میلاد رسولﷺ کو” عید ” کہنا اور محدثین کا کتاب میلاد رسولﷺ کی سماعت و اجازت لینے کا ثبوت!
تحریر: اسد الطحاوی

میلاد رسولﷺ ایک ایسا اہم باب ہے جسکی بدولات آج ہم اللہ اور اسکے رسل و انبیاء  اور کتاب کو پہچانتے ہیں۔ اور اللہ کا یہ بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے ہم کو اپنے سب سے پیارے حبیب ﷺ کی امت میں چنا ۔

ایک اعتراض بریلویوں پر میلاد کو” عید” کہنے پر کیا جاتا ہے۔

جب کہ میلاد رسولﷺ کی محافل منعقد کرنے کا جب ہم سلف اور ائمہ سے ثبوت پیش کرتے ہیں ۔ تو ان ائمہ پر بدعت کا فتویٰ تو ہمارے مخالفین لگانے سے رہے پھر دوسری شاخ پر چھلانگ لگاتے ہوئے میلاد رسولﷺ پر لفط “عید” بولنے پر ہم کو بدعتی کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

جبکہ ہمارے علماء نے تصریح کی ہے کہ یہ لغوی و عرفی عید بمعنی خوشی کے بولا جاتا ہے ۔ نہ کہ اسکو شرعی طور پر عید میلاد النبیﷺ کہا جاتا ہے ۔  اور یہ لفظ ہم بریلویوں نے اپنی طرف سے نہیں لگایا  میلاد رسولﷺ کے تعلق سے بلکہ جس طرح سلف متاخرین نے میلاد رسولﷺ کے فضل و مناقب اور اسکو منانے کی ترغیب پر کتب لکھی ہیں اسی طرح ان سلف سے میلاد  رسولﷺ کے دن  کو عرفی طور پر عید کہنے کی تصریحات بھی ملتی ہیںَ

اب اسکا ثبوت سلف سے پیش کرتے ہیں:
امامزی علیہ  الرحمہ کے تلمیذ ایک شافعی محدث امام سعد الدین الكازرونی    گزرے ہیں جنہوں نے میلاد رسولﷺ پر کتاب تصنیف کی تھی۔ 
(جسکے قلمی  نسخہ کے اوراق ہم پیش کرینگے )
سب سے پہلے امام سعید الدین کاررونی کا تعارف پیش کرتے ہیں امام ابن حجر عسقلانی سے :
محمد بن مسعود بن محمد بن خواجه إمام مسعود بن محمد بن علي بن أحمد بن عمر بن إسماعيل ابن الشيخ أبي علي الدقاق البلياني الكازروني ذكره ابن الجزري في مشيخة الجنيد البلياني وقال إنه قرأ من لفظه من جامع المسانيد لابن الجوزي بسماعه من التقي أبي الثناء محمود بن علي بن مقبل ابن الدقوقي أنا عبد الصمد بن أحمد بن أبي الحسين أنا ابن الجوزي وأنه صافحهم وقال صافحني شرف الدين محمود بن محمد بن محمود الدرازيني أن الرضي محمد بن أبي بكر بن خليل المكي صافحه عن عبد الرحمن بن ناصر المكي عن عبد الله بن الجبار العثماني عن السلفي عن أحمد بن محمد ابن أحمد بن زنجويه عن محمد بن عبد الله بن بالويه عن الحسن بن سعيد المطوعي عن أبي عاصم محمد بن محمد بن زكرياء بنجد عن محمد بن كامل العثماني عن أبان العطار عن ثابت عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم يعيد التسلسل بالمصافحة كذا فيه وسقط منه شيء سأحرره ثم قال كان سعيد الدين محدثا فاضلا سمع الكثير وأجاز له المزي وبنت الكمال وجماعة وخرج المسلسل وألف المولد النبوي فأجاد ومات في أواخر جمادى الآخرة سنة 758
امام ابن حجر کہتے ہیں:
محمد بن مسعود بن محمد بن خواجہ امام مسعود بن محمد بن علی بن احمد بن عمر بن اسماعیل بن شیخ ابو علی الدقاق البلیانی الکازرونی کا ذکر ابن الجزری نے اپنی کتاب “مشیخة الجنید البلیانی” میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد بن مسعود نے ابن الجوزی کی “جامع المسانید” کو ابو الثناء محمود بن علی بن مقبل ابن الدقوقی سے سنا اور اس سے قراءت کی، اور انہوں نے ابن الجوزی کی اسناد کو اپنے سماع سے نقل کیا۔
اسی طرح انہوں نے روایت کیا کہ شرف الدین محمود بن محمد بن محمود الدرازینی نے انہیں مصافحہ کیا، اور کہا کہ انہیں الرضی محمد بن ابو بکر بن خلیل المکی نے مصافحہ کیا تھا، اور یہ مصافحہ عبدالرحمن بن ناصر المکی، عبداللہ بن الجبار العثمانی، السلفی، احمد بن محمد بن احمد بن زنجویہ، محمد بن عبداللہ بن بالویہ، حسن بن سعید المطوعی، ابو عاصم محمد بن محمد بن زکریا بنجد، محمد بن کامل العثمانی، ابان العطار، ثابت، اور پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک مسلسل سلسلے کے ساتھ نقل ہوتا رہا۔
یہ روایت مصافحے کے تسلسل کے بارے میں ہے۔ اس روایت میں کچھ کمی تھی جسے میں نے درست کیا ہے۔
(نوٹ: یہ روایت ایسی تھی کہ جسکو محدثین ہاتھ میں ہاتھ دے کر مصافحہ کرکے اپنی سند سے بیان کرتے تھے )
پھر کہا کہ سعید الدین ایک فاضل اور محدث تھے، جنہوں نے بہت ساری احادیث کو سنا اور ان کے پاس اجازت بھی تھی۔ انہیں   امام المزی (صاحب تھذیب الکمال)  اور بنت الکمال سمیت کئی محدثین نے اجازت دی۔ ا
“نہوں نے ایک مسلسل روایت مرتب کی اور میلاد النبی ﷺ پر کتاب بھی لکھی جسے عمدگی سے ترتیب دیا۔ ان کا انتقال جمادی الآخر کے آخری دنوں میں سن 758 ہجری میں ہوا۔”
[الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنة، برقم: 2053]

