لَا تُحَرِّكۡ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهٖؕ سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 16
sulemansubhani نے Sunday، 15 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَا تُحَرِّكۡ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهٖؕ ۞
ترجمہ:
آپ ( قرآن کو یاد کرنے کے لیے) عجلت سے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ ( قرآن کو یاد کرنے کے لئے) عجلت سے اپنی زبان کو حرکت نہ کریں۔ بیشک اس کو ( آپ کے سینہ میں) جمع کرنا اور آپ کو اس کا پڑھانا ہمارے ذمہ ہے۔ سو جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو آپ اس پڑھے ہوئے کی اتباع کریں۔ پھر اس کا معنی بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے۔ ( القیامہ : ١٩۔ ١٦)
دوران وحی قرآن مجید کو یاد کرنے کے لیے عجلت سے قرآن مجید کو دہرانے کی ممانعت
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن مجید کی کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ جلدی جلدی اپنی زبان کو حرکت دیتے، آپ حضرت جبریل (علیہ السلام) کے ساتھ اس آیت کو دہراتے رہتے تھے، آپ کا ارادہ یہ ہوتا تھا کہ آپ اس آیت کو حفظ کرلیں، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آپ ( قرآن کو یاد کرنے کے لیے) اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ آپ اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے، سفیان نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر دکھایا، امام ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید کی تنزیل سے بہت مشقت اٹھاتے تھے، اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : میں اپنے ہونٹوں کو اس طرح حرکت دیتا ہوں جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرکت دیتے تھے، سعید بن جبیر نے کہا : میں نے اپنے ہونٹوں کو اس طرح حرکت دیتا ہوں جس طرح حضرت ابن عباس (رض) حرکت دیتے تھے، پھر انہوں نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر دکھائی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٢٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٤٨، مسند الحمیدی رقم الحدیث : ٥٢٧، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٢٩، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٩، مسند احمد ج ١ ص ٣٤٣ )
تبیان القرآن سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 16