أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَهٗؕ‏ ۞

ترجمہ:

کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں فرمائیں گے ؟

 

القیامہ : ٤۔ ٣ میں فرمایا : کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں فرمائیں گے ؟۔ کیوں نہیں ! ہم اس پر ضرور قادر ہیں۔ الایۃ۔

القیامہ : ٢۔ ١ کی قسموں کا جواب

اس سے پہلے القیامہ : ٢۔ ١ میں جن قسموں کا ذکر فرمایا ہے، ان قسموں کے جواب میں مفسرین کا اختلاف ہے، جمہور مفسرین نے کہا : اس کا جواب یہ ہے کہ تم کو ضرور کرنے کے بعد اٹھایا جائے گا اور یہ جواب محذوف ہے، اس پر قرینہ القامیہ، ٤۔ ٣ ہے، جن میں فرمایا ہے : کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں فرمائیں گے۔ کیوں نہیں ! ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کا ہر جوڑ اپنی جگہ پر درست کردیں۔ حسن بصری نے کہا : اس کے جواب پر دلیل القیامہ : ٤ ہے، یعنی کیوں نہیں، ہم اس پر قادر ہیں۔

القیامہ : ٣ کا شان نزول

مشہور یہ ہے کہ اس آیت میں انسان سے مراد معین انسان ہے، مفسرین نے بغیر سند کے یہ روایت بیان کیا ہے کہ عدی بن ربیعہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر کہنے لگا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بتایئے کہ قیامت کب آئے گی اور اس کا معاملہ کس طرح ہوگا ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو قیامت کے احوال کی خبر دی، وہ کہنے لگا : اگر میں قیامت کے دن کو دیکھ بھی لوں تب بھی آپ کی تصدیق نہیں کروں گا اور آپ پر ایمان نہیں لائوں گا، کیا اللہ تعالیٰ مردوں کی ہڈیوں کو جمع فرمائے گا ؟ کہا جاتا ہے کہ یہ آیت عدی بن ربیعہ اور اخنس بن شریک کے متعلق نازل ہوئی ہے اور ان دونوں کے متعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا کی تھی : اے اللہ ! ان دو برے پڑوسیوں سے تو مجھے کفایت فرما، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ابو جہل کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (امام ابو اسحاق ثعلبی متوفی ٤٢٧ ھ : الکشف والبیان ج ١٠ ص ٨٢، امام ابو الحسن الواحدی متوفی ٤٦١ ھ اسباب النزول ص ٤٦٩، امام بغوی متوفی ٥١٢ ھ : معالم التنزیل ج ٥ ص ١٨٢، علامہ زمخشری متوفی ٥٣٨ ھ : الکشاف ج ٤ ص ٦٦٠، امام رازی متوفی ٦٠٦ ھ : تفسیر کبیرج ١٠ ص ٧٢٢، علامہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ : الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٨٦، علامہ آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ : روح المعانی جز ٢٩ ص ٢٣٦)

مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر کفار کا شبہ اور اس کا جواب

کفار جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کو یہ شبہ ہوتا تھا کہ جب انسان کی ہڈیاں بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور مٹی کے ذرات سے مختلط ہوجائیں گی، پھر عرصہ گزرنے کے بعد آندھیوں اور تیز ہوائوں سے ان کے ذرات اڑ کر دوسری ہڈیوں کے ذرات سے خلط ملط ہوجائیں گے، پھر ایک انسان کے ذرات دوسرے انسان کے ذرات سے کیسے ممیز اور ممتاز ہوں گے، پھر ان مختلف اور مختلط ذرات کو دوبارہ کس طرح انسانی پیکر میں ڈھالا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیوں نہیں ! ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کو ہر جوڑ اپنی جگہ پر درست کردیں۔ اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ان مختلف اور مختلط ذرات کو باہم ممتاز کرنا اور انسانی پیکر میں ڈھالنا اس شخص کے لیے مشکل ہوگا جس کا علم ناقص ہو اور اس کی قدرت ناقص ہو، اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کیوں مشکل ہوگا جس کا علم بھی کامل اور محیط ہے اور اس کی قدرت بھی کامل اور محیط ہے۔

نیز اس آیت کی تفسیر اس طرح ہے کہ ہم انسان کی انگلیوں کے پوروں کو دوبارہ بنانے پر کیوں قادر نہیں ہوں گے جب کہ ہم ان کو پہلی بار بنا چکے ہیں اور دوسری بار بنانا تو پہلی بار بنانے سے زیادہ آسان ہے اور انگلیوں کی ہڈیوں کا ذکر فرما کر اس پر تنبیہ کی کہ جب ہم انسان کے جسم کی ان چھوٹی ہڈیوں کو دوبارہ بنانے پر قادر ہیں تو بڑی ہڈیوں کے بنانے پر بہ طریق اولیٰ قادر ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 3