حضرت معاویہؓ پر مذمت میں مروی ایک باطل روایت کی حقیقت:

حدثنا خلف حدثنا عبد الوارث بن سعيد عن سعيد بن جمهان عن سفينة مولى أم سلمة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان جالسا فمر أبو سفيان على بعير ومعه معاوية وأخ له  ، أحدهما يقود البعير والآخر يسوقه، فقال رسول الله صلى عليه وسلم: لعن الله الحامل والمحمول والقائد والسائق
سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اونٹ پر ابوسفیان کا گذر ہوا ان کے ساتھ معاویہ اوران کے ایک بھائی تھے۔ ان میں سے ایک اونٹ کو چلارہا تھا اور دوسرا ہانک رہا تھا۔تواللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت ہوسواری اور سوار پر نیز چلانے والے اور ہانکنے والے پر
[أنساب الأشراف للبلاذري، ط، دار الفكر: 5/ 136 اخرجہ البزار فی مسندہ (9/ 286) من طریق سعیدبن جمھان بہ نحوہ ، وقال الھیثمی فی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (1/ 113) : رواه البزار، ورجاله ثقات ]

یہ روایت سوائے الانساب اشراف کے کسی دوسری کتاب  میں نہیں حضرت ابو سفیان و حضرت معاویہؓ کے نام سے ۔۔

اسکی سند کا بنیادی راوی خلف ہے جس سے مصنف نے یہ روایت بیان کر رکھی ہے ۔
اور مصنف کے اس نام سے دو رواتہ ہیں
ایک  خلف بن ھشام ثقہ
دوسرا خلف بن سالم یہ ثقہ ہے لیکن یہ شیعت کی طرف منسوب ہوا ہے ۔ اور غریب روایات کو جمع کرنے کی جرح بھی ہے اس پر ۔

اس روایت کے تحت خلف کا تعین قطعی نہیں ہو سکتا ہے ۔
کیونکہ نہ ہی عبد الوارث کے تلامذہ میں کوئی خلف نام کا راوی ہے
اور نہ ہی خلف بن ھشام یا خلف بن سالم کے شیوخ میں عبدالوارث کا نام ملتا ہے ۔

لیکن قرائین اس طرف جاتے ہیں کہ مذکورہ روایت کو مصنف نے خلف بن سالم اسی شیعت زدہ راوی ہی سے بیان کیا ہے۔
اسکا قرینہ!
مصنف نے خلف نامی اس راوی سے عبد الوارث سے فقط دو روایات بیان کی ہے ایک مذکورہ روایت جو حضرت معاویہؓ اور حضرت ابو سفیانؓ کے تعلق سے ہے ۔
اور
دوسری ررج ذیل ہے:
حدثنا خلف عن عبد الوارث عن محمد بن ذكوان قال كان مالك بن المنذر على الشرط، فضرب ثابتا البناني، وشتم الحسن وقال: اعتزل مجلسنا وإلا ضربتك مائة سوط على ظهرك وبطنك فإنك تعيب أمير المؤمنين، والأمير، وتحرم القبالات.

مذکورہ روایت میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خلف  بطریق عبدالوارث  بن سعید
“محمد بن زکوان”
سے روایت کر رہا ہے ۔

اور محمد بن ذکوارن سے
عبد الوارث بھی روایت کرتا ہے جیسا کہ مذکورہ روایت میں ہے۔ اور اسکا بیٹا عبد الصمد بھی روایت کرتا ہے ۔

جیسا کہ امام ابن الندیم خلف بن سالف کے شیوخ میں عبد الصمد کو انکے شیوخ میں ذکر کرتے ہیں :
خلف بن سالم أبو محمد المخرمي السندي مولى المهالبة
روى عن عبد الصمد بن عبد الوارث۔۔۔
[بغية الطلب في تاريخ حلب]

اور اسی طرح جب محمد بن زکوان کے تلامذہ میں بھی عبد الصمد بن  عبد الوارث موجود ہے ۔
جیسا کہ امام ذھبی نقل کرتے ہیں:
محمد بن ذكوان الطاحي الأزدي مولاهم البصري،
وعنه: شعبة، وابن جريج، وإبراهيم بن طهمان، وعبد الله بن بكر السهمي، وحجاج بن نصير، وعبد الصمد بن عبد الوارث،
[تاریخ الاسلام]

تو معلوم ہوا جیسے مصنف کا شیخ
خلف”
جو عبد الوارث سے محمد بن زکوان سے روایت کرتا ہے ۔
اور عبد الوارث کا بیٹا عبد الصمد بھی محمد بن زکوان کے تلامذہ میں سے ہے ۔

