أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَةِؕ ۞

ترجمہ:

اور ملازمت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں۔

 

نفس لوامہ کے مصداق میں متعدد اقوال

ملامت کرنے والے نفس کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : قیامت کے دن ہر نفس اپنے آپ کو ملامت کرے گا، خواہ وہ نیک ہو یا بد، نیک نفس اپنے آپ کو اس لیے ملامت کرے گا کہ اگر اور زیادہ نیکیاں کرلیتا تو اس کو جنت میں اور زیادہ درجات ملتے اور بدنفس اپنے اوپر اس لیے ملامت کرے گا کہ وہ کیوں نہ گناہوں سے باز آیا اور کیوں نہ نیک کاموں میں مشغول رہا ؟

(٢) نفس لوامہ سے مراد نفوس متقیہ ہیں، یعنی متقی لوگ، وہ قامت کے دن نافرمانی کرنے والوں کو ملامت کریں گے کہ تم لوگوں نے گناہوں کو کیوں ترک نہیں کیا اور تقویٰ اور پرہیز گاری کو کیوں اختیار نہیں کیا ؟

(٣) نفس لوامہ سے مراد نفوس شریفہ ہیں جو اپنے آپ کو ہر وقت ملامت کرتے رہتے ہیں خواہ وہ نیک کاموں میں مصروف ہوں، حسن بصری نے کہا : تم مومن کو دیکھو گے کہ وہ ہرحال میں خود کو ملامت کرتا رہتا ہے اور جاہل برے کاموں میں مشغول ہو، پھر بھی اپنے آپ سے راضی رہتا ہے۔

(٤) نفس لوامہ سے مراد بد فطرت نفوس ہیں، جب وہ قیامت کے ہولناک اور دہشت ناک احوال دیکھیں گے تو وہ اپنے آپ کو ملامت کریں گے کہ وہ کیوں گناہوں میں مبتلا رہے، جیسے قرآن مجید میں ہے :

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْبِ اللہ ِ (الزمر : ٥٦ )

ایسا نہ ہو کہ کوئی نفس یہ کہے : ہائے افسوس ! میں نے اللہ کے معاملہ میں کوتاہی برتی۔

(٦) انسان کو افسوس کرنے والا تخلیق کیا گیا ہے، انسان پہلے کسی چیز کو طلب کرتا ہے اور جب وہ چیز اسے مل جاتی ہے تو پھر وہ اس پر افسوس کرتا ہے اور اس کو طلب کرنے پر اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے کہ میں نے اس چیز کو کیوں طلب کیا تھا، مثلاً شوگر کا مریض شوگر فری، بسکٹ یا شوگر فری مربہ منگواتا ہے اور جب اس کو کھانے سے اس کا پیٹ خراب ہوجاتا ہے تو اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے کہ میں نے کیوں یہ چیزیں منگوائیں اور چونکہ اس کے ساتھ یہ عمل بار بار ہوتا ہے، اس لیے اس کا نفس لوامہ ہوجاتا ہے، اس کی نظیر قرآن مجید میں ہے :

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا۔ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا۔ وَاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا۔ (لمعارج : ١٩۔ ٢١ )

بے شک انسان بہت کم زور دل کا پیدا کیا گیا ہے۔ جب اس پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے۔ اور جب اس کو کوئی خیر ملتی ہے تو وہ شکرادا نہیں کرتا۔

قیامت اور نفس لوامہ کی مناسبت

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قیامت کے ذکر میں اور نفس لوامہ میں کیا مناسبت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں لفظوں کو قسم میں جمع فرمایا ہے اور دونوں لفظوں کی قسم کھائی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قیامت کے احوال بہت خوفناک اور بہت دہشت ناک ہوں گے اور جب قیامت قائم ہوگی تو نفوس لوامہ کے احوال ظاہر ہوں گے، بعض نفوسکے نیک اعمال اور ان پر انعامات کا اظہار ہوگا، اس وقت وہ تمنا کریں گے : کاش ! ہم نے زیادہ نیک عمل کیے ہوتے تو ہم کو زیادہ انعامات ملتے اور بعض نفوس کے برے اعمال اور ان کے نتائج کا اظہار ہوگا، اس وقت وہ شرم سارہوں گے اور اپنے آپ کو ملامت کریں گے کہ کاش ! ہم نے یہ برے کام نہ کیے ہوتے، سو اس طرح نفس لوامہ کی احوال قیامت کے ساتھ بہت قوی مناسبت ہے، قیامت کے عجیب و غریب احوال اور ان کے ساتھ نفس لوامہ کی مناسبت ان آیات میں غور کرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ۔ (الذاریات : ٥٦ )

اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔

قیامت کے دن جب اکثر انسان اپنے نامہ اعمال کو اور میزان کو دیکھیں گے اور ان کو اپنے نیک اعمال کم دکھائی دیں گے تو وہ اپنے اوپر افسوس اور ملامت کریں گے کہ ہم کو عبادت کرنے کے لیے پیدا کیا گیا تھا اور ہم نے لہو و لعب اور لا یعنی کاموں میں زندگی گزار دی۔

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا وَحَمَلَھَا الْاِنْسَانُط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلًا۔ (الاحزاب : ٧٢)

ہم نے آسمانوں پر اور زمینوں پر اور پہاڑوں پر اپنی امانت ( احکام) کو پیش کیا، انہوں نے اس امانت میں خیانت کرنے سے انکار کیا اور خیانت کرنے سے ڈرے اور انسان نے اس امانت میں خیانت کی، بیشک وہ بہت ظالم اور بہت جاہل ہے۔