اور اس کتاب کو انکے بیٹے جو کہ خود بھی محدث تھے ۔ اور انہوں نے بھی اپنے والد کے ساتھ امام مزی سے سماعت حدیث کی اجازت حاصل کی تھی۔ اور ان کے بیٹے نے اپنے والد سے مذکورہ کتاب میلاد رسولﷺ کی سماعت کی بھی اجازت لی تھی ۔
تو انکے بیٹے کے تلمیذ  تھے امام  تقي الدين، أبو الطيب المكي الحسني الفاسي (المتوفى: 832هـ)

اور یہ اپنی کتاب میں جب انکے بیٹے کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کے بیٹے سے مذکورہ کتاب میلاد رسولﷺ پر اجازت و سماعت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
محمد بن محمد بن مسعود الكازروني الشيخ نسيم الدين أبو عبد الله ابن الشيخ سعد الدين الشافعي نزيل مكة. حدث بكتاب ألفه والده في مولد النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سمعته عليه مجلسا من اخره وأجاز لي به مع جميع مروياته. وذكر أن الحافظ أبا الحجاج المزي أجاز له باستدعاء أبيه مع جماعة من شيوخ دمشق وكان ذا معرفة بالفقه والنحو وغير ذلك درس كثيرا وتعبد واشتهر. توفي باللار2 في سنة احدى وثمانمائة بعد أن جاور بمكة بضع عشرة سنة
محمد بن محمد بن مسعود الکازرونی:
شیخ نسیم الدین ابو عبد اللہ بن شیخ سعد الدین الشافعی، جو مکہ مکرمہ میں مقیم تھے، انہوں نے اپنے والد کی تصنیف کردہ کتاب سے حدیث بیان کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلادشریف  کے بارے میں ہے۔ میں نے ان سے اس کتاب کا آخری حصہ سنا اور انہوں نے مجھے اس کتاب اور اپنی تمام روایات کی اجازت دی۔
انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ حافظ ابو الحجاج المزی نے ان کے والد کی درخواست پر انہیں دمشق کے دیگر شیوخ کے ساتھ اجازت دی تھی۔ شیخ نسیم الدین فقہ، نحو اور دیگر علوم میں مہارت رکھتے تھے، انہوں نے بہت تدریس کی اور عبادت میں مشغول رہے اور شہرت پائی۔
انہوں نے اللار میں سنہ 801 ہجری میں وفات پائی، اس سے قبل وہ مکہ مکرمہ میں تقریباً دس سے زیادہ سال مقیم رہے۔
[ذيل التقييد في رواة السنن والأسانيد،  برقم: 475]

