أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَلۡ يُرِيۡدُ الۡاِنۡسَانُ لِيَفۡجُرَ اَمَامَهٗ‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے آگے بھی برے کام کرتا رہے.

القیامہ : ٥ میں فرمایا : بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے آگے بھی برے کام کرتا رہے۔

توبہ نہ کرنا اور روز قیامت کی تکذیب کرنا

اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں :

(١) یعنی وہ شخص مستقبل میں بھی برے کام کرتا رہے اور برے کاموں کو بالکل ترک نہ کرے، سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ وہ شخص تسلسل کے ساتھ گناہ کرتا رہے اور توبہ کو مؤخر کرتے رہے اور یہ کہتا رہے کہ میں عنقریب توبہ کرلوں گا حتیٰ کہ دو برے کاموں اور گناہوں میں مشغول ہو اور اسی حال میں اس کو موت آجائے۔

(٢) ” لیفجر امامہ “ کا معنی ہے : اس کو آگے جو امور پیش آنے ہیں یعنی آخرت میں ان کی تکذیب کرتا رہے اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے اور آخرت میں حساب و کتاب اور ثواب اور عذاب کی تکذیب کرتا رہے، اس پر دلیل یہ ہے کہ القیامہ : ٦ میں فرمایا : وہ سوال کرتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا ؟ یعنی اس کے آگے جو قیامت کا دن آنے والا ہے، اس کی تکذیب کرتا رہے گا اور گویا وہ قیامت کو جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے : وہ دن کب آئے گا ؟

القرآن – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 5