أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗؕ ۞

ترجمہ:

پھر اس کا ( معنی) بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے

 

القیامہ : ١٩ میں فرمایا : پھر اس کا معنی بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے۔

حضرت جبریل سے قرآن مجید کی معافی پوچھنے کی ممانعت

امام رازی فرماتے ہیں : یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت جبریل کے پڑھنے کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے اور ان کے پڑھنے کے درمیان میں قرآن مجید کی مشکل مباحث اور اس کے معانی کے متعلق حضرت جبریل سے پوچھتے رہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان دونوں باتوں سے منع فرمایا اور فرمایا : آپ حضرت جبریل کے ساتھ ساتھ نہ پڑھیں بلکہ ان کے پڑھنے کے بعد پڑھیں اور قرآن مجید کے معانی کے متعلق آپ پریشان نہ ہوں اور حضرت جبریل سے اس کے معنی کے متعلق نہ پوچھیں، اس کا معنی بیان کرنا ہمارے ذمہ ہیں۔

بیان کے خطاب سے مؤخر ہونے کے متعلق امام ما تریدی کی تحقیق

بعض علماء نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ کسی آیت میں جو خطاب ہو اس کا فوراً بیان کرنا ضروری نہیں ہے اور خطاب کے وقت سے اس کے بیان کو مؤخر کرنا بھی جائز ہے اور علامہ ابو الحسن نے اس کے دو جواب دیئے ہیں۔

(١) ظاہر آیت کا تقاضا یہ ہے کہ وقت خطاب سے بیان کی تاخیر واجب ہے اور تم اسکے قائل نہیں ہو۔

(٢) ہمارا مؤقف یہ ہے کہ خطاب کا اجمال بیان تو فوراً لازم ہے اور تفصیلی بیان میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

قفال نے ایک تیسرا بیان بھی دیا ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ : پھر ہم آپ کو خبر دیں گے کہ ہم پر اس کا بیان لازم ہے۔

امام رازی فرماتے ہیں : آیت میں مطلقاً بیان کا ذکر ہے خواہ اجمالی ہو یا تفصیلی، سو ہر قسم کا بیان خطاب سے مؤخر ہوسکتا ہے اور قفال کا سوال ضعیف ہے، کیونکہ اس میں بغیر کسی دلیل کے ظاہر کو ترک کردیا ہے۔

( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧٢٩، داراحیاء التراث، العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام ابو منصور محمد بن محمد محمود ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ اس بحث میں لکھتے ہیں :

اس آیت کا معنی ہے : جن آیات کو ہم نے اجمالاً نازل کیا ہے، ان کا بیان کرنا ہم پر لازم ہے، پس اس کے بیان سے اس کا اتمام کردیا جائے گا، اور یہ بتایا جائے گا کہ وہ کام جائز ہے یا مستحسن ہے کیونکہ فرائض کی گئی شاخیں ہوتی ہیں، اس میں ارکان، لوازم اور آداب ہوتے ہیں، اور اس میں یہ دلیل ہے کہ خطاب کے وقت سے بیان کو مؤخر کرنا جائز ہے اور فرمایا : ہم پر بیان کرنا لازم ہے، یعنی اس میں کنایہ ہے یا اس کا تعلق اصول کے ساتھ ہے یا فروغ کے ساتھ ہے، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اصول اور کنایات کو بیان کیا جائے گا اور بعد میں جو مجتہدین ان آیات میں غور و فکر کریں گے ان پر ان آیات کے مقاصد کھول دیئے جائیں گے۔ ( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٣٢٩، مؤسسۃ الرسالۃ، ناشرون، ١٤٢٥ ھ)

بیان کے خطاب سے مؤخر ہونے کے متعلق امام رازی کی تحقیق

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

قدیم روافض کی قوم کا یہ زعم ہے کہ اس قرآن میں تغیر و تبدل اور تحریف کی گئی ہے اور اس میں زیادتی اور کمی بھی کی گئی ہے۔ اور ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ آیات جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عجلت سے اور زبان کو حرکت دینے سے منع فرمایا ہے اور یہ ظلم دیا ہے کہ آپ حضرت جبریل کے پڑھنے کے دوران نہ پڑھیں اور انکے پڑھنے کے بعد پڑھیں اور ان کے معنی کے متعلق آپ حضرت جبریل سے نہ پوچھیں، ان کے معنی کا بیان کرنا ہم پر لازم ہے، روافض کہتے ہیں کہ القیامہ : ١٩۔ ١٦ کی یہ آیات اس سے پہلے کی آیات ہے اور اس کے بعد کی آیات سے کوئی مناسبت نہیں رکھتیں، اس سے معلوم ہوا کہ یہ حصہ قرآن نہیں ہے، اور غیر قرآن کو قرآن میں شامل کردیا گیا ہے، اس لیے ہم پر ضروری ہے کہ ہم ان آیات کی اس سے پہلی اور بعد کی آیات کے ساتھ مناسبت کریں، سو ہم کہتے ہیں کہ یہ مناسبت متعدد وجوہ سے ہے :

