مفتی طارق مسعود دیوبندی کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں اس بد بخت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پاک کے متعلق جسارت کی ہے۔

ممکن ہے ساجد خان جیسے اب بھی اس کی حمایت کریں جیسے اس نے طارق جمیل کی طرف سے حضرت یوسف علیہ السلام کی شدید گستاخی پر اس کی وکالت کی تھی۔

ہر کلمہ گو کےلئے یہ بیان کیا حیثیت رکھتا ہے، سب جانتے ہیں
دیوبندی بریلوی اختلاف سے ہٹ کر اسے بغور سنیں۔
اگر ایسے کا دفاع کرو گے تو اپنا سب کچھ گنوا دو گے کہ یہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ شرعاً کیا حکم رکھتا ہے کسی سے مخفی نہیں اور پھر یہ سب ایسی مجلس میں بیان کررہا ہے جہاں عوام اور کچھ دیوبندی علما بھی موجود ہیں لیکن کسی نے اسے روکا نہیں
کیا جہالت اس قدر عام ہوچکی؟ یا ایسے لوگ کسی خاص طبقہ کی ترجمانی کرتے ہیں؟
سوچیئے کہ کہیں دیر نہ ہوجائے

یہ ویڈیو بذریعہ واٹس ایپ مجھے ایک ساتھی نے بھیجی اور اس ہی طرح ایڈٹ شدہ تھی

#نظام_امیر