فِىۡ جَنّٰتٍ ۛ يَتَسَآءَلُوۡنَۙ سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 40
sulemansubhani نے Wednesday، 11 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فِىۡ جَنّٰتٍ ۛ يَتَسَآءَلُوۡنَۙ ۞
ترجمہ:
وہ جنتوں میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں گے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ جنتوں میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں گے۔ مجرموں کے متعلق۔ (وہ مجرموں سے کہیں گے :) تمہیں کس جرم نے دوزخ میں داخل کیا ؟۔ وہ کہیں گے : ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔ اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ اور ہم لغو کاموں میں مشغول رہتے تھے۔ اور ہم یوم جزا کی تکذیب کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ہم پر یقینی چیز آگئی۔ (المدثر : ٤٧۔ ٤٠ )
اس کی تحقیق کہ کفار احکامِ شرعیہ فرعیہ کے مخاطب ہیں یا نہیں
ان آیتوں کا معنی یہ ہے کہ دائیں طرف والے ایک دوسرے سے مجرمین کے متعلق سوال کریں گے اور یہ کہیں گے کہ مجرمین کہاں ہیں ؟ اور جب ان کو دیکھ لیں گے تو کہیں گے : تمہیں کس جرم نے دوزخ میں داخل کیا ؟ وہ کہیں گے : ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔
امام محمد بن عمررازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
یہ ضروری ہے کہ اس آیت میں نماز سے مراد فرض نماز ہو اور زکوٰۃ سے مراد زکوٰۃ واجبہ ہو، کیونکہ واجب کے ترک پر ہی عذاب ہوتا ہے اور انہوں نے کہا : ہم لغو کاموں میں مشغول رہتے تھے، اس سے مراد ہے : ہم باطل کاموں میں مشغول رہتے تھے اور انہوں نے کہا : ہم یوم جزا یعنی قیامت کے دن کی تکذیب کرتے تھے، حتیٰ کہ ہم پر موت آگئی۔
امام رازی فرماتے ہیں : ہمارے اصحاب نے اس آیت سے اس پر استدلال کیا ہے کہ کفار کو احکام ِ شرعیہ پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا، اس کی مکمل بحث ہم نے اپنی کتاب ” المحصول من اصول الفقہ “ میں کی ہے۔
(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧١٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
میں کہتا ہوں کہ سورة المدثر انتیس ویں پارہ کی آخری چار سورتوں میں سے ہے اور یہاں تک کہ تفسیر امام رازی ہی کی، کی ہوئی ہے جیسا کہ ان کے اس قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ کفار احکام ِ شرعیہ کے مکلف ہیں اور اس کی پوری تحقیق ہم نے اپنی کتاب المحصول میں کی ہے۔
المحصول میں امام رازی کے دلائل
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
ہمارے اکثر اصحاب اور اکثر معتزلہ کا مؤقف یہ ہے کہ احکام شرعیہ فرعیہ میں اللہ تعالیٰ کا امر ( حکم) حصول ایمان پر موقوف نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ کے جمہور اصحاب نے کہا ہے کہ احکام شرعیہ فرعیہ میں امر ( حکم) حصول ایمان پر موقوف ہے اور ہمارے فقہاء میں سے ابو حامد اسفرائنی کا بھی یہی قول ہے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کفار نواہی (ممنوعات) کے مخاطب ہیں اور امر ( احکام) کے مخاطب نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ اس اختلاف کا دنیاوی احکام میں کوئی ثمرہ مرتب نہیں ہوتا، کیونکہ کافر جب تک اپنے کفر پر قائم ہے، اس کا نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اور جب وہ اسلام قبول کرلے تو اس پر قضاء واجب نہیں ہے، اس اختلاف کا ثمرہ آخرت میں مرتب ہوتا ہے، کیونکہ کافر جب اپنے کفر میں مرجائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کو اپنے کفر پر عذاب ہوگا، رہا یہ کہ اس کو نماز، زکوٰۃ اور دیگر احکام شرعیہ کے ترک پر بھی عذاب ہوگا یا نہیں ؟ سو اس مسئلہ میں ہمارا مؤقف یہ ہے کہ جس طرح کافر کو ایمان نہ لانے پر عذاب ہوگا، اسی طرح اس کو عبادت کے ترک کرنے پر بھی عذاب ہوگا اور دوسرے فریق نے یہ کہا کہ کافر کو صرف ایمان نہ لانے پر عذاب ہوگا۔ اس مسئلہ میں ہمارے دلائل درج ذیل ہیں :
