اہل بیت کی ناموس کی خاطر اپنے پرائے کا فرق نہیں رکھتے بلکہ حنیف قریشی جیسے کو بھی ہم نے لتاڑا جبکہ اُن دنوں تو اور نجیب ہماری ہی تحریریں سرقہ کرکے فیس بک پر شہنشاہی دکھاتے تھے
یونہی ہم نے بہت سو کا رد کیا کیونکہ حنیف قریشی جیسے اربوں کھربوں ہم سیدنا معاویہ کے گھوڑے کی ناک کی رینٹھ پر قربان کرتے ہیں مگر تم اکابر پرست ہو, تمہیں اپنے بڑے عزیز ہیں, صحابہ نہیں
یہ ڈھونگ تم نے صحابہ کے نام پر رچایا ہے اور بس سستی شہرت و مال و دولت کی خاطر تُو ہر کسی کا خصیہ برادر بنا پھرتا ہے
جب کوئی تیرے چند سال قبل گزرے اکابر پر چار حرف کہہ دے تو تیری رگِ غیرت پھڑکتی ہے لیکن طارق جمیل اور اس جیسوں کے افعال پر تو چپ کا روزہ رکھ لیتا ہے
شرم کر یا ڈوب مر
طارق جمیل و فضلو بابا, اور تقی عثمانی و زرولی خان تو ٹٹ پونجئے نہیں
ان کا ماتمی جلوس نکال کر ہم پر تبرے پڑھے گا یا طارق جمیل وغیرہ کو لگام ڈالے گا؟

#سابعاً: اب تجھے ڈپلومہ ڈگری ہولڈر سے سند کے مطالبے کا بھی درد ہے
یہی کام تیرے اپنے بالفاظِ دیگر، رشیدیہ کو اٹھائے بغیر مرزائے جہلم کے ساتھ کرتے ہیں تب اعظم بستی کے گونگے شیطان کو سانپ سونگھ جاتا ہے
امیر اہل سنت مولانا الیاس عطار قادری اطال اللّٰہ عمرہ بالصحة والعافیة بحیثیتِ مناظر تو نہیں آئے جو اپنی جعل سازی کی عمارت کھڑی کرنے کےلئے یہ ڈھکوسلا بَک رہا ہے
جس دارالعلوم سے تو خود کو فارغ کہہ کر اپنا فارغ العقل ہونا ظاہر کرتا ہے اس ہی دارالعلوم میں میمن برادری کے چندے موجود ہیں اور کتیانہ میمن برادری کی ایک کاسٹ ہے
اپنے بابا تقی عثمانی سے معلوم کرنا کہ اگر کسی کتیانہ کاسٹ کے میمن دیوبندی سیٹھ نے اپنے لڑکے کا رشتہ تقی عثمانی کے گھر کی کسی خاتون کےلئے طلب کرلیا اور اس نے رشتہ کردیا پھر کتی یانہ والا طنز کتنا مزہ کرے گا؟
اب اگر میں اس پر کھل کر لکھ دوں تو اسے تقی عثمانی کی توہین قرار دے گا ولہذا اشارے میں سمجھ جا اور یہ لاہور کی حمار کمپنی کے چٹکلے مت سنا ورنہ بہت کچھ سننا پڑے گا جو تو سہہ نہیں پائے گا

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللّٰہ اور تقیہ پرست حسن امروہی مَوالی را فضی کے معاملے میں بڑا فرق ہے
آیت کے تحت بطور تفسیر لفظ مناظرہ کا استعمال کرنا اور مناظرہ کو قرآن کریم کی جانب منسوب کرنا، دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے
مَوالی را فضی ثانی کا مرتکب تھا, نہ کہ اول کا۔ تفسیر نعیمی میں انتساب من جانب القرآن نہیں، لہذا تفسیر نعیمی پر اعتراض بنتا نہیں

#ثامناً: رہا رالمختار پڑھنے کا الزام تو اس پر مَیں نے علیحدہ سے پوسٹ لگا رکھی ہے جس میں سلو موشن میں اور آواز کو بار بار دہرا کر سُنوا دیا ہے کہ ردالمحتار ہی پڑھا ہے یعنی خاء نہیں بلکہ حاء ہی پڑھا ہے
البتہ ایک عدد الزامی جواب میں علیحدہ پوسٹ منظور مینگل کی ویڈیو کی لگائی ہے جس میں منظور مینگل نے جدالممتار کو دُرِّ مختار کی شرح کہا ہے
اب بھی سکون نہ آیا تو ایک کتابی حوالہ بھی لیتا جا
منظور سنبھلی کہتا ہے
محقق ابن الہمام حنفی جن کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی میں فرماتے ہیں قد بلع رتبة الاجتهاد یہ رتبہ اجتہاد کو پہنچے ہوئے ہیں اپنی نفیس اور معتمد کتاب مسامرہ اور اُن کے تلمیذ رشید ابن ابی الشریف مقدسی اُس کی شرح مسائرہ میں ارقام فرماتے ہیں الخ
(سیف یمانی، صفحہ نمبر 87)
اول الذکر تیرا دادا استاد، استاذالعلماء و شیخ الحدیث وغیرہ ہے اور ثانی الذکر مناظر اسلام وغیرہ ہے۔
یہ دونوں منظور تجھے منظور تو ہونگے لیکن ان کے اقوال منظور نہ ہونگے بلکہ تُو منظور کے وزن پر چڑھ کر اس سے مفرور رہے گا الا یہ کہ ان دونوں پر وہی کچھ نہ کہہ دے جو سنی مناظر کےلئے کہنا چاہتا تھا
اور تو پارسا بنا پھر رہا ہے جبکہ اپنے کاپی پیسٹ کے چکر میں تو خود پھنس گیا
بعض لوگوں نے را فضی مناظر کے الفاظ رشیداحمد جونپوری کو رشید احمد گنگوہی لکھ کر پوسٹیں کردیں تو پھر تو نے بھی کاپی کرکے پَھنّے خانی دکھانا شروع کردی جبکہ میں نے تیری اس پوسٹ کے رد میں علیحدہ پوسٹ لگا کر تجھے جواب دے رکھا ہے کہ یہاں گنگوہی نہیں بلکہ جونپوری کہا گیا ہے مگر تیری کمزور سماعتوں اور کاپی پیسٹ کی حرکتوں نے تجھے ذلیل کروا دیا

اگر تو امیرالمؤمنین سیدنا معاویہ رضی اللّٰہ عنہ سے متعلقہ ہونے والے مناظرے کےلئے بکواس کرتے ہوئے اپنے پیٹی برادران تقیہ باز را فضیوں کو خوش نہ کرتا تو میں تیری نہ لیتا ولہذا نوا صب و روا فض کے رد کے درمیان اپنی مناجر گیری دکھانے کو منہ کھولے گا تو تیرے سارے بند سوراخ کھول دونگا

رہونگا گر زندہ، ٹھوکونگا تابِندہ
بند ہوگا تیرا چَندہ، تو ہوگا رَمِندہ