تو اسی طرح یہ قرینہ بھی مضبوط ہے کہ
جب خلف بن سالم عبد الصمد بن عبد الوارث سے روایت کرنے والوں میں سے ہیں تو یہ انکے والد عبد الوارث بن سعید کے تلامذہ میں سے بھی ہیں۔

تو اس قرینہ سے ثابت ہوا کہ اس روایت کا اصل راوی
“خلف بن سالم”
ہے۔

اسکے بارے ائمہ کا کلام درج ذیل ہے :
امام ذھبی کہتے ہیں:
وكان لسعة حفظه يتبع الغرائب.
اور اپنی وسیع حافظے کی وجہ سے وہ غریب احادیث کا پیچھا کرتا تھا (یعنی انکو جمع کرتا تھا)

پھر امام احمد سے روایت کرتےہیں:
قال أبو بكر المروذي: سألت أبا عبد الله عنه، فقال: ما أعرفه يكذب، نقموا عليه بتتبعه هذه الأحاديث.
و بکر المروذی نے کہا: میں نے ابو عبد اللہ (امام احمد بن حنبل) سے ان کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا میں انہیں جھوٹ بولتے ہوئے نہیں جانتا، لوگوں نے ان پر یہ الزام لگایا کہ وہ غریب احادیث کی تلاش کرتے ہیں۔
[تاریخ الاسلام، للذھبی]

اسی طرح یہ راوی حضور اکرمﷺ کے مشاجرات پر روایات جمع کرتا تھا
امام ذھبی نقل کرتے ہیں:
وروى عبد الخالق بن منصور، عن ابن معين: صدوق.
قلت: إنه يحدث بمساوى أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم.
فقال: قد كان يجمعها، فأما أن يحدث بها فلا.

عبد الخالق سے مروی ہے ابن معین نے اسکو صدوق کہا ہے۔
میں نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی خامیوں کو بیان کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: وہ انہیں جمع تو کرتے تھے، لیکن انہیں بیان نہیں کرتے تھے۔
[میزان الاعتدال،و التاریخ بغداد]

یہی وجہ ہے کہ امام ابو داود اس سے روایت کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔
وكان أبو داود لا يحدث عن خلف بن سالم.
امام ابو داود  خلف بن سالم سے روایت نہین کرتے تھے۔
[سوالات ابی داود]

اور امام ابن حجر اسکے بارے کہتے ہیں:
خلف بن سالم المخرمي، ب ثقة حافظ، عابوا عليه التشيع
خلف بن سالم مخرمی یہ ثقہ حافظ ہے اور اس پر تشیع کا الزام ہے
[تقریب التھذیب]

تو معلوم ہوا ایک تو یہ غریب روایات کو جمع کرتا تھا۔ اور مشاجرات صحابہ پر بھی روایات جمع کرتا تھا۔ اور بیان بھی کرتا تھا تبھی تو امام ابو داود اس سے سکوت کیا روایت کرنے سے۔ اور اسی سبب اس پر شیعت کا الزام بھی لگایا گیا ناقدین کی طرف سے ۔

اور ایسا راوی جب منکر متن پر مبنی روایت میں منفرد ہو تو یقینن اسکی روایت قابل رد ہے ۔

اور پھر یہ کہ اس روایت کو جب امام بزار نے روایت کیا تو اس متن میں کوئی وغیرہ نہیں تھے۔
جیسا کہ امام بزار روایت کرتے ہیں:
حدثنا السكن بن سعيد، قال: نا عبد الصمد، قال: نا أبي،
وحدثنا حماد بن سلمة، عن سعيد بن جمهان، عن سفينة، رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان جالسا فمر رجل على بعير وبين يديه قائد وخلفه سائق، فقال: «لعن الله القائد والسائق والراكب»
[مسند البزار]

جبکہ اس روایت میں  عبد الصمد اپنے والد عبد الوارث سے روایت کرتا ہے ۔
اور
پھر عبد الوارث کا متابع حماد بن سلمہ ہے یہ دونوں جب اس روایت کو  سعید کے زریعہ حضرت سفینہ سے روایت کرتے ہین تو تب اس میں کسی مجہول شخص کا ذکر ہے ۔ کہ وہ واپنے بیٹے کے ساتھ جا رہا تھا تو نبی نے ان پر لعنت کی۔
معلوم نہیں وہ کون منافق تھے ، یا حضور کے دشمن تھے جن سے ظاہری تکلیفیں رسولﷺ کو پہنچی یا یہود و نصارہ تھے ۔
اور جب اس روایت کو خلف نامی راوی جو کہ ابن سالم ہے جب وہ روایت کرتا ہے جو شیعت اور صحابہؓ کی مذمت پر مبنی روایت کو جمع کرنے میں معروف تھا جب وہ روایت کرتا ہے تو ان مجہول لوگوں کے ناموں میں حضرت ابو سفیان، حضرت معاویہؓ اور حضرت یزید بن معاویہؓ کو شامل کر دیتا ہے ۔