(١) کافر کے لیے ان عبادات کے وجوب کا سبب قائم ہے اور کفر ان عبادات کو کرنے سے مانع نہیں ہے، لہٰذا کافر کو ان عبادات کے ترک کرنے پر عذاب ہوگا۔
ہم نے جو یہ کہا کہ کافر کے لیے ان عبادات کو کرنے کا سبب قائم ہے، اس کی دلیل درج ذیل آیات ہیں :
یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ (البقرہ : ٢١) اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو۔
وَِ اللہ ِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً (آل عمران : ٩٧)
اور اللہ کے لیے لوگوں پر واجب ہے کہ وہ بیت اللہ کا حج کریں، جو لوگ سفر حج کی طاقت رکھتے ہوں۔
ان دونوں آیتوں میں عبادات اور حج کرنے کا حکم عام لوگوں کو دیا ہے جس میں مومن اور کافر دونوں شامل ہیں۔
ہم نے جو یہ کہا ہے کہ کفر عبادت کرنے سے مانع نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر اس پر قادر ہے کہ وہ پہلے ایمان لائے، پھر نماز پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے، جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ بےوضو شخص کو بھی نماز پڑھنے کا حکم ہے اور اس پر واجب ہے کہ وہ پہلے وضو کرے پھر نماز پڑھے۔
(٢) دوسری یہ دلیل ہے کہ قرآن مجید میں تصریح ہے کہ کافروں کو نماز نہ پڑھنے اور زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے عذاب ہوگا :
مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ ۔ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنََ ۔ (المدثر : ٤٢۔ ٤٣ )
( مومن مجرموں سے کہیں گے :) تمہیں کس جرم نے دوزخ میں داخل کیا ؟۔ وہ کہیں گے : ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ تو کافروں کا قول ہے، ہوسکتا ہے ان کا یہ قول باطل ہو اور اگر اس کا یہ جواب دیا جائے کہ اگر ان کا یہ قول باطل ہوتا تو اللہ فرما دیتا کہ ان کا یہ جواب باطل ہے، معترض کہتا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کیونکہ مشرکین قیامت کے دن کہیں گے :
وَ اللہ ِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ۔ (الانعام : ٢٣) اللہ کی قسم ! جو ہمارا رب ہے ہم شرک کرنے والے نہ تھے۔
اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تکذیب نہیں کی، پس معلوم ہوا کہ مشرکین کے غلط اور جھوٹے قول کی تکذیب ضروری نہیں، پس ہوسکتا ہے کہ مشرکین کا یہ کہنا کہ ہم کو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے یہ بھی جھوٹا قول ہو۔
معترض کہتا ہے کہ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کفار کو صرف تکذیب کی بناء پر عذاب ہو رہا ہے، قرآن مجید میں ہے :
وَکُنَّا نُکَذِّبُ بَیَوْمِ الدِّیْنِ ۔ (المدثر : ٤٦) اور ہم یوم جزاء کی تکذیب کرتے تھے۔
اور اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن کی تکذیب کرنا، دوزخ میں دخول کا مستقل سبب ہے اور جب دوزخ میں دخول کا مستقل سبب موجود تھا تو کسی اور سبب کی ضرورت نہیں تھی۔
