۲۲- باب فضل العلم

علم کی فضیلت

 

اس باب اور باب سابق کی مناسبت واضح ہے کیونکہ دونوں بابوں میں علم کا ذکر ہے اس پر یہ اعتراض ہے کہ کتاب العلم‘‘ کا پہلا باب بھی فضیلت علم میں تھا اور یہ باب بھی فضیلت علم میں ہے اور یہ تکرار ہے اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے باب سے مقصود علماء کی فضیلت کو بیان کرنا تھا اور اس باب سے مقصود علم کی فضیلت کو ظاہر کرنا ہے ۔

۸۲- حدثنا سعيد بن عفير قال حدثني الليث قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، عن حمزة بن عبد اللہ بـن عـمـر  أن ابن عمر قال سمعت رسول اللہ صلی الله عليه وسلم قال بينما أنا نائم أتيت بقدح لبن، فشربت حتى انى لارى الرى يخرج في اظفاری، ثم اعطيت فضلي عمر بن الخطاب، قالوا فما اولته یارسول الله؟ قال العلم۔اطراف الحدیث: ۳۶۸۱۔7007۔7027۔7032

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سعید بن عفیر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے لیث نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے عقیل نے حدیث بیان کی از ابن شہاب از حمزہ بن عبداللہ بن عمر از حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما  انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس وقت میں سویا ہوا تھا میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا۔ میں نے اس کو پیاحتی کہ میں نے دیکھا کہ (دودھ سے) سیری میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے، پھر میں نے اپنا بچا ہوا ( دودھ ) عمر بن الخطاب کو دے دیا صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ہے؟ آپ نے فرمایا: علم ۔

( صحیح مسلم :۲۳۹۱، سنن ترمذی: ۲۲۸۴ الطبقات الکبری ج ۲ ص ۳۳۵ السنتہ لابن ابی عاصم : ۱۲۵۵ صحیح ابن حبان : 6878 سنن بیہقی ج ۷ ص ۴۹ السنن الکبری للنسائی: ۸۱۲۳ تاریخ بغداد ج۱۰ص۲۳۱، مسند احمد ج ۲ ص ۸۳ طبع قدیم مسند احمد : ٬۵۵۵۴ ج۹ ص۳۸۹ مؤسسة الرسالة بیروت )

اس حدیث کی عنوان باب کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ باب کا عنوان ہے : علم کی فضیلت اور اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ آپ کو اس قدرعلم دیا گیا کہ اس کی سیری آپ کے ناخنوں سے باہر آ گئی ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) سعید بن عفیر

(۲ ) لیث بن سعد

( ۳) عقیل بن خالد

( ۴ ) ابن شہاب زہری ان سب کا تعارف ہو چکا ہے

( ۵ ) حمزہ بن عبداللہ بن عمر بن الخطاب القرشی العدوی، انہوں نے اپنے والد حضرت ابن عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے سماع کیا ہے، احمد بن عبد اللہ نے کہا: یہ تابعی اور ثقہ ہیں، بہت بڑی جماعت نے ان سے احادیث روایت کی ہیں.

(۶) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما آپ کا تعارف ہوچکا ہے ۔ ( عمدة القاری ج ۲ ص ۱۲۸ )

دودھ سے علم کو تعبیر کرنے کی توجیہ

اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کی تعبیر علم سے کی ہے،  کیونکہ دودھ اور علم دونوں کثرت نفع میں مشترک ہیں دودھ انسان کے جسم کی غذا ہے اور بدن کی اصلاح اور قوت کا سبب ہے اور علم انسان کی روح کی غذا ہے اور اس کی دنیا اور آخرت کی اصلاح کا سبب ہے ۔خواب میں دودھ کو دیکھنا سنت اور فطرت پر استقامت اور علم دین کے حصول کی دلیل ہے کیونکہ دودھ وہ پہلی غذا ہے، جو نومولود کو دنیا کے طعام سے دی جاتی ہے اور دودھ سے اس کے بدن کی حیات حاصل ہوتی ہے جیسے علم سے دلوں کی حیات حاصل ہوتی ہے نیز دودھ جنت کی نعمتوں سے ہے کیونکہ جنت میں دودھ کے دریا ہوں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بچا ہوا دودھ حضرت عمر کو دیا اور اس کی تعبیر علم سے کی یہ اس کی دلیل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فطرت سلیم تھی اور ان کا دین صحیح تھا اور ان کا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض تھا۔ نیز اس حدیث میں حضرت عمر کی فضیلت ہے اور خواب کی تعبیر بیان کرنے کا جواز ہے ۔

اگر یہ سوال کیا جائے کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب وہی ہوتے ہیں تو آپ کا یہ خواب حقیقت واقعیہ تھا یا محض تخییل تھا اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حقیقت واقعیہ تھا کیونکہ یہ ممکن ہے اور اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے ۔

اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : 6068 – ج 6 ص ۹۰۸ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی ۔