اس روایت کے باطل اور منکر ہونے پر سب سے بڑی دلیل ہی یہی ہے کہ یہ روایت متقدمین میں کسی کو نہ مل سکی اور مںصف الانساب کو آ پہنچی!
پھر یہ کہ مصنف کے شیخ کے علاوہ کوئی بھی اس رویت کو ناموں کے ساتھ روایت نہیں کرتا جبکہ امام بزار نے اس کے دو طریق روایات کیے جس میں عبد الوارث ہی بیان کرتا ہے اور اسکا متابع حماد بن سلمہ ہے ۔ دونون اس روایت کو مجہول اشخاص کے طور پر روایت کرتے ہیں ۔
جو اس بات کی متقاضی ہے کہ یہ روایت مین نام شامل کرنا اہل تشیع راوی سے وھم ہوا کہ کیونکہ وہ غریب روایات کا حافظ تھا تو اس نے ضعفاء سے بیان کردہ متن کو اس میں شامل کر دیا۔
اور ناموں میں بھی تبدیلی کر دی ۔
کیونکہ اس روایت کو ضمنی طور پر امام طبری نے جب روایت کیا تو اس روایت کچھ اس طرح سے تھا:
ومنه قول الرسول ع وقد رآه مقبلا على حمار ومعاويه يقود به ويزيد ابنه يسوق به: لعن الله القائد والراكب والسائق
اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول شامل ہے، جب آپ نے دیکھا کہ معاویہ ایک گدھے کو لے کر آ رہے ہیں، اور ان کا بیٹا یزید اسے ہانک رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ لعنت کرے اس شخص پر جو لے کر جا رہا ہے، اس پر جو سوار ہے، اور اس پر جو ہانک رہا ہے۔
[تاریخ الطبری]

امام طبری نے بغیر سند اس روایت کو بیان کیا ہے ۔ اور اس متن سے یہ روایت باطل ہے کہ حضور اکرمﷺ کے دور میں تو یزید پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔ تو حضور اکرمﷺ کیسے یزید کو لعنت بھیج سکتے ہیں۔
معلوم ہوا یہ جھوٹ کا پلندہ تھا جو ضعفاء نے یا شیعان نے گڑھا حضور پر۔
اور
خلف بن سالم جو شیعت میں معروف تھا اور مشاجرات و مثالب والی روایات کو بیان کرنے میں معروف تھا ۔ اس نے مذکورہ روایت میں ان ناموں کو ضعفاء سے سن کر بیان کر دیا اور روایت کو مقلوب کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مذید اس روایت میں ایک اور علت بھی ہو سکتی ہے ۔
سعید بن جھمان کا حضرت سفینہ سے روایت طریق پر ائمہ کا کلام!
سعید بن جھمان کا سماع حضرت سفینہ سے انکے بالکل آخری دور میں ہوا ہے ۔

جیسا کہ ائمہ کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت سفینہ کا انتقال 70ھ کے فورنا بعد ہو گیا تھا ۔

جیسا کہ امام ذھبی لکھتے ہیں:
توفي: بعد سنة سبعين.
ان کا انتقال سن 70 ہجری کے بعد ہوا۔
[سیر اعلام النبلاء]

اور خود سعید بن جھمان کا قول ہے کہ اسکا سماع حضرت سفینہؓ سے حجاج بن یوسف کے دور حکومت میں ہوا تھا ۔

جیسا کہ امام احمد روایت کرتے ہیں:
حدثني أبي. قال: حدثنا أبو النضر. قال: حدثنا حشرج بن نباته العبسي كوفي. قال: قلت لسعيد بن جمهان: اين لقيت سفينة؟ قال: لقيته ببطن نخلة في زمن الحجاج، فأقمت عنده ثمان ليال أسأله عن أحاديث رسول الله – صلى الله عليه وسلم -. قلت: ما اسمك؟ قال: سماني رسول الله – صلى الله عليه وسلم – سفينة.
امام عبداللہ کہتے ہیں: میرے والد نے مجھے بیان کیا۔ ہمیں ابو النضر نے بات بیان کی۔ انہوں نے کہا ہمیں حشرج بن نباتہ العبسی کوفی نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے سعید بن جهمان سے پوچھا: آپ نے سفینہ سے کہاں ملاقات کی؟ انہوں نے کہا میں نے ان سے بطنِ نخلة میں حجاج کے زمانے میں ملاقات کی، اور آٹھ دن ان کے پاس ٹھہرا رہا، ان سے رسول اللہ ﷺ کی احادیث کے بارے میں پوچھتا رہا۔ میں نے پوچھا آپ کا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے میرا نام سفینہ رکھا۔
[العلل عبداللہ]