معترض کہتا ہے : اگر ہم یہ تمام باتیں مان لیں، پھر بھی یہ تو ہوسکتا ہے کہ ” لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنََ ۔ “ (المدثر : ٤٣) کا معنی ہو ” لم نک من المومنین “ یعنی ہم کو عذاب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم مومن نہ تھے اور ” مصلین “ کا معنی مؤمنین ہے، اس پر دلیل یہ حدیث ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک مخنت کو لایا گیا، جس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگائی ہوئی تھی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ پس بتایا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ شخص عورتوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے، پھر آپ کے حکم سے اس کو مدینہ بدر کردیا گیا، صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اس کو قتل کیوں نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا : مجھے ” مصلین “ ( نماز پڑھنے والوں) کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٩٢٨ )
اس حدیث میں بھی ” مصلین “ سے مراد مؤمنین ہیں۔
معترض کہتا ہے : چلو اگر ہم یہ بھی مان لیں کہ ان کفار کو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے عذاب ہورہا تھا تو یہ کیوں نہیں ہوسکتا کہ ان کفار سے مراد وہ لوگ ہوں جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے تھے، پس انہوں نے اپنے زمانہ اسلام میں نمازیں پڑھی تھیں، لیکن ان کو اس وجہ سے عذاب ہو رہا تھا کہ وہ آخر وقت تک نمازیوں کے ساتھ شامل نہیں رہے تھے۔
امام رازی ان تمام اعتراضات کے جواب میں فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس قول کو نقل فرمایا ہے کہ ان کو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا تو ضروری ہے کہ کفار کا یہ کلام صادق ہو کیونکہ اگر ان کا یہ کلام کاذب ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کے کذب کو بیان فرما دیتا، ورنہ ان کے اس کلام کو نقل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا اور معترض نے جو یہ کہا ہے کہ کفار نے قیامت کے دن یہ بھی کہا تھا کہ اللہ کی قسم ! ہم شرک کرنے والے نہ تھے، اور ان کا یہ کلام ہدایۃً ، جھوٹ تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا رد نہیں فرمایا، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا رد اس لیے نہیں فرمایا کہ عقل ان کے اس کلام کو باطل سمجھنے کے لیے کافی تھی اور ان کے اس کلام کو نقل اس لیے فرمایا تاکہ دنیا اور آخرت میں ان کا عناد اور ان کی ہٹ دھرمی سے واضح ہوجائے، اور المدثر : ٤٣ میں ان کے کلام کے کذب کو سمجھنے کے لیے عقل کافی نہیں تھی، اس لیے اس کلام کا رد نہ فرمانا اس کی دلیل ہے کہ کفار کا یہ کلام صادق ہے، ورنہ اس کے ذکر کی کوئی ضرورت نہ تھی۔
رہا معترض کا یہ کہنا کہ ہوسکتا ہے کہ ان کو عذاب اس وجہ سے ہوا ہو کہ وہ قیامت کے دن کا انکار کرتے تھ جیسا کہ المدثر : ٤٦ میں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے یہ لازم آئے گا کہ ” قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنََ ۔ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ ۔ “ (المدثر : ٤٣۔ ٤٤) کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بلاوجہ اور بلا فائدہ کیا ہو، اور معترض نے جو یہ کہا ہے کہ قیامت کی تکذیب کرنا کفار کو دوزخ میں ڈالنے کا سبب مستقبل ہے، پھر دوسرے اسباب کی کیا ضرورت ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ کفار کے عذاب میں اضافہ کرنے کے لیے ان اسباب کی بھی ضرورت ہے۔