(١) ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن پڑھنے میں جو عجلت کرنے سے منع فرمایا ہے، یہ عجلت کا واقعہ سورة القیامہ کی ان ہی آیات کے درمیان پیش آیا ہو، تو اس کے لیے ضروری ہوا کہ آپ کو ان ہی آیات کے درمیان عجلت کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے سے منع کیا گیا ہو۔

(٢) اس سے پہلے ذکر فرمایا ہے کہ کفار سعادت عاجلہ کو پسند کرتے تھے، ارشاد فرمایا :

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ ۔ (القیامہ : ٥)

بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے آگے بھی برے کام کرتا رہے۔

پھر اس کے بعد بیان فرمایا کہ عجلت کرنا مطلقاً مذموم ہے حتیٰ کہ نیک کاموں میں بھی عجلت نہیں کرنی چاہیے، اس لیے فرمایا :rnَاتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ ۔ (القیامہ : ١٦)

آپ ( قرآن کو یاد کرنے کے لیے) عجلت سے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔

اور ان آیات کے اخیر میں فرمایا :

کَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ ۔ (القیامہ : ٢٠ )

ہر گز نہیں ! بلکہ تم جلد ملنے والی چیز سے محبت رکھتے ہو۔

(٣) گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے محمد ! ، اس تعجیل سے آپ کی غرض یہ ہے کہ آپ قرآن کو حفظ کرلیں اور مشرکین مکہ کو قرآن مجید کی تبلیغ کریں لیکن اس میں آپ کو تعجیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہر انسان کو اپنے نفس پر بصیرت ہے، اور وہ اپنے دلوں سے یہ بات جانتے ہیں کہ انہوں نے کفر، بت پرستی اور انکار قیامت کو جو اختیار کیا ہوا ہے وہ باطل ہے اور بد ترین عقیدہ ہے، پس اگر قرآن مجید کو عجلت سے پڑھنے میں آپ کی غرض یہ تھی کہ ان کو ان کے عقیدہ کی خرابی پر مطلع کریں لیکن یہ چیز تو وہ از خود جانتے ہیں تو پھر اس کے لیے ان کو جلدی جلدی اپنی زبان کی حرکت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو ایک اور سورت میں بھی بیان فرمایا ہے :

وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہٗز وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِی عِلْمًا۔ (طہٰ : ١١٤)

آپ اس سے پہلے قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کریں حتیٰ کہ آپ کی طرف وحی پوری کی جائے اور یہ دعا کریں کہ اے میرے رب ! میرے علم میں اضافہ فرما۔

یعنی قرآن مجید کو حفظ کرنے کے لیے اس کو بار بار دہرانے سے مدد طلب نہ کریں، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں : اے میرے رب ! میرے علم میں اضافہ فرما۔

قفال نے اس کی توجیہ میں یہ کہا ہے کہ ان آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب نہیں ہے بلکہ عام انسانوں سے خطاب ہے، جس طرح عام انسانوں سے خطاب کرکے یہ فرمایا ہے :

یُنَبَّؤُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍم بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ ۔ (القیامہ : ١٣)

اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے اور پچھلے کاموں کی خبر دی جائے گی۔

جب انسان کو اس کے اعمال نامہ میں تمام برے کام دکھائے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا :

اِقْرَاْ کِتٰـبَکَط کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا۔ (بنی اسرائیل : ١٤)

آج اپنا اعمال نامہ خود ہی پڑھ لئے، آج تو خودہی اپنا حساب لینے کے کافی ہے۔

پھر جب وہ اپنا اعمال نامہ پڑھنے لگے تو خوف کی شدت سے اس کی زبان کپکپانے لگے گی اور وہ عجلت سے پڑھنے کی کوشش کرے گا، تب اس سے کہا جائے گا : تم عجلت سے پڑھنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو کیونکہ ہم پر ہماری وعید کے اعتبار سے یا ہماری حکمت کے اعتبار سے واجب ہے کہ ہم تمہارے تمام اعمال کو تمہارے سامنے جمع کریں اور تمہارے سامنے تمہارے اعمال کو پڑھیں، پس جب ہم تمہارے اعمال کو تمہارے سامنے پڑھیں تو ہم تمہارے پڑھنے کی اتباع کرو اور یہ اقرار کرو کہ تم نے یہ اعمال کیے ہیں، پھر ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے احکام کا بیان کریں اور ان پر عمل نہ کرنے کی سزائوں کا بیان کریں اور اس آیت کی اس تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کافر کے تمام اعمال کو اس کے سامنے تفصیل سے بیان فرمائے گا، اور ان آیات میں اس کے لیے دنیا میں شدید وعید ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے، پھر قفال نے یہ کہا کہ یہ ان آیات کی بہت حسین توجیہ ہے اور عقلی طور پر اس میں کوئی خرابی نہیں ہے، اگرچہ اس کی تائید میں احادیث اور آثار وارد نہیں ہیں۔

(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧٢٧، داراحیاء التراث العربی، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 19