اور علامہ زرکلی دمشقی  نے امام کازرونی کے ترجمہ میں مذکورہ کتاب کا نام ذکر کیا ہے جو کہ المنتقیٰ مولد الرسولﷺ کے نام سے معروف ہے ۔

چناچہ علامہ زرکلی دمشقی کہتے ہیں:
محمد بن مسعود بن محمد، سَعْد الدين الكازروني: محدث. سمع الكثير، وأجاز له المزي وجماعة. وخرّج (المسلسلات – خ) بدار الكتب، في الحديث. ومن كتبه (المغني الموجز – خ) في شستربتي (4022) و (الأحاديث الأربعون – خ) و (شرح المشارق) و (المنتقى، في مولد المصطفى – خ) صنفه بالفارسية وترجمه ابنه (عفيف الدين) إلى العربية (1) .
محمد بن مسعود بن محمد سعد الدین الکازرونی ایک معروف محدث تھے۔ انہوں نے بہت ساری احادیث کو سنا اور ان کے پاس کئی مشہور علماء کی اجازت تھی، جن میں المزی اور دیگر جماعت شامل ہیں۔ انہوں نے کئی کتب تصنیف کیں، جن میں “المسلسلات” بھی شامل ہے، جس کا ایک نسخہ دار الکتب میں موجود ہے۔ ان کی دیگر مشہور تصانیف میں “المغنی الموجز” (جس کا نسخہ شسٹر بیٹی میں موجود ہے، نسخہ نمبر 4022)، “الأحاديث الأربعون”، “شرح المشارق”، اور
“المنتقى في مولد المصطفى” شامل ہیں۔
آخری کتاب انہوں نے فارسی میں لکھی تھی، جس کا ترجمہ ان کے بیٹے عفیف الدین نے عربی میں کیا تھا۔
[الأعلام الزرکلی دمشقی]

اور مذکورہ کتاب کا  قلمی نسخہ میں ڈاونلود کیا ہے ۔ جس پر مجھے درج ذیل عبارات  پڑھنے کو ملی ہیں ۔

امام کازرونی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :
من ربیع الاول و یقولون ھذا میلاد النبیﷺ وھم معتادون بز کل کل سنة ولھم فی ذیل دعوات و ضیافات ساداتھم و علماءھم جمیع طوایف المسلمین۔۔۔
ربیع الاول کے مہینے سے وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ نبی کریم ﷺ کی ولادت کا مہینہ ہے اور وہ ہر سال اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس موقع پر ان کے لیے دعائیں ہوتی ہیں اور ان کے سادات اور علماء کی دعوتیں ہوتی ہیں۔ تمام مسلم طبقے اس میں شرکت کرتے ہیں۔

ان یخز الیوم الذی ولد فیه رسولﷺ عیدا الا یوم القیمه فی الباب السادس فی ذکر ولادة ﷺ ما راوی عن منادی الجلیل ھیث قال فا تخذ والیومة ھذا الذی ولد فیة عیدا الی یوم القیمة
انہوں نے اس دن کو، جس میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی، عید کے طور پر منانے کی بات کی، اور کہا کہ یہ عید قیامت تک جاری رہے گی۔ چھٹے باب میں نبی ﷺ کی ولادت کا ذکر کرتے ہوئے اس روایت کو بیان کیا گیا ہے، جس میں ایک بلند مرتبہ منادی سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا: “اس دن کو عید کے طور پر مناؤ، کیونکہ یہ وہی دن ہے جس میں نبی کریم ﷺ کی ولادت ہوئی تھی، اور یہ عید قیامت تک منائی جاتی رہے گی۔”
[المنتقیٰ فی مولد الرسولﷺ]

تو سلف نے اس میلاد رسولﷺ کو عرفی عید کے طور پر منانے اور تا قیامت تک اسکو منانے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔

امام قسطلانی مالکی علیہ الرحمہ میلاد رسولﷺ کو بطور عید منانے پر مخالفین کی تکلیف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
فرحم الله امرآ اتخذ ليالى شهر مولده المبارك أعيادا، ليكون أشد علة على من فى قلبه مرض وأعيا داء
اللہ رحم فرمائے ان (اہلسنت )پر جنہوں نے ماہ میلاد کی راتوں کو باور عید منا کر ان (لوگوں )کی مرض میں اضافہ کیا جن کے دل میں بیماری ہیں۔
[المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، ص۹۰]