معترض نے یہ کہا کہ ہوسکتا ہے ” مصلین “ سے مراد مؤمنین ہوں، ہم کہتے ہیں کہ یہ تاویل اس آیت میں جاری نہیں ہوسکتی :” وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ ۔ “ (المدثر : ٤٤) اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، معترض نے جو معارضہ کیا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بھی مجرمین میں داخل ہیں۔
(٣) ہمارے مؤقف پر تیسری دلیل یہ ہے : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ ثُمَّ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ (القیامہ : ٤٤۔ ٤٥ )
تیری موت کے وقت عذاب لائق ہے پھر قبر میں عذاب لائق ہے۔ پھر حشر میں تیرے لیے عذاب لائق ہے، پھر دوزخ میں تیرے لیے عذاب لائق ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَوَیْلٌ لِّلْمُشْرِکِیْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ (حم السجدہ : ٦۔ ٧)
ان مشرکین کے لیے عذاب ہے۔ جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔
(٤) اس مؤقف پر چوتھی دلیل یہ ہے کہ کفار نہی کے بالا تفاق مخاطب اور مکلف ہیں، سو ضروری ہے کہ وہ امر کے بھی بالا تفاق مکلف ہوں، وہ نہی کے اس لیے مکلف ہیں تاکہ اس خرابی سے احتراز حاصل ہو، وہ جو امر ممنوع کے ارتکاب سے پیدا ہوتی ہے، پس ضروری ہوا کہ وہ امر کے بھی مخاطب اور مکلف ہوں تاکہ وہ مصلحت حاصل ہو جو ماموربہ پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ ( المحصول ج ٢ ص ٤١٣، ملخصاً و مخرجاً ، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٧ ھ)
کفار فروغ کے مخاطب ہیں یا نہیں ؟ اس مسئلہ میں فقہاء احناف کا مؤقف اور ان کے دلائل
امام ابو منصور محمد بن محمد بن محمود ماتریدی سمرقندی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :
قاعدہ یہ ہے کہ جن افعال کے کرنے کے جواز کا تعلق مؤمنین کے ساتھ ہے، جب ان کی نسبت کفار کی طرف کی جائے تو اس سے مرادان افعال کا قبول کرتا ہوتا ہے اور جب ان افعال کی نسبت مؤمنوں کی طرف کی جائے تو خود وہ افعال مراد ہوتے ہیں، لہٰذا اب یہ سوال نہیں ہوگا کہ کفار کو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے عذاب کیوں دیا جائے گا، کفار تو نماز پڑھنے کے مکلف ہی نہیں ہیں کیونکہ بغیر ایمان کے نماز قبول نہیں ہوتی، اس کا جواب یہ ہے کہ کفار کو عذاب اس لیے دیا جائے گا کہ انہوں نے نماز پڑھنے کے حکم کو قبول نہیں کیا تھا۔
اس کو تایپد اس سے ہوتی ہے کہ کفار کو عذاب اس وجہ سے دیا جائے گا کہ وہ قیامت کے دن تکذیب کرتے تھے اور اگر وہ نماز پڑھتے اور مسکین کو کھانا کھلاتے، سب بھی ان کو اس عمل سے فائدہ نہ ہوتا کیونکہ ان کا اللہ پر اور قیامت پر ایمان نہیں تھا۔ ( تاویلات اہل لسنۃ ج ٥ ص ٣٢٥، مؤسستہ الرسالۃ، ناشرون، بیروت، ١٤٢٥ ھ)
صدر الشریعۃ الفقیہ عبید اللہ بن مسعود حنفی متوفی ٧٤٧ ھ لکھتے ہیں :
آیاکفار احکام ِ شرعیہ کے مخاطب ہیں یا نہیں، یہ مسئلہ امام فخر الاسلام کی کتاب الاصول میں نہیں ہے، لیکن جب کہ یہ مسئلہ امام شمس الائمہ کی کتاب الاصول میں مذکور ہے تو اس کا امام سرخسی (رح) نے ذکر کیا ہے اور یہ کہا ہے :
کفار ایمان کے اور عقوبات ( حدود) اور معاملات اور عبادات کے آخرت میں مواخذہ کے حق میں مخاطب ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ ۔ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنََ ۔ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ ۔ (المدثر : ٤٢۔ ٤٤ )