قیامت کے دن جب انسان اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی امانت میں خیانت کرنے کے نتائج اور عواقب دیکھے گا تو اس کو اپنی خیانت پر بہت افسوس ہوگا اور وہ اپنے آپ کو بہت ملامت کرے گا۔

اور ایسی بہت آیات ہیں جن میں غور کرنے سے قیامت اور نفس لوامہ میں مناسبت کا پتا چلتا ہے۔

نفس انسان کی تین قسمیں

نفس کی تین قسمیں ہیں : نفس امارہ، نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ۔

نفس امارہ کی یہ تعریف ہے کہ وہ طبیعت بدنیہ اور اس کے تقاضوں کی طرف مائل ہوتا ہے اور لذات اور شہوات حسیہ کے حصول کا حکم دیتا ہے اور دل کو گھٹیا اور خسیس چیزوں کی طرف کھینچتا ہے اور یہ نفس، اخلاق مذمومہ، شرور اور خبائث کا معدن اور منبع ہوتا ہے۔

نفس لوامہ وہ ہے جو دل کے نور سے روشن ہوتا ہے اور جب انسان پر غفت طاری ہوتی ہے اور وہ اپنی جبلت ظلمانیہ کے تقاضے سے کسی برائے یا گناہ کا ارتکاب کرلیتا ہے تو اس کا وہ نفس اس کو ملامت کرتا ہے اور اس سے متنفر ہوتا ہے۔

اور نفس مطمئنہ وہ ہے جو دل کے نور سے مکمل نور ہوتا ہے اور وہ مذموم صفات سے عاری اور خالی ہوتا ہے اور اوصاف محمودہ سے متصف ہوتا ہے اور اخلاق الٰہیہ سے متخلق ہوتا ہے اور اس انسان کی جبلت ظلمانیہ اسے برائی پر نہیں اکساتی اور نیکی کے خلاف مزاحمت نہیں کرتی۔

بعض صوفیاء نے یہ کہا ہے کہ نفس لوامہ ہی نفس مطمئنہ ہے جو نفس امارہ کو امامت کرتا رہتا ہے اور بعض صوفیا نے کہا : نفس لوامہ کا نفس مطمئنہ سے اوپر درجہ ہے کیونکہ نفس مطمئنہ خود کامل ہوتا ہے اور نفس لوامہ ملامت کر کے دوسرے کی تکمیل کرتا ہے۔

(المفردات ج ٢ ص ٥٨٨، روح المعانی جز ٢٩ ص ٢٣٦۔ ٢٣٥)

نفس کی تعریف اور اس کا مصداق

امام ابو القاسم عبد الکریم بن ھوازن القشیری المتوفی ٤٦٥ ھ لکھتے ہیں :

لغت میں نفس کا معنی کسی شی کا وجود ہے اور عرف میں نفس سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کے اوصاف کا معلول ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نفس سے مراد وہ لطیف چیز ہے جو اس جسم میں موجود ہے، اور وہی انسان کے اخلاق مذمومہ کا محل ہے، جیسا کہ روح ایک لطیف چیز ہے جو اس جسم میں رکھی گئی ہے اور وہی اخلاق محمودہ کا محل ہے اور ان میں سے بعض، بعض کے تابع ہیں اور ان کا مجموع انسان ہے۔

روح اور نفس کا صورت میں اجسام لطیفہ ہونا ایسے ہے جیسے ملائکہ اور شیاطین کا لطیف صورت میں ہونا ہے اور جس طرح آنکھ دیکھنے کا محل ہے، اور کان سننے کا محل ہے اور ناک سونگھنے کا محل ہے اور مونھہ ( منہ) چکھنے کا محل ہے اور جو سننے والا ہے اور دیکھنے والا ہے اور سونگھنے والا ہے اور چکھنے والا ہے، اس کا مجموع انسان ہے، اسی طرح اوصاف محمودہ کا محل قلب اور روح ہے اور اوصاف مذمومہ کا محل نفس ہے اور نفس بھی اس مجموع کا جز ہے اور قلب بھی اس مجموع کا جز ہے۔

( الرسالۃ القشیریۃ ص ١٢٣، دارالکتب العلمیہ، بیورت، ١٤١٨ ھ)

صوفیاء اور علامہ قشیری کی تعریفوں میں تطبیق

میں کہتا ہوں کہ صوفیاء اور علامہ قشیری نے جو نفس کی تعریفیں کی ہیں، ان میں کوئی تخالف اور اضطراب نہیں ہے، علامہ قشیری کے نزدیک فی نفسہٖ وضع اور تخلیق کے اعتبار سے نفس صفات ِ مذمومہ کا محل ہے اور صوفیاء اسی کو نفس امارہ کہتے ہیں، لیکن بعض نیک مسلمان نفس کے جبلی تقاضوں اور اس کے احکام کو مسترد کر کے اس کو صیقل کرلیتے ہیں اور جب ان کا نفس انہیں برے کاموں پر اکساتا ہے تو وہ اس کو ملامت اور سرزنش کرتے ہیں اور اس کو وہ نفس لوامہ کہتے ہیں اور بعض نفوس قدسیہ قلب کے نور سے مکمل منور ہوجاتے ہیں، وہ مذموم صفات سے بالکل عاری اور خالی ہوتے ہیں، وہ اوصاف محمودہ سے متصف اور اخلاق الٰہیہ سے متخلق ہوتے ہیں اور وہ برے کاروں پر نہیں اکساتے اور نہ نیک کاموں کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اور وہ انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کاملین کے نفوس ہوتے ہیں۔ اللھم ارزقنا شیئا من فیوضاتھم۔

القرآن – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 2