اور حجاج بن یوسف کا دور 74ھ سے 95ھ تک کا حکومت کا دور ہے ۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ جب سیعد بن جھمان نے حضرت سفینہ سے ملاقات کی اس وقت حضرت سفینہ بالکل اپنی زندگی کے آخری آیام میں تھے۔
اور انو ریحانہ جو کے حضرت سفینہ کے تلامذہ میں سے تھے ایک روایت کے تحت وہ یہ بات کرتے ہیں جسکو امام مسلم نے روایت کیا ہے حدیث میں اختلاف واقع ہونے میں ۔
وفي حديث ابن حجر، او قال: ويطهره المد، وقال: وقد كان كبر، وما كنت اثق بحديثه.
لی) ابن حجر کی روایت میں ہے کہ یا (ابو ریحانہ نے ایک مد سے وضو فرما لیتے تھے کے بجائے)  ایک مدپانی سے آپ کا وضو ہو جاتاتھا کہا۔ ابو ریحانہ نے کہا: سفینہ رضی اللہ عنہ عمر رسیدہ ہو گئے تھے، اس لیے مجھے ان کی حدیث پر اعتماد و وثوق نہیں ہے۔
[صحیح مسلم]

یہی وجہ ہے کہ امام طرابلسی اس قول کے سبب حضرت سفینہ کے تعلق سے لکھتے ہیں:
صحابي مشهور في صحيح مسلم في الطهارة في حديث ابن حجر قال ابن حجر وقد كان كبر وما كنت أثق بحديثه انتهى
فهذا والله أعلم يعني أنه اختلط أو كبر وغلب عليه النسيان
امام طرابلسی ابو ریحانہ کا قول علی بن حجر سے نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:
اس قول کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ انکی مراد حضرت سفینہ کے اختلاط کے حوالے سے تھی یا جب وہ بوڑھے ہو گئے تو ان پر نسان غالب آگئی تھی ۔
[الاغتباط بمن رمي من الرواة بالاختلاط]

پھر اس طریق سے ساتھ سعید بن جھمان کا طریق مل جائے تو روایت میں مزید شکوک پیدا ہو جاتے ہیں
کیونکہ سیعد بن جھمان نے متعدد منکر متن پر مبنی روایات حضرت سفینہ سے روایت کر رکھی ہیں،

یہی وجہ ہے کہ ناقدین میں خاص کر امام ابو بکر نے یہ تصریح کر رکھی ہے :
وقال ابن عدی(سعید) روى عن سفينة أحاديث لا يرويها غيره
سعید حضرت سفینہ نے اسیی روایات لاتا ہے جو اسکے علاوہ کوئی بیان ہنیں کرتا۔

وقال البخاري في حديثه عجائب
امام  بخاری کہتے ہیں اس روایات میں عجائب (غریب روایات) ہوتی ہیں۔

[تھذیب التھذیب]
اور حضرت سفینہ سے سعید بن جمھان کا سماع بلکل آخری دور میں تھا اس بات کو مزید امام ابو داود کا یہ کلام تقویت دیتا ہے ۔
سألت أبا داود، عن سعيد بن جمهان؟ فقال: هو ثقة إن شاء الله، وقوم يقعون فيه، إنما يخاف ممن فوقه وسمى رجلا. يعني سفينة.
میں نے امام ابو داود سے سعید بن جمھان کے بارے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اگر اللہ نے چاہا تو ثقہ ہے۔ لیکن ائمہ ناقدین نے ان پرکلام کیا ہے ۔ اور انکو خوف ہوتا ہے اس کے اوپر والے راوی سے  یعنی حضرت سفینہ سے
[سوالات لابی داود]

یعنی جب ناقدین کے پاس سعید بن جمھان عن سفینہ کا طریق آتا تو وہ ایسی روایت کو مشکوک قرار دیتے تھے۔ کیونکہ اس طریق سے مناکیر اور عجیب و غریب روایات مروی ہوتی تھیں۔

خلاصۃ تحقیق:
مذکورہ روایت کو صاحب نے الاشراف نے بیان کی ہے
اسکا شیخ خلف کا تعین قطعی نہیں
اور
قرائن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ خلف بن سالم ہے جو شعیت کی طرف معروف تھا
نیز اس روایت کو سعید بن جمھان سے عبد الوارث کے طریق سے جب اسکا بیٹا روایت کرتا ہے
اور عبد الوارث کا متابع حماد بن سلمہ روایت کرتا ہے تب بھی اس رویت میں کوئی ناموں کی تصریح نہیں ہے ۔
ناموں کے ساتھ یہ روایت بیان کرنے میں خلف کا تفرد ہے اور روایت معلول ہے ۔

تحقیق: اسد الطحاوی