( مؤمنین، مجرمین سے کہیں گے :) تمہیں کس جرم نے دوزخ میں داخل کیا ؟۔ وہ کہیں گے : ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔ اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔
کفار ایمان، عقوبات اور معاملات کے تو بالا تفاق مکلف ہیں اور مواخذہ آخرت کے حق میں وہ عبادات کے بھی بالا جماع مکلف ہیں، جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے، باقی رہا دنیا میں عبادات کو ادا کرنا تو اس میں اختلاف ہے، مشائخ عراق کے نزدیک ان پر دنیا میں عبادات کو ادا کرنا واجب ہے، کیونکہ اگر ان پر عبادات کو ادا کرنا واجب نہ ہوتا تو ان عبادات کو ترک کرنے پر ان سے آخرت میں مواخذہ نہ ہوتا، اور ہمارے شہروں کے مشائخ ( مشائخ سمر قند) کے نزدیک کفار عبادات کے مخاطب نہیں ہیں کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو ” لا الہ الا اللہ “ کی شہادت دینے کی دعوت دو ، پھر اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلیں تو ان کو خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ الحدیث (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٤٨، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٥٨٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٦٢٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٧٨٣، مسند احمد ج ٢ ص ٢٣٣)
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان پر پانچ نمازیں اس وقت فرض ہوں گی جب وہ توحید کی شہادت ادا کریں، ورنہ نہیں، جو فقہاء مفہوم مخالف سے استدلال کے قائل ہیں، ان کے اعتبار سے تو یہ دلیل بالکل ظاہر ہے، ہمارے نزدیک اس وجہ سے کہ کفار پر عبادت کی فرضیت کی کوئی دلیل نہیں ہے، نیز اس لیے کہ عبادت کرنے کا حکم حصول ثواب کے لیے دیا جاتا ہے اور کفار حصول ثواب کے اہل نہیں ہیں اور ان سے عبادات کا ساقط ہونا ان کے حق میں تخفیف نہیں ہے، بلکہ یہ ان تغلیظ ہے، اس کی نظیر یہ ہے کہ طبیب جب مریض کی شفاء سے مایوس ہوجائے تو اس کو دوا پینے کا حکم نہیں دیتا کیونکہ دوا اس کے لیے غیر مفید ہے، اسی طرح یہاں ہے، اور امام شمس الائمہ سرخسی نے ذکر کیا کہ ہمارے علماء نے اس مسئلہ میں کوئی تصریح نہیں کی بلکہ بعض متأخرین نے حنفی شافعی اختلافی مسائل سے استدلال کیا ہے اور امام شافعی (رح) سے اس مسئلہ میں اختلاف ہے، بعض متأخرین نے اس سے استدلال کیا ہے کہ جب مرتد دوبارہ مسلمان ہوجائے تو اس پر ایام ردت کی نمازوں کے قضاء لازم نہیں ہے اور امام شافعی کے نزدیک قضاء لازم ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے نزدیک مرتد نماز کے حکم کا مخاطب نہیں ہے، اور امام شافعی کے نزدیک مخاطب ہے، اور بعض متأخرین نے اس مسئلہ سے استنباط کیا ہے کہ جب ایک شخص نے اول وقت میں نماز پڑھی، پھر العیاذ باللہ وہ مرتد ہوگیا پھر وہ دوبارہ اسلام لے آیا اور ابھی وقت باقی تھا تو ہمارے نزدیک اس پر لازم ہے کہ اس نماز کو ادا کرے اور امام شافعی کے نزدیک لازم نہیں ہے، کیونکہ اس کے مرتد ہونے سے وہ خطاب معدوم ہوگیا، وہ نماز اس سے خطاب کی بناء پر صحیح تھی اور جب خطاب معدوم ہوگیا تو وہ ادا باطل ہوگئی اور جب وہ دوبارہ مسلمان ہوا اور وقت باقی تھا تو اس پر وہ نماز ابتداء ًواجب ہوگئی اور امام شافعی کے نزدیک مرتد بھی حکم ِ شرعی کا مخاطب ہے، لہٰذا اس کی ادا باطل نہیں ہوئی، اور یہ تمام دلائل ضعیف ہیں۔
