کاش میں ربیع الاول کے سارے مہینے ہی لوگوں کی دعوت کرتا
کاش میں ربیع الاول کے سارے مہینے ہی لوگوں کی دعوت کرتا۔۔۔
امام ملا علی قاری علیہ الرحمہ امام ابو اسحاق ابن جماعہ کا جب قول نقل کرتے کہ وہ جب مدینہ منوہ ہوتے تو میلاد شریف کے موقع پر لوگوں کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے۔
“کاش میرے بس میں ہوتا تو میں پورا مہینہ لوگوں کی ضیافت و طعام کرتا”
اس قول کو نقل کرنے کے بعد امام ملا علی قاری فرماتے ہیں:
میں کہتا ہوں
جب میں نے خود کو ظاہری ضیافت (کھانا کھلانے) سے عاجز پایا تو میں نے یہ صفحات (یعنی میلاد رسول پر کتاب) لکھ دیے تاکہ معنوی و نوری ضیافت ہی ہو جائے۔ جو زمانے کے صفحات پر ہمیشہ باقی رہے۔ اور یہ ضیافت کسی مہینے کے ساتھ خاص نہ ہو (کہ کتاب تو کسی بھی زمانے وقت و دن پڑھی جا سکتی ہے) میں نے اس کتاب کا نام “المورد الرای فی المولد النبوی رکھا ہے۔
(سبحان اللہ)
نوٹ:کوئی یہ اعتراض کرے کہ امام ملا علی قاری نے مہینے کی تخصیص کا انکار کیا پس ہمارا دعوی ثابت ہوا کہ مہینہ و سال خاص یا معین نہیں کرنا چاہیے۔
تو یہ بات صحیح نہیں کیونکہ انہوں نے معنوی و نوری ضیافت یعنی مطالعہ کتاب میلادکا ذکر کیا ہے تو کتاب تو واقعی مصنف کبھی کسی مہینے یا سال کے ایک دن پڑھنے کی تلقین نہیں کریگا کہ جب دل ہو پڑھا جائے۔
نیز ایک مقام پر اس کتاب میں امام ملا علی دن یا سال معین کرنے کے بارے میں یہودیوں کا یوم عشوری پر روزہ رکھنے والی روایت کو نقل کرکے فرماتے ہیں:
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ نعمت و احسان کے حصول یا کسی مصیبت کے دفع ہو جانے کے معین دن میں اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور اسی طرح ہر سال اس دن کے آنے پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے۔
مزید محفل میلاد رسول کو مختلف طریقہ پر منانے کے حوالے سے فرماتے ہیں:
میں کہتا ہوں مناسب تر تو یہی ہے کہ اس نعمت (میلاد شریف) کا شکر ادا کرنے کے لیے مذکورہ بالا عبادات کی صورتوں کو اختیار کیا جائے۔
باقی رہا سماع و لہو کا معاملہ تو جو مباح ہوں (خلاف شرعہ نہ ہوں) میلاد رسول کی خوشیوں کا بائث بنے تو اسکو اپنانے میں بھی کوئی حرج نہیں
[المورد الراوی فی المولد النبوی]
امام ملا علی قاری کی اتنی تصریحات کے بعد بھی دیوبند کا ہم پر کوئی اعتراض بنتا ہے؟
چراغاں
جھنڈیاں لگانے
جلوس نکالنے
اور
ضیافت و طعام کرنے کے حوالے سے؟
جبکہ یہ امام ملا علی کو “وکیل احناف” کا درجہ دیتے ہیں۔ اور انہی کے بیان کردہ اصول پر ہم کو بدعتی کہنے کی رٹ نکالتے ہیں۔
اصل میں دیوبند نے بریلویوں سے میلاد رسول کی ضد اپنے تین بابوں پر فتوی ک فر کی وجہ سے نکالی ہے۔
ورنہ سوائے میلاد کو چھوڑ کر
باقی ہر کاموں میں یہ ہم سے آگے ہی ہیں۔
چاہے جشن دیوبند ہو
تین بابوں میں سے کسی کی وفات یا پیدائش کا دن ہو۔
یا اجتماع رائونڈ ہو۔
یہ سارا مسلہ فرقہ ورانہ سوچ پر کھڑا ہے اور کچھ نہیں۔
باقی میلاد رسول کے نام پر جو تماشے اور خلاف شرعہ امور جاہل عوام کرتی ہے اسکی مذمت اور انکی روک ٹوک پر ہمار موقف بِھی ایک جیسا ہی ہے۔
لیکن دیوبند کبھی اپنی بنائی گئی حدود و قیود کے اندر میلاد رسول کے نام سے محفل کبھی منعقد نہیں کرینگے۔
کیونکہ ان کے اندر لفظ “میلاد رسول” یا عید میلاد النبی کے نام سے اتنی نفرت و چڑ پیدا ہو چکی ہے کہ
یہ
سیرت کانفرینس
ذکر رسول
اور دیگر نام رکھے گیں۔ لیکن مہینہ کو جس وجہ سے نسبت ہے وہ نہیں رکھیں گے۔
بلکہ یہ یوم وفات رسول بھی رکھ لینگے۔
لیکن یوم میلاد رسول نام رکھ کر محفل منعقد کرنا انکے بس کی بات نہیں کیونکہ ورنہ یہ “ہار” جائیں گے جو مقابلہ و مناظرہ یہ پچھلے پچاس سالوں سے لگا رہے ہیں ہم سے۔۔۔
تحریر: اسد الطحاوی