اسی طرح امام ملا علی قاری امام سخاوی سے سلف کا  میلاد رسولﷺ کو عید سے بھی زیادہ احتمام سے منانے پر تواتر نقل کیا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں :

قال السخاوى: وأما أھل مکة معدن الخیر والبركة فیتو جھون الى المكان المتواتر بین الناس أنه محل مولده ھو فى سوق اللیل ریاء بلوغ كل منھم بذلك المقصد ویزید اھتمامھم به على یوم العید حتى قلَّ أن یتخلف عنه أحد من صالح وطالح، ومقل وسعید سیما الشریف صاحب الحجاز ھدون توارِ وحجاز. قلت: الآن سیماء الشریف لاتیان ذلك المكان ولا فى ذلك الزمان، قال: وجود قاضیھا وعالمھا البرھانى الشافعى. رحمه اللّٰه تعالٰى اطعام غالب الواردین وكثیر من القاطنین المشاھدین فاخر الأطعمة والحلوى، ویمد للجھور فى منزله صبیحتھا سماطا جامعًا رجاء لكشف البلوى، وتبعه ولده الجمالى فى ذلك للقاطن والسالك.
السخاوی نے کہا: “جہاں تک اہل مکہ کا تعلق ہے، جو بھلائی اور برکت کا سرچشمہ ہیں، وہ اس جگہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو لوگوں میں مشہور ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی ولادت کا مقام ہے، اور وہ اسے ‘سوق اللیل’ کہتے ہیں۔ ہر کوئی وہاں پہنچنے کا ارادہ رکھتا ہے،
” اور وہ اس دن کا اتنا اہتمام کرتے ہیں کہ عید کے دن سے بھی زیادہ توجہ دیتے ہیں۔”
یہاں تک کہ کم ہی کوئی شخص، چاہے وہ نیک ہو یا بد، غریب ہو یا امیر، اس میں شرکت سے محروم رہتا ہے، خاص طور پر شریف صاحب حجاز جو وہاں کے مالک اور حاکم ہیں۔
میں (سخاوی) کہتا ہوں کہ اب شریف وہاں اس مقام پر نہیں جاتے اور نہ ہی اُس زمانے میں جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کے قاضی اور عالم برہانی شافعی (رحمہ اللہ) نے ان آنے والوں اور مقیمین کے لیے بہترین کھانے اور مٹھائیاں تقسیم کیں، اور صبح کے وقت اپنے گھر میں ایک بڑی دعوت کا اہتمام کیا، تاکہ مصیبتوں سے نجات کی دعا کی جا سکے۔ ان کے بعد ان کے بیٹے جمالی نے بھی ان کا یہ عمل جاری رکھا، چاہے وہ مقیم ہوں یا سفر میں ہوں۔
[المولد الراوی  فی المولد النبوی ، ص ۳۰]

تو ان تصریحات سے ان بیمار دل لوگوں کا یہ اعتراض رفع ہو جاتے ہیں جو متعدد بہانوں سے میلاد رسولﷺ کو منانے والوں پر طعن کرتے ہیں ۔ جس پر انکا اکثر زور میلاد رسولﷺ کو عید کہنے پر انکو چڑ ہوتی ہے ۔
چونکہ یہ اعترض کرنے والے جمہور ائمہ سلف   کے خلاف کھڑے ہیں تو انکا طعن متفقہ علیہ ائمہ پر تو نہیں ہوتا لیکن ہم پر طعن کرکے یہ لوگ ان ائمہ پر اپنا غصہ اتارتے ہیں ۔
معلوم ہوا جید علماء اہلسنت نے میلاد رسولﷺ پر کثرت سے کتب لکھی اور اس مہینے میں دعوت طعام، اور ذکر کی مجالس اور قائم کرنے اور صدقہ و خیرات کے امور پر ابھارا ہے ۔
اور انہوں نے کسی بھی ایسے عالم کی بات پر توجہ نہیں کی جنکا مٹھی بھر لوگوں کی شاذ رائے تھی کہ یہ بدعت ضلالہ ہے ۔

یہاں تک کے امت کے 200 سے بھی زیادہ عرب محدثین نے میلاد رسولﷺ کے تعلق سے تصانیف لکھی ہیں۔

نوٹ: ہم نے  المنتقیٰ فی مولد الرسولﷺ کا قلمی عکس لگا دیا ہے نیچے !
تحقیق: اسد الطحاوی