پہلی دلیل کے ضعیف کی وجہ سے ہے کہ جب کوئی شخص مرتد ہوجائے تو اس پر ہمارے نزدیک ایام درت کی قضاء لازم نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّنْتَہُوْا یُغْفَرْلَہُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ (الانفال : ٣٨)
آپ کافروں سے کہیے کہ اگر یہ باز آجائیں تو ان کے پچھلے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔
پس مرتد پر ایام ردت کی نمازوں کی قضاء لازم نہ ہونے کی یہ وجہ نہیں ہے کہ کفار ہمارے نزدیک احکام ِ شرعیہ کے مخاطب نہیں ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے زمانہ کفر کے گناہ معاف کیے جاچکے ہیں، خواہ وہ احکام شرعیہ کے مخاطب رہے ہوں۔ اور دوسری دلیل کی وجہ ضعیف یہ ہے کہ جس شخص نے اول وقت میں نماز پڑھی پھر مرتد ہوگیا اور ابھی نماز کا وقت باقی تھا کہ وہ پھر مسلمان ہوگیا تو اس کی اول وقت میں پڑھی ہوئی نماز اس لیے باطل ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ (المائدہ : ٥) جس شخص نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا تو اس کا عمل باطل ہوگیا۔
پس اس کی اول وقت میں پڑھی ہوئی نماز باطل ہوگئی اور جب وہ دوبارہ مسلمان ہوا اور ابھی اس نماز کا وقت ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ نماز دوبارہ پڑھے، اور اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ ہمارے نزدیک مرتد ہونے کے وقت میں حکم شرعی کا مخاطب نہیں رہا تھا۔ ( توضیح ج ١ ص ٣٩٣۔ ٣٩٠، اصح المطابع، نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی، ١٤٠٠ ھ)
علامہ عبید اللہ کی یہ پوری تقریر علامہ سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ کی اصول السرخسی ج ١ ص ٩١۔ ٨٨، دارالمعرفہ، بیروت، ١٤١٨ ھ کا خلاصہ ہے۔
علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تقتاز انی متوفی ٧٩١ ھ ” توضیح “ کے حاشیہ میں لکھتے ہیں :
کفار پر دنیا میں عبادت کے واجب ہونے کے متعلق عراق کے مشائخ حنفیہ کا مذہب یہ ہے کہ کفار پر دنیا میں عبادات کا ادا کرنا واجب ہے اور وہ عبادات کے حکم کے مخاطب ہیں اور یہی امام شافعی کا قول ہے، اور ماوراء النہر کے شہروں کے عام مشائخ ( سمر قند کے فقہائ) کا قول یہ ہے کہ کفار عبادات کے حکم کے مخاطب نہیں ہیں، قاضی ابو زید، امام سرخسی، فخر الاسلام بزدوی اور عام متأخرین کا بھی یہی مختار ہے۔ (تلویح ج ١ ص ١٣٩، اصح المطابع، کراچی، ١٤٠٠ ھ)
علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ اس مسئلہ کے متعلق لکھتے ہیں :
” توضیح “ میں المدثر : ٤٣ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ کفار عبادات کے مخاطب ہیں اور یہ امام شافعی اور عراق کے مشائخ حنیفہ کے موافق ہے، اور صاحب توضیح اہل سمر قند کے قول کو ثابت کرنے کے درپے نہیں ہوئے اور اہل سمر قند نے جو یہ کہا ہے کہ اس آیت کی یہ تاویل ہے کہ وہ کفار نماز کی فرضیت کا اعتقاد نہیں رکھتے، ان کا یہ جواب مردود ہے کہ یہ مجاز ہے کہ اور مجاز بغیر دلیل کے ثابت ہیں ہوتا، اور اس مسئلہ میں معتمد قول مشائخ عراق کا ہے، جیسا کہ علامہ ابن نجیم نے کہا ہے کہ کفار کو عبادات نہ کرنے پر عذاب ہوگا اور ظاہر نصوص مشائخ عراق کی تایید کرتی ہیں، اور اس کی مخالف محض تاویل سے ہے اور حضرت معاذ کی حدیث میں مذکور ترتیب سے ہے کہ پہلے کفار کو ایمان کی دعوت دو ، پھر بتائو کہ ان پر پانچ نمازیں فرض ہیں، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کفار عبادت کے حکم کے مخاطب نہیں ہیں، البتہ ان کی عبادت بغیر ایمان کے صحیح نہیں ہوگی، امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کی طرف سے اس مسئلہ میں کوئی قول منقول نہیں ہے حتیٰ کہ ان کی طرف رجوع کیا جائے۔
