فَاِذَا قَرَاۡنٰهُ فَاتَّبِعۡ قُرۡاٰنَهٗۚ – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 18
sulemansubhani نے Sunday، 15 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاِذَا قَرَاۡنٰهُ فَاتَّبِعۡ قُرۡاٰنَهٗۚ ۞
ترجمہ:
سو جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو آپ اس پڑھے ہوئے کی اتباع کریں۔
القیامہ : ١٨ میں فرمایا : سو جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو آپ پڑھے ہوئے کی اتباع کریں۔
حضرب جبریل کے فعل کو اللہ سبحانہ کا فعل قرار دینے کی ایک مثال اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایسی کئی مثالیں
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کے پڑھنے کو اپنا پڑھنا قرار دیا ہے اور یہ آیت حضرت جبریل (علیہ السلام) کے شرف عظیم پر دلالت کرتی ہے، ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق ایسی متعدد آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے فعل کو اپنا فعل قرار دیا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ستر انصار سے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے عوض خرید لیا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
اِنَّ اللہ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ (التوبۃ : ١١١)
بے شک اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا۔
اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو اپنے ہاتھ پر بیعت کرنا قرار دیا :
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللہ ط یَدُ اللہ ِ فَوْقَ اَیْدِیْھِم (الفتح : ١٠)
بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ یقینا اللہ سے بیعت کر رہے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔
حالانکہ ان کے ہاتھوں پر آپ کا ہاتھ ہے، اسی طرح فرمایا :
وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰـکِنَّ اللہ رَمٰی (الانفال : ١٧)
آپ نے ( حقیت میں) کنکریاں نہیں ماریں جب آپ نے ( بہ ظاہر) کنکریاں ماری تھیں لیکن وہ کنکریاں اللہ نے ماری تھیں۔
اسی طرح یہ آیت ہے :
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہ (النسائ : ٨٠) جس نے رسول کی اطاعت کرلی اس نے اللہ کی اطاعت کرلی۔
حضرت جبریل کے پڑھنے کی اتباع کا معنی
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب حضرت جبریل قرآن پڑھیں تو آپ ان کے پڑھنے کی اتباع کریں۔
صحیح یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ آپ کا پڑھنا حضرت جبریل کے پڑھنے کے ساتھ ساتھ نہیں ہونا چاہیے بلکہ واجب یہ ہے کہ جب تک حضرت جبریل پڑھتے رہیں، آپ خاموشی سے ان کے پڑھنے کو سنتے رہیں، حتیٰ کہ جب حضرت جبریل اپنے پڑھنے سے فارغ ہوجائیں تو اس کے بعد آپ پڑھنا شروع کردیں اور پڑھنے کی اتباع کا یہی معنی ہے اور حلال اور حرام میں قرآن مجید کی اتباع کا یہ کوئی مقام نہیں ہے، جیسا کہ اس سے پہلے صحیح بخاری کی روایت سے گزر چکا ہے کہ جب حضرت جبریل (علیہ السلام) قرآن مجید کی کسی آیت کو لے کر نازل ہوتے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سرجھکا کر سنتے رہتے تھے اور جب حضرت جبریل چلے جاتے تو پھر آپ پڑھنا شروع کرتے تھے۔
القرآن – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 18