(نسمات الاسحار شرح المنارص ١٦١۔ ١٦٠، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ، ١٤١٨ ھ )
علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی متوفی ١٠٦٩ ھ، البقرہ : ٢١ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
علامہ بیضاوی نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :” یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ “ (البقرہ : ٢١) علقمہ اور الحسن نے روایت کیا ہے کہ ہر وہ چیز جس میں ” یایھا الناس “ نازل ہوئی ہے وہ مکی آیت ہے اور ہر وہ چیز جس میں ” یایھا الذین امنوا “ نازل ہوئی ہے وہ مدنی آیت ہے، اگر یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے تب بھی اس آیت کی کفار کے ساتھ تخصیص واجب نہیں ہے، اور نہ ان کو خصوصیت کے ساتھ عبادت کا حکم دینا واجب ہے کیونکہ جو حکم دیا گیا ہے کہ اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو، یہ عبادت کی ابتداء کرنے میں عبادت میں زیادتی اور اس کے دوام میں عام ہے، پس کفار سے مطلوب یہ ہے کہ وہ ایمان لانے کے بعد عبادت کی ابتداء کریں کیونکہ ایمان لانا عبادت کے مقبول ہونے کی شرط ہے اور جس طرح کسی شخص کا بےوضو ہونا اس پر نماز کے وجوب کے منافی نہیں ہے، اسی طرح کسی شخص کا کفر بھی اس پر عبادت کے وجوب کے منافی نہیں ہے بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ کفر زائل کر کے اور اللہ پر ایمان لا کر عبادت میں مشغول ہو اور حکم میں ( اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو) مؤمنین سے مطلوب یہ ہے کہ وہ اپنی عبادت کو زیادہ کریں اور اس پر ثابت قدم رہیں۔
علامہ خفاجی فرماتے ہیں : اصول فقہ کی کتابوں میں اس مسئلہ کی تفصیل بیان کی گئی ہے کہ کفار احکام فرعیہ ( مثلاً نماز اور زکوٰۃ) کے مکلف ہیں یا نہیں ؟ علامہ ابن ہمام حنفی نے ” التحریر “ میں اور قاضی بیضاوی شافعی نے ” المنہاج “ میں یہ تصریح کی ہے کہ شرعی شرط کا حصول مکلف ہونے کی شرط نہیں ہے کیونکہ کسی شخص کا بےوضو ہونا اس کو مستلزم نہیں ہے کہ اس کو نماز کا مکلف نہ کیا جائے، اسی طرح کسی شخص کا کفر بھی اس کو مستلزم نہیں ہے کہ اس کو عبادت کا مکلف نہ کیا جائے، سمر قند کے مشائخ نے یہ کہا ہے کہ نماز کی فرضیت کے لیے یہ شرط ہے کہ اس سے پہلے ایمان کو حاصل کیا جائے اور اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ شرعی شرط کا حصول مکلف ہونے کی شرط ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز سب سے عظیم عبادت ہے اور تمام طاعات کی اصل ہے، لہٰذا جو اس سے کم درجہ کی عبادت ہے اس کی شرط کو مکلف ہونے کے لیے ضروری نہیں قرار دیا جائے گا، اور مشائخ سمر قند کے ماسوا شرعی شرط کے حصول کے بغیر بھی مکلف ہونے پر متفق ہیں اور ان کا اختلاف اس میں ہے کہ شرعی شرط کا حصول عبادت کی ادائیگی اور اعتقاد دونوں میں ضروری ہے یا صرف اعتقاد میں ضروری ہے، پس مشائخ عراق اور شافعیہ کے نزدیک شرعی شرط کا حصول عبادت کی ادائیگی اور اس کے اعتقاد دونوں میں ضروری ہے، پس ان کے نزدیک جو کفار نماز اور زکوٰۃ کی فرضیت کا اعتقاد نہیں رکھیں گے یا نماز اور زکوٰۃ کو ادا نہیں کریں گے ان کو عذاب دیا جائے گا، اور مشائخ بخارا اور سمر قند کے نزدیک شرعی شرط کا حصول صرف اعتقاد پر ضروری ہے، اس لیے جو کفار نماز اور زکوٰۃ کی فرضیت کا اعتقاد نہیں رکھیں گے، ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان کو ادا نہ کرنے پر عذاب نہیں ہوگا کیونکہ ان کے نزدیک وہ نماز اور زکوٰۃ کے ادا کرنے کے مکلف نہیں ہیں، صرف ان کی فرضیت کا اعتقاد رکھنے کے مکلف ہیں، اور امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے ان میں سے کسی چیز کی تصریح نہیں کی ہے لیکن امام محمد کے قول میں مشائخ عراق اور شافعیہ کے قول کی تایید کی طرف اشارہ ہے اور ظاہر قرآن بھی اسی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے :
وَوَیْلٌ لِّلْمُشْرِکِیْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ (حم السجدہ : ٦۔ ٧) ان مشرکین کے لیے ہلاکت ہو۔ جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔
(عنایۃ القاضی ج ٢ ص ١٠، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٧ ھ)
علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ اس آیت ( المدثر : ٤٤۔ ٤٢) کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ کفار فرعی عبادات کے مکلف ہیں، کیونکہ کفار نے اپنے عذاب کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھتے تھے، پس اگر وہ نماز پڑھنے کے مخاطب نہ ہوتے تو ان کو عذاب نہ دیا جاتا، اور اس استدلال کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ ان کے اس لیے عذاب دیا جائے گا کہ وہ نماز کی فرضیت کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے، اور وہ بھی فرضیت نماز کا اعتقاد رکھنے کے مخاطب ہیں، نیز یہ ہوسکتا ہے کہ ” لم نک من المصلین “ (المدثر : ٤٣) سے مراد ” لم نک من المومنین “ ہو یعنی ہم مؤمنین میں سے نہ تھے، علاوہ ازیں یہ تو کافروں کا کلام ہے، ہوسکتا ہے کہ انہوں نے عذاب کی وجہ بیان کرنے میں جھوٹ بولا ہو یا ان کو عذاب کی وجہ سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو، اور ان جوابات کو رد کردیا گیا ہے کیونکہ یہ جوابات ظاہر قرآن کے خلاف ہیں، اور کفار سے اس سوال اور جواب سے مقصود تو مسلمانوں کو نماز نہ پڑھنے سے ڈرانا ہے، اور اگر کفار کا جواب جھوٹا ہو یا خطا پر مبنی ہو تو اس کے ذکر کرنے میں کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔ ( روح المعانی جز ٢٩ ص ٢٢٨، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)
زیر بحث مسئلہ میں مصنف کا مؤقف
مصنف کے نزدیک قرآن کی یہ آیات اور حم السجدہ : ٦ اپنے ظاہر پر محمول ہیں اور قرآن مجید کے کسی لفظ کو خلاف ظاہر پر اس وقت محمول کیا جاتا ہے جب وہاں حقیقی معنی کا ارادہ کرنا محال عقلی یا محال عادی ہو یا شرعاً متعذر ہو اور جب ان آیات میں حقیقت کا ارادہ کرنے سے کوئی مانع نہیں ہے تو ان آیات کو خلاف ظاہر پر محمول کرنا جائز نہیں ہے اور اگر ان آیات سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ کفار احکام فرعیہ کے مخاطب ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جب کہ مشائخ عراق کا بھی یہی مؤقف ہے اور امام محمد نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے، اور اگر اس مسئلہ میں مشائخ سمر قند کی مخالفت ہوتی ہے تو ہوتی رہے، مشائخ سمر قند کی موافقت کے لیے بہر حال ظاہر قرآن کی مخالفت تو نہیں کرنی چاہیے، جب کہ ہم مشائخ سمر قند کے مقلد بھی نہیں ہیں، امام ابوحنیفہ کے مقلد ہیں اور امام ابوحنیفہ سے اس مسئلہ میں کوئی تصریح منقول نہیں ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 40